لاہور:15کی عمارت میں دھماکا،متعدد افرادہلاک و زخمی

قمراحمد

محفلین
لاہور:15کی عمارت میں دھماکا،متعدد افرادہلاک و زخمی
روزنامہ جنگ

لاہور… لاہور کے علاقے سول لائن میں واقع سی سی سی پی او آفس کی عمارت کے ساتھ واقع ون فائیو کی عمارت میں دھماکا ہوا ہے،جس میں کئی افراد ہلاک اورکئی زخمی ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بدھ کے سی سی پی او کی عمارت کے ساتھ15کی عمارت میں دھماکا ہواجس کے بعد علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔دھماکے سے علاقے میں موجود عمارتوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور 15کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں اور دھویں کے گہرے بادل بھی علاقے سے اٹھتے دیکھے گئے۔دھماکے سے 15کی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا ہے۔مقامی افراد کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے ۔دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ایمبولینسوں کے ذریعے زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔لاہور کے اسپتالوں میں زیمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
 

مغزل

محفلین
اللہ ہی اپنا کرم کرے تو کرے ۔ وگرنہ ہم نے کچھ کسر نہیں چھوڑی خود کو تباہ کرنے میں۔
 

قمراحمد

محفلین
up24.gif

up23.gif

up22.gif
 

arifkarim

معطل
لاہور میں سٹی پولیس آفیسر اور ریسکیو 15 کے دفاتر کے باہر خودکش حملے میں تئیس افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں حملہ آوروں نے وہاں لگائے بیریئر کے قریب آ کر پہلے فائرنگ کی اور اس کے بعد چھوٹا دھماکہ کیا۔ جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آوروں نے بیریئر پار کرنے کے بعد بڑا دھماکہ کیا۔

تاہم پنجاب کے سینیئر وزیر راجہ ریاض نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ریسکیو 15 کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جبکہ پولیس چیف کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی واقعہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔

عینی شاہد عامر علی نے ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر کو بتایا کہ ’میرا دفتر دھماکے کی جگہ سے تقریباً تیس چالیس گز کے فاصلے پر ہے ۔ دس بجے کے قریب ایک ہلکے دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے تھوڑی دیر کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ میرے دفتر کے شیشے ٹوٹ گئے اور میں معمولی زخمی ہوا۔‘

دھماکے کے فوری بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے جبکہ ارد گرد تمام عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور سامنے واقع بعض دوکانوں کے دروازے تک ٹوٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔ دھماکے کی جگہ کے سامنے گاڑیوں کے شو روم تھے جہاں کھڑی تمام گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں وہاں پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنا شروع کر دیا۔

خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ دس بجے کے قریب ہائی ایس ویگن کو ریسکییو ون فائیو کے دفتر اور آئی آیس آئی کے درمیان روکا گیا جس میں سوار چار افراد نے باہر نکل کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کی اور اس کے بعد عمارت کی جانب فائرنگ شروع کی اسی دوران ہائی ایس وین ایک زور دار دھماکہ سے پھٹ گئی ۔ دھماکے کی جگہ پندرہ فٹ گہرا گڑھا پڑا ہوا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق جائے وقوعہ کے آس پاس کے علاقے کو رینجرز نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ اس دھماکے میں سو کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد بھی فائرنگ کی کی آواز سنی گئی ہے۔

یہ عمارت لاہور کی ایک مشہور اور مصروف ترین شاہراہ پر واقع ہے اور اس کے گرد و نواح میں ایوانِ وزیرِ اعلیٰ اور لاہور کے اسمبلی ہال جیسی عمارتیں اور مال روڈ شامل ہے۔

یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے دس سے گیارہ بجے کے قریب ہوا ہے۔دھماکے کے بعد لاہور کے اہم ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پولیس نے وہاں سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو
 

راشد احمد

محفلین
اناللہ وانا الیہ راجعون

اللہ تعالٰی جاں بحق ہونیوالوں کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور اس کے ذمہ داران کو جہنم کی آگ نصیب فرمائے
 

زینب

محفلین
اللہ غرق کرے بے گناہوں وک مارنے والوں کو۔۔۔۔۔۔۔اللہ انہیں دوزخ کا ایندھن بنائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بسے بسائے گھروں کو اجاڑنے والوں کو۔۔۔۔۔۔۔
 
خودکش حملہ آپریشن سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا

لاہورمیں ہونے والا خودکش حملہ صوبہ پختونخواہ کے مختلف علاقہ جات میں جاری آپریشن سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا ہے۔ خودکش حملہ میں ملوث عناصر انسانیت کے کھلے دشمن ہیں۔دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کے نیٹ ور کے خاتمے کے لئے مزید سخت اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کے جانبحق ہونے پر لواحقین سے دلی تعزیت و افسوس کا اظہار کرتاہوں۔
 

arifkarim

معطل
خودکش حملہ آپریشن سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا

لاہورمیں ہونے والا خودکش حملہ صوبہ پختونخواہ کے مختلف علاقہ جات میں جاری آپریشن سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا ہے۔ خودکش حملہ میں ملوث عناصر انسانیت کے کھلے دشمن ہیں۔دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کے نیٹ ور کے خاتمے کے لئے مزید سخت اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کے جانبحق ہونے پر لواحقین سے دلی تعزیت و افسوس کا اظہار کرتاہوں۔

سائنسی بنیاد؟ کیا آپ انپر ایٹم بم مارنا چاہتے ہیں؟
 
Top