لیاری آپریشن کیخلاف ہزاروں مکینوں کی ریلی رحمن ملک اور فاروق ستارکے استعفی کا مطالبہ

فرخ

محفلین
کراچی (وقت نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ + نیوز ایجنسیاں) لیاری میں آپریشن اور بےگناہ لوگوں کی گرفتاریوں کےخلاف پیپلز امن کمیٹی کے تحت لیاری کے ہزاروں مکینوں نے لیاری سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرےین نے پریس کلب کے باہر دھرنا دے کر رحمن ملک کے پتلے کو نذر آتش کر دےا اور مظاہرین نے سپریم کورٹ کے چےف جسٹس، صدر، وزےر اعظم سے لےاری مےں آپرےشن بند کرنے اور بے گناہ لوگوں کی گرفتارےوں کا نوٹس لےنے سمےت وفاقی وزےر داخلہ رحمن ملک کے استعفیٰ کا مطالبہ کےا۔ احتجاجی رےلی مےں مرد، خواتےن، بچے اور بزرگوں سمےت ہزاروں کی تعداد مےں لےاری کے مکےنوں نے شرکت کی شرکا کے ہاتھوں مےں بےنرز اور پلے کارڈ ز تھے اور وہ لےاری مےں بے گناہ لوگوں کی گرفتارےوں اور آپرےشن کا سلسلہ بند کرو سمےت حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ ہزاروں لوگوں پر مشتمل لےاری کے مکےنوں کی رےلی جب آئی آئی چندرےگر روڈ سے پرےس کلب کی طرف آرہی تھی تو پولےس اور رےنجرز نے رےلی پر لاٹھی چارج اور شےلنگ شروع کردی اور متعدد لوگوں کو گرفتار کر لےا‘ فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہو گئے جبکہ مظاہرےن نے تمام رکاوٹےں توڑ کر کراچی پرےس کلب کے باہر احتجاجی طور پر دھرنا دےا۔ اس موقع پر امن کمےٹی کے حبےب جان بلوچ سمےت دےگر نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کےا کہ لےاری مےں دہشت گرد موجود نہےں اور گےنگ وار کا لےاری کے مکےنوں سے کوئی واسطہ نہےں اس لئے فوری طور پر لےاری مےں آپرےشن بند کر کے بے گناہ نوجوانوں کی گرفتارےوں کا سلسلہ بھی بند کےا جائے اور ٹارگٹ کلنگ مےں ملوث قاتلوں کو گرفتار کےا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لےاری پےپلز پارٹی کا گڑھ ہے اور لےاری کی عوام نے ہی بےنظےر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو سمےت دےگر پےپلز پارٹی کے رہنما¶ں کو منتخب کراےا ہے اور آج پےپلز پارٹی کی ہی حکومت مےں لےاری کے مکےنوں کے ساتھ ظلم کےا جا رہا ہے اگر آپرےشن بند نہےں ہوا تو ہم اپنا پرامن احتجاج جاری رکھےں گے۔ چےف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اپےل کی کہ وہ کراچی مےں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لےں اور عدالتی تحقےقات کرائےں۔ مظاہرےن نے صدر، وزےراعظم اور وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کےا کہ لےاری مےں بے گناہ لوگوں کے خلاف آپرےشن بند کر کے انصاف کےا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لےاری کے بلوچوں کی ٹارگٹ کلنگ مےں ملوث لوگ لےاقت آباد، لانڈھی، سمےت کراچی کے دےگر علاقوں مےں موجود ہےں اس لئے حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف آپرےشن کرے۔ ادھر لیاری امن کمیٹی کے رہنما¶ں ظفر بلوچ اور دیگر نے پریس کانفرنس کے دوران آج لیاری آپریشن کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں پٹیشن دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں ثناءنیوز کے مطابق لیاری میں پولیس اور رینجرز نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن میں مزید 17 افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس اور رینجرز کی نفری مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں خوف و ہراس کے باعث دکانیں بند اور ٹریفک معمول سے کم رہا۔ ایس پی او کلاکوٹ سرور کمانڈر کے مطابق 60 میں سے 30 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے اور 6 کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں جبکہ وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے لیاری سے گرفتار کئے گئے تمام بے گناہ افراد کو فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ کراچی سے نامہ نگار کے مطابق پیپلز امن کمیٹی کے ترجمان ظفر بلوچ اور حبیب جان نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور ڈی آئی جی سا¶تھ غلام نبی میمن کو فی الفور برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نہیں رحمن ملک ہیں جو سندھ کے سیاہ سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ سے چیف منسٹر ہا¶س میں لیاری کے منتخب نمائندوں‘ صوبائی وزیر رفیق انجینئر اور سلیم ہنگورو نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی تاہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیاری کے متاثرہ اور مشتعل باشندوں کی ریلی میں پی پی پی کے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ رحمن ملک کا پتلا نذر آتش کیا گیا۔ فاروق ستار کا علامتی جنازہ نکالا گیا۔ امن کمیٹی کے ظفر بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں گینگ وار متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان ہو رہی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کی سٹی گورننس پر قبضے کے لئے امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا گیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا‘ آنسو گیس کے گولے پھینکے اس کے باعث چندریگر روڈ‘ ضیاءالدین احمد روڈ‘ کلب روڈ‘ شاہراہ فیصل‘ ایم اے جناح روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا جس میں سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔
http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/National/12-Jan-2010/19420
(اس خبر میں ٹائپنگ کی کافی غلطیاں ہیں۔ پتا نہیں کہ فونٹ کا مسئلہ ہے یا ٹائپ ہی ایسے کیا گیا ہے)


