قومی اسمبلی میں قرآن پاک كی لازمی تعلیم كا بل متفقہ طور پر منظور

الف نظامی

لائبریرین
قومی اسمبلی نے تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کے حوالے سے لازمی تعلیمی بل 2017 کی متفقہ طور پر منظوری دیدی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیرمملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمان نے تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی لازمی تعلیم سے متعلق بل پیش کیا، بل کے تحت پہلی سے پانچویں جماعت تک قرآن پاک کی ناظرہ تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ چھٹی جماعت سے 12 ویں جماعت تک قرآن پاک کا آسان ترجمہ پڑھایا جائے گا، بل کا اطلاق وفاق کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں پر ہوگا۔

بل منظور ہونے کے بعد وفاقی وزیر برائے مذہب امور و بین المذاہب سردار یوسف نے کہا کہ قرآن کی تعلیم بنیادی ضرورت ہے اور اسے پرائمری اسکول سے شروع کیا جارہا ہے، بل سے قرآن کی تعلیم کی ضرورت پوری ہوگی، وزارت تعلیم صوبوں کو منتقل ہوچکی ہے،اس لیے تمام صوبوں کی اسمبلیوں سے گزارش ہے کہ اس بل کو متفقہ طور پر منظور کرائیں۔ وزیرمملک برائے تعلیم انجینئر بلیغ الرحمان نے کہا کہ آئین کے تحت بنیادی ذہنی تعلیم ضروری ہے، بل کی منظوری ہماری دینی اور آئینی فریضہ ہے۔ اللہ کا شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں یہ سعادت بخشی۔
 

الف نظامی

لائبریرین

پنجاب اسمبلی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل متفقہ طورپرمنظورکرلیا ہے، بل جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر وسیم اخترنے پیش کیا تھا جسے اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل تھی۔
بل منظورہونے کے بعد اب پنجاب کے تمام سرکاری اورغیرسرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم ناظرہ اور ترجمہ کے ساتھ مسلمان طلبا کو دی جائے گی اور پہلی سے چھٹی جماعت تک ناظرہ کی تعلیم دی جائے گی جب کہ چھٹی سے بارہویں جماعت کے بچوں کو مکمل قرآن پاک کا ترجمہ پڑھایا جائے گا، بل منظور ہونے پراراکین اسمبلی نے ڈاکٹروسیم اخترکومبارک باد پیش کی۔

اس موقع پر ڈاکٹروسیم اخترکا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے، بچوں کو تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی حقیقی تعلیم دی جاسکے گی۔
 

شاہد شاہ

محفلین
کے پی کے میں یہ بل پہلے ہی منظور شدہ ہے اور کام بھی کر رہا ہے۔ اب بچوں کو اسلامی تعلیم کیلئے مدرسوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا
 
Top