غم

محمد وارث

لائبریرین
خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرت پرویز
خدا کی دین ہے سرمایۂ غمِ فرہاد


رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد


(اقبال)
 

محمد وارث

لائبریرین
مری نوائے غم آلود ہے متاعِ عزیز
جہاں میں عام نہیں دولت دلِ ناشاد


گلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سے
سمجھتا ہے مری محنت کو محنتِ فرہاد


(اقبال)
 

شمشاد

لائبریرین
زندگی تلخ سہی ، زہر سہی، سم ہی سہی
درد و آزار سہی، جبر سہی، غم ہی سہی
(نوشی گیلانی)
 

شمشاد

لائبریرین
مری عمر کٹ گئی پر ترا غم ٹلا نہیں ہے
مری روح پر رہے گا یہ سیہ غبار کب تک
(ناہید ورک)
 

شمشاد

لائبریرین
چمکتی آنکھ میں، مسکاتے ہونٹوں پر مرے تم
بسا ہے آ کے غم جو اُس کی رعنائی تو دیکھو
(ناہید ورک)
 

محمد وارث

لائبریرین
جان کی پروا پھر کس کو ہو جب قاتل ہو یاروں سا
باتیں ہو دلداروں جیسی، لہجہ ہو غم خواروں سا

برسوں بعد فراز کو دیکھا اس کا حال احوال نہ پوچھ
شعر وہی دل والوں جیسے، شغل وہی بنجاروں سا
 

شمشاد

لائبریرین
سرورہے غمِ عشق سے دیوانہ تو کیا ہے
کیا تم نے کوئی صاحبِ ایماں نہیں دیکھا
(سرور)
 

عیشل

محفلین
کیا غم نے رسوا،لگے آگ اس محبت کو
نہ لادے تاب جو غم کی،وہ میرا رازداں کیوں ہو
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل،تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
 

شمشاد

لائبریرین
نشّّ۔۔۔اطِ س۔۔ای۔۔ۂ دی۔۔وار م۔رہ۔۔ونِ تم۔۔۔۔ازت ہے
غموں سے کچھ تو رشتہ ہے سرور و شادمانی کا
(سرور)
 

محمد وارث

لائبریرین
روش روش ہیے وہی انتظار کا موسم
نہیں ہے کوئی بھی موسم، بہار کا موسم


گراں ہے دل پہ غمِ روزگار کا موسم
ہے آزمائشِ حسنِ نگار کا موسم


(فیض)
 
Top