قبروں پر قرآنی آیات کیوں کندہ کروائی جاتی ہیں

مہوش علی

لائبریرین
کتنا اچھا کہا تھا شمشاد صاحب نے دھاگے کا مقصد کچھ اور تھا اور بحث کہیں اور جا رہی ہے۔ میرا خیال ہے کیوں نہ ہم لوگ صرف ان باتوں کو زیر بحث لایا کریں جو ہم سب میں‌ مشترک ہیں اور اختلافات کو پرے ہی رکھا جائے۔ نہ کسی کا دل دکھے نہ کوئی آرزدہ ہو مشترکہ موضوعات ہوں سب دلچسپی لیں۔

ارشد برادر،

آپکی بات بالکل بجا ہے اور آپ نے دیکھا ہو گا کہ میں نے شروع میں اصل موضوع پر ہی گفتگو کی تھی۔ مگر فاروق صاحب نے پہلی فرصت میں نظم ارسال فرما دی۔ اور پھر اسکے بعد ان "دو قرانی آیات" کے حوالے سے اعتراض آ گیا کہ انہیں "باطنی معنی" دیے جا رہے ہیں۔

تو ارشد برادر، آپ کی خواہش کے مطابق میں آپکے اس ڈورے میں الگ بحث شروع نہیں کرتی۔ اور اگر قسیم حیدر برادر مزید ان دو قرانی آیات کے متعلق جاننا چاہیں کہ مودودی صاحب نے انکے ظاہری معنی لے کر کتنی فاش غلطی کی ہے تو ہم یہ ڈسکشن نئے ڈورے میں کر سکتے ہیں۔
 
ارشد صاحب،

شریعت کا ایک اصول ہے:

"جب تک کوئی چیز نام لے کر، یا پھر شریعت ہی کے کسی اصول کے تحت حرام نہ ٹہرائی گئی ہو، تو ایسی چیز "مباح" کے زمرے میں آتی ہے یعنی Allowed "

مثال کے طور پر لاہور میں جہاں میرے نانا کا گھر ہے، اس سڑک پر ایک جامع مسجد ہے۔ مسجد کے صدر دروازے پر ایک بورڈ لگوا رکھا ہے جس پر اللہ، رسول، خلفائے راشدین کا نام ہے اور بیچ میں قرانی آیات ہیں۔ صدر دروازے کے بعد چھوٹا سا لان ہے اور پھر مسجد کی عمارت ہے، جسکی دیواروں پر قرانی آیات کندہ ہیں۔

اب چاہے یہ چیز رسول ص کے زمانے میں نہیں تھی کہ ایسے بورڈز بنائے جائیں یا مسجد کی دیواروں پر قرانی آیات کندہ کروائی جائیں، مگر چونکہ شریعت اس معاملے میں خاموش ہے کہ یہ عمل حرام ہے یا نہیں، تو ایسے تمام افعال خود بخود شریعت کے ہی دوسرے اصول کے مطابق "مباح" کے زمرے میں آ جاتے ہیں۔

قبروں پر قرانی آیات نصب کرنے کا بھی یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ شریعت کے اعتبار سے یہ چیز منع نہیں کی گئی اور بذاتِ خود مباح کے زمرے میں آتا ہے۔ چانچہ اگر اس چیز کو مطلقا حرام کہہ دیا جائے تو یہ چیز "خود ساختہ شریعت سازی" میں آ جائے گی کہ ہم نے اُس چیز کو کیسے حرام قرار دے دیا کہ جس کو اللہ نے ہمارے لیے حرام نہیں قرار دیا تھا۔

