قیصرانی

لائبریرین
دراصل لکھتے وقت اس جانب دھیان نہیں گیا کیونکہ فارسی میں تذکیر و تانیث موجود نہیں لہٰذا ترجمہ کرتے وقت تذکیر ہی کا خیال غالب رہا۔اس پر معذرت خواہ ہوں۔



اصل میں برادرم عارضی نے شروع میں درخواست کی تھی کہ جملہ رواں نہ ہو تاکہ جملے کی ساخت کو سمجھا جاسکے، لہٰذا جہاں فارسی کے ایسے جملوں کا ترجمہ کیا جدھر وہ محاورے اردو میں ہوبَہُو استعمال نہیں ہوتے، وہاں میں نے ان کا لفظی ترجمہ لکھ دیا تاکہ انہیں ان فارسی الفاظ کا اپنا معنی معلوم ہوسکے
معلوماتی، شکریہ
 

عارضی کے

محفلین
ایک بہت ہی مختصر اور سادہ کہانی کا ترجمہ مکمل طور پر ازخود کررہا ہوں۔ بجز”بال گشود “ کے۔دیکھیے کیسا رہا میرا ترجمہ:

کبوترها آزاد و شاد در آسمان پرواز می کردند و از آزادی و بازی در آسمان نیلگون ( آبی ) لذت می بردند۔
بہت سے کبوتر آزاد اور خوش، آسمان میں پرواز کررہے تھے اور آزادی و سرخوشی سے نیلگوں (نیلے) آسمان میں لطف اندوز ہورہے تھے۔

پس از مدتی – برای رفع خستگی روی درختی نشستند
کچھ مدت کے بعد - نقاہت دور کرنے کی خاطر درخت پر بیٹھ گیے۔

پایین درخت – دانه فراوان بود
درخت کے نیچے - بہت سے دانے (موجود) تھے۔

یکی از کبوتران دانه ها را دید
کبوتروں میں سے ایک نے (وہ) دانے دیکھ لیے۔

آرام بال گشود و با یک چرخش خود را به پایین درخت رساند
آرام سے پر کھولے اور ایک ہی ”چکر“ میں درخت کے نیچے پہنچ گیے۔

چند تا از دانه ها را خورد
کچھ دانے (اُن میں سے) کھائے۔

دانه ها تازه و خوشمزه بودند
دانے تازہ اور خوش ذائقہ تھے۔

دوستان خود را هم صدا کرد تا از این دانه های خوشمزه بخورند
اپنے دوستوں کو بھی بلایا کہ وہ ان مزیدار دانوں کو کھائے۔ (یہاں کرد کیوں استعمال ہوا ہے؟ حالاں کہ بہت سےکبوتر ہیں)

کبوترها پایین آمدند – کنار دانه ها نشستند و مشغول برچیدن دانه شدند
تمام کبوتر نیچے آگئے - دانوں کے ساتھ بیٹھ گئے اور دانہ چگنے میں مصروف ہوگئے۔

وقتی که خوب سیر شدند یکی از کبوتران آماده پرواز شد
اس وقت جب خوب سیر ہوگئے تو ان میں سے ایک کبوتر اُڑنے لگا۔

بال گشود تا پرواز کند
پرکھولے تاکہ پرواز کرے۔

ولی نتوانست
لیکن نہ کرسکا۔

احساس کرد که بندی به پایش گره خورده است
اسے احساس ہوا کہ اس کا پاؤں (دام کے) تار میں بندھا ہوا ہے۔

کبوتران دیگر نیز بال گشودند تا پرواز کنند ولی نخ های دام پای آنها را هم گرفته بود
دیگر کبوتروں نے بھی اُڑنے کی خاطر پر کھولے لیکن ان کے پاؤں بھی دام کے تار میں پھنس گئے تھے۔

صیاد که در کمین نشسته بود صدای بال کبوتران را شنید و خوشحال به سوی آنان شتافت
شکاری جو کمین میں بیٹھا ہوا تھا کبوتروں کے پروں کی آواز سنی اور خوشی خوشی ان کے جانب چل پڑا۔

