فرحت کیانی

لائبریرین
سوال یہ ہے کہ اگر ان کا معیار تعلیم اتنا اچھا ہے مگر فیس انتہائی کم ہے تو وہ اس کا خرچہ کہاں سے پورا کرتے ہیں؟ کیا بیرونی امداد سے؟
جی۔ مشنری سکول ہیں اور بنیادی طور پر مسیحی بچوں کے لیے کھولے گئے ہیں جیسے آرمی پبلک سکول, واپڈا کے سکول, ایئر فورس اور نیوی کے سکول غرض ہر بڑے ادارے کے اپنے سکول ہوتے ہیں, اپنے لوگوں کو بہتر تعلیم دینے کے لیے۔ سو فنڈنگ تو ان کو ملتی ہے لیکن کیونکہ مسلم بچوں اور عملے کی ایک بڑی تعداد پڑھتی اور پڑھاتی ہے تو ہم یہ فرض نہیں کر سکتے کہ یہ امداد ہمارے مسلم بچوں کو کسی اور راہ پر لگانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں پڑھنے والے بچے ہر لحاظ سے بیکن, سٹی یا,روٹس سکول میں پڑھنے والوں سے زیادہ ہی مسلمان ہوتے ہیں۔
 

سین خے

محفلین
جی۔ مشنری سکول ہیں اور بنیادی طور پر مسیحی بچوں کے لیے کھولے گئے ہیں جیسے آرمی پبلک سکول, واپڈا کے سکول, ایئر فورس اور نیوی کے سکول غرض ہر بڑے ادارے کے اپنے سکول ہوتے ہیں, اپنے لوگوں کو بہتر تعلیم دینے کے لیے۔ سو فنڈنگ تو ان کو ملتی ہے لیکن کیونکہ مسلم بچوں اور عملے کی ایک بڑی تعداد پڑھتی اور پڑھاتی ہے تو ہم یہ فرض نہیں کر سکتے کہ یہ امداد ہمارے مسلم بچوں کو کسی اور راہ پر لگانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں پڑھنے والے بچے ہر لحاظ سے بیکن, سٹی یا,روٹس سکول میں پڑھنے والوں سے زیادہ ہی مسلمان ہوتے ہیں۔

بیرونی امداد سے یہاں کیا مراد ہے؟
 

وی سی ایچ

محفلین
ایک چیز میں نے نوٹ کی ہے باقی شاید کافی مذاہب کے بارے میں ذکر ہوتا ہے اور ہمارے پاس کچھ معلومات بھی ہوتیں ہیں پر یہودیوں یا یہودی مذہب کے لیے شاید ہی کسی نے معلومات شئیر کی ہو ایسا کیوں ہے؟
 

فرحت کیانی

لائبریرین
بیرونی امداد سے یہاں کیا مراد ہے؟
لیئق احمد کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
میں نے پریذینٹیشن کانگریگیشن آف سسٹرز کے ساتھ کام بھی کیا ہے اور پریذینٹیشن کانونٹ میں پڑھا بھی پے اور ان تمام کاونونٹس کو فائننشیئلی کانگریگیشن سپورٹ کرتی ہے۔ دیکھا جائے تو مسلم یا نان مسلم پر بچے کو سبسڈی ملتی ہے کیونکہ فیسیں بہت کم ہیں اور سکولوں میں ہر طرح کی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
 

سین خے

محفلین
لیئق احمد کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
میں نے پریذینٹیشن کانگریگیشن آف سسٹرز کے ساتھ کام بھی کیا ہے اور پریذینٹیشن کانونٹ میں پڑھا بھی پے اور ان تمام کاونونٹس کو فائننشیئلی کانگریگیشن سپورٹ کرتی ہے۔ دیکھا جائے تو مسلم یا نان مسلم پر بچے کو سبسڈی ملتی ہے کیونکہ فیسیں بہت کم ہیں اور سکولوں میں ہر طرح کی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

فرحت ہمارے یہاں عام طور پر بیرونی امدا امریکا وغیرہ کی حکومت کی طرف سے فنڈنگ سمجھی جاتی ہے :) میں نے اسی لحاظ سے پوچھا تھا اور اسی لحاظ سے پیچھے جواب بھی دیا تھا۔ :)