///////////////////

اب دوسرے مسئلے پر آتے ہیں اور وہ ہے "ادب" و "تعظیم" کا مسئلہ۔

1) پہلے ایک سائیڈ نوٹ یہ کہ (شریعت کے قوانین کے مطابق) بارش کا پانی پاک ہے اور وہ جس جس چیز کو لگے گا اُس کو پاک کرتا چلا جائے گا۔ چنانچہ برساتی نالے جو نالیوں کا پانی لے جاتے ہیں، وہ اسلامی شریعت کے مطابق پاک پانی ہی رہتا ہے۔ آپ کو یقینا علم ہو گا کہ تالاب یا کنویں کے پانی میں کئی حشرات الارض مرتے رہتے ہیں اور اسی میں بول و براز کرتے رہتے ہیں، مگر کنویں کا پانی پاک رہتا ہے کیونکہ جب پاک پانی کی مقدار بہت زیادہ ہو اور اس میں غلاظت کی مقدار کم ہو تو مجموعی طور پر ایسے پانی پر پاک پانی کا حکم ہے۔ اس مسئلے پر آپ فقہ کے کتابوں کا مزید مطالعہ کیجئیے کیونکہ وہاں آپ کو مکمل تفصیلات مل جائیں گی۔


2) اور جہاں تک قبرستان میں جانوروں کی بات ہے تو بذاتِ خود مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قبرستانوں میں جانوروں کا داخلہ ختم کریں کیونکہ یہ چیز خود قبر کے احترام کے خلاف ہے۔ مثلا قبر کا احترام یہ ہے کہ اس پر نہ بیٹھا جائے:

Book 004, Number 2121:

Abu Marthad al-Ghanawi reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Do not sit on the graves and do not pray facing towards them.​
چنانچہ رسول اللہ ص کا حکم ہے کہ قبروں پر نہ بیٹھا جائے، جبکہ جانور قبرستانوں میں عام قبروں کے اوپر چہل قدمی کر رہے ہوتے ہیں۔


///////////////////////

مجموعی طور پر (میری کم عقل سوجھ بوجھ کے مطابق) چونکہ مسلمان اپنے قبرستانوں کو جانوروں سے محفوظ نہیں رکھ پاتے ہیں، چنانچہ احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ قبروں کے کتبوں پر قرانی آیات نصب نہ کی جائیں۔

یا پھر اگر کی جائیں، تو کتبے کی اونچائی اتنی زیادہ رکھی جائے کہ جانور (جس میں صرف کتے ہی قابل ذکر ہیں) وہ ان قرانی آیات تک نہ پہنچ سکیں۔


(مجھے جامع مسجد کی صدر دروازے پر لگے بورڈ کا ذکر ایک دفعہ پھر کرنے دیں جہاں بے تحاشہ کبوتر بیٹھتے تھے بمع کچھ دیگر پرندوں کے اور "بٹھیں" کر کر کے انہوں نے اس قرانی آیات والے بورڈ کو غلاظت سے بھر رکھا ہوتا تھا۔ ویسے پاکستان بدل رہا ہے اور اس دفعہ مجھے وہاں صرف اکا دکا ہی کبوتر بیٹھے نظر آّئے)

تو مسئلہ واقعی یہ ہے کہ قرانی آیات کو بے ادبی سے کیسے بچایا جائے۔ نہ جانے پاکستان میں مجھے کتنے ہی بینرز (دکانوں کے سائن بورڈز)، پوسٹرز ہر ہر جگہ اللہ و رسول ص کے نام نظر آئے اور ان تمام جگہوں پر پرندوں کی پہنچ تھی۔
خانہ کعبہ کے دیوار پر قرانی آیات کا ایک منظر

kabadoor.gif

مہوش آپ مندرجہ ذیل لنک کا مطالعہ ضرور کرے آپ اور ہمارے لیے یہ بہت ضروری
جزاک اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والسلام
والصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ
وعلی آلک واصحاب یا حبیب اللہ
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=9869
 
قرآن کہتا ہے:
انک لا تسمع الموتٰی (النمل)
"بے شک تو مردوں کو سنانے والا نہیں"
۔

ترجمہ کنزالایمان تفسیر خزائن العرفان

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ
بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے(133) اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر (134)
133.
[FONT=Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma]دوں سے مراد یہاں کُفّار ہیں جن کے دل مُردہ ہیں چنانچہ اسی آیت میں ان کے مقابل اہلِ ایمان کا ذکر فرمایا ۔ '' اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا '' جو لوگ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہیں ان کا استدلال غلط ہے چونکہ یہاں مُردہ کُفّار کو فرمایا گیا اور ان سے بھی مطلقاً ہر کلام کے سننے کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ پند و موعِظت اور کلامِ ہدایت کے بسمعِ قبول سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافِر مُردہ دل ہیں کہ نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت کے معنی یہ بتانا کہ مردے نہیں سنتے بالکل غلط ہے صحیح احادیث سے مُردوں کا سُننا ثابت ہے ۔

