1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

لکھے موسی پڑھے خدا

مہدی نقوی حجاز نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 29, 2012

  1. مہدی نقوی حجاز

    مہدی نقوی حجاز محفلین

    مراسلے:
    4,894
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    کوئی صاحب نظر اس محاورے کا پس منظر بتا دے تو اسے ہم بھی مان جائیں۔
    لکھے موسی پڑھے خدا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اصل محاور "لکھے مُو سا پڑھے خود آ" ہے۔

    مُو بال کو کہتے ہیں یعنی کہ بال جیسا باریک لکھے اور پڑھنے کے لیے بھی خود ہی آنا پڑے۔
     
    • متفق متفق × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  3. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    10,314
    موڈ:
    Cheerful
    کس لغت میں ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اور کیا اس لکھنے پڑھنے کے عمل کو "عملِ تطہیر" کہا جاتا ہے؟ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  5. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شمشاد بھائی نے بالکل درست لکھا ہے۔
    لیکن غلط العوام میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ۔۔۔ ”لکھے عیسیٰ ، پڑھے موسیٰ “ یعنی ایسی لکھائی میں لکھا ہے کہ لکھنے اور پڑھنے والے دونوں کا عالم فاضل ہونا ضروری ہے۔ عام آدمی کے بس کی بات نہیں کہ ایسی تحریر کو پڑھ اور سمجھ سکے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  6. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شمشاد بھائی خود ایک لغت ہیں، کیا آپ کو ان کے لکھے پر شک ہے ؟
    ایک مرتبہ شمشاد بھائی بچوں کو پڑھا رہے تھے اور ایسا ہی کوئی مشکل لفظ جملہ بنانے کے لئے دیا۔ بچوں نے اُس لفظ کے معنی لغت میں ڈھونڈنے کی کوشش کی تو وہ لفظ ہی اُنہیں لغت میں نہیں ملا۔ جب انہوں نے کہا کہ یہ لفظ تو لغت میں ہی نہیں ہے۔ شمشاد بھائی نے بے نیازی سے کہا کہ نہیں ہے تو لکھ دو :applause:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    سیدھی سی بات ہے کہ حضرت موسیٰ کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے یعنی انہیں خدا سے کلام کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس لحاظ سے اگر اس محاورے کو دیکھیں تو یہ بات صاف کھل جاتی ہے کہ ایسی تحریر جسے صرف حضرت موسیٰ لکھ سکتے تھے اور صرف خدا تعالیٰ ہی اسے سمجھ سکتے تھے۔ عمومی طور پر ایسی تحریر کے لئے بولا جاتا ہے جو مبہم ہو، مہمل ہویا انتہائی خراب خط کے لئے بھی یہ محاورہ بولا جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    محاورے کے پس منظر پر تحفظات رکھنے کے باوجود ۔۔۔ اس کی خط کشیدہ تشریح سے صد فیصد متفق ہوں۔ میرے خیال میں اصل محاورہ اور اس کے لغوی معنیٰ وہی ہیں، جسے شمشاد بھائی نے بیان کیا ہے۔ لیکن یہ محاورہ بولا اسی مفہوم میں جاتا ہے، جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  9. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,492
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    شائد ایسی ہی کسی سچویشن میں کسی نے ایک بزرگ سے خط لکھ کر دینے کی درخواست کی تو انہوں نے جواباً یہ کہہ کر خط لکھنے سے معذرت کی کہ "میرے پیروں میں درد ہے ۔ "
    پوچھا گیا "حضور! خط سے پیر کا کیا تعلق؟"
    کہنے لگے "جا کر سنائے گا کون؟" :cool:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 11
    • متفق متفق × 1
  10. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    میرا خیال ہے اگر کوئی یوں لکھے "لکھے موسی پڑھے خدا " جیسا کہ مہدی نقوی حجاز صاحب نے اپنے استفسار میں وضاحت طلب کی ہے تو فرخ منظور صاحب کا فرمان مستند ہے اور اگر اس طرح لکھا جائے "لکھے مُو سا پڑھے خود آ " تو سند شمشاد صاحب کی ہوئی اور اگر زبانی کلام ہو تو استفسار کر لیا جائے :applause:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سیدہ شگفتہ آپ نے بھی ایک دفعہ اس محاورے کی وضاحت کی تھی۔ آپ سے شرکت کی درخواست ہے۔
     
  12. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,256
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اصل محاورہ وہی ہے جو میں نے لکھا ہے (لکھے مُو سا، پڑھے خود آ)، تغیرات زمانہ سے اسے "لکھے موسیٰ پڑھے خدا" کر دیا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  13. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شمشاد بھائی۔ ہمارے اور آپ کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ تمام لغات میں یہ محاورہ درج ہے۔ "لکھے موسیٰ پڑھے خدا" اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محاورہ غلط ہے تو کسی لغت سے اس کی سند لا کر ضرور دکھائیے۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ کسی آن لائن لغت کا ربط تلاش کر کے یہاں پر اس کا لنک دے سکوں۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ہم نے بھی بچپن میں ایک دوست کی زبانی ایسا ہی کچھ سنا تھا کہ اصل محاورہ "لکھے منہ سا پڑھے خود آ" ہے یعنی لکھائی اپنی شکل جیسے بُری ہے جسے کوئی اور نہیں پڑھ سکتا اور اسے خود آ کر پڑھنا پڑتا ہے۔
    لیکن چونکہ اس گپ کا کوئی ماخذ نہیں تھا لہٰذا اسے سوائے بے پر کی سمجھنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔
     
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  16. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    فرہنگِ آصفیہ میں اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ "لکھے مُو سا پڑھے خود آ" غلط املا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    فرخ منظور بھائی!
    وضاحت کا بہت بہت شکریہ۔ فرہنگِ آصفیہ میں واقعی "لکھے موسیٰ پڑھے خدا" ہی کو درست محاورہ بتلایا گیا ہے۔ لیکن فرہنگ کا یہ وضاحت کرنا کہ "لکھے مُو سا پڑھے خود آ" غلط املا ہے، اس طرف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ شایدکبھی ایسا بھی لکھا جاتا رہاہو، جو غلط ہے۔ بہت بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    فرہنگِ آصفیہ کی عبارت بغور پڑھنے سے تو یہ واضح ہو رہا ہے کہ مولوی صاحب کہنا چاہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی لغت میں لکھے موسیٰ پڑھے خدا اس وجہ سے املا کیا ہے کیونکہ اس کی املا اسی طرح رواج ہے اور زیادہ اسی طرح تلمیح کرتے ہیں پس اس وجہ سے یہی املا لکھا گیا ورنہ اس طرح لکنا غلط تھا۔ اور جو رباعی سند کے طور پر درج کی ہے اس میں بھی تلمیح ہے۔ یعنی مولوی سید احمد دہلوی اس کو اس لیے اس طرح لکھ رہے ہیں کہ رواج یہی ہے ورنہ ان کی نظر میں بھی غلط ہے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. عدیل منا

    عدیل منا محفلین

    مراسلے:
    450
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میں نے بھی کچھ ایسا ہی سنا ہے۔ آپ بجا فرما رہے ہیں۔
     
  20. عدیل منا

    عدیل منا محفلین

    مراسلے:
    450
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اب آپ نے مستند حوالہ دے دیا ہے تو اپنے خیال پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔:) لیکن اگر ایسا ہے تو پھر ہم اس محاورے کے حق میں نہیں ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر