فضا میں وحشت سنگ و سناں کے ہوتے ہوئے

ابوشامل

محفلین
فضا میں وحشت سنگ و سناں کے ہوتے ہوئے
قلم ہے رقص میں آشوبِ جاں کے ہوتے ہوئے

ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

بضد ہے دل کہ نئے راستے نکالے جائیں
نشانِ رہگذرِ رفتگاں کے ہوتے ہوئے

میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی
ہزار شیوۂ حسنِ بیاں کے ہوتے ہوئے

دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے​
(افتخار عارف)
 

فرحت کیانی

لائبریرین
یں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے


واہ۔ زبردست :)
بہت شکریہ فہد!
 
Top