لوگ تو ہیں سب کے سب بے باک سے (اصلاح)

سررسری صاحب۔توجہ کے لیے شکریہ مگر معذرت اور احترام کے ساتھ عرض یہ ہے کہ آپ کی قوسین میں پیش کردہ وضاحت یہاں انتہائی بے ڈھنگی :lol: معلوم ہو رہی ہے۔
اور ہاں میں اس شعر کو اس طرح سنتا اور پڑھتا آیا ہوں ۔

زندگی آمد ۔ برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
قوسین میں پیش کردہ بات وضاحت ہرگز نہیں، بلکہ از راہ مذاق ہے، اگر طبیعت پر گراں گزرا ہے تو معذرت خواہ ہوں۔
شعر کی تصحیح کے لیے متشکر ہوں ، واقعی جو آپ نے لکھا وہی ہوگا۔:):):)
 

سید عاطف علی

لائبریرین
قوسین میں پیش کردہ بات وضاحت ہرگز نہیں، بلکہ از راہ مذاق ہے، اگر طبیعت پر گراں گزرا ہے تو معذرت خواہ ہوں۔
شعر کی تصحیح کے لیے متشکر ہوں ، واقعی جو آپ نے لکھا وہی ہوگا۔:):):)
میرا مطلب تھا کہ آپ کی دی گئی مثالیں بجائے خود بہت مزاحیہاور سیلف ایکسپلےنیٹری تھیں :) لہذا آپ کو قوسین میں لکھنے کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ آداب۔
 
یہاں جس امر کی طرف اشارہ مقٖصود ہے وہ یہ ہے کہ یہ فاعدہ اتنا ہمہ جہت اور جامداور سخت گیر نہیں بلکہ اس میں دیگر متعدد قواعد کی طرح کچھ لچک اور استثنائی حالتیں بھی موجود ہیں جن ہیں زبان اور اہل زبان نے ان کی مستثنٰی شکلوں میں ہی قبول کیا ہے اور انہیں اسی حال میں افصح سمجھا جاے گا ۔۔۔ ۔۔۔ مثلا" لفظ بچہ پر ہم پاگل پن کی طرح "پن" کا لاحقہ لگاتے ہیں اور بچگی ایک مہمل کلمہ ہو جاتا ہے جبکہ بچگانہ صحیح لفظ ٹہرتا ہے۔جیسے زنانہ و بچگانہ کپڑے ۔
اسی طرح ۔ ۔ناراض سے ناراضگی صحیح جبکہ ناراضی غیر فصیٰح ہو گا ۔ خفا سے خفگی ۔۔ پیش سے پیشگی (مبارکباد یا ضمانت ) وغیر ہ ۔۔۔ ۔ درست سے درستگی کو بھی اسی طرح سمجھا جائے گا۔
ایک مرتبہ پھر وضاحت کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض میری ذاتی رائے ہے اس سے بھر پور اختلاف تنقید اور تصحیح کی گنجائش موجود ہو گی اور احباب کا حق ہوگا ۔

محترمی جناب سید عاطف علی اور دیگر صاحبانِ گرامی
سابقہ ’’پن‘‘ ہندی طریقہ ہے، اس میں بنایا گیا لفظ فارسی عربی ترکیب کا متحمل نہیں رہ سکتا۔
لفظ ’’بچپن‘‘ کے ساتھ ترکیب مثلاً ’’زمانۂ بچپن‘‘ کو شاید کوئی بھی ’’فصیح‘‘ نہیں کہے گا، ’’افصح‘‘ تو کہیں آگے کی بات ہے۔ بچپن، پیشگی، خفگی اور ایسے الفاظ کو اہلِ لغات ’’وضعی‘‘ الفاظ کہتے ہیں۔
زنانہ، مردانہ، بچگانہ، مجنونانہ، فقیرانہ وغیرہ؛ ان کی ساخت کے دو مرحلے ہیں۔ پہلے جمع: زن سے زنان، مرد سے مردان، بچہ سے بچگان ۔۔۔ اور پھر اُس پر آخری ہ کا اضافہ: زنانہ، مردانہ، بچگانہ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔

