غزل

رشید حسرت

محفلین
غزل

ہے اِس کا ملال اُس کو، ترقّی کا سفر طے
کیوں میں نے کیا، کر نہ سکا وہ ہی اگر طے

جو مسئلہ تھا اُن کا بہت اُلجھا ہؤا تھا
کُچھ حِکمت و دانِش سے کِیا میں نے مگر طے

ہو جذبہ و ہِمّت تو کٹِھن کُچھ بھی نہِیں ہے
ہو جائے گا اے دوستو دُشوار سفر طے

کِس طرز کا اِنساں ہے، نسل کیسی ہے اُس کی
بس ایک مُلاقات میں ہوتا ہے اثر طے

ہے کیسا نِظام اِس میں فقط جُھوٹ بِکے ہے
مُنہ حق سے نہِیں موڑوں گا کٹ جائے گا سر طے

اِک بار کی مِحنت تو اکارت ہی گئی ہے
سو کرنا پڑا مُجھ کو سفر بارِ دِگر طے

سمجھا نہ کسیؔ نے جو مِرے طرزِ بیاں کو
بیکار گیا پِھر تو مِرا شعر و ہُنر طے

ہے عزم، سفر میں جو پرِندوں کا مُعاون
یہ کِس نے کہا کرتے ہیں یہ بازو و پر طے

کِس کِس نے میرے ساتھ وفا کی یا خفا کی
کر لے گا رشیدؔ آج مِرا دامنِ تر طے


رشید حسرتؔ
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ بس نسل کا تلفظ غلط باندھا گیا ہے، اس کی جگہ نسب کر دیں تذکیر کے ساتھ
 
ہے کیسا نِظام اِس میں فقط جُھوٹ بِکے ہے
مُنہ حق سے نہِیں موڑوں گا کٹ جائے گا سر طے

سمجھا نہ کسیؔ نے جو مِرے طرزِ بیاں کو
بیکار گیا پِھر تو مِرا شعر و ہُنر طے

اچھی غزل ہے ۔ واہ ۔ لیکن ان دو اشعار میں دریف بے معنی ہو کر رہ گئی ۔
 
Top