لہو میں تر۔۔۔ شکیب جلالی

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 12, 2007

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ
    سورج ہوں، میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ
    ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں
    جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ
    عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر
    دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ
    تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
    آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
    بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں
    اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ
    کیا شاخ باثمر ہے جو نکتا ہے فرش کو
    نظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دور
    زخم کھلتے ہیں ترے گاؤں سے دور
    سنگ منزل نے لہو اگلا ہے
    دور ہم بادیہ پیماؤں سے دور
    کتنی شمعیں ہیں اسیر فانوس
    کتنے یوسف ہیں زلیخاؤں سے دور
    کشتِ امید سلگتی ہی رہی
    ابر برسا بھی تو صحراؤں سے دور
    جور حالات بھلا ہو تیرا
    چین ملتا ہے شناساؤں سے دور
    جنت فکر بلاتی ہے چلو
    دیر و کعبہ سے کلیساؤں سے دور
    رقصِ آشفتہ سراں دیکھیں گے
    دور ان انجمن آراؤں سے دور
    جستجو ہے در یکتا کی شکیب
    سیپیاں چنتے ہیں دریاؤں سے دور
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے
    دامن بچا کے گزرو یادوں کی رہگزر سے
    ہر ہر قدم پہ آنکھیں تھیں فرشِ راہ لیکن
    وہ روشنی کا ہالا اُترا نہ بام پر سے
    کیوں جادۂ وفا پر مشعل بکف کھڑے ہو
    اِس سیلِ تیرگی میں نکلے گا کون گھر سے
    کس دشت کی صدا ہو، اتنا مجھے بتا دو
    ہر سو بچھے ہیں رستے، آؤں تو میں کدھر سے
    اجڑا ہوا مکاں ہے یہ دل، جہاں پہ ہر شب
    پرچھائیاں لپٹ کر روتی ہیں بام و در سے
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
    لے اُڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں
    آج وہ یوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
    جیسے یاد آئے کوئی بھولی ہوئی بات ہمیں
    کیسے اڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجے
    دوستو اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
    نہ سہی کوئی، ہجومِ گل و لالہ نہ سہی
    دشت سے کم بھی نہیں کنجِ خیالات ہمیں
    وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کریں
    دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
    دھوپ کی لہر ہے تُو، سایۂ دیوار ہیں ہم
    آج بھی ایک تعلٓق ہے ترے سات ہمیں
    رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
    اس کی پائل سے چُرائے ہوئے نغمات ہمیں
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
    بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر
    آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
    تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
    پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
    دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
    یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
    سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
    کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے
    کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر
    جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
    پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
    ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
    چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
    سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
    بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
    حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ
    چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جس قدر خود کو وہ چھپاتے ہیں
    لوگ گرویدہ ہوتے جاتے ہیں
    جو بھی ہمدرد بن کے آتے ہیں
    غم کا احساس ہی جگاتے ہیں
    عہدِ ماضٰی کے زرفِشاں لمحے
    شِدّتِ غم میں مسکراتے ہیں
    خود کو بدنام کر رہا ہوں میں
    ان پہ الزام آئے جاتے ہیں
    اجنبی بن کے جی رہا ہوں میں
    لوگ مانوس ہوتے جاتے ہیں
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آئینۂ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیں
    اک کارگہِ شیشہ گراں ہیں تری آنکھیںٍ
    سر چشمۂ افکار جواں ہیں تری آنکھیں
    تابندہ خیالات کی جاں ہیں تری آنکھیں
    اندازِ خموشی میں ہے گفتار کا پہلو
    گویا نہ سہی، چپ بھی کہاں ہیں تری آنکھیں
    جاؤں گا کہاں توڑ کے زنجیرِ وفا کو
    ہر سو مری جانب نگراں ہیں تری آنکھیں
    کہنا ہے وہی جس کی توقع ہے تجھے بھی
    مت پوچھ مرے دل کی زباں ہیں تری آنکھیں
    پلکوں کے جھروکوں سے سبو جھانک رہے ہیں
    امید گہِ تشنہ لباں ہیں تری آنکھیں
    یوں ہی تو نہیں امڈی چلی آتی ہیں غزلیں
    پہلو میں مرے، زمزمہ خواں ہیں تری آنکھیں
     
    • زبردست زبردست × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    موجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہئے
    خیمۂ گُل کے پاس ہی دجلۂ خوں بھی چاہئے
    کشمکشِ حیات ہے، سادہ دلوں کی بات ہے
    خواہشِ مرگ بھی نہیں، زہرِ سکوں بھی چاہئے
    ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
    فکرِ چمن کے ہم رکاب جوشِ جنوں بھی چاہئے
    نغمۂ شوق خوب تھا، ایک کمی ہے مطربہ
    شعلۂ لب کی خیر ہو، سوزِ دروں بھی چاہئے
    اتنا کم تو کیجیے، بجھتا کنول نہ دیجیے
    زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہئے
    دیکھیے ہم کو غور سے، پوچھیے اہلِ جور سے
    روحِ جمیل کے لیے حالِ زبوں بھی چاہئے
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
    کبھی چراغ بھی چلتا ہے اس حویلی میں
    یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
    گزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستی میں
    جھکی چٹان پھسلتی گرفت جھولتا جسم
    میں اب گرا ہی گرا تنگ و تار گھاٹی میں
    زمانے بھر سے نرالی ہے آپ کی منطق
    ندی کو پار کیا کس نے الٹی کشتی میں
    جلائےکیوں اگر اتنے ہی قیمتی تھے خطوط
    کریدتے ہو عبث راکھ اب انگیٹھی میں
    عجب نہیں جو اگیں یاں درخت پانی کے
    کہ آشک بوئے ہیں شب بھر کسی نہ دھرتی میں
    مری گرفت میں آکر نکل گئی تتلی
    پروں کے رنگ مگر رہ گئے ہیں مٹھی میں
    چلو گے ساتھ مرے آگہی کی سرحد تک؟
    یہ رہ گزر اترتی ہے گہرے پانی میں
    میں اپنی بے خبری سے شکیب واقف ہوں
    بتاؤ پیچ ہیں کتنے تمہاری پگڑی میں
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا
    رہتا ہے اپنے نور میں سورج چھپا ہوا
    اے روشنی کی لہر کبھی تو پلٹ کے آ
    تجھ کو بلا رہا ہے دریچہ کھلا ہوا
    سیراب کس طرح ہو زمیں دور دور کی
    ساحل نے ہے ندی کو مقیّد کیا ہوا
    اے دوست چشمِ شوق نے دیکھا ہے بارہا
    بجلی سے تیرا نام گھٹا پر لکھا ہوا
    پہچانتے نہیں اسے محفل میں دوست بھی
    چہرہ ہو جس کا گردِ الم سے اٹا ہوا
    اس دور میں خلوص کا کیاکام اے شکیبؔ
    کیوں کر چلے بساط پر مہرا پِٹا ہوا
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
    گماں گزرتا ہے یہ شخض دوسرا ہے کوئی
    ہوا نےتوڑ کے پتہ زمیں پہ پھینکا ہے
