مخاطب آپ سب ہیں

زوجہ اظہر نے 'طب اور صحت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 11, 2020

  1. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    مخاطب آپ سب ہیں

    اتار چڑھاو رنج و غم اور مشکلات سب زندگی کا حصہ ہیں عموما ہم ان سے نکل بھی آتے ہیں لیکن بعض اوقات چیزوں میں اتنی شدت یا وہ اتنی مسلسل ہوتی ہیں کہ سنبھلنا آسان نہیں لگتا اور جمود کی کیفیت طاری ہوتی ہے
    کیا حرج ہے کہ کسی ماہر کی مدد لے لی جائے
    برائے مہربانی باہر نکلئے
    اس سوچ سے کہ اپنے مسئلے کے حل کے لئے کسی ماہر نفسیات سے بات کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ
    ہمارا دماغ خراب ہے
    یا
    ہم پاگل ہیں
    یا کسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں

    ایک ماہر آپکو ان پہلووں سے روشناس کراتا ہے جن کو سمجھنا مشکل ہورہا ہوتا ہے
    سوچ کو نئے زاویے ملتے ہیں کہ جنکی بدولت حل تک پہنچا جا سکتا ہے
    سوچیے کہ اس سے پہلے دیر ہو.... گفتگو کرنے سے نہ جھجھکیں

    عالمی ذہنی صحت کے دن کے موقع پر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • متفق متفق × 4
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    عالمی ذہنی صحت کے دن کے موقع پر یہ پیغام کس شخصیت نے دیا ہے؟
     
  3. صابرہ امین

    صابرہ امین لائبریرین

    مراسلے:
    1,223
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بجا فرمایا ۔ ۔ بعض مرتبہ بات بہت آگے بڑھ جاتی ہے اور دماغی حالت کو ٹھیک کرنے کے لیے دوائیں لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ ۔ لوگ یہ بات بہت کم سمجھتے ہیں ۔ ۔ بس لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ غصہ کے تیز ہیں وغیرہ ۔ ۔ جب کہ یہ دماغی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے ۔ ۔
     
    • متفق متفق × 4
  4. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یہ میری تحریر ہے
     
    • زبردست زبردست × 2
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ماشاء اللہ

    لیکن یہ کیا کہ ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور صرف ٦١ مراسلے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,434
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اچھی بات ہے۔

    تاہم زیادہ خوش قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ارد گرد اُن کی نفسیات کو سمجھنے والی کوئی ایک آدھ شخصیت موجود ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  7. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    20,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    خوش آئیند بات یہ ہے کہ ڈپریشن کے اسی فیصد مریض علاج نہ کروانے کے باوجود بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن اس میں چار سے چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔آپ سوچیں گے کہ پھر علاج کروانے کی کیا ضرورت ہے؟ وجہ یہ ہے کہ باقی بیس فیصد مریض بغیر علاج کے اگلے دو سال تک ڈپریشن میں مبتلا رہیں گے اور پہلے سے یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ کون ٹھیک ہو جائے گا اور کون ٹھیک نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ اگر علاج سے چند ہفتوں میں طبیعت بہتر ہو سکتی ہے تو کیو ں نہ علاج کرایا جائے۔۔مگر افسوس ہے کہ ہم اسکو نہ بیماری سمجھتے ہیں نہ علاج کروانا۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,434
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    یعنی دو سال بعد تو جان چھوٹ ہی جائے گی۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  9. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    20,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت ممکن ہے کہ اگر دو سال بعد ٹھیک نہ ہو تو قرابت دار تمام زندگی اُسی حالت میں برداشت کریں گے۔ یہ تو میں نے پڑھا تھا وہ آپُلوگوں سے شئیر کر لیا۔بہتر طور پہ کوئی سائکائٹرسٹ ہی بتا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,434
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ہم تو نہیں جائیں گے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نوازش
    بس پڑھنے اور سیکھنے کی کوشش زیادہ ہے
    اردو محفل کسی سہیلی طرح ساتھ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. زبیر حسین

    زبیر حسین محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت ساری چیزیں کھانے سے جڑی ہیں ، پیٹ کے اضطراب کو ختم کر دیا جائے تو ذہن کو بہت حد تک پر سکون رکھا جا سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  13. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    کھانے سے ذہن کا تعلق

    ایک دباو والی یا مشکل صورتحال میں کوئی پر سکون ہو سکتا ہے مگر اسکا پیٹ بہت کچھ کہہ رہا ہوتا ہے

    جیسے ہم میں سے اکثر کو کسی ٹسٹ سے پہلے پیٹ کے درد کا تجربہ یقینا رہا ہے

    تیزابیت، متلی ،دست اور قبض وغیرہ اسی کا شاخسانہ ہو سکتے ہیں

    اسی طرح بہت زیادہ کھانا ،بہت کم یا بالکل بھوک نہ لگنا
    ذہنی تناو کا سبب ہو سکتے ہیں

    دیکھا گیا ہے ڈپریشن میں زیادہ کھانے والے چاہے بھوک ہو یا نہ ہو کچھ نہ کچھ نوش کرتے رہتے ہیں کیونکہ اسی سے ان کے اضطراب کو سکوں ملتا ہے
    یا
    غم و فکر میں مبتلا شخص
    قلیل مقدار میں کھانا تناول کرتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    زندگی میں پیش آنے والے مسائل کی وجہ سے کوئی بھی شخص پریشان ہو سکتا ہے

    یہ تعلیمی ، تعلقاتی ،ازدواجی یا کسی اور نوعیت کے ہو سکتے ہیں

    اور اس دوران متعلقہ شخص مختلف طرح پیش آسکتاہے

    ہماری ذمہ داری ہے کہ اس صورتحال سے گزرنے والے کو .... لیبل نہ کریں کہ یہ مینٹل ہے ،نفسیاتی ہے

    یاد رکھیے نفسیاتی مرض کی تشخیص ہوتی ہے اور یہ کام باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد کیا جاتا ہے

    بالکل اسی طرح ،جس طرح دوسرے عوارض میں ٹسٹ کے نتائج آنے پر بیماری کی تصدیق ہوتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  15. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    14,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    سادہ مگر بہترین اندازِ تحریر اور ایک انتہائی اہم موضوع۔۔۔۔ خصوصاً آجکل کے حالات میں۔۔۔۔ اس میں پہلے ہمیں خود کو اور پھر اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو (خصوصاً نو عمر بچوں کو) مدد دینے کے ضرورت ہے۔۔۔۔ بہت بار ظاہر میں کچھ نہیں نظر آتا اور اندر طوفان پر طوفان اٹھتے ہیں۔۔۔۔ ایسے میں خود اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ بھلائی اور نرمی کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ اور اگر کہیں لگے کہ حالات ٹھیک نہیں تو جیسے جسمانی صحت میں ذرا سی اونچ نیچ کے لئیے ہم سو طرح کے جتن کرنے لگتے ہیں، ذہنی صحت کے لئیے بھی پروفیشنلز سے ملنا چاہئیے اور دوسروں کو انکرج کرنا چاہئیے۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 30, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    شکریہ ماہی احمد
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    زندگی مسلسل رواں دواں ہے اور ہم سب اس کوبھرپور گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں
    اس زندگی کا ایک بڑا پہلو *تعلقات* ہیں
    جو پر سکون زندگی کی ضمانت ہیں

    یاد رکھیے تعلقات پر ہم باقاعدہ کام کرسکتے ہیں

    ماں باپ ، بہن بھائی ، میاں بیوی اور اولاد ..
    موجودہ دور میں ہم ان رشتوں میں بد اعتمادی اور بے یقینی محسوس کر سکتے ہیں

