لاہور کی باتیں

نایاب

لائبریرین
آپ کی دی ہوئی معلومات زیادہ صائب معلوم ہوتی ہیں کیونکہ لاہور کی تاریخ کے بارے میں کئی جگہوں پرہم نے بھی کچھ ایساہی پڑھا تھا۔
محترم بھائی میں بھی اک نمبر بھگوڑا محترم فرخ منظور بھائی کی طرح " پنجاب پبلک لائیبریری " میں سکول کا وقت گزارتا رہا ہوں ۔
کچھ یاد تھا کچھ گوگل چاچا سے پوچھ لیا ۔۔۔
 
میں بھی پنجاب پبلک لائبریری کا چار سال تک ممبر رہا ہوں اور دو سال تک بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی لائبریری کا ممبر بھی رہا۔ سنہری زمانہ تھا۔ زیادہ وقت پبلک لائبریری کے انگلش اور اردو سیکشن میں گذرتا تھا، جب جی چاہا باہر نکل کر ناصر باغ میں مٹر گشت کرنا یا انارکلی بازار کے شروع میں واقع پرانی کتابوں کی دکان کا چکر لگا لینا۔۔۔وہیں ایک کراٹے کلب بھی تھا جس کا میں ممبر تھا۔ بلڈنگ کی چھت پر ٹریننگ ہوا کرتی تھی اور جمعے کے دن صبح سویرےمسلم ماڈل ہائی سکول کی پکی گراؤنڈ میں کلب کے ممبران کی باہمی فائٹس کرائی جاتی تھیں۔۔۔
 
لاہور والوں سے ایک سوال۔۔۔ ۔بتائیے لاہور کا چیلسی کونسے علاقے کو کہتے ہیں؟

محترم بھائی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔حکیم احمد شجاع مرحوم نے بھاٹی دروازے کے علاقے میں ہونے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٴلاہور کا چیلسیٴ قرار دیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
جواب درست ہے۔۔۔:)۔۔۔ پیکجز والوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی چھاپی ہے جسکا نام "لاہور کا چیلسی" ہے۔۔۔اندرون بھاٹی گیٹ میں بازارِ حکیماں میں ہی پیکجز کے مالک سید مراتب علی شاہ کا آبائی گھر اور انکی تعمیر کردہ امام بارگاہ بھی ہے۔۔اسکے علاوہ فقیر خانہ میوزیم کی بھی کچھ تصاویر اس کتاب میں شامل ہیں اور اس علاقے سے تعلق رکھنے والی بہت سی علمی شخصیات کا اس میں ذکر ہے :)
 

طالوت

محفلین
میں بھی پنجاب پبلک لائبریری کا چار سال تک ممبر رہا ہوں اور دو سال تک بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی لائبریری کا ممبر بھی رہا۔ سنہری زمانہ تھا۔ زیادہ وقت پبلک لائبریری کے انگلش اور اردو سیکشن میں گذرتا تھا، جب جی چاہا باہر نکل کر ناصر باغ میں مٹر گشت کرنا یا انارکلی بازار کے شروع میں واقع پرانی کتابوں کی دکان کا چکر لگا لینا۔۔۔ وہیں ایک کراٹے کلب بھی تھا جس کا میں ممبر تھا۔ بلڈنگ کی چھت پر ٹریننگ ہوا کرتی تھی اور جمعے کے دن صبح سویرےمسلم ماڈل ہائی سکول کی پکی گراؤنڈ میں کلب کے ممبران کی باہمی فائٹس کرائی جاتی تھیں۔۔۔
اسے دھمکی سمجھیں یا اطلاع :)
اس وقت بھی پاکستان میں شن کیوکشن کراٹے کی نمائندگی ایک لاہوری محمد ارشد جان ہی کرتے ہیں اور ہیڈکوارٹر بھی لاہور میں ہی ہے۔ بہت شاندار آدمی ہیں۔
 

تلمیذ

لائبریرین
اندرون بھاٹی گیٹ میں بازارِ حکیماں میں ہی پیکجز کے مالک سید مراتب علی شاہ کا آبائی گھر اور انکی تعمیر کردہ امام بارگاہ بھی ہے

ہم تو سید بابر علی کو پیکجز کا مالک سمجھتے تھے۔
پیکجز کی چھپی ہوئی کتابیں کیا عام مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ اگر نہیں تو یہ کہاں سے مل سکتی ہیں۔ اگر کسی بھائی کو معلوم ہو تو براہ کرم شئیر کریں۔
 
پیکجز کی چھپی ہوئی کتابیں پیکجز کے گیٹ کے ساتھ ہی موجود انکے سٹور سے حاصل کی جاسکتی ہیں (یہ پرانی معلومات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں ، اب کا پتہ نہیں)۔۔اسکے علاوہ انکی چند مشہور کتب تو فیروز سنز پر بھی دستیاب ہیں
 

