@سر الف عین،یاسر شاہ
تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا زوال ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔
چلے جس طرف مرے ناخدا سو ادھر بھنورکا اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے کسی بیکراں سے گلہ نہیں۔
ہوئے وار میرے بدن پہ جو لگے نقب میری فصیل کو۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔
یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کسی غیر سے نہیں مانگنا۔
مجھے جو عطا کِیا شکریہ ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
 

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم !
سجاد بھائی کیسے ہیں آپ ؟
تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔

واہ بہت خوب -

مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا زوال ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔

ربط بین المصرعین کمزور محسوس ہوتا ہے -"ترے ستم کا زوال" کا کوئی جواز نہیں ملتا شعر میں -

چلے جس طرف مرے ناخدا سو ادھر بھنورکا اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے کسی بیکراں سے گلہ نہیں۔

"کسی بیکراں " سے بات نہیں بنی -

ہوئے وار میرے بدن پہ جو لگے نقب میری فصیل کو۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔

یہ شعر بھی بہتری چاہتا ہے -

دوسرے مصرعے کو تو اس طرح سے کہیں :

مرا ہی مکاں تھا شکستہ حال کوئی پاسباں سے گلہ نہیں

پہلے مصرعے کی کوئی بہتر صورت خود آپ ڈھونڈھیں کہ جس میں پہلے نقب لگنے وغیرہ کی بات ہو بعد میں جسم پہ وار کی بات -


یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کسی غیر سے نہیں مانگنا۔
مجھے جو عطا کِیا شکریہ ترے آستاں سے گلہ نہیں۔

پہلے مصرعے کو بدل دیں مگر ایک دعوے کی سی صورت بنتی ہے :

یہ جبیں جھکی ترے سامنے کسی غیر سے نہ کیا سوال
مجھے جو عطا کِیا شکریہ ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
 
السلام علیکم !
سجاد بھائی کیسے ہیں آپ ؟
تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
وعلیکم السلام یاسر بھائی ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ شکریہ حضور

واہ بہت خوب -

مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا زوال ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔

ربط بین المصرعین کمزور محسوس ہوتا ہے -"ترے ستم کا زوال" کا کوئی جواز نہیں ملتا شعر میں -

چلے جس طرف مرے ناخدا سو ادھر بھنورکا اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے کسی بیکراں سے گلہ نہیں۔

"کسی بیکراں " سے بات نہیں بنی -

ہوئے وار میرے بدن پہ جو لگے نقب میری فصیل کو۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔

یہ شعر بھی بہتری چاہتا ہے -

دوسرے مصرعے کو تو اس طرح سے کہیں :

مرا ہی مکاں تھا شکستہ حال کوئی پاسباں سے گلہ نہیں

پہلے مصرعے کی کوئی بہتر صورت خود آپ ڈھونڈھیں کہ جس میں پہلے نقب لگنے وغیرہ کی بات ہو بعد میں جسم پہ وار کی بات -


یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کسی غیر سے نہیں مانگنا۔
مجھے جو عطا کِیا شکریہ ترے آستاں سے گلہ نہیں۔

پہلے مصرعے کو بدل دیں مگر ایک دعوے کی سی صورت بنتی ہے :

یہ جبیں جھکی ترے سامنے کسی غیر سے نہ کیا سوال
مجھے جو عطا کِیا شکریہ ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
نہیں سجاد میاں، اس بار بات نہیں بنی۔ پوری غزل میں دو لختی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے

تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
... کہکشاں قافیہ کی معنویت؟ کیا کہکشاں پر چل رہے تھے؟

مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا زوال ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔
..... ستم کا زوال اور قافیہ دونوں بے معنی اور بے ربط محسوس ہوتے ہیں

چلے جس طرف مرے ناخدا سو ادھر بھنورکا اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے کسی بیکراں سے گلہ نہیں۔
... صرف بیکراں سے بات نہیں بنتی۔ بحرِ بیکراں ہو سکتا تھا

ہوئے وار میرے بدن پہ جو لگے نقب میری فصیل کو۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔
... مکان کا شکستہ حال ہونا، بدن پہ وار، فصیل میں نقب( تلفظ؟) کسی کا ربط سمجھ میں نہیں آتا

یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کسی غیر سے نہیں مانگنا۔
مجھے جو عطا کِیا شکریہ ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
یاسر شاہ کی اصلاح قبول کر لیں
 
نہیں سجاد میاں، اس بار بات نہیں بنی۔ پوری غزل میں دو لختی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے

تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
... کہکشاں قافیہ کی معنویت؟ کیا کہکشاں پر چل رہے تھے؟

مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا زوال ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔
..... ستم کا زوال اور قافیہ دونوں بے معنی اور بے ربط محسوس ہوتے ہیں

