محبت خوبصورت ہے - فرحت عباس شاہ

فرذوق احمد

محفلین
السلام علیکم سب بھائیوں کو
محبت خوبصورت ہیں

محبت میں
اگرچہ دل کی آنکھیں مدتوں پلکیں جھپکنا بھول جاتی ہیں
مگر ان رتجگوں کے سرخ ڈورے نیل گوں سنولاہٹیں
اور ابراؤں کی رازداری بھی
عجب اِک حسن پیدا کرتی ہیں
محبت میں
اگرچہ دھڑکنیں اپنا چلن تک چھوڑ جاتی ہیں
مگر سنگیت ایسی دھڑکنوں کی تھاپ اور سرگم کو ترستا ہیں
محبت میں
اگرچہ بے کلی
دل کو بہت تڑپائے رکھتی ہیں
مگر دل کی تڑپ ہی زندگی کو پتھروں کی زندگی سے
مختلیف بناتی ہیں دنیا میں
محبت میں
اگر چہ آنکھ سے اوجھل ہوئی لگتی ہے
دنیا اِک محبت سوا
لیکین بصیرت کی کئی بینائیاں اور کھڑکیاں کھلی چلی جاتی ہیں
باطن میں
محبت میں
اگرچہ آنسوؤں کع سرخ ہوتے پل نہیں لگتا
مگر یہ سرخیاں کتنے گلستاں چاند تارے
اور زمیں آسمان
رنگیں کرتی ہیں
محبت میں
جدائی دھوپ کے آنگن میں پلتی ہیں
اگرچہ پھر بھی ساری عمر خوابوں اور دعاؤں سے کبھی ٹھنڈک نہیں جاتی
مجھے معلوم ہیں کے تم محبت کے مخالف ہو
مگر جاناں ---
دلیلیں دلیلیں تو دلیلیں‌ہیں
محبت ان دلیلوںب کی کہاں محتاج ہیں
محبت خوبصورت ہیں
 

Atif Chauhdary

محفلین
محبت خوبصورت ھے!!!

مِرے دل سے اگر پوچھو
مِری آنکھوں سے دیکھو تو

یہ دنیا خوبصورت ھے
ھماری اور تمھاری ہر
کہانی خوبصورت ھے
حسیں یادیں ہیں بچپن کی
بڑھاپا ایک نعمت ھے
جوانی خوبصورت ھے

مسلسل ارتقاء کی ہر
نشانی خوبصورت ھے
کہ ڈھلتی عمر کی دیکھو
روانی خوبصورت ھے

کبھی ننھے سے ھاتھوں سے
کوئی تتلی پکڑ لینا
کبھی ماؤں کے آنچل کو
محبت سے جکڑ لینا
کبھی جو باپ سے ڈرنا
تو ماں کا آسرا لینا
غبارہ ایک پھٹ جانا
تو رو کر دوسرا لینا
نہ کوئی فکرِ فردا تھی
نہ دنیا سے شکایت تھی
جہاں تک دیکھ سکتے تھے
محبت ھی محبت تھی

وہ دن بھی تو اثاثہ ہیں
ھماری زندگانی کا
کہ جب ھم لطف لیتے تھے
مسلسل رائیگانی کا

وہ پہروں سوچتے رہنا
پری چہروں کے بارے میں
کئی معنی پرو دینا
کسی کے اِک اشارے میں

اداسی میٹھی میٹھی سی
جو دل کو گدگداتی تھی
ھاں پڑھ کر کیٹس کی نظمیں
کسی کی یاد آتی تھی

رفیع کے گیت سارے ھی
زبانی یاد تھے ھم کو
وہ غزلیں ابنِ انشا کی
بھلا دیتیں تھی ہر غم کو

وہ سارےشہر کی گلیوں
کا شب بھر جاگتے رہنا
کسی کے تذکرے کرنا
کسی کو سوچتے رہنا

ادھوری خواہشیں بھی تھیں
مگر ہر پل سہانا تھا
غم دوراں تو تھا لیکن
حسیں پھر بھی زمانہ تھا

مِری آنکھوں سے دیکھو تو
یہ جھریاں میرے چہرے کی
جو خوشخبری سناتی ھیں
ابھی بھی میرے ھونے کی

ذرا سا سرد موسم ھو
تو انگیٹھی جلاتا ھوں
میں میٹھی چائے کی چسکی
سے خود کو تھپتپاتا ھوں

میرے آنگن کے سب پنچھی
ھیں مجھ سےگفتگو کرتے
شجر میرے چمن کے سب
ہیں مجھکو سر خرو کرتے

وہ کیسے لوگ ہیں جن کو
شکایت ھے زمانے سے
جنھیں فرصت نہیں ملتی
کبھی آنسو بہانے سے

اداسی روح میں جس کی
ھمیشہ رقص کرتی ھے

اُسے بس اتنا کہ دینا

" کسی پاتال سے لے کر
بڑے اونچے پہاڑوں تک
تِری مسکان سے لے کر
ترے دل کی دراڑوں تک
یہ دنیا خوبصورت ھے "

شاعر: عاطف چوہدری
 
Top