زرقا مفتی

محفلین
پچھلے کسی مراسلے میں اس آرٹیکل کا ربط دیا تھا
لاہور کا چیلسی
کبھی لاہور کے گلی کوچوں اور راہ گزاروں سے خوشبوئوں کے قافلے اور یادوں کی باراتیں گزرا کرتی تھیں لیکن اب ایک ہڑبونگ ہے ۔ بے سمت اور بے یقین ہجوم جس نے یادوں اور خوشبوئوں کو اپنے قدموں تلے روند دیا ۔لاہور کے آسمان پر ستارے دکھائی نہیں دیتے ۔چاند بھی پیلا ہو تا جا رہا ہے اور باغوں میں پھول اور پتے زرد پڑ چکے ہیں ۔آج سے محض تین عشرے پہلے کے لاہور اور آج کے لاہور میں زمیں آسمان کا فرق ہے ۔اس خطہ زمیں پر چہار جانب سے یلغار ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی قدیم تہذیب وثقافت کو تاخت و تاراج کیا جارہا ہے ۔لاہور کی ثقافتی حیثیت یہاں پر برپا کی جانے والی ادبی اور ثقافتی تقریبات کی مرہون منت ہے لیکن وہ بھی اب خال خال اور معدوم ہوتی جارہی ہیں یا ان کی شکل اب کچھ تجارتی اور لاہور کی اصل شناخت کے برعکس ہے۔ اس حوالے سے شہر قدیم کا بھاٹی دروازہ روز اول سے ہی علمی و ادبی اور فنون لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ بھاٹی دروازے کے اندر داخل ہوں تو چہار جانب آپ کو لاہور کی ثقافت اور قدیم تہذیب کی چند جھلکیاں آج بھی نظر آتی ہیں ۔بل کھاتی نیم روشن گلیاں، شکستہ جھروکے اور پرانی وضع قطع کے دروازے اپنے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ بھاٹی دروازے کو فنون لطیفہ اور علمی و ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ حکیم احمد شجاع نے بھاٹی دروازے کے علاقے میں ہونے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٴلاہور کا چیلسیٴ قرار دیا ہے۔
بھاٹی دروازہ شہر قدیم کے جنوب کی جانب وا قع ہے۔ اس دروازے کے دائیں جانب موری دروازہ اور بائیں جانب ٹکسالی دروازہ ہے اس کے سامنے لوئر مال روڈ ہے۔ بھاٹی دروازے کے دائیں جانب تانگوں کا اڈہ اور خالی میدان تھا جہاں سرکس کا میدان سجتا تھا۔ جبکہ بائیں طرف مزار و مسجد غلام رسول ہے یہ بزرگٴٴبلیوں والی سرکارٴ کے نام سے مشہور ہیں۔ دروازے کے بالکل ساتھ بائیں جانب ایک بڑا درخت ہے جس کی شاخوں نے جھک کر دروازے کا منظر چھپایا ہوا ہے۔
بھاٹی دروازے کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں تیسری صدی عیسوی کے وسط میں لاہور کے علاقے کو فتح کرنے والے راجہ کیرپال رائو کا حوالے سے ملتا ہے ،جو بھٹنیر کا راجہ تھا۔ شہر بھٹنیر راجہ کیر پال رائو کے جد امجد راجہ بھاٹی رائو نے آباد کیا اوراس نے لاہور میں بھٹنیر کے نام سے ایک قلعہ بھی تعمیر کیا۔اس راجہ کی اولاد ٴبھاٹیٴ اور ٴبھاٹیہٴ کہلائی۔ حکیم احمد شجاع مرحوم اپنی تصنیف ٴٴلاہور کا چیلسی ٴٴمیں بھاٹی دروازے کی وجہ تسمیہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ٴٴبھاٹی دروازے کا اصل نام بھٹی دروازہ اور یہی وہ مقام تھا جہاں مغلوں کی سلطنت سے پہلے بھٹی قوم کے جنگجودلیروں نے ملتان کے بعد لاہور آکر پڑائو ڈالا تھا۔ امتداد زمانہ بگڑتے بگڑتے ٴٴبھٹیٴٴ ٴٴبھاٹی دروازہٴٴ ہو گیاٴٴ
گیارہویں صدی عیسوی میں حضرت داتا گنج بخش غزنی سے تبلیغ اسلام کی غرض سے لاہور تشریف لائے اور انہوں نے بھاٹی دروازے کے باہر قیام کیا۔ بھاٹی دروازے کے بیرونی جانب سرکلر روڈ پر حضرت داتا گنج بخش ہجویری کا مزار ہے اور اس کے قریب ہی کربلا گامے شاہ ہے۔ ملک ایاز کے زمانے میں یہاں بھٹ قبیلے کے لوگوں کو رہائش اختیار کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی گئی اور انہوں نے صدیوں اس دروازے کے اندر قیام کیا اور ان کی مناسبت سے ہی دروازے کا نام بھاٹی دروازہ مشہور ہو گیا۔ بھٹ قبیلے کے لوگ تالا سازی کے پیشہ سے منسلک رہے۔ غزنوی عہد میں شہر قدیم یہاں اختتام پذیر ہوتا تھا اور اکبر کے عہد میں جب شہر نو گزروں میں تقسیم کیا گیا تو تلواڑہ گزر اور مبارا خان گزر بھاٹی دروازے کے باہم ملتی تھی۔