آسان الفاظ میں بات یہ ہے کہ یہ اسکولز کسی بیرونی حکومت کے ماتحت کام نہیں کرتے :)
 

وی سی ایچ

محفلین
ایک چیز میں نے نوٹ کی ہے باقی شاید کافی مذاہب کے بارے میں ذکر ہوتا ہے اور ہمارے پاس کچھ معلومات بھی ہوتیں ہیں پر یہودیوں یا یہودی مذہب کے لیے شاید ہی کسی نے معلومات شئیر کی ہو ایسا کیوں ہے؟
ایک چیز میں نے نوٹ کی ہے باقی شاید کافی مذاہب کے بارے میں ذکر ہوتا ہے اور ہمارے پاس کچھ معلومات بھی ہوتیں ہیں پر یہودیوں یا یہودی مذہب کے لیے شاید ہی کسی نے معلومات شئیر کی ہو ایسا کیوں ہے؟

وی سی ایچ
یہ تھوڑے خطرناک لوگ ہوتے ہیں، شاید اس لیے:)
@زیک سنا ہے امریکہ میں یہودی کافی ہیں تو چلیں@زیک سے پوچھتے ہیں اس بارے میں۔؟
 
میں نے امریکی افواج کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہے، کچھ امریکی فوجیوں کے ساتھ دوستی بھی ہوگئی ان کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا رہا کچھ فوجی میری خوش اخلاقی اور پروفیشنل ازم سے متاثر ہو گئے اور انہوں نے مجھے کچھ تحائف بھی پیش کئے انہیں میرے مسلمان ہونے سے کوئی تکلیف نہیں تھی اور نہ مجھے ان کے عیسائی ہونے سے۔ کچھ امریکی فوجیوں کے پروفیشنل ازم اور خوش اخلاقی سے میں متاثر ہوگیا ۔ مگر ان باتوں کے باوجود میں یہ تو نہیں بھول سکتا کہ وہ امریکی فوج عراقی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے لئے تیار تھی (اسی لئے آئی تھی) ۔ عقلمنداں را اشارہ کافی است
 

فرحت کیانی

لائبریرین
فرحت ہمارے یہاں عام طور پر بیرونی امدا امریکا وغیرہ کی حکومت کی طرف سے فنڈنگ سمجھی جاتی ہے :) میں نے اسی لحاظ سے پوچھا تھا اور اسی لحاظ سے پیچھے جواب بھی دیا تھا۔ :)

آسان الفاظ میں بات یہ ہے کہ یہ اسکولز کسی بیرونی حکومت کے ماتحت کام نہیں کرتے :)
جی بالکل۔
میں نے بھی یہی کہا ہے۔ فنڈنگ کے ساتھ بیرونی کا لفظ اسی لیے استعمال نہیں کیا کہ ان کی فنڈنگ ان کے ادارے کی ذمہ داری ہے۔ 'امداد' صرف اس سوال کے حوالے سے لکھا تھا۔
اس لڑی کو آج ہی پڑھنا شروع کیا پے اور اس میں بھی وقفے آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی کوئی بات مس کر دی ہو۔ میرے کہنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ مشنری سکولز کا شمار پرائیویٹ سیکٹر میں تو ہوتا ہے لیکن وہ اپنا زیادہ تر خرچہ خود پورا کرتے ہیں نا کہ دیگر پرائیویٹ اداروں کی طرح والدین کی جیبیں خالی کر کے۔ اور جیسا کہ عموما مشنری یا کسی بھی خاص مسلک/مذہب/طبقہ فکر کے مخصوص اداروں کے بارے میں عمومی تاثر ہوتا ہے کہ اگر وہ والدین کو کوئی ریلیف دے رہے ہیں تو یقینا طلبہ کو اپنے ایجنڈے /سوچ پر چلا رہے ہوں گے, کانونٹس کے بارے میں غلط تاثر ہے۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
فرحت ہمارے یہاں عام طور پر بیرونی امدا امریکا وغیرہ کی حکومت کی طرف سے فنڈنگ سمجھی جاتی ہے :) میں نے اسی لحاظ سے پوچھا تھا اور اسی لحاظ سے پیچھے جواب بھی دیا تھا۔ :)