ایک موٹی سی بات جان لیجئے کہ چلنے کو بہت کچھ چلتا ہے؛ غلط، غلط العام، غلط العوام، وضعی الفاظ وغیرہ۔ تاہم ادب امین ہوتا ہے درست اور اصل کا۔ اس لئے ادب میں جہاں تک ممکن ہو، درست ترین کا اہتمام ہونا چاہئے۔ باقی ٹھیک ہے، اس میں کوئی امر متنازع نہیں ہے۔

بہت آداب۔
 
محترمی جناب سید عاطف علی اور دیگر صاحبانِ گرامی
سابقہ ’’پن‘‘ ہندی طریقہ ہے، اس میں بنایا گیا لفظ فارسی عربی ترکیب کا متحمل نہیں رہ سکتا۔
لفظ ’’بچپن‘‘ کے ساتھ ترکیب مثلاً ’’زمانۂ بچپن‘‘ کو شاید کوئی بھی ’’فصیح‘‘ نہیں کہے گا، ’’افصح‘‘ تو کہیں آگے کی بات ہے۔ بچپن، پیشگی، خفگی اور ایسے الفاظ کو اہلِ لغات ’’وضعی‘‘ الفاظ کہتے ہیں۔
زنانہ، مردانہ، بچگانہ، مجنونانہ، فقیرانہ وغیرہ؛ ان کی ساخت کے دو مرحلے ہیں۔ پہلے جمع: زن سے زنان، مرد سے مردان، بچہ سے بچگان ۔۔۔ اور پھر اُس پر آخری ہ کا اضافہ: زنانہ، مردانہ، بچگانہ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔

ایک موٹی سی بات جان لیجئے کہ چلنے کو بہت کچھ چلتا ہے؛ غلط، غلط العام، غلط العوام، وضعی الفاظ وغیرہ۔ تاہم ادب امین ہوتا ہے درست اور اصل کا۔ اس لئے ادب میں جہاں تک ممکن ہو، درست ترین کا اہتمام ہونا چاہئے۔ باقی ٹھیک ہے، اس میں کوئی امر متنازع نہیں ہے۔

بہت آداب۔
جزاکم اللہ خیرا استاد محترم اتنی دلنشین تشریح فرمانے کا بہت شکریہ۔
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
محترمی جناب سید عاطف علی اور دیگر صاحبانِ گرامی
سابقہ ’’پن‘‘ ہندی طریقہ ہے، اس میں بنایا گیا لفظ فارسی عربی ترکیب کا متحمل نہیں رہ سکتا۔
لفظ ’’بچپن‘‘ کے ساتھ ترکیب مثلاً ’’زمانۂ بچپن‘‘ کو شاید کوئی بھی ’’فصیح‘‘ نہیں کہے گا، ’’افصح‘‘ تو کہیں آگے کی بات ہے۔ بچپن، پیشگی، خفگی اور ایسے الفاظ کو اہلِ لغات ’’وضعی‘‘ الفاظ کہتے ہیں۔
زنانہ، مردانہ، بچگانہ، مجنونانہ، فقیرانہ وغیرہ؛ ان کی ساخت کے دو مرحلے ہیں۔ پہلے جمع: زن سے زنان، مرد سے مردان، بچہ سے بچگان ۔۔۔ اور پھر اُس پر آخری ہ کا اضافہ: زنانہ، مردانہ، بچگانہ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔
ایک موٹی سی بات جان لیجئے کہ چلنے کو بہت کچھ چلتا ہے؛ غلط، غلط العام، غلط العوام، وضعی الفاظ وغیرہ۔ تاہم ادب امین ہوتا ہے درست اور اصل کا۔ اس لئے ادب میں جہاں تک ممکن ہو، درست ترین کا اہتمام ہونا چاہئے۔ باقی ٹھیک ہے، اس میں کوئی امر متنازع نہیں ہے۔
بہت آداب۔
آسی صاحب آپ کی بات بالکل درست ہے اور آپ اپنی رائے پر قائم رہنے میں بالکل با اختیار ہیں اور میں آپ کو اپنے مؤقف کی طرف مائل کرنے کی جسارت بھی نہیں کر رہا ۔آپ کا خیال آپ کی طرح محترم ہے۔
میں نے اشارہ کیا تھا قاعدے کے یکسر جامد اور مطلق ہونے کی طرف ۔لغت میں خواہ انہیں کسی بھی کیٹیگری میں رکھا جائے اور اسے کوئی بھی نام دیا جائے۔۔انہیں اردو کی اپنی فصاحت سے عاری نہیں سمجھا جا سکتا۔۔۔۔۔آپ غالبا " اتفاق کریں گے کہ الفاظ زبان سے دوسری زبان میں ڈاخل ہوتے ریتے ہیں اور اپنی شکل ۔ ہیئیت ۔ کو زبان کی فطری ساخت کے مطابق تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ عربی میں انہیں دخیل کہا جاتا ہے۔غالبا" اردو میں بھی۔۔۔

