امن وسیم

محفلین
صحیح معنی - ۲

۴۔ اسی طرح یہ بھی’’ صحیح معنی‘‘ کے اصول پر اصرار ہی ہے کہ ’’البیان‘‘ میں موضوعی کے بجاے معروضی انداز اپنایا گیا ہے۔ سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو موضوعی انداز اصل میں خارج کی بات کو قرآن میں داخل کر دینا ہے اور معروضی انداز سے مراد، قرآن کو اس کی اپنی صورت میں ، جیسا کہ وہ ہے، دیکھنے کا التزام کرنا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال کافی ہو سکتی ہے:

اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ.(آل عمران ۳: ۵۵)
’’اُس وقت جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھا لوں گا۔‘‘

خارج کے تناظر میں دیکھنے کے بجاے اگر ’توفی‘ کے لفظ پر براہ راست غور کیا جائے تو اس کا صحیح ترجمہ وہی بنتا ہے جو ’’البیان‘‘ میں اختیار کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان میں یہ لفظ اپنے مجازی معنی ، یعنی وفات کے لیے اس قدر معروف ہو گیا ہے کہ اسے حقیقی معنی میں لینے کے لیے اب کسی قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی بعینہٖ مثال ہماری زبان میں لفظِ انتقال کی ہے ۔ اس کے متعلق بھی ہم جانتے ہیں کہ یہ اپنے حقیقی معنی، یعنی منتقل ہونے کے بجاے اب اپنے مجازی معنی، یعنی وفات پا جانے میں زیادہ معروف ہو گیا ہے۔
یہاں ایک اور مثال کا اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے معلوم ہو گا که ’’البیان‘‘ میں معروضی انداز پر اس قدر اصرار پایا جاتا ہے کہ لفظ تو لفظ، حرف کا ترجمہ کرتے ہوئے بھی اس پر کسی درجے میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا۔ مثلاً ذیل کی آیت میں حرف ’لَا‘ کا ترجمہ:

لِئَلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ.(الحدید ۵۷: ۲۹)
’’تاکہ یہ اہل کتاب نہ جانیں کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اجارہ نہیں ہے اور یہ کہ اللہ کا فضل اُس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے۔‘‘

عام طور پر مترجمین نے ’لِئَلَّا‘ کے ’لَا‘ کو زائد قرار د ے کر اس کا ترجمہ نہیں کیا که اُن کی دانست میں یہاں اس کا ترجمہ کرنا ایک طرح کے ابہام اور الجھاؤ کو پیدا کر دینا ہے ’’البیان‘‘ میں اس طرح کے ہر اندیشے سے قطع نظر ، حرف ’لَا‘ کا ترجمہ ’’نہیں‘‘ کے لفظ میں کیا گیا ہے کہ یہی اس کا صحیح معنی ہے اور اسے زائد قرا ر دینا اصل میں نفی کو اثبات میں بدل دینا اور اس طرح غلط معنی کو اختیار کر لینا ہے۔ باقی جہاں تک کسی اِبہام کا تعلق ہے تو ’’نہیں‘‘ کے اس ترجمے کے بعد بھی یہاں اصل بات بالکل واضح ہے ۔ یہ اہل کتاب سے بے زاری کا جملہ ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ حقیقت حال سے کبھی واقف نہ ہوں اور یونہی اپنے آپ کو الله کے انعامات کا تنہا حق دار سمجھتے رہیں اور نتیجے کے طور پر اُس کے انعامات سے یک سر محروم ہو کر رہ جائیں۔

۵۔ اس سارے عمل میں عمیق غور و فکر اور ہر طرح کی تحقیق کو بروے کار لانا بھی لازم ہے ، اس کے لیے ذیل کی آیت کے ترجمہ میں اچھی دلیل موجود ہے:

اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا.(التحریم ۶۶: ۴)
’’اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی تمھارے لیے زیبا ہے، تمھارے دل تو اِس کے لیے مائل ہی ہیں۔‘‘

یہاں ’صغو‘ کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی ہے: مائل ہونا اور جھک جانا۔ عام طور پر مترجمین نے اس میلان سے حق بات سے دور ہو جانا مراد لیا ہے۔ اُن کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی کی بیبیو، اگر تم توبہ کرو تو تمھیں یہی کرنا چاہیے ، اس لیے کہ تمھارے دل تک کج ہو چکے ہیں۔ اس کے بر خلاف، ’’البیان‘‘ میں اس ’صغو‘ کا ترجمہ تو مائل ہونا ہی کیا گیا ہے، مگر اس میں پائے جانے والے باریک فرق کا لحاظ رکھتے ہوئے اس سے کسی شے سے انحراف کرنا نہیں، بلکہ اُس کی طرف کھلنا اور مائل ہو جانا مراد لیا گیا ہے، اس لیے کہ عربی زبان میں یہ اسی معنی میں آتا ہے۔ ۹؂
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۹؂ صحیح معنی تک اس رسائی سے یہ بات بھی بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ازواج مطہرات کی تنقیص کے بجاے اُن کے لیے خدا کی طرف سے اتارا گیا ایک تحسین کا جملہ ہے۔
 

امن وسیم

محفلین
قراء ت عامہ

قرآن کے زمانۂ نزول میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا گیا تھا کہ اس وقت جو قراء ت کی جا رہی ہے ، جمع و تدوین ہو جانے کے بعد اس کی جگہ ایک اور قراء ت جسے ’’عرضۂ اخیرہ ‘‘ کی قراء ت کہتے ہیں، دی جائے گی۔ اور یہ بھی فرما دیا گیا کہ آپ کو بہرصورت اُسی کی پیروی کرنی ہے۔۱۰؂ اور ہم جانتے ہیں کہ یہی قراء ت ہے جسے بعد میں ’’قراء ت عامہ‘‘ کہا گیا اور جسے امت کا اجماع اور قولی تواتر بھی حاصل ہوا۔ ’’البیان‘‘ میں قرآن کے اس حکم کی وجہ سے یہ بھرپور التزام کیا گیا ہے کہ ہر لفظ کا ترجمہ قراء ت عامہ ہی کی روشنی میں کیا جائے، جیسا کہ مثال کے طور پر یہ آیت:

وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ.(الاعراف ۷: ۴۰)
’’اور وہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے۔‘‘


