لوگ تو ہیں سب کے سب بے باک سے (اصلاح)

خرم شہزاد خرم نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 12, 2013

  1. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    لوگ تو ہیں سب کے سب بے باک سے
    ہیں مگر سارے بہت چالاک سے
    ظلم کی اک پھر کہانی ہوگئی
    خون کی بُو آ رہی ہے خاک سے
    بندے تو اب کر نہیں سکتے مدد
    اب امیدیں بس ہمیں افلاک سے
    بن نہیں جاتا ہے مجنوں ہر کوئی
    بال بکھرے اور گریباں چاک سے
    حال اپنا ہوگیا بے حال سا
    پڑ گیا ہے پھر سے پالا ناک سے
    کوزہ گر اب تُو نہیں ہے پہلے سا
    سب اترنے جا رہے ہیں چاک سے
    در بدر جانے کی فرصت ہی نہیں
    مانگتا ہوں میں تومولا پاک سے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جناب خرم شہزاد خرم
    مشکل میں ڈال دیا، آپ نے۔ اب تو کچھ نہ کچھ عرض کرنا ہو گا، سو کروں گا۔ ذرا دم لے لوں!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,682
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ذرا روانی کی کمی محسوس ہوتی ہے کئی اشعار میں۔ خرم خود گور کر کے درستگی کر لیں تو بہتر ہے۔ ورنہ پھر ہم تو ہیں ہی، خیال رہے کہ میں ’ہم‘ کہہ رہا ہوں، اور اس میں محمد یعقوب آسی بھائی کو بھی شامل کر رہا ہوں اور دوسرے مستند شعراء کو بھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    سب سے پہلے تو جناب الف عین سے معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ’’درستگی‘‘ یا ’’درستی‘‘ ۔۔۔۔۔۔؟
    میرے علم کے مطابق قاعدہ یہ ہے کہ جس اسم واحد کا آخری حرف ’’ہ‘‘ ہو، اُس کو گاف سے بدلتے ہیں۔
    بچہ بچگان، زچہ زچگی، بے قاعدہ بے قاعدگی، عمدہ عمدگی، خانہ خانگی، تشنہ تشنگی تشنگان، تِیرہ تِیرگی ۔۔۔

    اور جہاں آخری حرف کچھ اور ہو وہاں گاف اضافی نہیں لگاتے۔
    جوان جوانی جوانان، عالم سے عالمان اور اس سے عالمانہ، مرد سے مردان اور اس سے مردانہ اور آگے اس سے مردانگی۔

    روان سے روانی اور روانہ سے روانگی

    تشفی کا منتظر ہوں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 4
  5. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ایک سوال اور بھی ہے، جناب الف عین۔
    ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ’’دیوانہ وار‘‘ ’’دیوانہ‘‘ سے مشتق ہے۔ وہ دیوانہ وار آگے بڑھا (وہ پاگلوں کی طرح آگے بڑھا) یہ معانی مشکوک ہیں۔ منقولہ بالا قاعدے کے مطابق ’’دیو‘‘ سے جمع ’’دیوان‘‘ (زیر کے بغیر) اور اس سے دیوانہ وار (دیووں کی طرح)۔ مثال یا دلیل مردانہ وار سے لیتے ہیں۔ مرد سے جمع مردان اور اس سے مردانہ وار، زن سے زنان اور اس سے زنانہ، بچہ سے بچگان اور اس سے بچگانہ۔
    یعنی ایسے مشتقات کی بنیاد جمع پر ہوتی ہے۔ اور ’’دِیوانہ‘‘ (پاگل) جمع نہیں واحد ہے۔

    غلط العام کی بات دوسری ہے۔ توجہ کا طالب ہوں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جنابِ خرم شہزاد خرم کی غزل پر کل بات کریں گے، ان شاء اللہ۔
    یہاں رات کے ساڑھے دس ہو رہے ہیں اور س س س س س سردی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ س س س س !!!
     