    کہ شب کی جھیل میں پتھر گرا دیا ہے کوئی
    بٹا سکے ہیں پڑوسی کسی کا درد کبھی
    یہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی
    درخت راہ بتائیں ہلا ہلا کر ہاتھ
    کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی
    چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا چاند
    کسی کے ساتھ سمندر میں ڈوبتا ہے کوئی
    یہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہے
    کہ دشتِ شب میں بھٹکتی ہوئی صدا ہے کوئی
    مکان اور نہیں ہےبدل گیا ہے مکیں
    افق وہ ہی ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئی
    فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
    حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
    شکیبؔ دیپ سے لہرا رہے ہیں پلکوں پر
    دیارِ چشم میں کیا آج رت جگا ہے کوئی
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں
    قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوں
    نورِ منزل مجھے نصیب کہاں
    میں ابھی حلقۂ غبار میں ہوں
    یہ ہے تاکید سننے والوں کی
    واقعہ خوشگوار ہو تو کہوں
    کن اندھیروں میں کھو گئی ہے سحر
    چاند تاروں پہ مار کر شب خوں
    تم جسے نورِ صبح کہتے ہو
    میں اسےگردِ شام بھی نہ کہوں
    اب تو خونِ جگر بھی ختم ہوا
    میں کہاں تک خلا میں رنگ بھروں
    جی میں آتا ہے اے رہِ ظلمت
    کہکشاں کو مروڑ کر رکھ دوں
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے
    بدل رہا ہے جنوں زاوئے اُڑانوں کے
    یہ دل کا زخم ہے اک روز بھر ہی جائے گا
    شگاف پُر نہیں ہوتے فقط چٹانوں کے
    چھلک چھلک کے بڑھا میری سمت نیند کا جام
    پگھل پگھل کے گرے قفل قید خانوں کے
    ہوا کے دشت میں تنہائی کا گزر ہی نہیں
    مرے رفیق ہیں مُطرِب گئے زمانوں کے
    کبھی ہمارے نقوشٕ قدم کو ترسیں گے
    وہی جو آج ستارے ہیں آسمانوں کے
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
    مرجھا کے آگرا ہوں مگر سرد گھاس میں
    سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
    دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
    صحرا کی بود باش ہے اچھی نہ کیوں لگے
    سوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں
    چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دور کے
    مصروف ہوں ابھی عملِ انعکاس میں
    دھوکے سے اس حسیں کو اگر چوم بھی لیا
    پاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں
    تارہ کوئی ردائے شبِ ابر میں نہ تھا
    بیٹھا تھا میں اداس بیابان یاس میں
    جوئے روانِ دشت! ابھی سوکھنا نہیں
    ساون ہے دور، اور وہی شدّت کی پیاس ہے
    رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا
    پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں
    کانٹوں کی باڑھ پھاند گیا تھا مگر شکیبؔ
    رستہ نہ مل سکا مجھے پھولوں کی باس میں
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تارے ہیں نہ ماہتاب یارو
    کچھ اس کا بھی سدِّ باب یارو
    آنکھوں میں چتائیں جل رہی ہیں
    ہونٹوں پہ ہے آب آب یارو
    تاحدِّ خیال ریگ صحرا
    تاحدِّ نظر سراب یارو
    رہبر ہی نہیں ہے ساتھ اپنے
    رہزن بھی ہے ہم رکاب یارو
    شعلے سے جہاں لپک رہے ہیں
    برسے گا وہیں سحاب یارو
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچا تھا
    مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا
    میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے
    وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا
    قریب تیر رہا تھا بطوں کا ایک جوڑا
    میں آب جو کے کنارے اداس بیٹھا تھا
    شب سفر تھی قبا تیرگی کی پہنے ہوئے