حق کے مقابلے میں استکبار کرنے والوں کے متعلق بیان ہوا ہے کہ وہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔ اس کے بعد فرمایا ہے: ’حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ‘ (یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے)۔ عربی زبان میں ’الجَمَل‘ سے اونٹ مراد لیا جاتا ہے، مگر بعض حضرات جب سوئی کے ناکے اور اونٹ کے درمیان میں پائی جانے والی مناسبت کو سمجھ لینے سے قاصر رہے تو اُنھوں نے اسے ’الجُمَّل‘ پڑھا اور اس سے ’’موٹا رسا‘‘ مراد لے لیا۔ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ بہرصورت اونٹ ہی کیا جانا تھا که یہاں مترجم کے نزدیک قراء ت عامہ ہی اصل قرآن ہے اور اس کو بدلنا گویا قرآن کو بدل دینا ہے ۔ رہا سوئی کے ناکے کے ساتھ اس کی مناسبت کا سوال تو اصل میں تعلیق بالمحال کے اسلوب کا تقاضا ہے کہ سوئی کے ناکے جیسی چھوٹی چیز کے مقابلے میں یہاں ایک بڑی چیز کا بیان کیا جائے جو کسی بھی صورت اس میں سے نہ گزر سکے۔ اب عربوں کی معاشرت اور اُن کے مزاج کی رعایت رہے تو اتنی بڑی اور گزر جانے والی یہ چیز آخر اونٹ کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟۱۱؂
ذیل کی آیت بھی قراء ت عامہ کے مطابق ترجمہ کرنے کی ایک اچھی مثال ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ.(آل عمران ۳: ۱۶۴)
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تو مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا ہے کہ اُن کے اندر خود اُنھی میں سے ایک رسول اٹھایا ہے۔‘‘


یہاں ’مِنْ اَنْفُسِہِمْ‘ کالفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ خود اُنھی میں سے‘‘، یعنی مسلمانوں میں سے ہیں۔ بعض حضرات نے ایک اعتراض سے بچنے کے لیے جو حقیقت میں کوئی اعتراض نہیں ہے، اسے ’اَنْفَسِہِمْ‘ پڑھا ہے، یعنی وہ اُن کے شریف اور عمدہ لوگوں میں سے ہیں۔ ’’البیان‘‘ کے اصول کا تقاضا ہے کہ اس لفظ کا ترجمہ بہرحال قراء ت عامہ کے مطابق کیا جائے اور وہ یہی بنتا ہے کہ رسول اللہ ’’خود اُنھی میں سے‘‘ ہیں۔ اس ترجمہ کے بعد اب اس کا مطلب بھی آسانی سے سمجھ لیا جا سکتا ہے۔ یہاں مسلمانوں پر جس احسان کا ذکر ہو رہا ہے، وہ اصل میں اپنی کامل صورت میں اُسی وقت سامنے آتا ہے جب یہ کہا جائے کہ اللہ کے رسول اُن کے لیے کوئی اجنبی آدمی نہیں ہیں کہ اسلام کی دعوت میں کسی ابہام کے رہ جانے اور اس طرح اُن کے نامراد ہو جانے کا کوئی امکان ہو، بلکہ وہ اُنھی میں سے ہیں، یعنی ملائکہ اور جنوں میں سے ہونے کے بجاے اُنھی کی طرح کے ایک انسان ہیں، انھی کی معاشرت میں جینے والے اور مزید یہ کہ اُنھی کی زبان میں اُن سے کلام کرنے والے ہیں ۔

________
۱۰؂ القیامہ ۷۵: ۱۷۔ ۱۸۔

۱۱؂ اہل عرب کا یہی مزاج تھا کہ ایک سریہ میں بہت بڑی مچھلی صحابۂ کرام کے ہاتھ لگی۔ اُن کے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کی ہڈی کو کھڑا کیا اور ایک شخص کو حکم دیا که وہ اونٹ پر سوار ہو کر اس کے نیچے سے گزرے (بخاری، رقم ۴۳۶۱)۔
 

امن وسیم

محفلین
منہج و طریق

بعض باتیں اصولی حیثیت نہیں رکھتیں اور ہر مقام پر الگ سے اپنائی گئی ہیں، مگر اس لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں کہ وہ معنی کی تعیین کے طریقۂ کار کو بالکل واضح کر دینے والی ہیں، جیسا که لفظ کی ساخت، لفظ کے عوارض، دیگر الفاظ، سیاق و سباق اور عرف و نظائر۔

لفظ کی ساخت

عربی زبان میں لفظ کی کنسٹرکشن معنی و مفہوم پر اچھا خاصا اثر رکھتی ہے۔ تراجم میں بالعموم اس کی رعایت کی جاتی ہے، مگر اس سے بعض معانی ایسے بھی پیدا ہوتے ہیں جو بسا اوقات نظر انداز ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت ایک سے زائد عنوانات کے تحت کی جا سکتی ہے،مثلاً:

۱۔ مصدر اور اُس کے مشتقات

یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ م. بَیْضَآءَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ.(الصافات ۳۷: ۴۵۔ ۴۶)
’’اُن کے لیے شراب ناب کے جام گردش میں ہوں گے۔ بالکل صاف شفاف، پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت۔‘‘


یہ اہل جنت کو دی جانے والی نعمتوں کا بیان ہے کہ اُنھیں شراب خالص کے جام دیے جارہے ہوں گے۔ وہ دیکھنے میں صاف شفاف اور پینے والوں کے لیے ’لَذَّۃ‘ ہوں گے۔ یہاں ’لَذَّۃ‘ اصل میں مصدر ہے اور صفت کے مفہوم میں آیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جب مصدر صفت کے مفہوم میں استعمال ہو تو اُس میں ایک طرح کا مبالغہ پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس لفظ کا ترجمہ صرف ’’لذت‘‘ یا ’’لذیذ‘‘ کرنے کے بجاے ’’لذت ہی لذت ‘‘ کیا گیا ہے۔
قرآن میں اس کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں، جیسا که یہ آیت:

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۲۶)
’’یاد کریں جب ابراہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تھا که جنھیں تم پوجتے ہو، میں اُن سے بالکل بری ہوں۔‘‘


یہاں بھی مصدر ’بَرَآء‘ صفت کے مفہوم میں آیا ہے اور ’’البیان‘‘ میں اس سے پیدا ہو جانے والے مبالغے کو ’’بری ہوں‘‘ کے ساتھ ’’بالکل‘‘ کا لفظ لا کر ادا کیا گیا ہے۔
بعض اوقات مصدر ترجمے میں تاکید کا معنی بھی پیدا کر دیتا ہے، جیسا که اس آیت میں:

کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ.(الانبیاء ۲۱: ۱۰۴)
’’ہم نے جس طرح پہلی خلقت کی ابتدا کی تھی، اُسی طرح ہم اُس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے ایک حتمی وعدہ ہے، ہم اس کو ضرور کر کے رہیں گے۔‘‘


اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام طور پر مترجمین سے ’وَعْدًا‘ کا مصدر موکّد ہونا نظر انداز ہو گیا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اس کی پوری رعایت کی گئی ہے اور ترجمے میں اس کے لیے’’حتمی‘‘ کا لفظ لایا گیا ہے۔
ترجمے میں مصدر کی طرح اس کے مشتقات کا معاملہ بھی بڑا غور طلب ہوتا ہے۔ جیسا که مثال کے طور پر اسم فاعل کا:

اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْھَا وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ.(المومن ۴۰: ۵۹)
’’یہ بالکل قطعی ہے کہ قیامت آ کے رہے گی، اِس میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔‘‘


یہاں قیامت کے بارے میں فرمایا ہے: ’لَاٰتِیَۃٌ‘۔یہ اسم فاعل ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قدیم عربی زبان میں فاعل کا وزن فعل میں زور لانے اور قطعیت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی لایا جاتا ہے۔بالعموم اردو کے مترجمین اس سے زیادہ واقف نہیں ہیں، مگر ’’البیان‘‘ کے مذکورہ ترجمے میں اسے بیان کرنے کی اچھی کوشش کی گئی ہے۔
یہ فاعل جس طرح اللہ کی طرف سے کیے گئے وعدے کی قطعیت کے لیے آیا ہے، اسی طرح بعض اوقات یہ اُس کے عزم جازم اور حتمی فیصلے کے لیے بھی آ جاتا ہے۔ اس کے لیے ذیل کی آیتوں کو دیکھ لیا جا سکتا ہے جن میں ’جٰعِلُوْن‘ اور ’فٰعِلِیْن‘ کے الفاظ میں پائے جانے والے اس مفہوم کو اردو میں مختلف طریقوں سے ادا کیا گیا ہے:

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْھَا صَعِیْدًا جُرُزًا.(الکہف ۱۸: ۸)
’’ہم اُن سب چیزوں کو جو زمین پر ہیں (ایک دن بالکل نابود کر کے اُس کو) ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔‘‘
کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ.(الانبیاء ۲۱: ۱۰۴)
’’ہم نے جس طرح پہلی خلقت کی ابتدا کی تھی، اُسی طرح ہم اُس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے ایک حتمی وعدہ ہے، ہم اس کو ضرور کر کے رہیں گے۔‘‘


ذیل کی آیت میں ’کُنَّا مُرْسِلِیْنَ‘ بھی فاعل کے وزن سے بنا ہوا ’کُنَّا فٰعِلِیْنَ‘ کی طرح کا اسلوب ہے جو خدا کے حتمی فیصلہ کو بیان کرنے کے لیے لایا گیا ہے:

وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا وَلٰکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ.(القصص ۲۸: ۴۵)
’’تم مدین والوں کے درمیان بھی موجود نہ تھے، اُن کو ہماری آیتیں سناتے ہوئے، لیکن ہم فیصلہ کر چکے تھے کہ تمھیں رسول بنائیں۔ ‘‘


فاعل کی طرح مفعول کے وزن کا بھی یہی معاملہ ہے، یہ بھی اپنے اندر ایک طرح کی تاکید اور قطعیت رکھتا ہے۔ دیگر ترجموں کے برعکس، ’’البیان‘‘ میں اس کی بھی پوری پوری رعایت رکھی گئی ہے، جیسا که ذیل کی آیت میں ’مَفْعُوْلًا‘ کا ترجمہ محض ہو جانے والی بات نہیں کیا، بلکہ اس میں پائی جانے والی حد درجہ قطعیت کو بھی بیان کیا ہے:

وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا.(النساء ۴: ۴۷)
’’اور (یادرکھوکہ) خدا کی بات ہو کر رہتی ہے۔‘‘

اسم تفضیل عام طور پر دوسروں کے مقابلے میں مصدری معنی کی زیادتی کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے، لیکن یہ بعض اوقات ہر طرح کے تقابل سے مجرد ہو کر بھی آ جایا کرتا ہے:

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ وَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ.(سبا ۳۴: ۳۹)
’’اُس کی راہ میں جو چیز بھی تم خرچ کرو گے، وہ اُس کا صلہ دے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔‘‘

دیکھ لیا جا سکتا ہے کہ ’خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ‘ کا ترجمہ ’’سب سے بہتر رزق دینے والا‘‘ کرنے کے بجاے ’’بہترین رزق دینے والا‘‘ کیا گیا ہے، اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں اسم تفضیل، یعنی ’خَیْر‘ کا لفظ کسی طرح کی ترجیح کے مفہوم میں نہیں، بلکہ محض بیان صفت کے لیے آ گیا ہے۔
اسم صفت بھی بعض مقامات پر کچھ خاص معنی ادا کرتا ہے:

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلاً مِّنْکُمْ وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ.(البقرہ ۲: ۸۳)
’’پھر تم میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب (اُس سے) پھر گئے اور حقیقت یہ ہے کہ تم پھر جانے والے لوگ ہی ہو۔‘‘



یہاں فعل ’تَوَلَّیْتُمْ‘ کے بعد ’مُعْرِضُوْنَ‘ کی صفت آئی ہے۔ فعل کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ اپنے اندر ایک طرح کا حدوث رکھتاہے ، مگر اس کے مقابلے میں صفت کے اندر کسی چیز کے مستقل وصف اور خصلت ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں ’تَوَلَّیْتُمْ‘ کا ترجمہ ’’پھرگئے‘‘ کیا گیا ہے جو محض وقوع پذیر ہونے والے ایک فعل کا بیان ہے، مگر ’مُعْرِضُوْنَ‘ کا ترجمہ’’تم پھر جانے والے لوگ ہی ہو‘‘ کیا گیا ہے جو اُن لوگوں کے کردارکے ایک مستقل پہلو کو بیان کر رہا ہے۔
 