بیرون بھاٹی دروازے کھلے احاطے میں روایتی تھیٹر کمپنیاں اور سرکس کا میدان سجتا تھا۔ قیاس ہے کہ حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے موقع پر اسی قسم کی تفریحات معمول کا حصہ ہوں تاہم 1930ئ کے اواخر میں جب فلموں کا رواج پروان چڑھا تو یہ تھیٹر کمپنیاں رفتہ رفتہ اپنی اہمیت کھونے لگیں۔ اسی دور میں یہاں لاہور کا سب سے پہلا سینما گھر قائم ہوا جہاں خاموش فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ بھاٹی دروازے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ لاہور کی فلم انڈسٹری کی بنیاد یہیں رکھی گئی تھی۔ محقق اقبال قیصر کے مطابق ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دور میں متعدد بار بیرون بھاٹی دروازے میں پیش کئے جانے والے تھیٹر میں پرفارم کیا تھا۔ آج بیرون بھاٹی دروازے مدرسہ جامعہ حنفیہ کی کثیر المنزلہ عمارت اور دوکانیں قائم ہیں۔ یہ دوکانیں نواز شریف کے دور حکومت میں داتا دربار کمپلکس کی تعمیر کے وقت یہاں منتقل کی گئی تھیں۔
بھاٹی دروازے کا علاقہ روز اول سے ہی علم و ادب کا مرکز اور تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قدیم ٴاونچی مسجدٴ بھاٹی دروازے کے اندر واقع ہے جسے مقامی زبان میں ٴاُچی مسجدٴ کہا جاتا ہے ۔ انیس ناگی ٴبلھے شاہ، فن شخصیتٴ میں لکھتے ہیں کہ اس مسجد کی امامت مرشد شاہ عنایت قادری کرتے تھے۔ مسجد کے سامنے ہی شاہ عنایت قادری کا ڈیرہ تھا ۔ بلھے شاہ ان کی تلاش کرتے ہوئے وہاں جا پہنچے اور ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر سارنگی پر اپنی کافی گانے لگے تھے۔ مسجد کی سیڑھیوں پر بلھے شاہ کو گاتا دیکھ کر لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ان کی پٹائی کر دی۔ بعدازاں وہ شاہ عنایت قادری کی مریدی میں آگئے اور خاصا عرصہ ان کی صحبت میں رہے۔ یہ اونچی مسجد کب تعمیر ہوئی اور کس نے اسے تعمیر کروایا اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
شہر قدیم کے دیگر دروازوں کی طرح بھاٹی دروازے میں بھی سکھ دور حکومت کے آخری دو عشروں میں اس علاقے میں بہت ساری حویلیاں اور عمارات تعمیر کی گئیں جن میں بیشتر آج موجود نہیں ہیں۔
فن تعمیر کے حوالے سے بھاٹی ، شیرانوالہ اور کشمیری دروازہ روکار کے میں ایک جیسے ہیں، البتہ سطحی نقشے کے اعتبار سے بھاٹی دروازہ شیرانوالہ اور کشمیری دروازے سے مختلف ہے۔ غافر شہزاد کے مطابق ٴٴبھاٹی دروازہ اپنی ظاہری سطح پر یوں تو گوتھک اندازِ تعمیر کی دوہری کمان پر مشتمل ہے مگر دروازے کے دائیں اور بائیں دونوں جانب دو لمبی لمبی بیرکیں ہیں جن کے سامنے برآمدے بنے ہوئے ہیں۔ ان بیروکوں کی بیرونی دیواریں شہر کی فصیل کی جگہ لئے ہوئے ہیں۔ دائیں اور بائیں دونوں جانب دو دو دروازے ڈیوڑھی میں کھلتے ہیں۔ لمبائی کے اعتبار سے بھاٹی دروازہ دیگر دروازوں کی عمارات سے طویل ترین ہے۔ اس کی لمبائی 187فٹ تک پہنچتی ہے۔ دروازے کی بڑی ڈاٹ کو دو پلر سہارا دیئے ہوئے ہیں۔ ہر پلر پر اوپر نیچے مستطیل چوکھٹے بنے ہوئے ہیں۔ ڈیوڑھی کی چھت بھی گوتھک انداز کی ڈاٹ سے بنتی ہے۔ ڈیوڑھی کا حصہ دائیں اور بائیں ملحقہ بیرک کی عمارت سے خاصا بلند ہے۔ ڈاٹ کے دونوں اطراف بیرونی جانب موغولے بنے ہوئے ہیں جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ٴٴ
بھاٹی دروازہ کوچہ فقیر خانہ اور فقیر خانہ میوزیم کے حوالے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ فقیر خاندان مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد سے معزز و مکرم چلا آرہا ہے۔ فقیر خاندان کی تین بھائی فقیر عزیز الدین، فقیر نورالدین اور امام الدین رنجیت سنگھ کے دربار میں خاص مرتبہ کے حامل تھے۔ اس خاندان کا مورث اعلیٰ غلام شاہ تھا۔1799ئ میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انیس برس کی عمر میں اقتدار سنبھالا تو فقیر خاندان نے اس کے دربار میں اطاعت کا حلف اٹھایا۔ عرصہ دراز تک یہ خاندان شاہی دربار کا حصہ بنا رہا اور اس عرصہ کے دوران انہیں رنجیت سنگھ اور ملکہ وکٹوریا کی جانب سے بے شمار انعام واکرام سے نوازا گیا۔ آج بھی فقیر خاندان اندرون بھاٹی دروازے مقیم ہے اور فقیر خاندان کی تاریخی حویلی کو عجائب گھر کی شکل دی گئی جو جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا نجی نوعیت کا عجائب گھر ہے۔ اس عجائب گھر میں سکھ اور انگریز عہد کے نوادرات نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں۔ فقیر خانہ سے ذرا آگے جائیں تو سید مراتب علی شاہ کی اہلیہ سیدہ مبارک بیگم کا امام باڑہ ہے اور ساتھ ہی ان کے والد فقیر سید افتخار الدین کی حویلی ہے۔ اسی حویلی سے ملحق فقیر سید امام الدین کی حویلی ہے جو سکھوں کے زمانے میں قلعہ گوبند گڑھ کے صوبیدار اور شاہی خزانے کے محافظ تھے۔ اسی حویلی کے احاطے میں سید مراتب علی شاہ، سیدہ مبارک علی اور سید غضنفر مہدی کی قبریں ہیں جبکہ حویلی کو آرٹ گیلری اور سکول میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں بلا معاوضہ طالب علموں کو نقاشی، خطاطی اور مجسمہ سازی کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کوچے کے بالمقابل حکیم عبداللہ انصاری کی تعمیر کردہ مسجد ہے۔ اسی مسجد کے قیام کے بعد بازار حکیماں آباد ہوا تھا۔اسی بازار میں تھوڑا آگے جا کر دائیں جانب فقیر عزیزالدین کی حویلی ہے جو ان کے بیٹے سید جمال الدین کو ورثے میں ملی تھی اور آج کل اس میں امام بارگاہ واقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی کوچہ تحصیل آتا ہے جہاں ایک زمانے میں لاہور کی تحصیلدار کچہری ہوا کرتی تھی۔
بھاٹی دروازہ کبھی علم و ادب کی بڑی ہستیوں کا گہوارہ رہا تھا۔ منشی محبوب عالم نے ٴٴپیسہ اخبارٴٴ یہیں سے نکالا تھا۔ سر عبدلقادر نے اپنا مشہور رسالہ ٴمخزنٴ بھاٹی دروازے میں اپنے قیام کے دوران نکالنا شروع کیا۔ اردو ڈرامے میں نامور شخصیت ڈرامہ نگار آغا حشر کا مسکن بھی بھاٹی دروازہ تھا۔ بھاٹی دروازہ کے محلہ جلوٹیاں میں علامہ محمد اقبال کی رہائش بھی ہے۔
حکیم احمد شجاع اپنی تصنیف ٴٴلاہور کا چیلسیٴٴ میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ 1900ئ میں جب اقبال ایم اے پاس کرنے کے بعد اورئینٹل کالج لاہور میں میکلوڈ عربک ریڈر مقرر ہوئے، اور پھر کچھ مدت کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے تو وہ بھاٹی دروازے کے اندر اس بالا خانے میں جو محلہ جلوٹیاں کے سامنے گھسیٹو حلوائی کی دوکان کے اوپر واقع ہے رہنے لگے، اقبال 1900ئ سے1905تک اسی مکان میں رہے۔ اس تمام عرصے میں وہ ہر شام کو بازار حکیماں میں حکیم شہباز دین کی بیٹھک میں آتے تھے اور اپنے دوستوں کو اپنا کلام سناتے تھے۔ 1901ئ میں جب سر عبدالقادر نے اپنا مشہور ادبی رسالہ ٴٴمخزنٴ بازار حکیماں سے شائع کیا تو اقبال کی پہلی نیچرل نظم ٴٴہمالہٴٴ ، جسے شیخ عبدالقادر نے اسی بیٹھک میں سنا تھا، مخزن کی پہلی اشاعت میں شائع ہوئی۔ اقبال کی وہ نظمیں جو انہوں نے انگلستان جانے سے پہلے لکھیں اور بعد میں ان کی کتاب ٴٴبانگ دراٴٴ میں شائع ہوئیں اس زمانے میں لکھی گئی تھیں جب وہ بھاٹی دروازے کے اندر رہتے تھے اور اس لئے اس عظمت کی سعادت جو اقبال سے منسوب ہے بھاٹی دروازے کو ہی نصیب ہوئی۔ تحصیل بازار کے ٴٴکوچہ بھابڑوں کی تھڑیاںٴ میں تین بھائی خواجہ کریم بخش، خواجہ امیر بخش اور خواجہ رحیم بخش مقیم تھے۔ بقول حکیم احمد شجاع ان کی قابلیت کا یہ ثبوت تھا کہ آغاز میں علامہ اقبال جب تک ان بزرگوں کو اپنا کلام نہ سنا لیتے تھے کسی مجلس عام میں نہیں پڑھتے تھے۔ ٴٴنالہ یتیمٴٴ، ٴٴہلال عیدٴٴ ،ٴٴشمع و شاعرٴٴ اور ٴٴتصویر دردٴٴ کی سی مشہور نظمیں انہوں نے پہلے انہی بزرگوں کو پڑھ کر سنائی تھیں۔
اندرون بھاٹی دروازہ کوچہ بازار حکیماں میں حکیم شہباز دین کی بیٹھک میں ہر شام لاہور کے معروف ادیب ، شاعر، سیاست دان اور علمائے کرام کی محفل سجتی تھی۔ ان میں مولانا محمد حسن جالندھری، سر عبدالقادر، علامہ اقبال،سر شہاب الدین ، سر محمد شاہ دین، سر محمد شفیع اور فقیر خاندان کے چشم و چراغ فقیر ید افتخار الدین کے نام اہم ہیں۔ اندرون بھاٹی دروازے کے جج بازار میں ٴتاریخ لاہورٴ کے مصنف اور سیشن جج سید محمد لطیف کی حویلی تھی اور اسی نسبت سے یہ جج بازار کہلاتا ہے۔اسی بازار میں سر شہاب الدین کا چھاپہ خانہ اور مکان بھی تھا۔لاہور کی اولین ادبی انجمن جس کے اجلاس میں امین الدین بیرسٹر کے مکان پر ہوتے تھے اندرون بھاٹی دروازے قائم ہوئی۔ اس انجمن کی بنیاد معروف ڈرامہ نویس حکیم احمد شجاع پاشا کے والد اور فلمی ہدایت کار انور کمال پاشا کے دادا نے رکھی۔ مسلم لیگ کا ترجمان ٴٴخالدٴٴ نامی اخبار بھی بھاٹی دروازے سے ہی شائع ہوتا تھا۔ ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کا مکان بھی کوچہ پیڑنگاں اندرون بھاٹی دروازے میںتھا ، وہ اورئینٹل کالج کے پرنسپل اور کالج میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ کوچہ تحصیل میں رسالہٴٴتہذیب نسواںٴٴ کے مالک سید ممتاز علی اور کچھ دیر کے لئے مولانا حسین آزاد بھی قیام پذیر رہے۔ بارود خانے کے علاقہ میں ٴٴنیرنگ خیالٴٴ کے ایڈیٹر حکیم یوسف حسن بھی مقیم رہے تھے۔ آغا حشر جب اپنی کمپنی کے ساتھ لاہور آتے تھے تو بھاٹی دروازے کے باہر اس مکان میں ٹھہرتے جو ہری کرشن تھیٹر سے ملحق تھا اور یہیں ان کے کھیل دکھائے جاتے تھے۔ کوچہ سبز پیر کی کٹڑی امیر چند میں مولانا ظفر علی خان حیدر آباد دکن سے آپس آنے کے بعد کچھ عرصہ قیام کیا۔ انہوں نے ٴٴپنجاب ریویوٴٴ کے نام سے رسالہ بھی نکالا تھا۔ ساغر صدیقی کی عمر کا بیشتر حصہ بھاٹی دروازے اور اس کے قرب و جوار میں گزرا تھا۔حکیم احمد شجاع مولانا محمد حسین آزاد کے بارے میں ٴلاہور کا چیلسیٴ میں بیان کرتے ہیں کہ ٴٴاِسے بھاٹی دروازے کی خوش قسمتی کہئے کہ جب 1857ئ کے ہنگامے کے بعد دہلی اجڑی تو دہلی کے سب سے پرانے اردو اخبار کے مالک اور ایڈیٹر مولوی محمد باقر کے بیٹے مولوی محمد حسین آزاد نے انقلابات زمانہ کے گونا گوں مصائب سے تنگ آکر اپنے وطن مالوف سے ہجرت کی اور آخر کار لاہور آکر بھاٹی دروازے کے اندر وہ تحصیل بازار میں گوشہ نشین ہوگئے ۔ٴٴ بعدازاں وہ اکبری دروازے اپنے بیٹے آغاز محمد ابراہیم کے مکان میں منتقل ہوگئے ۔ 1910ئ میں ان کا انتقال ہوا اور وہ بھاٹی دروازے کے قریب کربلا گامے شاہ دفن ہیں۔ معروف افسانہ نگار غلام عباس ، ادبی جریدوں ٴٴادب لطیفٴٴ اور ٴٴسویراٴٴ کے مدیران چودھری برکت علی مرحوم اور نذیر چودھری اور ٴٴنقوشٴٴ کے مدیر محمد طفیل کا مسکن بھی بھاٹی دروازہ تھا۔ بھاٹی دروازے سے تعلق رکھنے والی دیگر نامی گرامی شخصیات میں ابتدائی فلمی دور کے اداکار لقمان، لالہ یعقوب ، عالمی شہرت یافتہ حسن عرف حسا پہلوان اور برصغیر فلم کی فلم انڈسٹری میں کئی دہائیوں تک اپنی آواز کا جادو جگانے والے گلوکار محمد رفیع شامل ہیں۔
اب حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ادبی بیٹھکیں ویران ہوچکی ہیں اور علم و ادب سے وابستہ ہستیوں کی بازگشت ان گلی کوچوں میں رقصاں ہیں۔ لاہورئیے اس کی دم توڑتی ہوئی ثقافت کو اپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔لاہور کا تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔یہاں کے روایتی بازار اور گلی کوچے ناکافی شہری سہولتوں کے باعث بے ترتیبی ،بدنظمی اور عدم تحفظ سے دوچار ہیں ۔لاہور کو اپنی شناخت اور معدوم ہوتی ہوئی ثقافت کو بچانے کے لئے ایک ایسے معمار کی ضرورت ہے جو اس بے ترتیب ہوتے ہوئے شہر کو نئے سرے سنوارنے کا عزم رکھتا ہو۔وگرنہ دنیا کی تاریخ کا یہ قدیم ترین شہر اپنے تاریخی ورثوں کو بچا نہیں پائے گا۔اے حمید اپنی تصنیف ٴٴلاہور لاہور اےٴٴ میں بھاٹی دروازے کی دم توڑتی ہوئی ثقافت کے حوالے سے کچھ یوں بیان کرتے ہیںٴٴ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں ، ایک فقیر سردیوں کی راتوں کو اذان کے بعد اپنی پُر سوز آواز میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔ میں ٹھٹھرتی رات کے سناٹے میں اپنے گھر میں لحاف میں دُبکا اس کی آواز سنا کرتا تھا۔ اس کی آواز دور سے آتی تھی اور سرد رات میں، بھاٹی دروازے کی نیم تاریک خاموشی میں اپنی آواز کی صدائے بازگشت چھوڑتی دور ہوتے ہوئے غائب ہو جایا کرتی تھی۔ وہ نہ کوئی صدا لگاتا تھا نہ کسی سے کچھ مانگتا تھا۔ بس اپنی دل گذاز آواز میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔ آج بھاٹی دروازے کی نہ وہ عظیم شخصیات باقی ہیں جنہوں نے علوم و فنون میں بڑی عظمتوں کے مقام حاصل کئے اور جن کے فیض سے آج علوم و فنون کے دیوان جگمگا رہے ہیں نہ اس فقیر کی صدائے بازگشت باقی ہے جو سردیوں کی ڈھلتی رات کے سناٹے میں بھاٹی دروازے کی نیم تاریک گلیوں میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔
کہے حسین ! فقیر نمانا
دنیا چھوڑ آخر مر جانا
آخر کم اللّہ دے نال
دل لا لیا بے پرواہ دے نال
 