اریب آغا
اکمل زیدی
حسان خان
محمد وارث
 

سید عاطف علی

لائبریرین
(یہاں کرد کیوں استعمال ہوا ہے؟ حالاں کہ بہت سےکبوتر ہیں)
یہاں اس کبوتر کے لیے کرد استعمال ہوا ہے جوپہلے نیچے اترا تھا۔اس کبوتر نے دیگر کبوتروں کو صدائے دعوت دی۔

جیسا کہ آپ نے بیان کیا کہ
"
یکی از کبوتران دانه ها را دید
کبوتروں میں سے ایک نے (وہ) دانے دیکھ لیے۔"​
اور​
اپنے دوستوں کو بھی بلایا کہ وہ ان مزیدار دانوں کو کھائے
یہاں "کھائیں" کا محل ہے۔کہ باقی دوست بھی کھائیں۔
 

عارضی کے

محفلین
یہاں اس کبوتر کے لیے کرد استعمال ہوا ہے جوپہلے نیچے اترا تھا۔اس کبوتر نے دیگر کبوتروں کو صدائے دعوت دی۔

جیسا کہ آپ نے بیان کیا کہ
"
یکی از کبوتران دانه ها را دید
کبوتروں میں سے ایک نے (وہ) دانے دیکھ لیے۔"

اور

یہاں "کھائیں" کا محل ہے۔کہ باقی دوست بھی کھائیں۔
بہت شکریہ۔ دراصل ”رساند“ کے ”ند“ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ مجھے جمع کا صیغہ لگا۔ غالبا یہ ”رسا“ کے ساتھ ہے۔ (مصدر: رسیدن؟)
اور کھائیں کی جگہ کھائے لکھنا قواعدِ انشا کےواقعی خلاف ہے۔
بہت شکریہ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
کبوتران دیگر نیز بال گشودند تا پرواز کنند ولی نخ های دام پای آنها را هم گرفته بود
دیگر کبوتروں نے بھی اُڑنے کی خاطر پر کھولے لیکن ان کے پاؤں بھی دام کے تار میں پھنس گئے تھے۔
مجھے آپ کا ترجمہ صحیح محسوس ہوا ہے۔ سرخ کردہ جملے کا ترجمہ گو مفہوم بیان کرتا ہے لیکن اس کا صحیح ترجمہ کچھ یوں ہونا چاہیے
لیکن جال کے دھاگوں نے اُن سب کے پاوں بھی جکڑ رکھے تھے۔
 
دراصل ”رساند“ کے ”ند“ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ مجھے جمع کا صیغہ لگا۔ غالبا یہ ”رسا“ کے ساتھ ہے۔ (مصدر: رسیدن؟)
رساند کا مصدر رسانیدن(پہنچانا) ہے۔ فارسی میں عموماً کسی بھی فعلِ لازم کو فعلِ متعدی بنانے کے لئے فعل کے مضارعِ واحد غائب کے آخری حرف کو گِرا کر اس کے ساتھ "انیدن" یا "اندن" لگاتے ہیں۔ جیسے
رسیدن-->رسد--->رس----->رسانیدن/ رساندن
خوردن---->خورَد----->خور----->خورانیدن/ خوراندن
 
وقتی که خوب سیر شدند یکی از کبوتران آماده پرواز شد
اس وقت جب خوب سیر ہوگئے تو ان میں سے ایک کبوتر اُڑنے لگا۔
آمادہء پرواز شدن کا مطلب ہے اڑنے کے لئے تیار ہونا۔ جیسے ہم کہتے ہیں آمادہء جنگ ہونا تو اس کا معنیٰ ہے جنگ کے لئے تیار ہونا نہ کہ جنگ کرنا
 

عارضی کے

محفلین
آمادہء پرواز شدن کا مطلب ہے اڑنے کے لئے تیار ہونا۔ جیسے ہم کہتے ہیں آمادہء جنگ ہونا تو اس کا معنیٰ ہے جنگ کے لئے تیار ہونا نہ کہ جنگ کرنا
جی بالکل ۔ لفظی ترجمہ یہی ہونا چاہیے تھا۔
دوسری بات کہ اگر رساند کا مطلب پہنچانا ہے تو پھر یہاں رساند نہیں آنا چاہیے کیوں کہ وہ ”پہنچے“ نہ کہ ”پہنچایا“۔۔۔۔؟
 