  7. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,682
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اوہو، یہاں کا پیغام شاہد کی غزل میں پوسٹ ہو گیا۔ درتگی کی درستی آسی بھائی نے یہاں فرمائی تھی!! یہاں پہلے آیا تھا، اور بعد میں اس دھاگے میں گیا تھا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اس میں ’’تو‘‘ اور ’’مگر‘‘ کا جواز نہیں بنتا۔ بے باک اور چالاک ہونا دو آزادانہ خواص ہیں، ایک دوجے سے مشروط یا متصادم نہیں۔
     
  10. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بحر آپ نے مانوس منتخب کی ہے۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    میں اس بات کا حامی ہوں۔
     
  11. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ’’کہانی ہو گئی‘‘ میرے لئے غیرمانوس ہے، اس لئے کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ دوسرا مصرع بہت قوی ہے، پہلا مصرع کچھ ایسا لائیے کہ اس کی قوت کو اجاگر کرے۔ جیسے ظلم اتنا عام ہو گیا ہے کہ ۔۔۔ وغیرہ۔
     
  12. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پہلا مصرع بہت کمزور ہے صاحب۔ ایک تو اس کی قرات میں ’’بند تو ۔۔‘‘ آتا ہے، دوسرے اس کی معنوی سطح ہے۔ ’’اب‘‘ کی ضرورت کیوں پڑی؟
    میرے نزدیک شعر کا خیال کچھ ترمیم طلب ہے: ’’بندے تو کیا مدد کریں گے، ہمیں تو اللہ ہی سے امیدیں ہیں‘‘۔ گر قبول افتد۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  13. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دوسرا مصرع ’’عجزِ بیان‘‘ کا شکار ہو گیا۔
     
  14. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اگر یہاں ’’ناک‘‘ کا مطلب ’’انا‘‘ ہے تو شعر کمزور رہ گیا۔ خیال عمدہ ہے، بیان میں مزید محنت لگے گی۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  15. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    معذرت، کہ میں اس کا مفہوم پورے طور پر نہیں پا سکا۔
     
  16. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    حمدیہ شعر، مضبوط تر بیان اور مفہوم کا متقاضی ہوا کرتا ہے۔
     
  17. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ ادھر شعر کہے ادھر پوسٹ کر دئے! اتنی عجلت بھی کیا، صاحب؟

    میں احباب کو یہ مشورہ اکثر دیا کرتا ہوں کہ وہ کچھ وقت اپنی شاعری کے ساتھ گزاریں، گویا اپنے شعر سے مکالمہ کریں۔ ہم شعر محض اپنے لئے نہیں کہتے، ہمارے پیشِ نظر ایک قاری یا سامع ہوتا ہے۔ خود کلامی کے لئے تو شاید الفاظ بھی ضروری نہ ہوں۔
     
    • متفق متفق × 2
  18. فارقلیط رحمانی

    فارقلیط رحمانی لائبریرین

    مراسلے:
    1,935
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Festive
    واہ! جناب! اس شعر کی فنی خوبیاں تو عالی جناب الف عین صاحب اور محترم یعقوب آسی صاحب جیسے ارباب فن جانیں۔ ہمیں تو پڑھ کر مزہ آگیا۔کوزہ گر کے ہاتھوں میں بے بس اور بے کس مٹی کے لوندے، زیرِ تخلیق کوزے کوزہ گر کے چاک کی رفتار اور اس کے ہنر اورہاتھوں کی فن کاری کے منتظر ہوتے ہیں کہ دیکھیں ہمیں کون سا روپ نصیب ہوتاہے، ہم تشنگانِ عالم کو سیراب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں،یا کچھ اور؟؟؟ لیکن آپ نے تو کمال کر دِیا ایک بے بس و بے کس مٹی کے لوندے کو جو شاید ابھی کسی کوزے میں تبدیل بھی نہیں ہوا ہوگا، کوزہ، مٹکا، صنم کچھ بھی نہ بنا ہوگا۔ کہ آپ نے اُ سے ایسا اِختیار عطا فرما دِیا کہ ایک ہونے والی مخلوق اپنے خالِق سے بغاوت پر اُتر آئے اور اپنی ہی تخلیق کے خلاف بغاوت کردے۔عقلی اور منطقی طور پر یہ قطعی ممکن نہیں۔ آپ کا یہ شعر اگرعقل اور منطق کی کسوٹی پر کسا گیا تو شاید کھرا نہ اُترے۔
    البتہ ادب میں ایک رجحان سر ریلزم کا بھی رہا ہے۔ جو حضرات سر ریلزم کی اصطلاح سے واقف ہیں وہ اس شعر کی داد دیے بنا نہ رہ سکیں گے۔​
    انتباہ: اپنے دِل میں جھانک کر ایک سوال دِل سے پوچھ لیجیے گا کہ یہ شعر کہیں خالقِ حقیقی کی شان میں تو نہیں، اگر ایسا ہوا تو یہ کفر ہوگا۔ خدا کرے ایسا نہ ہو۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  19. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
  20. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آپ کے نام میں بہت کشش ہے فارقلیط رحمانی۔
    درخواست ہے کہ ’’فارقلیط‘‘ کا علمی اور تہذیبی پس منظر احباب کو بتائیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر