محترمہ مریم افتخار صاحبہ کے ساتھ ایک مصاحبہ!

ربیع م

محفلین
اسلام میں ہر ایک کے احکام الگ ہیں...
مثلاً جو بیوی بچوں کے حقوق کسی وجہ سے ادا نہیں کرسکتا اس پر زبردستی اس کا بوجھ ڈالنا نہیں چاہیے...
مثال کے لیے حدیث پاک ہے کہ جو بیوی کے نان نفقہ و دیگر حقوق کی ادائیگی نہ کرسکتا ہو اسے چاہیے کہ جذبات کا زور توڑنے کے لیے بکثرت روزے رکھے...
اس کے لیے یہی طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا بتایا ہوا ہے...
یہ نہیں کہ بس نکاح کرنا ہی سنت کا راستہ ہے...
اسپیشل کیسز کے لیے اسپیشل احکامات ہیں...
کسی کے لیے نکاح کرنا سنت، کسی کے لیے نہ کرنا سنت!!!
اصل میں بات رہبانیت کی ہو رہی آپ معذور کہ مثالیں دے رہے ہیں.مروجہ رہبانیت میں اختیار ہوتے ہوئے یہ سب کچھ کیا جاتا ہے.
مجھے نقشبندی طریقت کے ایک شیخ کا واقعہ یاد آ رہا ہے وہ کسی کو وظیفہ دینے سے پہلے کہتے تھے کہ اگر کسی فاسق کا چہرہ دیکھا ہو تو دس دن یا کچھ اس طرح دن بتائے اتنے دن وظیفہ لینے نہیں آنا وغیرہ وغیرہ
ایسی بہت سی شرائط و پابندیاں مروجہ رہبانیت میں ابتداء سے ہی چلی آ رہی ہیں
خیر یہ ایک الگ لڑی کا موضوع ہے.
میرا علم بھی اس بارے میں ناقص ہے کبھی موقع ملے تو ایک الگ لڑی میں اس بارے میں تفصیلی گفتگو کیجئے گا.
 

سید عمران

محفلین
اصل میں بات رہبانیت کی ہو رہی آپ معذور کہ مثالیں دے رہے ہیں.مروجہ رہبانیت میں اختیار ہوتے ہوئے یہ سب کچھ کیا جاتا ہے.
مجھے نقشبندی طریقت کے ایک شیخ کا واقعہ یاد آ رہا ہے وہ کسی کو وظیفہ دینے سے پہلے کہتے تھے کہ اگر کسی فاسق کا چہرہ دیکھا ہو تو دس دن یا کچھ اس طرح دن بتائے اتنے دن وظیفہ لینے نہیں آنا وغیرہ وغیرہ
خیر یہ ایک الگ لڑی کا موضوع ہے.
میرا علم بھی اس بارے میں ناقص ہے کبھی موقع ملے تو ایک الگ لڑی میں اس بارے میں تفصیلی گفتگو کیجئے گا.
یہاں رہبانیت کا مفہوم اللہ کے ساتھ مشغولیت کے باعث حقوق العباد سے صرف نظر لیا جارہا تھا...
اسی پس منظر میں کچھ عرض کیا تھا کہ ہر انسان کے حالات کے پیش نظر اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا!!!
 

ربیع م

محفلین
یہاں رہبانیت کا مفہوم اللہ کے ساتھ مشغولیت کے باعث حقوق العباد سے صرف نظر لیا جارہا تھا...
اسی پس منظر میں کچھ عرض کیا تھا کہ ہر انسان کے حالات کے پیش نظر اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا!!!
مجھے بھی اس رہبانیت اصطلاح سے ہی مسئلہ ہو رہا ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ ہم نے پہلی امتوں پر فرض نہیں کی تھی انھوں نے خود ہی اسے اپنے اوپر فرض کر دیا
اسی طرح مسند امام احمد بن حنبل کی صحیح روایت ہے کہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے اس کے باوجود رہبانیت لفظ استعمال کرنے اور اس کے اختیار پر اصرار کیوں؟
 

سید عمران

محفلین
مجھے بھی اس رہبانیت اصطلاح سے ہی مسئلہ ہو رہا ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ ہم نے پہلی امتوں پر فرض نہیں کی تھی انھوں نے خود ہی اسے اپنے اوپر فرض کر دیا
اسی طرح مسند امام احمد بن حنبل کی صحیح روایت ہے کہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے اس کے باوجود رہبانیت لفظ استعمال کرنے اور اس کے اختیار پر اصرار کیوں؟
جیسے حضرت اویس قرنی سارے زمانے سے کٹ کر رہے...
اس کے باوجود حضرت عمر سے فرمایا جارہا ہے کہ ان سے ملنا تو میری امت کے لیے دعا کروانا...
جیسے حضرت ابو ذرغفاری سے فرمایا گیا کہ تمہاری عمر کا آخری حصہ صحرا کی تنہائیوں میں گزرے گا...
جیسے مشاجرات صحابہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں جلیل القدر صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص سب سے کٹ کر شہر سے دور منتقل ہوگئے تھے...
ان حضرات کی تنہائی رہبانیت سے بالکل الگ تھی...
کیوں کہ انہوں نے عیسائیوں کی طرح نکاح وغیرہ کو حرام نہیں سمجھا تھا بلکہ اسلام کے ہر حکم پر جو ان پر فرض تھا ادا کیا...
جیسے حضرت ابراہیم بن ادھم اور عبادات تو ادا کرتے ہی تھے لیکن حج کرنے بھی نیشاپور سے حرمین تشریف لے گئے...
یہ حضرات فرائض واجبات اور سنن کے تارک نہیں تھے صرف علائق انسانی سے نسبتاً دور اپنی مصروفیات میں زیادہ مشغول رہتے تھے. لہذا اس کو رہبانیت سے تشبیہ دینا مناسب نہیں!!!
 
جیسے حضرت اویس قرنی سارے زمانے سے کٹ کر رہے...
اس کے باوجود حضرت عمر سے فرمایا جارہا ہے کہ ان سے ملنا تو میری امت کے لیے دعا کروانا...
جیسے حضرت ابو ذرغفاری سے فرمایا گیا کہ تمہاری عمر کا آخری حصہ صحرا کی تنہائیوں میں گزرے گا...
جیسے مشاجرات صحابہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں جلیل القدر صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص سب سے کٹ کر شہر سے دور منتقل ہوگئے تھے...
ان حضرات کی تنہائی رہبانیت سے بالکل الگ تھی...
کیوں کہ انہوں نے عیسائیوں کی طرح نکاح وغیرہ کو حرام نہیں سمجھا تھا بلکہ اسلام کے ہر حکم پر جو ان پر فرض تھا ادا کیا...
جیسے حضرت ابراہیم بن ادھم اور عبادات تو ادا کرتے ہی تھے لیکن حج کرنے بھی نیشاپور سے حرمین تشریف لے گئے...
یہ حضرات فرائض واجبات اور سنن کے تارک نہیں تھے صرف علائق انسانی سے نسبتاً دور اپنی مصروفیات میں زیادہ مشغول رہتے تھے. لہذا اس کو رہبانیت سے تشبیہ دینا مناسب نہیں!!!
اس گفتگو کو مناسب زمرہ کے لیے اٹھا رکھیے۔ یہاں انٹرویو چل رہا ہے۔ :)
 

محمدظہیر

محفلین
بڑا ہی دلچسپ انٹرویو چل رہا ہے مریم آپ کا :)
بہت سارے موضوعات پر گفتگو ہو رہی ہے..!
جلد ہی میری جانب سے بھی چند سوالات آئیں گے ان شاء اللہ :)
 