134۔۔۔۔
[/FONT][FONT=Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma]معنٰی یہ ہیں کہ کُفّار غایت اعراض و روگردانی سے مُردے اور بہرے کے مثل ہو گئے ہیں کہ انہیں پکارنا اور حق کی دعوت دینا کسی طرح نافع نہیں ہوتا ۔[/FONT]
 
قرآن کہتا ہے:
و ما انت بمسمع من فی القبور (فاطر)
"اور تو انہیں نہیں سنا سکتا جو قبر میں ہیں"

ترجمہ کنزالایمان : تفسیر خزائن العرفان:

22.gif


[FONT=Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma]اور برابر نہیں زندے اور مردے (ف۶۰) بیشک اللّٰہ سناتا ہے جسے چاہے (ف۶۱) اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں (ف۶۲)

60.
[/FONT][FONT=Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma]یعنی مومنین اور کُفّار یا عُلَماء اور جُھّال ۔
61.
[/FONT][FONT=Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma]یعنی جس کی ہدایت منظور ہو اس کو توفیق عطا فرماتا ہے ۔
62.
[/FONT][FONT=Nafees Web Naskh,Urdu Naskh Asiatype,Arial,Tahoma]یعنی کُفّار کو ۔ اس آیت میں کُفّارکو مُردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اٹھا سکتے اور پند پذیر نہیں ہوتے ، بدانجام کُفّار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد کُفّار ہیں نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سنتا ہے جس پر راہ یابی کا نفع مرتب ہو ، رہا مُردوں کا سننا وہ احادیثِ کثیرہ سے ثابت ہے ۔ اس مسئلہ کا بیان بیسویں پارے کے دوسرے رکوع میں گزرا ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبارکۃ
والصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وعلی آلک واصحاب یا حبیب اللہ
[/FONT]
 

arshadmm

محفلین
تو ارشد برادر، آپ کی خواہش کے مطابق میں آپکے اس ڈورے میں الگ بحث شروع نہیں کرتی۔ اور اگر قسیم حیدر برادر مزید ان دو قرانی آیات کے متعلق جاننا چاہیں کہ مودودی صاحب نے انکے ظاہری معنی لے کر کتنی فاش غلطی کی ہے تو ہم یہ ڈسکشن نئے ڈورے میں کر سکتے ہیں۔

شکریہ۔۔۔ درست کہا آپ نے۔ موضوع کچھ اور تھا اور قسیم صاحب نے کچھ اور پوسٹ‌ کر دیا۔ سچ پوچھئے تو میں ان بحثوں‌ سے دور بھاگتا ہوں ۔ پتہ نہیں کیوں ایک گروہ یا ایک فرد ایک چیز کو پکڑ لیتا ہے اور پھر دوسروں‌ پر اسے ٹھونسنا چاہتا ہے۔ بھئی خوشبو کو قید نہیں کیا جا سکتا انسانی فطرت میں ہے اچھی چیز کو پسند کرنا چاہنا اور اس کی طرف لپکنا۔ سو آپ کو جو چیز اچھی لگتی ہے اس پر جمے رہیں اتنا کہ آپ کے کردار سے آپ کے اٹھنے بیھٹنے سے آپ کے معاملات سے وہ چیز ظاہر ہو جو کہ آپ ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ بہرحال دھاگہ تو الجھ گیا اب دیکھئے کون سلجھاتا ہے۔
 
ایک ہندو کی فریاد -- مسلم قوم کے نام

ایک ہی پربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں
ایک ہی دربار پہ سر آپ بھی دھرتے نہیں

اہنی سجدہ گاہ دیوی کا اگر استھان ہے
آپ کے سجدوں کا مرکز بھی تو قبرستان ہے
جس طرح ہم ہیں بجاتے مندروں‌میں‌گھنٹیاں
آپ کو دیکھا بجاتے تربتوں پر تالیاں

