غزل

رشید حسرت نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 16, 2021

ٹیگ:
  1. رشید حسرت

    رشید حسرت محفلین

    مراسلے:
    181
    جھنڈا:
    Pakistan
    غزل

    ہے اِس کا ملال اُس کو، ترقّی کا سفر طے
    کیوں میں نے کیا، کر نہ سکا وہ ہی اگر طے

    جو مسئلہ تھا اُن کا بہت اُلجھا ہؤا تھا
    کُچھ حِکمت و دانِش سے کِیا میں نے مگر طے

    ہو جذبہ و ہِمّت تو کٹِھن کُچھ بھی نہِیں ہے
    ہو جائے گا اے دوستو دُشوار سفر طے

    کِس طرز کا اِنساں ہے، نسل کیسی ہے اُس کی
    بس ایک مُلاقات میں ہوتا ہے اثر طے

    ہے کیسا نِظام اِس میں فقط جُھوٹ بِکے ہے
    مُنہ حق سے نہِیں موڑوں گا کٹ جائے گا سر طے

    اِک بار کی مِحنت تو اکارت ہی گئی ہے
    سو کرنا پڑا مُجھ کو سفر بارِ دِگر طے

    سمجھا نہ کسیؔ نے جو مِرے طرزِ بیاں کو
    بیکار گیا پِھر تو مِرا شعر و ہُنر طے

    ہے عزم، سفر میں جو پرِندوں کا مُعاون
    یہ کِس نے کہا کرتے ہیں یہ بازو و پر طے

    کِس کِس نے میرے ساتھ وفا کی یا خفا کی
    کر لے گا رشیدؔ آج مِرا دامنِ تر طے


    رشید حسرتؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    2,805
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بڑی منفرد زمین چنی آپ نے رشید بھائی ۔۔۔ ماشاء اللہ
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,482
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے ماشاء اللہ بس نسل کا تلفظ غلط باندھا گیا ہے، اس کی جگہ نسب کر دیں تذکیر کے ساتھ
     
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی مدیر

    مراسلے:
    13,830
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ہے کیسا نِظام اِس میں فقط جُھوٹ بِکے ہے
    مُنہ حق سے نہِیں موڑوں گا کٹ جائے گا سر طے

    سمجھا نہ کسیؔ نے جو مِرے طرزِ بیاں کو
    بیکار گیا پِھر تو مِرا شعر و ہُنر طے

    اچھی غزل ہے ۔ واہ ۔ لیکن ان دو اشعار میں دریف بے معنی ہو کر رہ گئی ۔
     

اس صفحے کی تشہیر