فراق فِراق گورکھپُوری :::::حجابوں میں بھی تُو، نمایاں نمایاں ::::: Firaq Gorakhpuri

طارق شاہ

محفلین


غزلِ

فِراق گورکھپُوری


حجابوں میں بھی تُو، نمایاں نمایاں
فروزاں فروزاں درخشاں درخشاں

ترے زُلف و رُخ کا بدل ڈُھونڈھتا ہُوں
شبستاں شبستاں، چراغاں چراغاں

خط و خال کی تیرے پرچھا ئیا ں ہیں
خیاباں خیاباں، گلستان گلستان

جنوُنِ محبّت اُن آنکھوں کی وحشت
بیاباں بیاباں ، غزالاں غزالاں

لپٹ مشکِ گیسو ، تا تار، تا تار
دمک لال لب کی ، بدخشاں بدخشاں

وہی اِک تبسّم چمن در چمن ہے
وہی پنکھڑی ہے، گُلِستان گُلِستان

سراسر ہے تصویر جمعیّتوں کی
محبّت کی دُنیا ہراساں ہراساں

یہی جذبِ پنہاں کی ہے داد کافی
چلے آؤ مجھ تک گریزاں گریزاں

فراقِ حزیں سے تو واقف تھے تم بھی
وہ کچھ کھویا کھویا ، پریشاں پریشاں

فراؔق گورکھپوری
(رگھو پتی سہائے)
 
بہت خوب انتخاب ہے !! اس خوبصورت غزل میں شریک کرنے کا بہت بہت شکریہ قبلہ طارق شاہ صاحب !

لپٹ مشکِ گیسو ، تا تار، تا تار
دمک لال لب کی ، بدخشاں بدخشاں

اس کے پہلے مصرع میں ایک لفظ ٹائپ ہونے سے رہ گیا ہے ۔ میں نے یہ غزل پہلے کہیں نہیں دیکھی لیکن قیاس کہتا ہے کہ پہلا مصرع شاید یوں ہو:
لپٹ مشکِ گیسو کی تا تار، تا تار
 

طارق شاہ

محفلین
جناب من !
اغلاط درست کرنے کا کوئی طریقہ اِس بزمِ شعر و سخن میں وضع نہیں ، کہ فوقیت و ترجیح نہیں۔
انڈیا پاکستان کی کورٹ کچہری والا حساب ہے ، ایف آئی آر کٹوانا ، رپورٹ درج کروانا ، پھر دلائل و مقدمہ بازی
جیسا اور جہاں ہے کی بنیاد پر قبول ہو، یا کر لیجیئے ، کہ یہی وطیرہ ہے :-(
اپنی ، بلکہ سب کی معذوری یا کوتاہ دستی پر شرمندہ اور معذرت خواں ہوں:-(
اگر دسترس میں ہوتا تو ضرور دیکھتا :)
 
Top