امن وسیم

محفلین
۲۔ صیغوں کا اختلاف

صیغوں کے بدل جانے سے بھی لفظ کے معنی بدل جاتے ہیں۔ عام طور پر تثنیہ کا صیغہ دو اور جمع کا صیغہ تین اور اس سے زائد افراد کے لیے لایا جاتا ہے، مگرہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات ان صیغوں سے کچھ اور معانی کا اِبلاغ بھی پیش نظر ہوتا ہے:

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ.(الرحمن ۵۵: ۱۷)

’’وہی مشرق کا رب ہے، اُس کے دونوں کناروں تک، اور وہی مغرب کا رب ہے، اُس کے دونوں کناروں تک۔‘‘

اس آیت میں ’الْمَشْرِقَیْن‘ اور ’الْمَغْرِبَیْن‘ تثنیہ کی صورت میں آئے ہیں۔ مترجمین نے ان کا ترجمہ ’دو مشرق‘ اور ’دو مغرب‘ کے الفاظ میں کیا ہے اور اس سے بالعموم گرمی اور سردی کے مشرق مراد لیے ہیں۔ دراں حالیکہ عربی زبان میں تثنیہ کسی چیز کے دونوں کناروں کو بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ کرتے ہوئے ’’اُس کے دونوں کناروں تک‘‘ کی وضاحت کر دی گئی ہے۔
ذیل کی آیت بھی اس کی ایک اچھی مثال ہے جس میں ’صَدَفَیْن‘ کے تثنیہ سے اصل میں پہاڑوں کے درمیان خلا کے دونوں کناروں کو بیان کرنا مقصود ہے:

حَتّٰٓی اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا.(الکہف ۱۸: ۹۶)
’’یہاں تک کہ جب اُس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان خلا کو پاٹ دیا تو کہا کہ دھونکو۔‘‘

جمع کاصیغہ بھی بعض اوقات جمع کے بجاے وسعتِ اطراف کو بیان کرنے کے لیے آ جاتا هے:

فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ.(المعارج ۷۰: ۴۰)
’’سو نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُس کی جو مشرق و مغرب کی تمام وسعتوں کا مالک ہے۔‘‘

اس آیت میں ’الْمَشٰرِق‘ اور ’الْمَغٰرِب‘ جمع کے صیغے ہیں۔ ان کا ترجمہ اکثر مترجمین نے ’’مشرقوں‘‘ اور ’’مغربوں‘‘ کے الفاظ میں کیا ہے اور اس سے سورج کے مختلف مطالع اور مغارب کو مراد لیا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں جمع کے اس خاص پہلو کا لحاظ کرتے ہوئے کہ یہ بعض اوقات کسی شے کے اطراف کی وسعت کو بیان کرنے کے لیے بھی آتا ہے، اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے: ’’جو مشرق و مغرب کی تمام وسعتوں کا مالک ہے۔‘‘
قرآن میں جمع کا صیغہ اس کے علاوہ بھی کئی مفاہیم کے پیش نظر استعمال کیا جاتا ہے:

فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرٰتٍ.(فاطر ۳۵: ۸)
’’سو اِن پر افسوس کر کر کے تم اپنے کو ہلکان نہ کرو۔‘‘

یہاں ’حَسَرٰت‘ کے لفظ کی جمع اصل میں اُن لوگوں پر کیے جانے والے غم اور افسوس کی شدت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ کرتے ہوئے ’’افسوس کر کر کے‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں اور ان میں ’’کر‘‘ کی تکرار درحقیقت افسوس کی اسی شدت کو ظاہر کرنے کی ایک کوشش ہے۔
بعض اوقات جمع کا صیغہ کسی شے کے وجود کو بیان کرنے کے لیے بھی آ جایا کرتا ہے:

فَاِنْ کَانَ لَہٓٗ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَآ اَوْدَیْنٍ.(النساء ۴: ۱۱)
’’لیکن اُس کے بھائی بہن ہوں تو ماں کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے (اور باپ کے لیے بھی وہی چھٹا حصہ)۔ یہ حصے اُس وقت دیے جائیں، جب وصیت جو اُس نے کی ہو، وہ پوری کر دی جائے اور قرض، (اگر ہو تو) ادا کر دیا جائے۔‘‘

اس آیت میں ’اِخْوَۃ‘ جمع کا صیغہ ہے، چنانچہ مترجمین نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے ’’کئی بھائی‘‘ یا ’’ایک سے زیادہ بھائی یا بہن‘‘ وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ’’البیان‘‘ میں اس کے لیے محض ’’بھائی بہن‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ’اِخْوَۃ‘ جمع کی صورت میں ہونے کے باوجود بیان عدد یا بیان نوع کے لیے نہیں، بلکہ محض بیان وجود کے لیے آیا ہے۔ جمع کا یہ استعمال ہماری زبان میں بھی پایا جاتا ہے۔ جیسا که ہم کسی دوست کو گاڑی میں جاتے دیکھیں اور وقت ملاقات اُس سے کہیں: ’’بڑے مزے ہو رہے ہیں، جناب گاڑیوں میں پھرتے ہیں۔‘‘ یہاں ’گاڑیوں‘ کا لفظ جمع کی صورت میں آیا ہے ، مگر اس سے ہماری مراد نہ گاڑیوں کی تعداد بتانا ہے اور نہ اُن کی کسی مخصوص قسم کا تذکرہ کرنا۔
ماضی اور مضارع کے صیغے بھی عمومی معنی کے ساتھ ساتھ کچھ مزید معانی کا اِبلاغ کرتے ہیں:

اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ.(الکوثر ۱۰۸: ۱)
’’ہم نے یہ خیر کثیر تمھیں عطا کر دیا ہے، (اے پیغمبر)۔‘‘

یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’الْکَوْثَر‘ دیے جانے کی خوش خبری سنائی جا رہی ہے، مگر اس کے لیے ماضی کا صیغہ لایا گیا ہے۔ گویا یہ مستقبل میں ہونے والا واقعہ خدا کے ہاں اس قدر حتمی ہے کہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ابھی سے واقع میں آ چکا۔ ’’البیان‘‘ میں دیگر مترجمین کی طرح ’اَعْطَیْنَا‘ کا ترجمہ فعل ماضی میں کیا گیا ہے، مگر اس کے بعد والے جملوں میں ’’تم اپنے پروردگار کی نماز پڑھو اور اُسی کے لیے قربانی کرو‘‘ کہنے کے بجاے ’’تم اپنے پروردگار کی نماز پڑھنا‘‘ اور ’’اُسی کی قربانی کرنا‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں اور اسلوب کی اس تبدیلی سے پیش نظر یہی ہے کہ ’اَعْطَیْنَا‘ کا فعل ماضی وعدے کی قطعیت کو تو ضرور بیان کرے، مگراگلے جملوں میں’’کرنا‘‘ یہ بھی بتا دے کہ بہرکیف یہ مستقبل میں پوری ہونے والی ایک بشارت ہی ہے۔

وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ ذٰلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ.(ق ۵۰: ۲۰)

’’اور (وہ دیکھو) صور پھونکا گیا۔ یہ وہی دن ہے جس کی وعید ہم نے تمھیں سنائی تھی۔‘‘

یہاں بھی قیامت کے احوال کا ماضی کے صیغے میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مقصود ایک بات تو وہی ہے کہ خدا کے وعدوں کی قطعیت کو بیان کیا جائے ، مگر اس سے مقصود دوسری بات یہ ہے کہ اُن احوال کو قاری کی آنکھوں کے سامنے تصور بھی کر دیا جائے۔ ’’البیان‘‘ میں ’نُفِخَ‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے اس دوسری بات کی بھی رعایت کی گئی ہے اور اس غرض سے ’’وہ دیکھو‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔
ماضی کی طرح مضارع بھی بعض اوقات کچھ خاص معنی ادا کرتا ہے، جیسا که اس آیت میں یہ استمرار کا بیان کر رہا ہے:

وَاٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ.(البقرہ ۲: ۲۵۱)
’’اور اللہ نے اُسے بادشاہی دی اور حکمت عطا فرمائی اور اُسے اُس علم میں سکھایا جو اللہ چاہتا ہے (کہ اپنے اِس طرح کے بندوں کو سکھائے)۔‘‘

یہاں ’عَلَّمَہٗ‘ کے فعل ماضی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ’مِمَّا شَآء‘ ہوتا، مگر دیکھ لیا جا سکتا ہے کہ اس کے بجاے مضارع، یعنی ’مِمَّا یَشَآءُ‘ لایا گیا ہے۔ دراصل، اللہ نے نہیں چاہا که علم کی اس نعمت کا بیان حضرت داؤد سے مخصوص ہو کر رہ جائے، بلکہ اُس نے چاہا ہے کہ وہ اسے اپنی ایک مستقل سنت کی حیثیت سے بیان کرے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں ’مِمَّا یَشَآءُ‘ کا ترجمہ مضارع میں کرنے کے بعد اس سے پیدا ہونے والے استمرار کے مفہوم کو بھی قوسین میں کھول دیا گیا ہے۔
 

امن وسیم

محفلین
۳۔ ابواب کی خاصیات

عربی زبان میں لفظ مختلف ابواب میں کنسٹرکٹ ہوتا ہے۔ اس سے بھی اس کے معنی میں بعض خاصیات پیدا ہو جاتی ہیں اور ترجمہ کرتے ہوئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کا خصوصی طور پر لحاظ رکھا جائے:

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ.(البقرہ ۲: ۹)
’’وہ اللہ اور اہل ایمان، دونوں کو فریب دینا چاہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ ہی کو فریب دے رہے ہیں ۔‘‘

اس آیت میں ’یُخٰدِعُوْنَ‘ اور ’یَخْدَعُوْنَ‘ کے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مترجمین نے عام طور پر ان دونوں کا ترجمہ ایک جیسا کیا ہے، یعنی دھوکا اور فریب دینا، حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک ہی مقام پر دو مختلف ابواب سے فعل آ جائیں تو ان کا ایک جیسا ترجمہ کر دینا کچھ زیادہ موزوں نہیں۔ ’’البیان‘‘ میں ’خدع‘ اور ’مخادعۃ‘ کا ترجمہ مختلف طریقے سے کیا گیا ہے، یعنی ’خدع‘ سے مراد فریب دینا اور ’مخادعۃ‘ سے مراد فریب دینے کی کوشش کرنا۔۱۲؂ اور دیکھ لیا جا سکتا ہے کہ اس ترجمے سے وہ ساری بحثیں آپ سے آپ ختم ہو گئی ہیں جو تفسیر کی کتابوں میں اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں۔

فَلَمَّا رَاَیْنَہٗٓ اَکْبََرْنَہٗ وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ.(الیوسف ۱۲: ۳۱)
’’پھر جب عورتوں نے اُس کو دیکھا تو اُس کی عظمت سے مبہوت ہو گئیں اور (اپنی بات اُس سے منوانے کے لیے) اپنے ہاتھ جگہ جگہ سے زخمی کر لیے۔‘‘

اصل میں ’قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس کا ترجمہ کیا گیا ہے کہ اُنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور اس سے مراد یہ لی گئی ہے کہ وہ عورتیں سیدنا یوسف کے کردار کی عظمت کو دیکھ کر اس قدر مبہوت ہوئیں کہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ بیٹھیں، دراں حالیکہ یہاں ’قَطَّعْنَ‘ اصل میں ’قطع‘ سے تفعیل ہے جس میں تکثیر کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں تفعیل کی رعایت سے یوں ترجمہ کیا گیا ہے: ’’اپنے ہاتھ جگہ جگہ سے زخمی کر لیے۔‘‘ ۱۳؂ اور اس سے مترجم کی مراد یہ ہے کہ ہاتھوں کا کٹنا بے خودی کی کیفیت میں ہو جانے والا کوئی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ مصر کی بیگمات کی طرف سے کیا جانے والا ایک شعوری اِقدام تھا که وہ اپنے اس جذباتی مظاہرے سے سیدنا یوسف کو کسی طرح سے رام کر سکیں۔

وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ.(النساء ۴: ۲۳)
’’اور تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔‘‘



نکاح کے لیے حرام رشتوں کا ذکر کر تے ہوئے فرمایا ہے کہ تمھاری وہ مائیں بھی تم پر حرام ہیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا۔ اس کے لیے ’اَرْضَعْنَکُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ باب اِفعال سے ہے جس کی خاصیات میں مبالغہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ ’’البیان‘‘ کے ترجمے میں مبالغے کے اس بیان کے لیے اردو کے اس جملے کو کافی سمجھا گیا ہے کہ ’’تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا‘‘۔ البتہ، تشریحی نوٹ میں اس امر کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ رضاعت کسی کو اتفاقاً دودھ پلا دینے سے قائم نہیں ہو جاتی، بلکہ ضروری ہے کہ یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اور ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آئے۔