    کہیں کہیں پہ کوئی روشنی کا دھبا تھا
    بنی نہیں جو کہیں پر، کلی کی تربت تھی
    سنا نہیں جو کسی نے، ہوا کا نوحہ تھا
    یہ آڑھی ترچھی لکیرین بنا گیا ہے کون
    میں کیا کہوں مرے دل کا ورق تو سادا تھا
    میں خاکداں سے نکل کر بھی کیا ہوا آزاد
    ہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھیرا تھا
    اُتر گیا ترے دل میں تو شعر کہلایا
    میں اپنی گونج تھا اور گنبدوں میں رہتا تھا
    اِدھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی
    کہ زیرِ سنگ خُنُک پانیوں کا چشما تھا
    وہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندنی کا کنول
    وہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کاٹکڑا تھا
    میں ساحلوں میں اترا کر شکیبؔ کیا لیتا
    ازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اتریں عجیب روشنیاں رات خواب میں
    کیا کیا نہ عکس تیر رہے تھے سراب میں
    کب سے ہیں ایک حرف پہ نظریں جمی ہوئی
    وہ پڑھ رہا ہوں جو نہیں لکھا کتاب میں
    پانی نہیں کہ اپنے ہی چہرے کو دیکھ لوں
    منظر زمیں کے ڈھونڈتا ہوں ماہتاب میں
    پھر تیرگی کے خواب سے چونکا ہے راستہ
    پھر روشنی سی دوڑ گئی ہے سحاب میں
    کب تک رہے گا روح پہ پیراہنِ بدن
    کب تک ہوا اسیر رہے گی حباب میں
    یوں آئنہ بدست ملی پربتوں کی برف
    شرما کے دھوپ لوٹ آگئی آفتاب میں
    جینے کے ساتھ موت کا ہے ڈر لگا ہوا
    خشکی دکھائی دی ہے سمندر کو خواب میں
    گزری ہے بار بار مرے سر سے موجِ خشک
    اُبھرا ہوا ہوں ڈوب کے تصویرِ آب میں
    اک یاد ہے کہ چھین رہی ہے لبوں سے جام
    اک عکس ہے کہ کانپ رہا ہے شراب میں
    چوما ہے میرا نام لبِ سُرخ سے شکیبؔ
    یا پھول رکھ دیا ہے کسی نے کتاب میں
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تمہیں بھی علم ہو اہل وفا پہ کیا گزری
    تم اپنے خون جگر سے کبھی وضو تو کرو
    نہیں ہے ریشم و کمخواب کی قبا نہ سہی
    ہمارے دامن صد چاک کو رفو تو کرو
    نگار صبح گریزاں کی تابشوں کو کبھی
    ہمارے خانہ ظلمت کے رو برو تو کرو
    طلوع مہر درخشاں ابھی کہاں یارو
    سیاہیوں کے افق کو لہو لہو تو کرو
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی
    یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگی
    اسی لئے تو ہوا رو پڑی درختوں میں
    ابھی میں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگی
    اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا
    زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی
    کسی کا جسم اگر چھو لیا خیال میں بھی
    تو پور پور مری مثل شمع جلنے لگی
    مری نگاہ میں خواہش کا شائبہ بھی نہ تھا
    یہ برف سی ترے چہرے پہ کیوں پگھلنے لگی
    ہوا چلی سرِ صحرا تو یوں لگا جیسے
    ردائے شام مرے دوش سے پھسلنے لگی
    کہیں پڑا نہ ہو پرتَو بہارِ رفتہ کا
    یہ سبز بوند سی پلکوں پہ کیا مچلنے لگی
    نہ جانے کیا کہا اس نے بہت ہی آہستہ
    فضا کی ٹھہری ہوئی سانس پھر سے چلنے لگی
    جو دل کا زہر تھا، کاغذ پہ سب بکھیر دیا
    پھر اپنے آپ طبیعت مری سنبھلنے لگی
    جہاں شجر پہ لگا تھا تبر کا زخم شکیبؔ
    وہیں پہ دیکھ لے، کونپل نئی نکلنے لگی
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ساحل سے دور جب بھی کوئی خواب دیکھتے
    جلتے ہوئے چراغ تہِ آب دیکھتے
    ہم نے فضول چھیڑ دی زخمِ نہاں کی بات
    چپ چاپ رنگِ خندۂ احباب دیکھتے
    غم کی بس ایک موج نے جن کو ڈبو دیا
    اے کاش وہ بھی حلقۂ گرداب دیکھتے
    بیتے دنوں کے زخم کریدے ہیں رات بھر
    آئی نہ جن کو نیند وہ کیا خواب دیکھتے
    کشکولِ شعرِ ترلیے پھرتے نہ ہم شکیبؔ
    اس ریشمیں بدن پہ جو کمخواب دیکھتے
     

اس صفحے کی تشہیر