اور جنگ گروپ نے اسی خبر کو یہاں شائع کیا ہے:
http://jang.com.pk/jang/jan2010-daily/12-01-2010/main.htm
main4.gif
 

غازی عثمان

محفلین
اقتباس
امن کمیٹی کے ظفر بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں گینگ وار متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان ہو رہی ہے۔



بے چاری مہاجر قومی موومنٹ ، اس کی حالت تو جماعت احمدیہ جیسی ہوگئی ہے جو الزام چاہے رکھ دو ان پر

جیسا کہ ہمارے ایک وفاقی وزیر بابر اعوان پر جب حارث اسٹیل مل کے مالکان سے ساڑھے تین کروڑ رشوت لینے کا الزام لگا تو موصوف نے فرمایا یہ سب قادیانیوں کی سازش ہے
 

arifkarim

معطل
بے چاری مہاجر قومی موومنٹ ، اس کی حالت تو جماعت احمدیہ جیسی ہوگئی ہے جو الزام چاہے رکھ دو ان پر

جیسا کہ ہمارے ایک وفاقی وزیر بابر اعوان پر جب حارث اسٹیل مل کے مالکان سے ساڑھے تین کروڑ رشوت لینے کا الزام لگا تو موصوف نے فرمایا یہ سب قادیانیوں کی سازش ہے

ہر سازش میں نام صرف اسکا لگتا ہے جو خاموش رہتا ہے۔
فی الوقت صیہونیوں، قادیانیوں، یہودیوں کو ہر مسئلہ کی جڑ بتایا جا رہا ہے۔ :grin:
 