چلے جس طرف مرے ناخدا سو ادھر بھنورکا اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے کسی بیکراں سے گلہ نہیں۔
... صرف بیکراں سے بات نہیں بنتی۔ بحرِ بیکراں ہو سکتا تھا

ہوئے وار میرے بدن پہ جو لگے نقب میری فصیل کو۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔
... مکان کا شکستہ حال ہونا، بدن پہ وار، فصیل میں نقب( تلفظ؟) کسی کا ربط سمجھ میں نہیں آتا

یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کسی غیر سے نہیں مانگنا۔
مجھے جو عطا کِیا شکریہ ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
یاسر شاہ کی اصلاح قبول کر لیں
شکریہ سر کوشش کرتا ہوں ٹھیک کرنے کی
 

یاسر شاہ

محفلین
تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
... کہکشاں قافیہ کی معنویت؟ کیا کہکشاں پر چل رہے تھے؟

محترمی الف عین-
کسی شاعر کی صفائی میں بات کرتے ہوئے مجھے وہ لطیفہ یاد آتا ہے کہ ایک بادشاہ کو لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت ہوتی ہے -ایک وزیر اس نے صرف اس لئے ساتھ رکھا ہوتا ہے کہ جب میری سبکی ہونے لگے ،تم کچھ وضاحت کر دیا کرنا-لہٰذا ایک دن بادشاہ ڈینگ مارتا ہے میں شکار پہ تھا ،ایک خوبصورت ہرن سامنے نظر آیا -میں نے نشانہ باندھا اور گولی چلائی جو سیدھی ہرن کے کھر (پاؤں) میں جا لگی اور سر سے نکل آئی -چمچوں نے تو کہا: واہ صاحب واہ، کیا نشانہ ہے آپ کا -کچھ نقادوں نے پوچھ ہی لیا کہ بادشاہ سلامت یہ کیونکر ممکن ہے کہ گولی کھر میں لگے اور سر سے نکل آئے -بادشاہ تو لاجواب ہوگیا یہ کہہ کر : "مینوں کی پتا ؟"-وزیر نے جواب دیا ''بات یہ ہے کہ اس وقت ہرن سر کھجا رہا تھا "

جواب تو بہتر تھا سجاد صاحب ہی دیتے لیکن ان کو آپ کے ادب نے مغلوب کر رکھا ہے اور شعر مجھے بھی پسند آیا ،تو کچھ عرض کروں کہ کہکشاں بطور مبالغہ استعمال ہوا ہے -میرے تو خیال سے یہ استعارہ بطور کارواں بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور بطور راستہ بھی -

جب کارواں مراد لیتے ہیں تو کہکشاں چونکہ ستاروں کے جھرمٹ کو کہا جاتا ہے چنانچہ قافلے کے ساتھیوں کو ستاروں سے تشبیہ دی جا رہی ہے -ستاروں کی گردش میں ایک مستقل مزاجی ہوتی ہے اگرچہ تیزی نہ ہو -گویا شاعر ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے کہ اس سے نیک لوگوں کا ساتھ چھوٹ گیا ہے اور اس ساتھ چھوٹنے پہ وہ نادم ہے اور سراسر قصوروار خود کو ٹھہرا رہا ہے بجائے نیک لوگوں کو الزام دینے کے -تبھی اس کو اپنے وہ ساتھی کبھی ستارے محسوس ہوتے ہیں کبھی وہ راستہ کہکشاں لگتا ہے -

کہکشاں کو راستے کا استعارہ اور شعراء نے بھی بنایا ہے :

انھیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفی زیدی


کہکشاں صاف بنے گا رستہ
آپ توسن کو جو چمکائیے گا

وزیر صبا لکھنوی
 
آخری تدوین:
محترمی الف عین-
کسی شاعر کی صفائی میں بات کرتے ہوئے مجھے وہ لطیفہ یاد آتا ہے کہ ایک بادشاہ کو لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت ہوتی ہے -ایک وزیر اس نے صرف اس لئے ساتھ رکھا ہوتا ہے کہ جب میری سبکی ہونے لگے ،تم کچھ وضاحت کر دیا کرنا-لہٰذا ایک دن بادشاہ ڈینگ مارتا ہے میں شکار پہ تھا ،ایک خوبصورت ہرن سامنے نظر آیا -میں نے نشانہ باندھا اور گولی چلائی جو سیدھی ہرن کے کھر (پاؤں) میں جا لگی اور سر سے نکل آئی -چمچوں نے تو کہا: واہ صاحب واہ، کیا نشانہ ہے آپ کا -کچھ نقادوں نے پوچھ ہی لیا کہ بادشاہ سلامت یہ کیونکر ممکن ہے کہ گولی کھر میں لگے اور سر سے نکل آئے -بادشاہ تو لاجواب ہوگیا یہ کہہ کر : "مینوں کی پتا ؟"-وزیر نے جواب دیا ''بات یہ ہے کہ اس وقت ہرن سر کھجا رہا تھا "