    ہمارے اندر قابلیت ہے کہ ہم انکو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور کامیاب رہتے ہیں
    تو کبھی الجھ جاتے ہیں

    تھراپسٹ یا کونسلر وہ سرا ڈھونڈنے میں مددگار ہوتا ہے کہ جس کے ایک دفعہ ہاتھ آنے کے بعد آپ چیزوں کو سلجھاتے چلے جاتے ہیں
    تعلقات خوشگوار اور بہتر ہونے لگتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    مخاطب آپ سب ہیں

    آپ اپنی زندگی کے رکھوالے ہیں
    ایک عادت جس پر قابو پا کر اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے یہ ہے کہ اپنی ذہنی علامات کو انٹرنیٹ پر مت کھوجیں

    جیسے اگر منفی سوچیں قابض ہیں تو اس عمل سے ان کو مزید پاوں پھیلانے کا موقع میسر سکتاہے

    یا تناو میں کسی شخص کو ایک علامت ہے مگر متعلقہ مواد دیکھنےیا پڑھنے کے بعد توقع کی جاسکتی ہے کہ اسمیں مزید علامات بڑھیں

    یہ ایک طرح سے ایسی آموزش ( سیکھنا learning ) کا عمل ہے کہ جس فرد شعوری طور پر آگاہ نہیں ہوتا

    مزید یہ کہ ملنے والی متعلقہ معلومات اتنی وافر مقدار میں ہوتی ہیں کہ فرد مزید الجھن در الجھن کا شکار ہوسکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  19. زوجہ اظہر

    زوجہ اظہر محفلین

    مراسلے:
    304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    مخاطب آپ سب ہیں

    اپنے ماں اور باپ کو انسان سمجھنا

    اس کا ادراک کہ وہ پہلے انسان ہیں پھر ان کو رب کریم نے ہماری ذمہ داریاں سونپی ہیں

    وقت گزرتا ہے ہم عاقل و بالغ ہو کراپنی زندگیوں میں مگن ہوتے ہیں ۔۔۔۔
    یہ وقت ہے کہ ہم ان کو بلند منصب پر بٹھا کر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بس اب اللہ اللہ کریں(جبکہ یہ کام بالغ ہونے سے لیکر آخری سانس تک کرنا ہے) اور بلاوے(موت) کا انتظار۔۔۔۔

    سوچئے اگر پچاس یا پچپن سال کی عمر میں ساتھی کی رحلت ہوئی اور اب دوسرے کے پاس کچھ سال ہیں جو دہائیوں پر محیط ہو سکتے ہیں
    یہ اولاد کا کام ہے کہ وہ ان کو انسان سمجھیں ان سے احترام یا دوسرے طریقوں سے پوچھیں کہ وہ کوئی ساتھی چاہتے ہیں
    یہ ان کی عمر کا وہ حصہ ہے جہاں تنہائی ہوتی ہے کہ اولاد اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوچکی ہوتی ہے

    ایک خاتون نے کہا جب میں بیس سال کی تھی جب میری والدہ کا انتقال ہوا اسوقت کچھ لوگوں نے کہا بھی تو میرا سخت ردعمل تھا کہ میری ماں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا
    پھر میری شادی ہوئی تو احساس ہوا کہ والد کتنے تنہا ہیں ۔۔۔ اگرچہ میری بھابھیاں اچھی ہیں مگر ظاہر ہے وہ بچوں اور گھر بار میں مصروف رہتی ہیں ۔
    تو ہم نے والد کا نکاح ثانی کیا کہ بابا کو ساتھی کی ضرورت ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    1,292
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    السلام علیکم محترمہ
    ایک مثبت معلوماتی سلسلہ ہے ماشاءاللہ ۔جاری رہنا چاہیے۔
    عنوان مجھے لگتا ہے "مخاطب ہم سب ہیں" ہونا چاہیے کیونکہ معالج یا ماہر کو بھی ایک اور معالج اور ماہر کی بہرحال ضرورت پڑ سکتی ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر