لیبر ڈے پر میرے والد مرحوم کی کہی گئی طرحی مشاعرے کی غزل

والدمرحوم ۔ضیا عزیزی جے پوری ۔ صاحب کی ایک بہت پرانی غزل جو یوم ِمزدور ،یکم مئی کے ایک طرحی مشاعرے میں کہی گئی تھی یاد آگئی۔

آبلے ، مٹی ،پسینہ ،جیسے ویرانوں کا بوجھ
آسماں سے بھی فزوں، مزدور کے شانوں کا بوجھ

ناتواں قلب و نظر پر اتنے کا شانوں کا بوجھ
بتکدوں کا ،میکدوں کا اور پری خانوں کا بوجھ

حاملِ بارِ گِراں ہے اک اجیرِ ناتواں
لیکن آجر کیلئے ،مٹھی میں دو دانوں کا بوجھ

آج کے گل آج ہی کی نکہتوں کے ہیں امین
کل یہ باسی پھول کہلائیں گے، گلدانوں کا بوجھ

میں کسے تائب کہوں ،کس کو کہوں توبہ شکن
لوگ پھرتے ہیں لیے اب خالی پیمانوں کا بوجھ

ٹانک آئے گا کہیں دیروحرم کے درمیاں
ہے گراں اب شیخ پر تسبیح کے دانوں کا بوجھ

دل کے ارمانوں کی اب دل پر حکومت ہے ضیاؔ
ایک کشور، اور اُس پر اتنے سلطانوں کا بوجھ
 
ناتواں قلب و نظر پر اتنے کا شانوں کا بوجھ
بتکدوں کا ،میکدوں کا اور پری خانوں کا بوجھ

بہت اعلیٰ عاطف بھائی ۔۔۔کمال گرفت ہے موضوع اور فن پر
 
۔بازگشت۔
یوم مزدور 2016

حاملِ بارِ گِراں ہے اک اجیرِ ناتواں​
لیکن آجر کیلئے ،مٹھی میں دو دانوں کا بوجھ​
 
بہت خوب عاطف بھائی، کیا کہنے.
حاملِ بارِ گِراں ہے اک اجیرِ ناتواں
لیکن آجر کیلئے ،مٹھی میں دو دانوں کا بوجھ

آج کے گل آج ہی کی نکہتوں کے ہیں امین
کل یہ باسی پھول کہلائیں گے، گلدانوں کا بوجھ

ٹانک آئے گا کہیں دیروحرم کے درمیاں
ہے گراں اب شیخ پر تسبیح کے دانوں کا بوجھ
 
Top