زرقا مفتی

محفلین
شیرانوالہ دروازہ
سرکلر روڈ یعنی پُرانے شہر کے گرد سڑک پر واقع خضری دروازہ جسے بعد میں شیرانوالہ دروازہ کہا جانے لگا
وکی پیڈیا کہتا ہے

اس دروازے کا پرانا نام ٴخضری دروازہٴ بھی ہے۔ جس کی وجہ تسمیہ یہ روایت بتائی جاتی ہے کہ حضرت خضرۿ اس دروازے سے باہر نکل کر راوی دریا میں اتر گئے تھے تب سے اس دروازے کا نام خضری دروازہ چلا آرہا ہے۔ حضرت خضرۿ وہی ہیں جنہوں نے آب حیات دریافت کیا جسے پینے کے بعد ابدی عمر پائی اور اب بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ کسی بزرگ کی شکل میں ظاہر ہو کر گم شدہ راہی کو منزل مقصود کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ اندرون شیرانوالہ دروازے میں آج بھی خضری محلہ موجود ہے۔ کنہیا لال شیرانوالہ دروازے کے بارے میں ٴٴتاریخ لاہورٴٴ میں لکھتے ہیں کہ ٴٴوجہ تسمیہ اس دروازے کی یہ ہے کہ زمانہ سلف میں دریائے راوی شہر کے بہت نزدیک بہتا تھا۔ خصوصاً اس دروازے کے آگے توکشتی پڑتی تھی۔ چونکہ خواجہ خضرکو دریائوں کے ساتھ کمال نسبت ہے اور ٴمیرالبحارٴ ان کا خطاب ہے، یہ سبب ہے کہ قرب دریا کے اس دروازے کا نام خضری دروازہ رکھا گیا۔ مگر اب لوگ اس کو شیراں والا دروازہ کہتے ہیں۔ باعث یہ ہے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ہمیشہ دو شیروں کے پنجرے اس دروازے کے اندر رکھتے تھے اور خبر گیری شیروں کی محافظانِ دروازہ کے متعلق تھی۔ انگریزی عہد میں وہ پنجرے اُٹھوائے گئے مگر دروازے کا نام شیراں والہ دروازہ بحال رہا۔​
871908.jpg
موجودہ حالت