ہم بھجن کرتے ہیں گا کر دیوتا کی خوبیاں
آپ بھی قبروں پہ گاتے جھوم کر قوالیاں

بت کی پوجا ہم کریں‌ہم کو ملے نار سقر
آپ پوجیں قبر کو کیونکر ملے جنت میں گھر؟

شرکیہ اعمال کرکے گر غیر مسلم ہم ہوئے
پھر یہی اعمال کرکے کیسے مسلم تم رہے؟


پچھلی بار یہ نظم کچھ احباب و ا صحاب کو سخت ناپسند آئی تھی۔ تو میں نے ہٹا لی تھی۔ اب پھر وہی موضوع دیکھا تو دوبارہ حاضر ہے۔ اگر اس میں کچھ غلط ہو تو ضرور ہٹادوں‌گا۔

جناب کو یہ نظم جگہ جگہ پیش کرنے کا جو شوق چرایا ہے اس کا کچھ جواب دینا چاہوں گا ۔ اور یہ بھی کہوں گا کہ یہ نظم کسی ہندو نے نہیں لکھی بلکہ الحمدللہ ایک مسلمان نے لکھی ہے ۔ اور اس کا نام ہے فیصل عظیم ۔

کچھ خدا کو ماننے والے کہیں خود کو ہنود
اور یہ فاتحہ خوانی کو کہیں کہ ہیں سجود

وائے کم بختی کہ خود کو آپ نے مشرک کہا
اور یہ مانا کہ دیوی کو بھی سجدہ ریز ہیں۔۔؟

عام مسلم قوم پر جو آپ کا الزام ہے
کچھ کہ نا ہنجار ہیں پھر قوم کیوں بدنام ہے

سجدہ ریزی ۔ بس خدا کو آپ جانا کیجئے
اور "عقیدت" کو "عبادت" بس بتانا کیجئے

آپ کی اس نظم میں جتنے بھی سرخ افعال ہیں
الزام ہیں بہتان ہیں اس قوم پر بہتان ہیں

آپ کا کہنا کہ قبروں کی ہوئی پوجا یہاں
کس عقیدے میں ہے قبروں کی عبادت کیجئے

جس قوالی پر ہے تم کو اعتراض شور و غل
اس کی گر شرطیں پڑھو تو بات کرنا چھوڑ دو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نظم میں کچھ باتیں ایسی تھیں جنہیں نفرتیں بڑھانے والی تصور کیا جا سکتا تھا لہذا میں نے انہیں حذف کر دیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

قسیم حیدر

محفلین
[نوٹ: ذیل کا پیغام صرف قسیم صاحب کے لیے ہے اور اس سے اگلے پیغام میں میں عام قارئین کو یہ مسئلہ صاف اور آسان لفظوں میں بیان کروں گی کہ کیوں قسیم برادر نے یہاں یہ "دو آیات" پیش کی ہیں اور کیوں اس پر "باطنی معنوں" کے حوالے سے اعتراض فرما ہیں۔]

قسیم برادر،

کاش کہ آپ نے ان دو قرانی آیات کا معنی سمجنے کے لیے انیسویں صدی کے مولانا مودودی اور محمد بن عبد الوہاب صاحب کے علاوہ پچھلی تمام صدیوں کے "قدیم علماء" کے موقف کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہوتی تو آپ اس انتہا پر نہ پہنچتے۔

ضروری نہیں کہ اس انیسویں صدی کے علماء کی جدت پسند تفاسیر ہی ٹھیک ہوں اور انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ انیسویں صدی کے یہ مفسرین اگر قدیم علماء سے اختلاف کر رہے ہیں تو یہ ٹھیک ہی ہوں۔

////////////////////

میں نے اس سے قبل علماء کو "مولانا" کہنے پر ایک ڈورا شروع کیا تھا اور دلائل دیے تھے کہ اس معاملے میں قدیم علماء کا موقف کیوں اس کے حق میں ہے کہ علماء کو "مولانا" کہا جا سکتا ہے۔ یہ ڈورا بہت دیر تک بحث کے لیے کھلا رہا مگر آپ حضرات کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ناظمین نے اس ڈورے کو مقفل کر دیا۔ چونکہ میں ناظمین کے اختیارات کو کبھی چیلنج نہیں کرتی اس لیے میں آپ کو اس کی وجوہات کے متعلق نہیں بتا سکتی۔