خود را به پایین درخت رساند
یہاں دراصل خود را رسانَد استعمال ہوا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے "خود کو پہنچایا"۔ آپ نے بامحاورہ ترجمہ کرتے ہوئے اسے پہنچنے کے معنی میں استعمال کیا۔

ایک ہی ”چکر“ میں درخت کے نیچے پہنچ گیے۔
بامحاورہ ترجمہ کرتے ہوئے یہاں "پہنچ گیا" استعمال ہونا چاہیے۔
 

عارضی کے

محفلین
بامحاورہ ترجمہ کرتے ہوئے یہاں "پہنچ گیا" استعمال ہونا چاہیے۔
جی اس جانب سید عاطف صاحب نے اشارہ دیا تھا کہ یہاں جمع نہیں بلکہ واحد صیغہ استعمال ہوا ہے۔ بعد میں اسے تبدیل کرنا بھول گیا۔ بہت شکریہ۔
آپ لوگوں سے تبادلۂ خیال کرکے بہت فائدہ ہورہا ہے۔
 

اکمل زیدی

محفلین
ایک بہت ہی مختصر اور سادہ کہانی کا ترجمہ مکمل طور پر ازخود کررہا ہوں۔ بجز”بال گشود “ کے۔دیکھیے کیسا رہا میرا ترجمہ:

کبوترها آزاد و شاد در آسمان پرواز می کردند و از آزادی و بازی در آسمان نیلگون ( آبی ) لذت می بردند۔
بہت سے کبوتر آزاد اور خوش، آسمان میں پرواز کررہے تھے اور آزادی و سرخوشی سے نیلگوں (نیلے) آسمان میں لطف اندوز ہورہے تھے۔

پس از مدتی – برای رفع خستگی روی درختی نشستند
کچھ مدت کے بعد - نقاہت دور کرنے کی خاطر درخت پر بیٹھ گیے۔

پایین درخت – دانه فراوان بود
درخت کے نیچے - بہت سے دانے (موجود) تھے۔

یکی از کبوتران دانه ها را دید
کبوتروں میں سے ایک نے (وہ) دانے دیکھ لیے۔

آرام بال گشود و با یک چرخش خود را به پایین درخت رساند
آرام سے پر کھولے اور ایک ہی ”چکر“ میں درخت کے نیچے پہنچ گیے۔

چند تا از دانه ها را خورد
کچھ دانے (اُن میں سے) کھائے۔

دانه ها تازه و خوشمزه بودند
دانے تازہ اور خوش ذائقہ تھے۔

دوستان خود را هم صدا کرد تا از این دانه های خوشمزه بخورند
اپنے دوستوں کو بھی بلایا کہ وہ ان مزیدار دانوں کو کھائے۔ (یہاں کرد کیوں استعمال ہوا ہے؟ حالاں کہ بہت سےکبوتر ہیں)

کبوترها پایین آمدند – کنار دانه ها نشستند و مشغول برچیدن دانه شدند
تمام کبوتر نیچے آگئے - دانوں کے ساتھ بیٹھ گئے اور دانہ چگنے میں مصروف ہوگئے۔

وقتی که خوب سیر شدند یکی از کبوتران آماده پرواز شد
اس وقت جب خوب سیر ہوگئے تو ان میں سے ایک کبوتر اُڑنے لگا۔

بال گشود تا پرواز کند
پرکھولے تاکہ پرواز کرے۔

ولی نتوانست
لیکن نہ کرسکا۔

احساس کرد که بندی به پایش گره خورده است
اسے احساس ہوا کہ اس کا پاؤں (دام کے) تار میں بندھا ہوا ہے۔

کبوتران دیگر نیز بال گشودند تا پرواز کنند ولی نخ های دام پای آنها را هم گرفته بود
دیگر کبوتروں نے بھی اُڑنے کی خاطر پر کھولے لیکن ان کے پاؤں بھی دام کے تار میں پھنس گئے تھے۔

صیاد که در کمین نشسته بود صدای بال کبوتران را شنید و خوشحال به سوی آنان شتافت
شکاری جو کمین میں بیٹھا ہوا تھا کبوتروں کے پروں کی آواز سنی اور خوشی خوشی ان کے جانب چل پڑا۔

اریب آغا
اکمل زیدی
حسان خان
محمد وارث
خوب سعی کنید :applause:

اما اسرار نیست ۔ ۔ :waiting:

 
Top