5596488.jpg

دروازے سے اندر داخل ہوں تو ایک جانب لڑکوں کا سکول ہے دوسری جانب انجمن خدام الدین کی مسجد۔
مسجد سے سو پچاس قدم پر ایک اور دروازہ ہے جس پر شیر بنے ہوئے ہیں
ہوسکتا ہے رنجیت سنگھ نے دو شیر اسی دروازے کے اندر رکھے ہوں

20070130_a01.jpg



یہ شہر کی فصیل کا نو تعمیر شدہ حصہ ہے

5619570.jpg

ش
 

زرقا مفتی

محفلین
لاہوری دروازہ
ماضی کی تصویر کشی
Lahori+Gate.jpg


موجودہ حالت
Lahori+Gate+Today.jpg



پاکستان پیڈیا پر لکھا ہے

Undoubtedly, the gate derives its name from the city of Lahore. Since the gate faces present Ichra, which was the actual Lahore in Hindu Raj, it is known as Lahori Gate. This gateway still exists in its renovated form and is famous for being one of the main entrances of the city. The out way from the famous Anasrkali bazar leads directly to this gate. The gate is locally referred to as "Lohari" instead of "Lahori".
 

فرخ منظور

لائبریرین
ہم تو سید بابر علی کو پیکجز کا مالک سمجھتے تھے۔
پیکجز کی چھپی ہوئی کتابیں کیا عام مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ اگر نہیں تو یہ کہاں سے مل سکتی ہیں۔ اگر کسی بھائی کو معلوم ہو تو براہ کرم شئیر کریں۔

بابر علی کے والد کا نام سید مراتب علی تھا۔ اسی کے نام سے ایف سی کالج کی پچھلی طرف سید مراتب علی روڈ بھی ہے۔ سید مراتب علی کی بیوی کا نام مبارک بیگم تھا۔ بھاٹی دروازے میں جو ان کا پرانا مکان تھا ان کو انہوں نے امام باڑہ مبارک بیگم کا نام دے دیا ہے اور اسے امام باڑے اور "نقش آرٹ گیلری" کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔ نقش آرٹ گیلری میں رومی صاحب بچوں کو مفت آرٹ اور ڈرائنگ سکھاتے ہیں۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
غزنوی صاحب نے بہت خوبصورت بات کہی کبھی ہم لاہور میں رہتے تھے اب لاہور ہمارے اندر رہتا ہے ہر نعمت کے ہوتے ہوے بھی ایک کمی ہے لاہور اور لاہوریے نہیں ہیں ۔
 

لالہ رخ

محفلین
بھوگی وال کی پیدائش ۔ جھگیاں شہاب دین اور جھگیاں ناگرہ کی پل چوبرجی اسکول اور سول لائنز کالج کی پڑھوند ۔ اقبال ٹاؤن کا عاشق اور جوہر ٹاؤن میں سسرال کا حامل بندہ بھی لاہوری ہونے کا دعوے دار ہے ۔ رسید لکھ دی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے ۔ آمد جامد لگی رہے گی پان کھانا ہے تو جین مندر کا کھائیے ۔ نہاری کھانی ہے تو محمدی کی کھائیں ۔ حلوہ پوری چاچے بسے کی ۔ نان چھولے بھاٹی کے ۔ پاوے پا پھجے کے ۔ جوس گڑھی شاہو کا ۔ دہی بھلے کیمپس کے ۔ رو نہرو نہر شاہ دی کھوئی کی ۔ گول گپے دھرم پورے کے ۔ سجی فورٹریس کی ۔ ٹھنڈا دودھ مغل پورے گھاس منڈی کا ۔ گرم دودھ شیزان فیکٹری کے سامنے سے ۔ سیخ کباب لیاقت چوک کے ۔ بریانی الفلاح بلڈنگ کے پاس کی ۔ گولی والی بوتل مزنگ اڈے کی ۔ برفی بھا رفیق کی لال کھوہ سے ۔ کچوری لال شاہ قلندر کے میلے کی ۔ قتلمہ داتا صاحب میلے کا ۔ یخنی شاہ نور کی ۔ صندل کا شربت مزنگ کا ۔ آلو والے پراٹھے سروسز ہسپتال کے سامنے کے ۔ ساگ پراٹھا صبح صبح یتیم خانے چوک کا ۔ کڑاہی جاوا کی ۔ بھنے بٹیر صدر بازار کے ۔ فالسے سک نہر کے ۔ گنڈیریاں شالامار باغ کی ۔ مچھلی بشیر کی مزنگ سے۔ چرغہ لاہور بروسٹ کا ۔ کیک کشمیر بیکری کا ۔ کچی لسی ناصر باغ کی ۔ سلش ساندے چوک کا ۔ چکڑ چنے پونچھ روڈ کے ۔ اور مار پولیس کی