لیکن پھر آپ نے ان دو آیات کے حوالے سے "ظاہری معنی اور باطنی معنوں" کے اعتراض کا رخ ہماری طرف کر دیا ہے۔

کاش کہ واقعی آپ لوگ اس ظاہر پرستی کی بیماری سے نکل کر باطنی اور روحانی معنی سمجھ سکتے
اور کاش کہ مودودی صاحب اور محمد بن عبد الوہاب صاحب ان دو آیات کے باطنی اور روحانی معنی سامنے رکھتے ہوئے تفسیر کرتے۔

کاش کہ یہ ظاہر پرستی کی یہ بیماری دور ہو جاتی تو شاید مسلمانوں کے دو گروہ، جو ایک دوسرے پر فتوے بازی کر رہے ہیں وہ ایک دوسرے کے نظریات کو سمجھ پاتے اور اتحاد بین المسلمین پیدا ہوتا۔ ۔۔۔۔ کاش۔

////////////////////

قسیم صاحب،

میں بذاتِ خود مودودی صاحب کے قلم کی پرستار ہوں اور آنکھوں کی بیماری ہونے سے قبل میں نے ان کی ہر وہ کتاب پڑھی جس تک میری رسائی ہو پائی۔

مگر کیا میں "بند آنکھوں" کے ساتھ مودودی صاحب کی ہر بات کو قبول کرتی جاؤں؟ میرا خیال تو یہ ہے کہ مودودی صاحب خود اس بات کی ہمت افزائی کر رہے ہیں کہ انکی تقلید نہیں ہے بلکہ صرف انکے پیش کردہ دلائل کو حجت بنایا جا سکتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ جب دلائل کی ہی بات ہے تو ہم "قدیم علماء" کے دلائل کو بغیر پڑھے و جانچے رد کر دیں؟

خیر مودودی صاحب (اور انکے پالیسی سے متفق لوگ) بذاتِ خود (عموما) بہت کھلی نظر کے مالک ہوتے ہیں اور اختلافات کو برداشت کر سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب یہی چیزیں کچھ "انتہا پسند" لوگوں کے ہاتھ لگتی ہیں تو وہ اسی بنیاد پر فتوے بازی شروع کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر "مولانا" کہنے پر مودودی صاحب نے تو صرف اپنی رائے پیش کی، مگر بہت سے انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہتھیار آ گیا اور انہوں نے باقاعدہ طور پر شرک کے فتوے لگا دیے۔


تو آئیے اب اللہ کے نام سے شروع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیوں لازمی ہے کہ ان آیات کو باطنی معنوں میں سمجھا جائے اور مودودی صاحب اور محمد بن عبد الوہاب صاحب اور انکے پیروکار اپنی ظاہر پرستی کی بیماری کی وجہ سے کسقدر بڑی غلطی کر گئے ہیں۔

اللھم صلی علی محمد و آل محمد۔


محترمہ بہن۔
بہت شکریہ۔ میری رائے ہے کہ اس بحث کو دوسرے دھاگے میں لے چلتے ہیں۔ آپ ان آیات کے بارے میں اپنا موقف صراحت کے ساتھ بیان کر دیجیے۔ ظاہری اور باطنی معانی پر بھی روشنی ڈالیے گا کہ یہ کیا چیز ہے۔ مجھے امید ہے آپ اس موضوع پر لکھتے وقت اجمال سے کام نہیں لیں گی (ویسے یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں)۔
اس موضوع پر دھاگہ یہاں کھول دیا گیا ہے۔
میری حاضری بے قاعدہ رہے گی، اس کے لیے معذرت۔
 