مثلا" آپ نے احبائے محفل کو یہاں صاحبان کہہ کر مخاطب کیا جبکہ صاحبان کو اصل عربی کی فصاحت سے دیکھیں تو محض دو ساتھی مخا طب ہو جائیں گے۔لیکن یہاں اردو زبان اور اہل زبان نے خطاب کو اپنے انداز میں ڈھال لیا ۔۔۔۔ زمانہء بچپن کو میں نے فصیح نہیں کہا ۔۔۔۔لیکن بچپن کا لفظ بطور خوداردو زبان غیر فصیح نہیں اگر چہ ایام طفلی یا عہد طفولیت کہہ کر مزید افصح شکل میں اس کا برتاؤ ممکن ہے۔ (میری رائے میں) ۔۔ ایسی تمام تراکیب انہی شکل میں ایک حد تک قابل قبول ہیں جو زبان کے محاورے میں ڈحل کر اہل زبان میں رائج ہوئیں۔ مثلا" لافانی درست سمجھا جاتا ہے بے فانی غلط ۔۔۔بے مثال صحیح سمجھا جاتا ہے لا مثال غلط ۔

عربی قاعدے کے مطابق عربی زبان میں مستعمل ابراہیم اسمعیل یوسف وغیرہ عجمی نام ہیں اور اس طرح کے عجمی نوعیت کے اسماء کبھی تنوین قبول نہیں کرتے جیسا کہ عرب نام نکرہ حالت میں ضرور کرتے ہیں ۔۔ ابراہیَِم’‘ (دو پیش ) کبھی نہیں لکھا جائے گا جبکہ محمد’‘ (دو پیش ) صحیح ہے ۔۔ان کی مجرور شکل بھی ہمیشہ مختلف رہتی ہے ۔۔۔۔ یہ عربی زبان میں عجمی اسماء کا عمومی قاعدہ ہے۔۔۔ مطلب یہ کہ دخیل الفاظ کا شکلی تغیر ایک فطری اور ممکنہ امر ہے۔