لفظ کے عوارض

لفظ کی ساخت کے ساتھ دوسری اہم چیز اس پر آنے والے عوارض ہیں۔ یہ معنی و مفہوم پر اچھا خاصا اثر انداز ہوتے اور معنی کی تعیین کے اس کام میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہم ان میں سے صرف چند ایک کا یہاں ذکر کرتے ہیں:
 

امن وسیم

محفلین
۱۔ الف لام کا آنا

عربی زبان میں اسم پر الف لام بھی آتا ہے جس کا ایک مقصد کسی چیز کو نکرہ کی حیثیت سے نکال کر اسے معرفہ بنا دینا ہوتا ہے۔ تراجم میں عام طور پر اس کی رعایت کی جاتی ہے، مگر اسے بعض مقامات پر سمجھنا اس قدر دقیق ہوتا ہے کہ یہ سرے سے نظر انداز ہو جاتا ہے۔ یا کسی مقام پر یوں ہوتا ہے کہ یہ عہد کے لیے لایا گیا ہوتا ہے ، مگر اسے جنس کا قرار دے دیا جاتا ہے۔یا کسی مقام پر عہد ذہنی کے لیے لایا گیا ہوتا ہے اور اسے عہد خارجی کا سمجھ کر ترجمہ کر دیا جاتا ہے یا معاملہ بعض اوقات اس سے اُلٹ بھی ہو جاتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں اس بات کا اِمکان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ قاری پر متکلم کی اصل منشا بالکل بھی واضح نہ ہو سکے:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا.(الاحزاب ۳۳: ۳۳)
’’اللہ تو یہی چاہتا ہے ، اِس گھر کی بیبیو کہ تم سے وہ گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے۔‘‘

اس آیت میں ’الرِّجْس‘ کا لفظ آیا ہے۔ مترجمین نے عام طور پر اس کے الف لام کو جنس کا قرار دیا اور ’’گندی باتیں‘‘، ’’ہر قسم کی گندگی‘‘ اور ’’ہرطرح کی ناپاکی ‘‘ وغیرہ کے الفاظ میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ظاہر ہے، اس ترجمہ کے بعد بہت سی غیرمتعلقہ بحثیں آپ سے آپ پیدا ہو گئیں اور بعد ازاں مستقل عقیدوں میں ڈھل گئی ہیں، دراں حالیکہ اس مقام پر ازواج مطہرات کو دیے جانے والے خصوصی احکام کے پیش نظر اصل میں اُنھیں منافقین کی ریشہ دوانیوں سے بچانا ہے جو اس قدر زیادہ ہو گئی ہیں کہ وہ اُن پر اب اخلاقی الزامات لگانے کی بھی راہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ’الرِّجْس‘ کا الف لام عہد کے لیے ہے اور اُس گندگی کو بیان کر رہا ہے جو ان الزامات کے ذریعے سے یہ لوگ ازواج مطہرات پر تھوپ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’’البیان‘‘ کے ترجمے میں بھی اسے جنس کے بجاے عہد کا قرار دیا گیا ہے اور اس عہد کو کھولنے کے لیے ’’وہ گندگی‘‘ کے الفا ظ اور پھر قوسین کے اندر اس کی وضاحت میں یہ جملہ بھی لکھ دیا گیا ہے: ’’ جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں‘‘۔ دیکھ لیا جا سکتا ہے کہ اس کے نتیجے میں کتاب اللہ کی یہ بات بہت واضح اور ہر طرح کے غل وغش سے پاک ہو کر ہمارے سامنے آ گئی ہے۔

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ.(التوبہ ۹: ۵)
’’(بڑے حج کے دن) اِس (اعلان) کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو۔‘‘

یہاں اختلاف اس امر میں نہیں ہے کہ ’الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ‘ کا الف لام عہدکے لیے ہے یا جنس کے لیے؟بلکہ کم و بیش سب مترجمین کے نزدیک یہ عہد کے لیے ہے۔ البتہ، اختلاف اس امر میں ہے کہ اسے عہد خارجی کا سمجھا جائے یا عہد ذہنی کا۔ اکثر مترجمین اسے عہد خارجی کا قرار دیتے اور اس کا مطلب آیت ۲ کی روشنی میں یہ بیان کرتے ہیں کہ منکرین کو جن چار مہینوں کی مہلت دی گئی تھی، اصل میں یہ وہی چار مہینے ہیں۔ اس کے بر خلاف، بعض حضرات کے ہاں یہ الف لام عہد ذہنی کے لیے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشہر حرم کی تعبیر اسم اور علم کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور اس سے ہٹانے کے لیے یہاں کوئی وجہ بھی موجود نہیں ہے، اس لیے عربیت کی رو سے اس پر آنے والا الف لام اب عہد ذہنی ہی کا ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ اس سے مراد وہی چار مہینے ہیں جنھیں اصطلاح میں حرام مہینے کہا جاتا ہے ، یعنی رجب، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ براء ت کا اعلان اگر حج کے موقع پر کیا جائے تو اس کے بعد حرام مہینوں میں سے تقریباً پچاس دن باقی رہ جاتے ہیں۔ ’’البیان‘‘ میں اسی راے کو اختیار کیا گیا ہے اور حاشیہ میں اس کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔
 

امن وسیم

محفلین
۱۔ الف لام کا آنا

وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍم بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ.(النور ۲۴: ۸)
’’(اس کے بعد) عورت سے سزا اُسی صورت میں ٹل سکتی ہے که (اِس کے جواب میں) وہ بھی چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔‘‘


مذکورہ بالا آیت کے مقابلے میں یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے۔ یہ لعان کے متعلق ایک ہدایت ہے اور اس میں ’الْعَذَاب‘ کا الف لام معہود ذہنی کے بجاے معہود خارجی کا ہے جس کا بیان آیت ۲ میں ’عَذَابَھُمَا‘ کے لفظ میں موجود ہے۔ ’’البیان‘‘ میں بھی اسے عہد خارجی کا قرار دیا گیا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ عربی زبان میں اگر معرفہ کا اعادہ معرفہ کی صورت میں کیا جائے اور کوئی قرینہ بھی مانع نہ ہو تو دوسرا بالکل پہلا ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اس شادی شدہ عورت کو دی جانے والی سزا بھی بعینہٖ وہی ہو گی جو اس سے پہلے ’عَذَابَھُمَا‘ کے الفاظ میں، یعنی سو کوڑوں کی صورت میں ہر زانی مرد و عورت کے لیے بیان کی جا چکی ہے۔ ۱۴؂
اسی طرح کی ایک مثال یہ آیت بھی ہے:

وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَّوْبِقًا. وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ مُّوَاقِعُوْھَا.(الکہف ۱۸: ۵۲۔ ۵۳)
’’ہم اُن کے درمیان ایک ہلاکت کا گڑھا حائل کر دیں گے اور یہ مجرم اُس کی آگ کو دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اُسی میں گرنے والے ہیں۔‘‘


یہاں بھی دیکھ لیا جا سکتا ہے کہ اکثر مترجمین ’النَّار‘ کے الف لام کو عہد ذہنی کا قرار دیتے ہوئے اس کا ترجمہ ’’آگ‘‘، ’’دوزخ‘‘ اور ’’جہنم‘‘ کے الفاظ میں کر رہے ہیں۔ ’’البیان‘‘ میں اسے عہد خارجی کا قرار دیتے ہوئے اس کا ترجمہ ’’اُس کی آگ‘‘ کے الفاظ میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد پچھلی آیت میں مذکور ہلاکت کے گڑھے کی آگ ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ جملہ پچھلی بات سے گویا کٹ کر رہ جاتا ہے۔
بعض اوقات ایک ہی لفظ قرآن کے متعدد مقامات پر الف لام کی مختلف حیثیتوں میں استعمال ہو رہا ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس کے سمجھنے میں کسی بڑی غلطی کے راہ پا جانے کا اِمکان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، جیسا که مثال کے طور پر ’الْاِنْسَان‘ اور ’الْمُشْرِکِیْن‘ کے الفاظ۔ ہم ان میں سے صرف ’الْمُشْرِکِیْن‘ کو ذیل میں بیان کرتے ہیں:

اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیْفًا وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(النحل ۱۶: ۱۲۰)
’’حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم (اپنی جگہ) ایک الگ امت تھا، اللہ کا فرماں بردار اور یک سو اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔‘‘


اس آیت میں سیدنا ابراہیم کے اوصاف حمیدہ بتائے جا رہے ہیں، کچھ ایجابی انداز میں اور کچھ سلبی انداز میں۔ چنانچہ بادنیٰ تامل سمجھ لیا جا سکتا ہے کہ یہاں ’الْمُشْرِکِیْن‘ کا الف لام مشرکین کے زمرے، یعنی ان کی جنس کو بیان کرنے کے لیے آیا ہے ۔

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ.(البقرہ ۲: ۱۰۵)

’’اہل کتاب ہوں یا مشرکین، ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ تمھارے پروردگار کی طرف سے کوئی خیر تم پر نازل کی جائے۔‘‘


اس آیت میں ’الْمُشْرِکِیْن‘ کا الف لام جنس کے بجاے عہد ذہنی کا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ متکلم اور مخاطب، دونوں کے ہاں یہ لوگ بالکل متعین ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا آیت میں بیان کردہ یہ وصف بھی کہ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ تم پر خدا کی طرف سے کوئی خیر اتاری جائے، اُنھیں واضح طور پر متعین کر رہا ہے۔

وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ.(التوبہ ۹: ۶)
’’اور اگر (اس دار و گیر کے موقع پر) اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص تم سے امان چاہے (کہ وہ تمھاری دعوت سننا چاہتا ہے) تواُس کو امان دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔‘‘


یہاں الف لام عہد خارجی کے لیے ہے اور ’’البیان‘‘ کے ترجمہ میں اس کے لیے ’’اِن مشرکوں‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔ اس تعیین کی دلیل یہ ہے کہ آیت ۱ میں بھی ’الْمُشْرِکِیْن‘ کایہی لفظ آیا ہے اور زیر بحث آیت میں معرفہ کے اس اِعادہ نے یہ بات طے کر دی ہے کہ اس دوسرے سے مراد بھی اصل میں پہلا ہی ہے۔ یعنی اس سے مراد بھی وہی لوگ ہیں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے من حیث الجملہ اِتمام حجت کیا جا چکا ہے۔
 

امن وسیم

محفلین
۲۔ صلہ کا استعمال

بعض حروف لفظ کے اوپر صلہ ہو کر آتے ہیں اور معنی میں اچھا خاصا تنوع پیدا کر دیتے ہیں اور بعض اوقات متعدد معانی پر متضمن بھی ہو جاتے ہیں، چنانچہ ترجمہ کرتے ہوئے ان کی مکمل طور پر رعایت کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں یہ رعایت کس قدر برتی گئی ہے ، اس کے لیے ہم اُن چند آیتیوں کا ترجمہ پیش کرتے ہیں جن میں ایک ہی صلہ کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا گیا ہے، جیسا که مثال کے طور پر ’اِلآی‘ کا صلہ:

وَعَھِدْنَآ اِلآی اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآءِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ.(البقرہ ۲: ۱۲۵)
’’اور ابراہیم و اسمٰعیل کو اِس بات کا پابند کیا کہ میرے اِس گھر کو اُن لوگوں کے لیے پاک رکھو جو (اِس میں) طواف کرنے، اعتکاف کرنے اور رکوع و سجود کرنے کے لیے آئیں۔‘‘

’عَہِدَ‘ کے ساتھ جب ’اِلٰی‘ کا صلہ آئے تو اب اس کا مطلب صرف وعدہ کرنے کا نہیں ، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر کسی پر ذمہ داری ڈال دینے کا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ’’البیان‘‘ میں اس کے لیے ’’اس بات کا پابند کیا‘‘ کے الفاظ لائے گئے ہیں۔

کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ.(الانعام ۶: ۱۲)
’’اُس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر رکھی ہے۔ وہ تم سب کو جمع کر کے ضرور قیامت کی طرف لے جائے گا جس میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘

اس آیت میں ’اِلٰی‘ کاصلہ ’لَیَجْمَعَنَّکُمْ‘ کے بعد آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوئی لفظ ہانکنے اور لے جانے کے معنی میں محذوف ہے۔چنانچہ دیگر مترجمین کے برعکس، جنھوں نے عام طور پر اس کا ترجمہ ’’جمع کرے گا‘‘ کیا ہے، ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے: ’’وہ تم سب کو جمع کر کے ضرور قیامت کی طرف لے جائے گا۔‘‘

وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۴)
’’بنی اسرائیل کو ہم نے اِسی کتاب میں اپنے اِس فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا که تم دو مرتبہ زمین میں فساد برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔‘‘

