1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

قصئہِ درد یہ لوگوں کو سناؤں کیسے

سعید احمد سجاد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 10, 2020

  1. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    356
    سر الف عین ، سید عاطف علی اور دیگر احباب سے اصلاح کی درخواست ہے

    اپنے دل کی تجھے حالت مَیں بتاؤں کیسے
    زخم جو روح پہ ہیں وہ مَیں دِکھاؤں کیسے

    داستاں دل کی ہمیشہ سےادھوری ہی رہی
    قصئہِ درد یہ لوگوں کو سناؤں کیسے

    عام لوگوں سے الگ تیرا شمار اب بھی ہے
    پھر بھی ہر ظلم کا مَیں بار اٹھاؤں کیسے

    لا تعلق میں ترے ساتھ نہ ہو پاؤں گا
    جیتے جی زہر امنگوں کو پلاؤں کیسے

    صرف اک بات بتا سوچ کے تنہائی میں
    ثبت ہیں دل پہ ترے نقش، مٹاؤں کیسے

    آتشِ ہجر لگی دل میں بڑی مدت سے
    اب تو ہے وقتِ نزع آگ بجھاؤں کیسے

    تیرے احسان لحد تک رہیں گے یاد مجھے
    جرمِ الفت کی سزا بھول مَیں جاؤں کیسے

    شکریہ تیری ضرورت نہیں جب اس نے کہا
    وقت سجاد وہ بیتا جو بتاؤں کیسے
     
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    9,179
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اس شعر کے مصرعوں میں کوئی ربط نہیں ۔ اس لیے مصرعے البتہ ٹھیک ہیں ۔
    اس مصرعے میں
    لاتعلق کے لیے "ترے ساتھ" کچھمناسب نہیں لگ رہا ، یہاں تجھ سے استعمال کرلیں یا کوئی اور ترکیب بنائیں ۔
    یہاں نزع کا لفظ ٹھیک نہیں بندھا اس میں ز پر سکون ہوتا ہے۔ جیسے ہجر میں ج پر ۔ اس لیے اسے درست کرنا لازم ہوا۔
    مثلا ۔ نزع کا وقت ہے یہ آگ ۔۔۔۔۔
    یہ لفظی بندش چست نہیں ۔ کچھ اور ہونا چاہیئے ۔
    جو اور وہ کی ترتیب کچھ عجیب سی لگی ۔
    ------
    باقی تو مجموعی طور پر اچھے اشعار ہیں ۔
     
    • متفق متفق × 1
  3. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    356
    شکریہ سر دوبارہ کوشش کرتا ہوں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    356

    اپنے دل کی تجھے حالت مَیں بتاؤں کیسے
    زخم جو روح پہ ہیں وہ میں دکھاؤں کیسے

    داستاں دل کی ہمیشہ سے ادھوری ہی رہی
    قصئہِ درد یہ لوگوں کو سناؤں کیسے

    عام لوگوں سے الگ تیرا شمار اب بھی ہے
    گر نہ مانو تو یقیں تجھ کو دلاؤں کیسے

    مانتا ہوں کہ مقدر میں ستم ہیں مرے
    پھر بھی ہر ظلم کا مَیں بار اٹھاؤں کیسے

    لا تعلق میں کبھی تجھ سے نہ ہو پاؤں گا
    جیتے جی زہر امنگوں کو پلاؤں کیسے

    صرف اک بات بتا سوچ کے تنہائی میں
    ثبت ہیں دل پہ ترے نقش، مٹاؤں کیسے

    آتشِ ہجر لگی دل میں بڑی مدت سے
    نزع کا وقت ہے یہ آگ بجھاؤں کیسے

    اس کے احسان لحد تک بھی رہے یاد مجھے
    جرمِ الفت کی سزا بھول مَیں جاؤں کیسے

    شکریہ تیری ضرورت نہیں جب اس نے کہا
    دل میں تب حشر بپا تھا مَیں بتاؤں کیسے


    سر الف عین ٗ سید عاطف علی دوبارہ کوشش کی ہے نظر ثانی فرما دیجیئے
     
  5. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    356
    سر الف عین
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,651
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اپنے دل کی تجھے حالت مَیں بتاؤں کیسے
    زخم جو روح پہ ہیں وہ میں دکھاؤں کیسے
    ... درست ، اگرچہ چست بندش نہیں لگتی بطور خاص دوسرے مصرعے میں
    روح میں /پر زخم جو ہیں، ان کو......
    بہتر ہو گا

    داستاں دل کی ہمیشہ سے ادھوری ہی رہی
    قصئہِ درد یہ لوگوں کو سناؤں کیسے
    ... درست

    عام لوگوں سے الگ تیرا شمار اب بھی ہے
    گر نہ مانو تو یقیں تجھ کو دلاؤں کیسے
    .... شتر گربہ ہے،
    تو نہ مانے تو یقیں......
    بہتر ہے

    مانتا ہوں کہ مقدر میں ستم ہیں مرے
    پھر بھی ہر ظلم کا مَیں بار اٹھاؤں کیسے
    ... ٹھیک، پہلے مصرع میں 'میرے' درست ہو گا، مرے نہیں،

    لا تعلق میں کبھی تجھ سے نہ ہو پاؤں گا
    جیتے جی زہر امنگوں کو پلاؤں کیسے
    .. ٹھیک

    صرف اک بات بتا سوچ کے تنہائی میں
    ثبت ہیں دل پہ ترے نقش، مٹاؤں کیسے
    ... درست

    آتشِ ہجر لگی دل میں بڑی مدت سے
    نزع کا وقت ہے یہ آگ بجھاؤں کیسے
    ... پہلے مصرع میں صیغہ کا استعمال غلط لگ رہا ہے ۔ مدت سے کہنے ہر 'آگ/آتش لگی ہوئی ہے' کہا جاتا ہے۔ صرف 'لگی' نہیں، اس صورت میں 'مدت ہوئی' یا 'عرصہ گزرا' درست ہو گا
    دوسرا مصرع بھی 'یہ' کی جگہ 'اب' بہتر لگ رہا ہے مجھے۔

    اس کے احسان لحد تک بھی رہے یاد مجھے
    جرمِ الفت کی سزا بھول مَیں جاؤں کیسے
    ... درست

    شکریہ تیری ضرورت نہیں جب اس نے کہا
    دل میں تب حشر بپا تھا مَیں بتاؤں کیسے
    ... واضح نہیں ہوا، اگر ماضی کی بات کر رہے ہیں( تب حشر بپا تھا) تو بتاؤں نہیں، 'بتاتا' کا محل تھا
     
  7. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    356
    شعلہ زن ہجر کی آتش ہے مسلسل دل میں
    نزع کا وقت ہے اب آگ بجھاؤں کیسے

    شکریہ تیری ضرورت نہیں جب اس نے کہا
    دل پہ ٹوٹی جو قیامت مَیں بتاؤں کیسے

    سر دوبارہ کوشش کی ہے نظر ثانی فرما دیجیئے گا
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,651
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آگ والا پہلا شعر درست گیا لیکن بتاؤں کیسے مجھے اب بھی غلط لگ رہا ہے، وہی غلطی ہے جو بتائی تھی
     
  9. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    356
    شکریہ تیری ضرورت نہیں آج اس نے کہا
    دل پہ ٹوٹی ہے قیامت مَیں بتاؤں کیسے
    یا
    ایسی ٹوٹی ہے قیامت کہ بتاؤں کیسے

    سر یہ دو صورتیں میرے ذہن میں آ رہی ہیں نظر ثانی فرما دیجیئے
     

اس صفحے کی تشہیر