قبروں پر قرآنی آیات کیوں کندہ کروائی جاتی ہیں؟

ان گناہ گار آنکھوں نے ایک سے زائد بار کتے کو ایسی قبروں کی لوح پر پیشاب کرتے دیکھا ہے جن پر مقدس آیات کندہ تھیں۔ اور اپنے ہاتھ سے پتھر مار کر ایسے جانوروں کو بھگایا بھی ہے۔ قبرستان ایک غلیظ جگہ ہے، ایسی مردہ بدنی غلاظت کے پاس سے یا درمیان سے گذرنے پر کچھ لوگ احٹیاطاَ اور کچھ لوگ عقیدۃَ نہانے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ پھر ایسی غلیظ جگہ پر آیات قرانی کندہ کروانا کیونکر فائدہ مند ہوسکتا ہے؟

عبادت و تلاوت زندہ لوگوں پر فرض‌ہے۔ بندہ وفات پا گیا تو اس کے اعمال کا حساب تو اب یوم آخرت پر ہی ہوگا۔ تو جو مر گیا اس کے کام کی یہ آیات نہیں۔ اور زندہ لوگ ان آیات کو پڑھنے قبرستان جاتے نہیں۔ صرف وہ لوگ جو قبروں‌کی پرستش مختلف بہانوں سے کرتےہیں ان قبور پر آیات قرانی کندہ کرنے کے طرفدار ہیں۔ اگر ایک شخص بد کردار تھا یا کافر تھا تو ان آیات سے وہ مسلمان تو ہونے سے رہا؟‌ اور اگر خوش کردار تھا اور مومن تھا تو اس کے اعمال کا حساب آخرت میں ہی ممکن ہے۔ نہ ہی ان آیات کا ثواب اس کو پہنچ سکتا ہے۔ کہ حساب و کتاب تو انسان کی زندگی کے اعمال کا ہوگا یا کہ مردہ آدمی کے سرہانے یا قبر پر ان آیات کا؟ اگر اعمال کے حساب میں ان آیات کے استعمال میں تبدیلی آسکتی ہے تو تمام بدکردار و بے ایمان لوگوں کو نہ زندگی میں فکر کی ضرورت نہ بعد الموت۔ بس چند آیات قرانی کندہ کروالیں اور تمام گناہ صاف۔

یہ واضح ہے کہ مقصد ان آیات کو کندہ کروانے کا صرف قبر پرستی ہے، تاکہ موقع بموقع ان قبروں کی پرستش جاری رہے۔ میرے اندازے کے مطابق ہم میں سے کوئی بھی قبروں کی پرستش کا یا آیات قرانی کی بے حرمتی کا طرفدار نہیں۔ ہم کو سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے بے معنی معمولات کی مناسب مخالفت کرنی چاہئیے جو کہ غلط العام ہونے کی وجہ سے "مناسب و مباح" ہونے کا درجہ پا چکے ہیں۔

معلومات عامہ:

قبر و آیات:
1۔ نبی کریم کے دائیں اور بائیں کون سے اصحاب کرام مدفون ہیں؟
2۔ نبی کریم کے قبر پر قرآن کی کونسی آیات کندہ ہیں؟
3۔ نبی کریم کے روضہ مبارک کی باہر کی جالی پر کونسی آیات کندہ ہیں؟

شریعت:
1۔ کیا شریعت گذشتہ حکومتوں یا مختلف طبقہ فکر کے علماء کے مجوزہ آئین و قانون کا نام ہے جو ان گذشتہ حکومتوں نے اپنی ضرورتوں‌ کے لئے، اپنے طور پر (قران و سنت ) کی روشنی میں‌ بنائے تھے؟
2۔ کیا گذشتہ حکومتوں کے آئین و قوانین ، ‌ ہماری قومی قانون ساز اسمبلیوں منظور کئے بٍغیر ، آج بھی جاری و ساری اور قابل قبول ہونے ضروری ہیں؟ یا صرف وہی قوانین یعنی شریعت قابل قبول ہے جس کو موجودہ منتخب نمائندوں نے منظور کیا ہو؟

والسلام
 

شمشاد

لائبریرین
فاروق بھائی یہ آپ نے کیسے لکھ دیا :