۔آج کی ترقی یافتہ اردو زبان فصاحت کے اپنے منفرد عنصر کی مالک ہے جو عربی زبان کی خالص فصاحت سے متفاوت ہے کیوں کہ اس کا مزاج ہی ان تمام متنوع اجزائے ترکیبی سے عبارت ہے جن سے ملکر یہ بنی ہے خواہ وہ ہندی ترکی فارسی یا عربی ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔ اردو زبان کا جمال و بلوغ بھی انہی سابقی اور لاحقی ترکیبات کا مرہوں منت ہے جو اردو زبان کے مزاج کے مطابق یکجا ہو کر الماس و مروارید بن کر زبان کا دامن مزین کرتی ہیں۔ اور اردو کی فصیح اور بالغ شکل بھی ان ہی سے تشکیل پاتی ہے۔ ۔۔۔
آپ کی موٹی سی بات بھی تسلیم ۔کہ چلتا سب ہے۔۔۔۔یہاں یہ نکتہ زیر بحث نہیں کہ کیا چلتا ہے اور کیا نہیں۔۔۔بلکہ قاعدے کو لاگو کرنے میں کچھ پہلو ؤں کو مد نظر رکھنے اور اہل زبان کے برتاؤ کی تھی۔۔۔حتی کہ اگر بہت سے صحیح قواعد بالکل درست طور پر متعدد صحیح کلمات پہ لاگو کئے جا یئں تو ان کی ناہمواریاں زبان میں واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔خواہ کلمات اور قواعد کتنے ہی صحیح اور اصیل ہوں۔لا مثال بے فانی ۔۔۔۔۔ ۔ فارسی لاحقے اردو زبان میں خوبصورتی سے عربی کلمات سے جڑ کر اس قدر کثیر مقدار میں اپنائے ہیں اس کی کوئی مثال میرے خیال میں کسی اور زبان میں نہ ملے ۔تاہم مختلف قواعد کے تحت ہونے کے علاوہ کئی استثنائی صورتیں بھی اکثر و بیشتر رکھتی ہیں۔ ۔۔۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں
عالمگیر ۔۔ ۔۔عالم عربی ۔گیر فارسی۔لطف اندوز۔۔۔غمگین غم عربی گین (دراصل آگین بمعنی بھرا ہوا ) فارسی ---تجربہ کار ۔۔۔تجربہ عربی کار فارسی----بد معاش ۔۔۔بد فارسی معاش عربی ۔۔۔عقل مند ۔۔عقل عربی مند عجمی۔۔۔۔
یہ صرف عربی کی چند مثالیں ہیں اور میرے خیا ل میں بہت سی دیگر مثالیں دوسری زبانوں کی بھی مل جائیں گیاگر چہ مشکل سے ملیں لیکن مل جائیں گی۔ مثلا" بچپن ۔۔بچپن کے لفظ کے لئے چھٹپن بھی استعمال ہوتا ہے۔چھ پر پیش کے ساتھ۔۔
تلاش ترکی ۔۔متلاشی ۔ عربی قاعدہ لگا کر فاعل بنا دیا گیا ۔۔۔ یلغارمسلسل ۔عربی ترکی ۔۔۔نشانہ باز۔۔ لفظ نشانہ شاید ترکی الاصل ہے۔۔۔بھلا مانس ۔۔بن مانس ۔۔ہندی ۔۔۔پاندان ۔۔۔کیڑے مار ۔۔ہندی
میرے خیال میں ان میں کوئی بھی ً اردو فصاحت کی رعایت کے تناظر میں ً غیر فصیح نہیں خوا ہ ان کی افصح اشکال ممکن ہوں بشرطیکہ اردو کو ایک فصیح زبان مانا جائے ۔۔۔اگر چہ قواعد مرتب کرنے والے کچھ ہی نام دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورہاں کسی کلمے کی اصل بہ ہر حال اصل ہی ہوتی ہے اس کی اہمیت سے انکا ر نا ممکن بلکہ ادبی نا انصافی ہے۔ ۔۔اسی لئے ۔Etymology ۔جیسی اہم علمی شاخ لغوی علوم میں وجود میں آئی ہے۔جس سے الفاظ کے برتاؤ میں درستگی کے امکانات روشن تر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔غلط العام کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ میرے خیال میں فصاحت کے اس تصور سے متصادم ہی تصور کئے جانے چاہئیں ۔۔۔۔
 
Top