او جی اوئے لاہور۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔! او میرے لاہور نئیں ریساں تیریاں
ان میں سےمیں نے آپ کی پوسٹ کے بعد جاوا کی کڑاہی اور لاہور بروسٹ کا چر غہ تو کھا لیا ہے اچھا تھا کوئی ایسا نہیں کہ ویسا کہیں اور نہیں کھایا یا شاید مجھے اس وقت بھوک نہیں لگی تھی لیکن بہر حال باقی جتنی جگہیں آپ نے لکھی ہیں میں نے ان میں سے ایک دو ہی ٹرائی کی ہیں لیکن اب ضرور کروں گی۔ مین مارکیٹ گلبرگ کا بینظیر قلفہ بہت اچھا ہے مجھے تو بہت پسند ہے ۔
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
لاہور اور کراچی کا موازنہ بھی دلچسپ ہے اور اکثر ہوتا رہتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو شہروں میں بہرحال ایک زبردست مقابلہ کی فضا پائی جاتی ہے۔

میرا اپنا ذاتی مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں لاہور سے سب سے زیادہ ملتا جلتا شہر کراچی ہی ہے اور اگر لاہوریوں کی زندہ دلی کراچی پہنچائی جا سکے تو کیا ہی بات ہے۔ :LOL:

دیکھ لو ، لاہوریوں نے اپنے شہر پر دھاگے شروع کر رکھے ہیں اور خوب سجا رہے ہیں ، کراچی والے حالانکہ تعداد میں دگنے اور محفل پر تو شاید دس گنا ہیں مگر کسی کو خیال نہیں آیا ۔ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے ؟ :p

لاہور کھانوں سے زیادہ اہل لاہور کی زندہ دلی سے مشہور ہے ۔ :)
تاریخی عمارات
باغات (لاہور کو باغات کا شہر بھی کہا جاتا ہے )
دلفریب پارک (ریس کورس پارک ، جلو پارک )
تعلیمی ادارے
لائبریریاں (پنجاب یونیورسٹی پبلک لائبریری اور قائداعظم لائبریری پبلک لائبریری )

عین وسط میں ایک خوبصورت ٹھنڈی لمبی نہر جو شہر کے حسن کو چار چاند لگائے رکھتی ہے

ایک شہر میں دو شہروں کا حسین امتزاج
پرانا تاریخی لاہور جو آٹھ دروازوں میں مقید ہے اور نیا لاہور جو اس سے دس گنا سے زیاہ بڑا جس میں پرانا لاہور اپنی ثقافت کے ساتھ زندہ و بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

صرف مغلوں کے چند باغات کے نام ہی دیکھ لو۔
گلابی باغ
باغ عیشان
پرویز باغ
باغ مہابت خان
انگوری باغ
باغ فتح گڑھ
مقبرہ نادرہ بیگم باغ
باغ ابو لحسن
باغ علی مردان خان
باغ ملا شاہ

اب باغ وزیر خان ، باغ انار کلی اور چوبرجی باغ کا نام نہ لینا تو زیادتی ہوگی۔

تاریخی عمارات پر اب کیا کہوں ، مقبرہ نور جہاں اور انارکلی کا نام ہی کافی ہے۔

جس شہر میں اتنا کچھ ہو ، اسے شہر بے مثال نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے بھلا ۔ :)

بات پھر وہیں جا اٹکتی ہے بھیا کہ جس شہر سے آپ کا تعلق ہو وہی آپ کو بے مثال لگتا ہے اپنائیت اور انسیت کی وجہ سے۔۔۔۔
اس شہر میں یہ خصوصیات نہ بھی ہوتیں تو بھی آپ کو یہ بے مثال لگتا۔۔۔
اور میں نے کب لاہور کی خصوصیات سے انکار کیا ہے۔۔۔یہ بھی میرے وطن کا شہر ہے ۔۔۔۔:happy:
 
بات پھر وہیں جا اٹکتی ہے بھیا کہ جس شہر سے آپ کا تعلق ہو وہی آپ کو بے مثال لگتا ہے اپنائیت اور انسیت کی وجہ سے۔۔۔ ۔
اس شہر میں یہ خصوصیات نہ بھی ہوتیں تو بھی آپ کو یہ بے مثال لگتا۔۔۔
اور میں نے کب لاہور کی خصوصیات سے انکار کیا ہے۔۔۔ یہ بھی میرے وطن کا شہر ہے ۔۔۔ ۔:happy:

پسند کرنے کی ٹھوس وجہ بھی ہے اور اس پر ہی روشنی ڈالی ہے اور مجھے اور بھی شہر پسند ہیں مگر جس میں جو خصوصیت ہو اس کی وجہ سے۔
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
کیا ہوا عینی ، کیا پہنچ گئی شہر تک :LOL:
جب کوئی اپنا ہوتا ہے تو اس پر لگے زخموں کا بخوبی اندازہ بھی ہوتا ہے محب بھیا!
عروس البلاد پر لگے یہ گھاؤ مجھ سے پوشیدہ تو نہیں لیکن یہ شرپسندوں کی کارستانیاں ہیں ان کی وجہ سے میرے شہر کی خوبیاں ختم تو نہیں ہوگئیں۔۔۔۔
 
Top