فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لیے

سلام کے بعد عرض ہے کہ پشاور میں کوئی ادبی رسالہ نہ ملنے کے بعد یہ محفل ایک متبادل نظر آئی سو حاضر ہوگیاہوں۔چنداشعاراصلاح کےلیےپیش کرناچاہتاہوں
جمیل مثمن سالم
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے
مبالغہ تھا جو پہلے لَّکھا، جو اب لکھوں گا تمام سچ ہے
گزر ہمارا محال ہے اب تمہارے خوابوں کی انجمن سے
تمہارا عنواں ہے خود فریبی، ہماری مشکل کا نام سچ ہے
ازل سے خوابوں میں رہنے والے، حقیقتوں سے سہم گئے ہیں
حلال ہیں جھوٹ مصلحت کے، یہاں پہ لکھنا حرام 'سچ' ہے
فلک پہ بادل کو بے یقینی سے تک رہی ہے یہ خشک مٹی
جو آسماں سے ٹپک رہا ہے وہ قَطرہ قطرہ پیام سچ ہے
 

اکمل زیدی

محفلین
بہت اچھی لکھی آپ نے ...نوک پلک ...اور درستگی ...اساتذہ کرینگے....یقینن آپ یہاں ایک اچھا اضافہ ...ثابت ہونگے...تعارف سیکشن میں باقاعدہ تعارف کروایے...آپ کے بارے میں ...احباب جاننا چاہیںگے
 

شکیب

محفلین
سلام کے بعد عرض ہے کہ پشاور میں کوئی ادبی رسالہ نہ ملنے کے بعد یہ محفل ایک متبادل نظر آئی سو حاضر ہوگیاہوں۔چنداشعاراصلاح کےلیےپیش کرناچاہتاہوں
جمیل مثمن سالم
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
فریب ٹوٹا، کھلی حقیقت، سو اب سے میرا کلام سچ ہے
مبالغہ تھا جو پہلے لَّکھا، جو اب لکھوں گا تمام سچ ہے
گزر ہمارا محال ہے اب تمہارے خوابوں کی انجمن سے
تمہارا عنواں ہے خود فریبی، ہماری مشکل کا نام سچ ہے
ازل سے خوابوں میں رہنے والے، حقیقتوں سے سہم گئے ہیں
حلال ہیں جھوٹ مصلحت کے، یہاں پہ لکھنا حرام 'سچ' ہے
فلک پہ بادل کو بے یقینی سے تک رہی ہے یہ خشک مٹی
جو آسماں سے ٹپک رہا ہے وہ قَطرہ قطرہ پیام سچ ہے
بہت اچھا سلیس اور سلجھا ہوا کلام ہے ۔ واہ۔۔۔ بہت پسند آیا ۔
اصلاح سخن کی مناسبت سے البتہ ایک رائے ہے کہ مطلع کے اگر دوسرے مصرع میں بیان واسلوب کے لحاظ سے ماضی اور حال کو ایک دم برتنا ذرا نا ہموار محسوس ہوا اسے (میرے خیال میں) کچھ بہتر کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً
رواں بیانیے کے اعتبار سے کچھ یوں ہوتا۔۔۔جو اب لکھوں گا تمام سچ ہوگا۔ لیکن دریف کی قید کی وجہ سے ہو نہیں سکتا ۔
جو اب لکھوں گا کی جگہ "جو آج لکھا تمام سچ ہے" کی طرح اسلوب کو قدرے موافق کیا جاسکتاہے۔۔۔
 

ابن رضا

لائبریرین
محفل میں خوش آمدید۔ بہت عمدہ شستہ سلیس لہجہ۔ خوب غزل کے لیے بہت سی داد۔ سلامت رہیے۔
 
بہت اچھے اشعار ہیں جناب واہ واہ
داد قبول کیجئے

ان دونوں مصرعوں میں ربط سمجھنے سے قاصر رہا. یا یوں سمجھ لیں کہ جو ربط مجھے محسوس ہوا وہ میں سمجھنا نہیں چاہتا کیونکہ باقی اشعار بہت مثبت فکر کے آئینہ دار معلوم ہوتے ہیں۔
وہ مصرعے یہ ہیں۔

ازل سے خوابوں میں رہنے والے، حقیقتوں سے سہم گئے ہیں
حلال ہیں جھوٹ مصلحت کے، یہاں پہ لکھنا حرام 'سچ' ہے


اس سے ہٹ کر، بہت اچھے اشعار ہیں ایک مرتبہ پھر داد قبول کیجئے
 
اس پذیرائی کے لیے آپ سب احباب کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ آپ سب کی اتنی حوصلہ افزائی کے بعد کوشش ہو گی کہ مزید اشعار بھی اصلاح کے لیے پیش کروں اور تعارف بھی۔۔۔۔۔ بس ذرا ٹائپنگ کو ٹھیک طرح سمجھنے کی دیر ہے!!!
 
بہت اچھا سلیس اور سلجھا ہوا کلام ہے ۔ واہ۔۔۔ بہت پسند آیا ۔
اصلاح سخن کی مناسبت سے البتہ ایک رائے ہے کہ مطلع کے اگر دوسرے مصرع میں بیان واسلوب کے لحاظ سے ماضی اور حال کو ایک دم برتنا ذرا نا ہموار محسوس ہوا اسے (میرے خیال میں) کچھ بہتر کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً
رواں بیانیے کے اعتبار سے کچھ یوں ہوتا۔۔۔جو اب لکھوں گا تمام سچ ہوگا۔ لیکن دریف کی قید کی وجہ سے ہو نہیں سکتا ۔
جو اب لکھوں گا کی جگہ "جو آج لکھا تمام سچ ہے" کی طرح اسلوب کو قدرے موافق کیا جاسکتاہے۔۔۔
عاطف بھائی ، یوں کیسا رہے گا "جو لکھ رہا ہوں، تمام سچ ہے"
 
عاطف بھائی ، یوں کیسا رہے گا "جو لکھ رہا ہوں، تمام سچ ہے"
سید اسد معروف صاحب ۔ یہ بھی اچھا ہے لیکن آپ کیوں کہ "پہلے" کا ذکر لائے ہیں اس لحاظ سے مجھے ۔اب ۔یا ۔آج ۔زیادہ موافق لگ رہا ہے اور اسلوب کو مستحکم کر تاہوا لگتا ہے۔ ۔باقی جو آپ مناسب سمجھیں ۔
 
Top