آسان الفاظ میں بات یہ ہے کہ یہ اسکولز کسی بیرونی حکومت کے ماتحت کام نہیں کرتے :)
میرا خیال ہے کہ میں نے کہیں بھی بیرونی حکومت کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اگر ایسا تاثر ملا ہے تو میرے انداز بیان کی کمزوری ہو گی یقینا۔
 

وی سی ایچ

محفلین
میں نے امریکی افواج کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہے، کچھ امریکی فوجیوں کے ساتھ دوستی بھی ہوگئی ان کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا رہا کچھ فوجی میری خوش اخلاقی اور پروفیشنل ازم سے متاثر ہو گئے اور انہوں نے مجھے کچھ تحائف بھی پیش کئے انہیں میرے مسلمان ہونے سے کوئی تکلیف نہیں تھی اور نہ مجھے ان کے عیسائی ہونے سے۔ کچھ امریکی فوجیوں کے پروفیشنل ازم اور خوش اخلاقی سے میں متاثر ہوگیا ۔ مگر ان باتوں کے باوجود میں یہ تو نہیں بھول سکتا کہ وہ امریکی فوج عراقی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے لئے تیار تھی (اسی لئے آئی تھی) ۔ عقلمنداں را اشارہ کافی است
آپ فوجی ہیں؟
 

سین خے

محفلین
جی بالکل۔
میں نے بھی یہی کہا ہے۔ فنڈنگ کے ساتھ بیرونی کا لفظ اسی لیے استعمال نہیں کیا کہ ان کی فنڈنگ ان کے ادارے کی ذمہ داری ہے۔ 'امداد' صرف اس سوال کے حوالے سے لکھا تھا۔
اس لڑی کو آج ہی پڑھنا شروع کیا پے اور اس میں بھی وقفے آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی کوئی بات مس کر دی ہو۔ میرے کہنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ مشنری سکولز کا شمار پرائیویٹ سیکٹر میں تو ہوتا ہے لیکن وہ اپنا زیادہ تر خرچہ خود پورا کرتے ہیں نا کہ دیگر پرائیویٹ اداروں کی طرح والدین کی جیبیں خالی کر کے۔ اور جیسا کہ عموما مشنری یا کسی بھی خاص مسلک/مذہب/طبقہ فکر کے مخصوص اداروں کے بارے میں عمومی تاثر ہوتا ہے کہ اگر وہ والدین کو کوئی ریلیف دے رہے ہیں تو یقینا طلبہ کو اپنے ایجنڈے /سوچ پر چلا رہے ہوں گے, کانونٹس کے بارے میں غلط تاثر ہے۔

میرا خیال ہے کہ میں نے کہیں بھی بیرونی حکومت کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اگر ایسا تاثر ملا ہے تو میرے انداز بیان کی کمزوری ہو گی یقینا۔

فرحت اصل میں سوال بیرونی امداد سے متعلق تھا۔ مجھے لگا کہ لوگ کچھ اور ہی نا سمجھ بیٹھیں :) اس لئے میں نے مناسب جانا کہ آپ سے سوال کر لوں۔ اور دیکھیں آپ نے کتنی اچھی وضاحت دی :) مجھے ایسے ہی جواب چاہئیے تھے اور آپ سے اسی طرح کے جوابات کی امید بھی تھی۔ بہتتتت شکریہ :) خوش رہیں۔ آتی جاتی رہا کریں۔ آپ بڑے دنوں بعد نظر آئی ہیں :)
 