آپ کی اِس بات سے دو سوال ذہن میں آئے ہیں۔

1) عموماً سائنسی تحقیق کو دو طرح سے منقسم کیا جاتا ہے: نظریاتی اور اطلاقی۔ آپ کا رجحان کس جانب زیادہ ہے اور کیوں؟
(میرا خیال ہے کہ شاید آپ کسی سوال میں کسی تناظر میں اس کا جواب دے چکی ہیں۔ مگر خود کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے سوال پوچھ رہا ہوں۔)

2) ذاتی شوق اور پسند کو ایک جانب رکھتے ہوئے، آپ نظریاتی اور اطلاقی سائنس میں کسے زیادہ سود مند سمجھتی ہیں؟
(گو کہ کسی ایک کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر حالیہ کچھ عرصے میں بنیادی نظریاتی سائنسز میں رجحان کم دیکھنے میں آیا ہے طلباء کا۔)

میں سوچتی ہی رہی کہ ان دونوں سوالات کے الگ الگ جوابات کیسے دوں. آخر آج اکٹھے ہی اقتباس لے لیا کیونکہ میرے ذہن میں اس حوالے سے چند ایک مبہم سی عمومی باتیں ہیں.

مجھے یاد ہے کہ بچپن سے ہمیشہ سوچا کرتی تھی کہ جن سائنسدانوں کے ہاتھوں دریافت یا ایجاد کے اتفاقات ہوتے ہیں، وہ تجربات کر رہے ہوتے ہیں تو ہی ایسا ہوتا ہے.) Fortune favours the prepared mind. ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں، ہمیں پتا ہی نہیں کہ کہاں سے اور کیسے کریں تو دریافت اور ایجاد تو بہت بعد کی چیزیں ہیں. مجھے یہاں آنے سے پہلے سائنس کی عملی شکل بس فلموں میں ہی نظر آتی تھی. یہاں آ کر کافی چیلنجز ہیں لیکن کچھ تسلی ہوئی کہ کوئی کام شروع کریں گے اور کرتے رہیں گے تو ہمارے ہاتھوں بھی کچھ ہو سکتا ہے. لیکن ہوا یوں کہ میں نے آئن سٹائن کے متعلق چند ماہ قبل ایک مقالہ پڑھ لیا، جس میں درج تھا کہ عملی تجربات میں وہ کمزور تھا اور تھیوری میں تیز! وغیرہ وغیرہ. تب تھوڑی دیر سر پکڑ کے بیٹھ گئی کہ مجھے ہمیشہ لگتا رہا، تھیوری سے کیا ہو سکتا ہے؟ اب جب تجربہ گاہ میں ہوں تو پتا چلا کہ بڑے بڑے سائنسدان تھیوری میں بہت کچھ تھے اور تجربے میں شاید کمفرٹیبل یا کم از کم نہ تھے!!

ایک اور بات جس کا علم ہوا وہ یہ تھی کہ ریسرچ انسٹیٹیوٹس کو فنڈنگ محض اطلاقی تحقیق کے لیے ملتی ہے اور اگر بیسک یا پیور سائنس کرنی ہو تو اسی فنڈنگ میں سے کچھ گزارا کرنا پڑتا ہے اور اس مقصد کے لیے 'خصوصی طور پر' کوئی نہیں بیٹھا ہوا.

میں مقصدیت پسند ہوں تو شاید اس حوالے سے اگر مجھے موقع ملے تو میں ڈائریکٹ اطلاقی تحقیق پر کام کرنا چاہوں اور جو میں بنانا چاہتی ہوں خصوصی طور پر اس میں آگے بڑھوں. لیکن جیسا کہ آپ نے کہا کہ دونوں میں سے کسی ایک کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں تو بالکل ایسا ہی ہے! بلکہ بنیادی نظریاتی تحقیق اکثر زیادہ گراؤنڈ بریکنگ ثابت ہوتی ہے. رجحان کی کمی میں ممکن ہے فنڈنگ کا مسئلہ ہو یا اپنی ترجیحات ہوتی ہوں گی اور پھر حالات و وسائل پر بھی منحصر ہے. :)
 
Top