شعیب صفدر

محفلین
کراچی (وقت نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ + نیوز ایجنسیاں) لیاری میں آپریشن اور بےگناہ لوگوں کی گرفتاریوں کےخلاف پیپلز امن کمیٹی کے تحت لیاری کے ہزاروں مکینوں نے لیاری سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرےین نے پریس کلب کے باہر دھرنا دے کر رحمن ملک کے پتلے کو نذر آتش کر دےا اور مظاہرین نے سپریم کورٹ کے چےف جسٹس، صدر، وزےر اعظم سے لےاری مےں آپرےشن بند کرنے اور بے گناہ لوگوں کی گرفتارےوں کا نوٹس لےنے سمےت وفاقی وزےر داخلہ رحمن ملک کے استعفیٰ کا مطالبہ کےا۔ احتجاجی رےلی مےں مرد، خواتےن، بچے اور بزرگوں سمےت ہزاروں کی تعداد مےں لےاری کے مکےنوں نے شرکت کی شرکا کے ہاتھوں مےں بےنرز اور پلے کارڈ ز تھے اور وہ لےاری مےں بے گناہ لوگوں کی گرفتارےوں اور آپرےشن کا سلسلہ بند کرو سمےت حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ ہزاروں لوگوں پر مشتمل لےاری کے مکےنوں کی رےلی جب آئی آئی چندرےگر روڈ سے پرےس کلب کی طرف آرہی تھی تو پولےس اور رےنجرز نے رےلی پر لاٹھی چارج اور شےلنگ شروع کردی اور متعدد لوگوں کو گرفتار کر لےا‘ فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہو گئے جبکہ مظاہرےن نے تمام رکاوٹےں توڑ کر کراچی پرےس کلب کے باہر احتجاجی طور پر دھرنا دےا۔ اس موقع پر امن کمےٹی کے حبےب جان بلوچ سمےت دےگر نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کےا کہ لےاری مےں دہشت گرد موجود نہےں اور گےنگ وار کا لےاری کے مکےنوں سے کوئی واسطہ نہےں اس لئے فوری طور پر لےاری مےں آپرےشن بند کر کے بے گناہ نوجوانوں کی گرفتارےوں کا سلسلہ بھی بند کےا جائے اور ٹارگٹ کلنگ مےں ملوث قاتلوں کو گرفتار کےا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لےاری پےپلز پارٹی کا گڑھ ہے اور لےاری کی عوام نے ہی بےنظےر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو سمےت دےگر پےپلز پارٹی کے رہنما¶ں کو منتخب کراےا ہے اور آج پےپلز پارٹی کی ہی حکومت مےں لےاری کے مکےنوں کے ساتھ ظلم کےا جا رہا ہے اگر آپرےشن بند نہےں ہوا تو ہم اپنا پرامن احتجاج جاری رکھےں گے۔ چےف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اپےل کی کہ وہ کراچی مےں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لےں اور عدالتی تحقےقات کرائےں۔ مظاہرےن نے صدر، وزےراعظم اور وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کےا کہ لےاری مےں بے گناہ لوگوں کے خلاف آپرےشن بند کر کے انصاف کےا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لےاری کے بلوچوں کی ٹارگٹ کلنگ مےں ملوث لوگ لےاقت آباد، لانڈھی، سمےت کراچی کے دےگر علاقوں مےں موجود ہےں اس لئے حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف آپرےشن کرے۔ ادھر لیاری امن کمیٹی کے رہنما¶ں ظفر بلوچ اور دیگر نے پریس کانفرنس کے دوران آج لیاری آپریشن کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں پٹیشن دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں ثناءنیوز کے مطابق لیاری میں پولیس اور رینجرز نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن میں مزید 17 افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس اور رینجرز کی نفری مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں خوف و ہراس کے باعث دکانیں بند اور ٹریفک معمول سے کم رہا۔ ایس پی او کلاکوٹ سرور کمانڈر کے مطابق 60 میں سے 30 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے اور 6 کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں جبکہ وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے لیاری سے گرفتار کئے گئے تمام بے گناہ افراد کو فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ کراچی سے نامہ نگار کے مطابق پیپلز امن کمیٹی کے ترجمان ظفر بلوچ اور حبیب جان نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور ڈی آئی جی سا¶تھ غلام نبی میمن کو فی الفور برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نہیں رحمن ملک ہیں جو سندھ کے سیاہ سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ سے چیف منسٹر ہا¶س میں لیاری کے منتخب نمائندوں‘ صوبائی وزیر رفیق انجینئر اور سلیم ہنگورو نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی تاہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیاری کے متاثرہ اور مشتعل باشندوں کی ریلی میں پی پی پی کے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ رحمن ملک کا پتلا نذر آتش کیا گیا۔ فاروق ستار کا علامتی جنازہ نکالا گیا۔ امن کمیٹی کے ظفر بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں گینگ وار متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان ہو رہی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کی سٹی گورننس پر قبضے کے لئے امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا گیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا‘ آنسو گیس کے گولے پھینکے اس کے باعث چندریگر روڈ‘ ضیاءالدین احمد روڈ‘ کلب روڈ‘ شاہراہ فیصل‘ ایم اے جناح روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا جس میں سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔
http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/National/12-Jan-2010/19420
(اس خبر میں ٹائپنگ کی کافی غلطیاں ہیں۔ پتا نہیں کہ فونٹ کا مسئلہ ہے یا ٹائپ ہی ایسے کیا گیا ہے)


اور جنگ گروپ نے اسی خبر کو یہاں شائع کیا ہے:
http://jang.com.pk/jang/jan2010-daily/12-01-2010/main.htm
main4.gif
تصاویر کے بغیر تو مزا ہی نہیں‌ آتا خبر کا!‌یہ لیں‌
pic-02.jpg

pic-06.jpg
 

فرخ

محفلین
تصاویر کے بغیر تو مزا ہی نہیں‌ آتا خبر کا!‌یہ لیں‌
pic-02.jpg

pic-06.jpg

واقعی، تصاویر کے بغیر تویہ خبریں مزہ نہیں دے رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں‌سے ایک مخصوص لسانی جماعت کے دعوے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں کہ پورا کراچی انہیں سپورٹ کرتا ہے۔

لگتا ہے، حکومت کی چاپلوسی کی بنیاد پر اپنی زبردستی کی حکومت کے خلاف لوگ پھٹ پڑے ہیں۔۔۔
 

مغزل

محفلین
18 اکتوبر سانحہ کارساز میں ’’ رحمان ڈکیت ‘‘ ہی بینظیر کی گاڑی کو ادھ مری لاشوں ، چیتھڑوں اور زندہ انسانوں پر سے گزارتا ہوا لے گیا تھا۔ (‌ہی ہ ی ہی ہی ۔۔ رحمان ملک غور تو کیا کریں جو منھ میں آتا ہے بلک دیتے ہیں ۔۔ واہ رے واہ )
 
Top