اب مجھے سمجھ نہیں آرہا جس طرح کی باتیں میں نے اس تھریڈ میں پڑھی ہیں کہ دوستی نہ کی جائے، دور رہا جائے وغیرہ وغیرہ اس پر بھلا میں کیا تبصرہ کروں۔ مجھے جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔ میں دیکھوں گی کہ میری یاداشتیں پڑھنے سے آپ سب کی بھلا کیا رائے بنتی ہے۔
میں کوئی عالمہ نہیں ہوں اور دین کے معاملے میں میرا علم بہت کم ہے البتہ ایک بات میں ضرور کہنا چاہوں گی کہ معاشرے کی اقدار وقت کے ساتھ بہت زیادہ بدل چکی ہیں۔ اب سے بیس سال پہلے میل جول کے الگ طور طریقے تھے اور اب کچھ اور ہیں۔ میرے بہت مسیحی دوست تھے اور مجھے اب بھی وہ یاد آتے ہیں۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے یہاں محفل پر میری آپ سب سے اچھی دعا سلام اور جان پہچان ہے اور میں آپ سب کو دوست احباب میں ہی شمار کرنا پسند کرتی ہوں۔
یہ سب جاہلانہ باتیں دین و مذہب کو سیاق و سباق کے بغیر سمجھنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں سوفیصد ایک جیسے دین یا مذہب والے لوگ موجود نہیں ہوتے۔ ایسے میں باہمی سماجی روابط کیو جہ سے بہت قریبی مراسم کا پیدا ہونا جانا قدرتی عمل ہے۔ اسپر جبراً اپنے آپکو غیرمسلموں سے دور رکھنا کہ ایسا دین میں حکم ہےایک انتہائی فرسودہ سوچ کی عکاس ہے۔ جب وہ ہم مسلمانوں سے ایسا رویہ نہیں رکھتے تو ہم کس بنیاد پر رکھیں؟
 
بالکل صحیح بات کی آپ نے جاسمن۔ ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اس غرور کی سزا ملی کہ وہ اپنے آپ کو بہترین اور دوسروں کو کمتر قوم سمجھتے تھے۔
اُڑتی اُڑتی باتوں پر یقین کرنے پر تو اسلام میں بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔ آپ بنی اسرائیل کی تاریخ انکی اپنی کتب سے پڑھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ انہیں کیوں بار بار اپنے آبائی وطن اسرائیل سے نکلنا پڑا ور پھر وہ کیسےواپس آئے۔
 
ہمارے کسی استاد وغیرہ نے نا ہی گستاخی کے قانون پر تبصرہ کیا، نا ہی کوئی زیادتی پر رویا، کوئی دعائیہ تقریب بھی نہیں ہوئی اور نا ہی کسی نے پاکستان کو برا بھلا کہا۔
اب ذرا غور فرمائیے اگر امریکا میں کسی مسلمان کے ساتھ ایسا سلوک ہو جاتا ہے ہم دوسرے ملکوں میں بیٹھے ہوئے پتا نہیں کتنا ہنگامہ مچاتے ہیں اور امریکا اور عیسائیوں کو گالیاں دیتے ہیں۔
ایک دفعہ پٹھانوں نے اسکول پر پتھراوَ کیا تھا اور ٹائر وغیرہ جلائے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کو کسی مسیحی پر شک ہو گیا تھا کہ اس نے گستاخی کی ہے اور وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اسے ہمیں دو تو ہم اس سے نمٹیں۔ تقریباً ایک ہفتہ چھٹی رہی تھی۔ آخر میں پولیس اور رینجرز وغیرہ کی موجودگی میں اسکول کھولا گیا۔ کسی نے ہمیں طعنہ نہیں مارا کہ تم مسلمان ہمارے ساتھ اتنی زیادتی کر رہے ہو۔ پتا نہیں کتنا تو پٹھان ہمارے یہاں پڑھتا تھا۔ کسی کے ساتھ پٹھان ہونے کی وجہ سے برا سلوک نہیں کیا گیا۔
آپنے بالکل درست تجزیہ کیا ہے۔ ہم مسلمانوں کے انہی دوغلے رویوں کی وجہ سے اللہ کی پھٹکار امت مسلمہ کو پڑ رہی ہے۔ کوئی کافر مسلمان کو ہلکا سا چھیڑ بھی دے تو پورا عالم اسلام اسکی حمایت میں باہر نکل آتا ہے۔ جبکہ خود مسلم ممالک میں غیرمسلمین کیساتھ جو غلط سلوک ہوتا ہے، اس پر وہی مومنین چُپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جس طرح کا شور و غوغا وہ مسلمانوں کیساتھ بدسلوکی و ظلم ہونے پر کرتے ہیں ویسا ہی اپنے ملک میں کافروں کیساتھ ہونے والے زیادتی پر کریں۔ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جو اُکا دُکا انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسا کرتی ہیں تو ان بیچاروں پر بھی ’’موم بتی مافیا‘‘ اور ’’غیرملکی‘‘ ایجنڈے کا الزام لگا کر معاملے سے راہ فرار حاصل کی جاتی ہے۔
 
Top