۔۔۔۔۔ قبرستان ایک غلیظ جگہ ہے، ایسی مردہ بدنی غلاظت کے ۔۔۔

جبکہ قبرستان جانا ضروری قرار دیا گیا ہے تا کہ عبرت حاصل ہو۔
 
شمشاد بھائی، درست فرمایا کہ قبرستان مقام عبرت ہے، اور وہاں جانا درست قرار دیا گیا ہے۔ لیکن قبرستان کی مٹی کی کمپوزیشن پر غور فرمائیے۔
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ‎‪‭‬‮‫‏
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبارکۃ!
والصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ
وعلٰی آلک و اصحاب یا حبیب اللہ

ذرا نیچے دی گئ تصویر میں "گناہگار کی بخشش ہوگئی" پڑھیے
41.gif
(فیضان سنت باب "بسم اللہ کی فضیلت")

جب ہم قبرستان پر جاتے ہے تو اس وقت خود بخود دل نرم پڑ جاتا ہے ۔۔ مؤمن کا دل پگھل جاتا ہے۔۔۔۔ تو جس شخص نے " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" سنی اور اس کا دل زندہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ تو سوچیے اس وقت (یعنی جب ہم قبرستان میں موجود ہوتے ہے اور ہمارا دل بلکہ نرم ہو چکا ہوتاہے ) جب یہ آیات پڑھے گے جوکہ مختلف قبروں پر بمع ترجمہ درج ہوتی ہے تو ہمارے دلوں کا کیا حال ہوگا۔۔۔
ہم اپنے چاہنےوالے کی قبر پر کھڑے ہے اور رو رہے ہے کہ ہمیں بھی یہاں آنا ہے اپنے گناہوں کےساتھ اور کیس قریبی قبر پر یہ کندہ ہے کہ "ہر شے کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے" تو سوچے کی کیا کفیت ہوگئ ۔۔۔

اور مندرجہ ذیل واقعہ (بسم اللہ کی برک ) پڑھنے کے بعد تو آپ سب الحمد اللہ عزوجل شک و شبہات سے نکل آئے گے۔(انشاء اللہ عزوجل)
52.gif


واللہ تعالٰی علم و رسول عزوجل و صلی اللہ علیک وسلم
واسلام
 

arshadmm

محفلین
قبرستان میں غلاظت چلی جاتی ہے یا بعض جگہوں پہ لوگوں‌ نے قبروں کے پاس یا ان کے اوپر تک کوڑے کے ڈھیر بے شک بنائے ہوئے ہیں مگر اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قبرستان غلیظ جگہ ہے۔ قبرستان تو جائے عبرت ہے۔ اور وہاں جانا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ زندگی کا انجام کیا ہے۔

یہ واقعات جو آپ نے لکھے ہیں زندوں کے ہیں اور ان سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ ان لوگوں نے بسم اللہ کی تعظیم کی اور اس کا فائدہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہونا بھی چاہئے مگر جو بندہ بسم اللہ اور قرآنی آیات قبروں پر لکھواتا ہے اور پھر انکی بے حرمتی ہوتی ہے تو اس کا حشر کیا ہوگا‌؟؟؟؟ دیکھیں‌ مردہ تو ان کی تعظیم اور دل میں مٹھاس پیدا کرنے سے معذور ہے تو پھر اس کو فائدہ بھی نہیں ہو سکتا۔ فائدہ تو تبھی ہو سکتا ہے کہ ان آیات کی تکریم کی جائے اور ان پر عمل کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کتنی شقی القلبی ہے کہ ایک پاک کلام کو ایسی بے ادبی سے ڈال دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔

مجھے افسوس ہے کہ عویص صاحب نے جو کچھ بھی لکھا بجائے خود اس سے کہ وہ قرآن و حدیث کے حوالے کے بغیر ہے۔ سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں‌ ہوا کہ قبروں پہ اس وجہ سے قرآنی آیات لکھوانی چاہیں۔ جہاں تک بات ہے قرآنی آیات تلاوت کرنے کی تو ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اس کو اتنا قرآن تو زبانی یاد ہو جس سے وہ نماز پڑھ سکے۔ اور بسم اللہ تو ماشاء اللہ اتنی کثرت سے ہر وقت پڑھی جاتی ہے کہ اس کی یاد دھانی اس طرح سے کرانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اور اہم بات یہ کہ گھروں‌ میں‌ تو قرآن کو اونچی جگہ پر غلاف میں‌ لپیٹ کر رکھا جاتا ہے۔ تو قبروں پر اس طرح سے کیوں‌ لکھا جاتا ہے؟ اور اگر بخشش اس طرح‌ سے ہونے لگے تو پھر تصور آخرت کیا ہوا ؟ ٹھیک ہے ایک بندہ ساری زندگی اپنی مرضی سے جئے اور مرنے کے بعد اس کے لواحقین اس کی قبر کو قرآنی آیات سے لپیٹ دیں تو کیا وہ بخشا جائے گا۔ ویسے تو اللہ رحیم و کریم ہیں وہ جسے چاہے بخشیں اور جسے چاہے نہ بخشیں اور چاہے کسی بہانے سے بخشیں اور چاہے ایسے ہی بخش دیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
میرا خیال ہے کہ موجودہ بحث کو ادھر ہی روک کر اس بات پر غور کریں کہ قرآن کو پڑھ کر اور اونچی جگہ پر ادب سے اور محبت سے لیپٹ‌کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس پر عمل نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ شاید ہمارا وقت کسی زیادہ مثبت طرف خرچ ہو
 

arshadmm

محفلین
میرا خیال ہے کہ موجودہ بحث کو ادھر ہی روک کر اس بات پر غور کریں کہ قرآن کو پڑھ کر اور اونچی جگہ پر ادب سے اور محبت سے لیپٹ‌کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس پر عمل نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ شاید ہمارا وقت کسی زیادہ مثبت طرف خرچ ہو

دیکھیں جی جو دھاگہ جس مقصد کیلئے کھولا گیا ہے اس میں اسی کے متعلق بات ہو تو ٹھیک ہے ورنہ یہ آداب کی خلاف ورزی ہو گی۔ آپ جو کہہ رہے ہیں اس کیلئے الگ سے دھاگہ کھولا جا سکتا ہے۔ اور ویسے بھی کسی نہ کسی حوالے سے وہ بات بھی ساتھ ساتھ چل ہی رہی ہے۔
 
لیکن کسی جگہ قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت شدہ بھی تونہیں نا کہ قبروں پر قرآنی آیات کندہ نا کروائی جائے۔۔۔۔ لیکن یہ بات بھی حدیثوں سے ثابت ہےکہ بارش اور سبز رنگ (یعنی ہری بھری کسی درخت کی ٹہنی وغیرہ ) مردوں کو تازگی بخشتی ہے ۔۔۔۔۔ تو بارش اور درخت کی سبز ٹہنی کی یہ فضیلت ہےتو قرآنی آیات کی کتنی ہوگئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واللہ تعالٰی علم و رسول عزوجل وصلی اللہ علیک وسلم
واسلام

 
میرا خیال ہے کہ موجودہ بحث کو ادھر ہی روک کر اس بات پر غور کریں کہ قرآن کو پڑھ کر اور اونچی جگہ پر ادب سے اور محبت سے لیپٹ‌کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس پر عمل نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ شاید ہمارا وقت کسی زیادہ مثبت طرف خرچ ہو
پھر تو اس تھریڈ کا مقصد ہے فوت ہوجائے گا۔
 

arshadmm

محفلین
عویص بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر بے ادبی کتنی ہے ۔ آپ نے بشیر حافی رحمتہ اللہ علیہ کا واقعہ تو سنا ہی ہو گا۔ کہ ایک دفعہ شراب کے نشے میں‌ دھت جا رہے تھے ۔ راستے میں ایک کاغذ کا ٹکڑا کہ جس پر بسم اللہ لکھی ہوئی تھی نظر آیا۔ دل میں اللہ کی عظمت اور اس کے کلام کی عظمت کا خیال جاگا اس ٹکڑے کو اٹھایا چوما اور نہایت ادب سے کہیں رکھ دیا۔ اور پھر نتیجتآ اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دی اور یہ مقام دیا کہ جس راستے سے گذرتے تھے وہاں جانور بول و براز تک نہیں کرتے تھے۔ کیا وجہ تھی۔ میرا کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ فائدہ اللہ تعالٰی کے کلام کا ادب کرنے میں اور اسے سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے میں‌ ہے۔
 
Top