لڑکوں کی بےرخی پر لڑکیوں کا شکوہ

کیونکہ
اردو محفل سے سیکھ کر تہذیب
کچھ حیا دار ہو گئے لڑکے
بہن بیٹی سمجھنے لگ گئے ہیں
ابو بھیا سے ہو گئے لڑکے۔:)

الشفاء بھیا! لڑکوں کے بدذوق ہونے کا سبب محفل کو تو نہ بنائیں نا :shocked:
چھیڑتے ہیں نہ تاڑتے ہیں ہمیں​
کتنے بےذوق ہو گئے لڑکے​
 
میں بھی کہوں یہ امجد بھائی نے اپنا اوتار بدل کر یہ سوٹ والا کیوں کر لیا ہے۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
داد کے لئے شکریہ شمشاد بھیا!
اوتار بدلنے کا کیا فائدہ؟ ریٹ تو آپ دیتے نہیں :sad4:
ریٹ دیتے نہیں ہیں تحفے میں
کتنے کنجوس ہو گئے لڑکے
اگر غصہ آئے تو یہ ضرور بتائیئے گا کہ کس بات پر آیا؟ "کنجوس" کہنے پر یا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "لڑکا" کہنے پر :laughing3:
 

شوکت پرویز

محفلین

محمد بلال اعظم

لائبریرین
کچھ بھی دیتے نہیں ہیں تحفے میں
کتنےکنجوس ہو گئے لڑکے
خون سے خط بھی اب نہیں لکھتے
کس قدر خشک ہو گئے لڑکے
ہم سے شادی کا ذکر چھڑتے ہیں
ڈر کےمارے ہی رو گئے لڑکے
ہم پہ اشعار بھی نہیں لکھتے
کیسے جاہل سے ہو گئے لڑکے
چھیڑتے ہیں نہ تاڑتے ہیں ہمیں
کتنے بےذوق ہو گئے لڑکے

ان اشعار نے میلہ لوٹ لیا،
یہ اب کلاس میں سناؤں گا اور پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے
اچھا اچھا ہی تو اچھا ہے;)
 

منصور مکرم

محفلین
ہم سے شادی کا ذکر چھڑتے ہیں​
ڈر کےمارے ہی رو گئے لڑکے​

امجد علی راجہ صاحب اگر پہلا مصرع اسطرح ہوجائے کہ

ہم سے شادی کا ذکر چھڑتے ہی (بجائے ہیں کے)
ڈر کے مارے ہی روگئے لڑکے

تو کیسا رہے گا۔

دوسری بات کہ آپکے اشعار فیس بک پر اپلوڈ کرتا ہوں آپکے نام سے۔ اگر اجازت ہو تو
 

یوسف-2

محفلین
جانے کس دیس کھو گئے لڑکے
ہم سے کیوں دور ہو گئے لڑکے
کالج آنے کو دل نہیں کرتا
خار راہوں میں بو گئے لڑکے
راج کرنے کا خواب تھا اپنا
سارے ارماں ڈبو گئے لڑکے
کچھ بھی دیتے نہیں ہیں تحفے میں
کتنےکنجوس ہو گئے لڑکے
مست آنکھوں کا دلنشیں کاجل
آنسوئوں میں ڈبو گئے لڑکے
خون سے خط بھی اب نہیں لکھتے
کس قدر خشک ہو گئے لڑکے
ہم سے شادی کا ذکر چھڑتے ہیں
ڈر کےمارے ہی رو گئے لڑکے
ہم پہ اشعار بھی نہیں لکھتے
کیسے جاہل سے ہو گئے لڑکے
چھیڑتے ہیں نہ تاڑتے ہیں ہمیں
کتنے بےذوق ہو گئے لڑکے
آپس کی بات ہے ۔ ۔ ۔ بات در اصل یہ ہے کہ آج کل کے لڑکوں کے پاس اتنے سارے غم (جیسے غم نکما پن، غم کاہلی، غم جاہلی، غم بھتہ خوری، غم ٹارگٹ کلنگ، غم روزگار، غم آوارگی، غم سیاہ ست، وغیرہ وغیرہ) جمع ہوگئے ہیں کہ وہ ”غم جاناں“ سے تقریباً بے نیاز سے ہوگئے ہیں ۔ :( ان سارے غموں کے نتیجہ میں اب تو سچ مچ کے ”قحط الرجال“ کا سا سماں ہے۔ لہٰذا لڑکیوں کا ”شکوہ“ بجا ہے۔:)
 
لڑکوں کی بےرخی پر لڑکیوں کا شکوہ

جانے کس دیس کھو گئے لڑکے
ہم سے کیوں دور ہو گئے لڑکے
:ohgoon:
کالج آنے کو دل نہیں کرتا
خار راہوں میں بو گئے لڑکے
سب راجا جی کے تخیل کی جادوگری ہے :daydreaming:
راج کرنے کا خواب تھا اپنا
سارے ارماں ڈبو گئے لڑکے
راج تو اب بھی ہے ان کا :mad3:
کچھ بھی دیتے نہیں ہیں تحفے میں
کتنےکنجوس ہو گئے لڑکے
کنجوس نہیں عقل مند:wink2:
مست آنکھوں کا دلنشیں کاجل
آنسوئوں میں ڈبو گئے لڑکے
خواتین کا پرانا ہتھیار:mad3:
خون سے خط بھی اب نہیں لکھتے
کس قدر خشک ہو گئے لڑکے
خشک نہیں عقلمند:tongueout4:
ہم سے شادی کا ذکر چھڑتے ہیں
ڈر کےمارے ہی رو گئے لڑکے
پہلی بیگم کا ڈر تھا نا :sad4:
ہم پہ اشعار بھی نہیں لکھتے
کیسے جاہل سے ہو گئے لڑکے
اتنا کچھ لکھنے کے بعد بھی جاہل:shocked:
چھیڑتے ہیں نہ تاڑتے ہیں ہمیں
کتنے بےذوق ہو گئے لڑکے
اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا:sad4:
 

عمراعظم

محفلین
مست آنکھوں کا دلنشیں کاجل
آنسوئوں میں ڈبو گئے لڑکے

خوش خیالی ہی سہی ۔ بات زبردست ہے۔ واہ کیا خوب تخلیق ہے امجد علی راجا صاحب ۔داد قبول فرمائیں۔

وہ جو افسانہء دل سن کے ہنسا کرتے تھے
اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا
 
Top