یہاں ’قَضَیْنا‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا صلہ آیا ہے جس کا تقاضا ہے کہ اسے کسی ایسے فعل پر متضمن مانا جائے جو اس صلہ سے مناسبت رکھنے والا ہو اور وہ ’أبلغنا‘ یا اس کے ہم معنی کوئی فعل ہو سکتا ہے۔ مترجمین نے بالعموم ان دونوں افعال میں سے ایک کو سامنے رکھتے ہوئے ترجمہ کیا ہے، جیسا کہ’’فیصلہ کر دیا‘‘ اور ’’صاف کہہ سنایا‘‘۔ ’’البیان‘‘ میں دونوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اس طرح ترجمہ کیا گیا ہے: ’’اس فیصلے سے آگاہ کر دیا‘‘۔

وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ. اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ.(القیامہ ۷۵: ۲۲۔ ۲۳)
’’کتنے چہرے اُس دن تر و تازہ ہوں گے، اپنے پروردگار کی رحمت کے منتظر۔‘‘

اس آیت میں ’نظر‘ کے ساتھ ’اِلٰی‘ آیا ہے۔ اس کے دو ترجمے کیے جا سکتے ہیں: ایک کسی شے کی طرف دیکھنا اور دوسرے کسی سے اچھی بات کی کوئی امید رکھنا۔ سیاق دلیل ہے کہ یہ دوسرے معنی میں ہے ، اس لیے کہ یہاں اگلی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ دوزخ میں جانے والے اس اندیشہ میں مبتلا ہوں گے کہ اب وہ آفت ٹوٹنے والی ہے جو اُن کی کمر کو توڑ ڈالے گی۔ اب ظاہر ہے اس اندیشے کے مقابلے میں امید و رجا کا بیان ہی زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں اسی وجہ سے اس کا ترجمہ’’ اپنے پروردگار کی رحمت کے منتظر‘‘ کیا گیا ہے۔

____________
 
کاش کے ہمارے حدیث پرست ، اس تفصیلی بیان کو پڑھ سکیں۔ میں آپ کی تحریر کو ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا، لیکن صاحب، اس الکتاب جیسی ٓمیں نے کوئی کتاب نہیں پڑھی، اس کا انداز بیان اور متن بیان دونوں ، کسی بھی کتاب کے مقابلے میں ہزار ہا گنا زیادہ پر اثر ہیں۔ بیان کی ترتیب، آور پھر ایک ہی مکمل آیت میں آرگومینٹس کا تناسب، اپنی جگہ آپ ہیں۔ یہ الکتاب، اپنی تفسیر خود کرتی ہے، اپٓنے الفاظ کے درست معانی کا تعین کرتی ہے۔ جو بادی النظر پرانے لوگوں کے قصے نظر آتے ہیں ، وہی تاریخی حقایق، معاملات کا فیصلہ کن اور معیاری فریصلہ کرتے ہیں۔ الفاظ کا چناؤ اس قدر مکمل ہے ٓکہ اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ سارا قرآن ایک ایسی مکمل قانونی زبان سے بندھا ہوا ہے کہ بہترین سے بہترین قانون دان بھی دنگ رہ جاتا ہے۔ ٓٓٓٓٓٓاور وہٓی قصے ایک معمولی علم والے شخص کے لئے سبق آموز قصے محسوس ہوتے ہیں۔

بسا اوقات مجھے یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ جو آیت میں پڑھ رہا ہوں وہ کسٓی سابقہ آیت سے اختلاف کرتی ہے، لیکن جب میں وہاں جا کر دیکھتا ہوں تو سمجھ اتا ہے کہ یہ میرا اپنا مظالطہ تھا، اللہ تعالی نے اس سابقہ آیت میں جو لفظ استعمال کیا ہوتا ہے اس کے بہتر معانی ٓموجودہ آیت سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ سب کو اس کتاب سے ہدایت عطا فرمائے۔

والسلام
 

امن وسیم

محفلین
کاش کے ہمارے حدیث پرست ، اس تفصیلی بیان کو پڑھ سکیں۔ میں آپ کی تحریر کو ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا، لیکن صاحب، اس الکتاب جیسی ٓمیں نے کوئی کتاب نہیں پڑھی، اس کا انداز بیان اور متن بیان دونوں ، کسی بھی کتاب کے مقابلے میں ہزار ہا گنا زیادہ پر اثر ہیں۔ بیان کی ترتیب، آور پھر ایک ہی مکمل آیت میں آرگومینٹس کا تناسب، اپنی جگہ آپ ہیں۔ یہ الکتاب، اپنی تفسیر خود کرتی ہے، اپٓنے الفاظ کے درست معانی کا تعین کرتی ہے۔ جو بادی النظر پرانے لوگوں کے قصے نظر آتے ہیں ، وہی تاریخی حقایق، معاملات کا فیصلہ کن اور معیاری فریصلہ کرتے ہیں۔ الفاظ کا چناؤ اس قدر مکمل ہے ٓکہ اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ سارا قرآن ایک ایسی مکمل قانونی زبان سے بندھا ہوا ہے کہ بہترین سے بہترین قانون دان بھی دنگ رہ جاتا ہے۔ ٓٓٓٓٓٓاور وہٓی قصے ایک معمولی علم والے شخص کے لئے سبق آموز قصے محسوس ہوتے ہیں۔

بسا اوقات مجھے یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ جو آیت میں پڑھ رہا ہوں وہ کسٓی سابقہ آیت سے اختلاف کرتی ہے، لیکن جب میں وہاں جا کر دیکھتا ہوں تو سمجھ اتا ہے کہ یہ میرا اپنا مظالطہ تھا، اللہ تعالی نے اس سابقہ آیت میں جو لفظ استعمال کیا ہوتا ہے اس کے بہتر معانی ٓموجودہ آیت سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ سب کو اس کتاب سے ہدایت عطا فرمائے۔

والسلام
آپ نے اتنے جامع انداز میں قرآن پاک کی اہمیت واضح کی ہے کہ میرے لیے کچھ لکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ بہرحال حوصلہ افزائی کیلیے بہت شکریہ :rose:
 

Fazal Subhan

محفلین
گزارش ہےکہ ایک عام ادمی کے لیے کیا ایسی کوی کتاب ہے جو قران کے عربی کے قواعد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ قران سے اس قواعد کے جملے بیان ہو۔
 
Top