جواب تو بہتر تھا سجاد صاحب ہی دیتے لیکن ان کو آپ کے ادب نے مغلوب کر رکھا ہے اور شعر مجھے بھی پسند آیا ،تو کچھ عرض کروں کہ کہکشاں بطور مبالغہ استعمال ہوا ہے -میرے تو خیال سے یہ بطور کارواں بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور بطور راستہ بھی -

جب کارواں مراد لیتے ہیں تو کہکشاں چونکہ ستاروں کے جھرمٹ کو کہا جاتا ہے چنانچہ قافلے کے ساتھیوں کو ستاروں سے تشبیہ دی جا رہی ہے -ستاروں کی گردش میں ایک مستقل مزاجی ہوتی ہے اگرچہ تیزی نہ ہو -گویا شاعر ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے کہ اس سے نیک لوگوں کا ساتھ چھوٹ گیا ہے اور اس ساتھ چھوٹنے پہ وہ نادم ہے اور سراسر قصوروار خود کو ٹھہرا رہا ہے بجائے نیک لوگوں کو الزام دینے کے -تبھی اس کو اپنے وہ ساتھی کبھی ستارے محسوس ہوتے ہیں کبھی وہ راستہ کہکشاں لگتا ہے -

کہکشاں کو راستے کا استعارہ اور شعراء نے بھی بنایا ہے :

انھیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفی زیدی


کہکشاں صاف بنے گا رستہ
آپ توسن کو جو چمکائیے گا

وزیر صبا لکھنوی
سر میری مجال کہاں کہ میں ایک بزرگ اور مؤدب استاد کے کہے الفاظ کو جھٹلانے کی جسارت کروں میں اردو لغت سے بہت کم آشنا ہوں یہ آپ اساتذہ اکرام کی کرم نوازی ہے جو میرے جذبات اور احساسات کی اصلاح کر کے میری مدد فرماتے ہیں ویسے یاسر صاحب نے میرے پہلے شعر کی وضاحت کر کے مجھے ہمت سے نوازا ہے اس لئے میں اپنے اگلے شعر کا تخیل سر الف عین کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں ۔
لگے نقب میری فصیل کو ہوئے وار میرے بدن پہ جو
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔

سر اس میں میرا تخیل کچھ یوں تھا
پہلے مصرعے میں کہنا یہ چاہا تھا میں نے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس مقصد کے لئے پیدا کیا اس راستے پہ چلتے ہوئے دنیا کی عیش و عشرت نے مجھے کسی حد تک غافل کر دیا ہے فصیل میری ذات ہے نقب غیر ضروری تزئین و آرائش کی خواہشات ہیں اور وار ان کی تکمیل ہے۔
سر دوسرے مصرعے میں
مکاں استعارہ استعمال کیا ہے دل کے لئے اور پاسباں میرا مرشد ہے۔ میرا اپنا دل کمزور تھا جو دنیاوی خواہشات کے لالچ میں آگیا مرشد تو کامل ہے اس نے حق کی رہ دکھائی میرے غافل ہونے میں وہ بری الذمہ ہیں
سر اب میرے اس شعر کی اصلاح کر دیں تا کہ بہتر صورت میں میرا تخیل واضح ہو جائے۔
 

الف عین

لائبریرین
آپ دونوں کی باتوں سے متفق ہوں لیکن مجرد الفاظ کو استعارہ مان لینے کے لیے کوئی قرینہ ضروری ہے جو کم از کم مجھے نظر نہیں آیا۔ مصطفیٰ زیدی کے شعر میں جیسے پتھروں بھرے راستے کے مقابلے کی بات کی گئی ہے اس لیے کہکشاں کا کہنا بالکل واضح ہو گیا ہے۔ سجاد میاں کے مطلع میں ہی راہ کی مشکلات کا ذکر ہے تو اسے کہکشاں ماننے کا قرینہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
اسی طرح جس شعر کی تاویل سجاد میاں نے کی ہے، وہ بھی دور از کار ہے۔ فصیل میں نقب لگائی بھی گئی تو قلعے پر قبضہ کرنے کے لیے ہو گی یا بدن پہ وار کرنے کے لیے؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ پاسباں ہی تھا اس فصیل کا جس کے بدن پر وار پڑے! پھر فصیل اور قلعے/شہر کی بات ہو رہی تھی( فصیل ان ہی دو جگہوں پر ممکن ہے) تو یہ مکاں شکستہ ہونے کی بات کہاں سے آ گئی؟ الفاظ سے یہی قرینہ لگتا ہے جو کہ میں نے بیان کیا۔
نقب کے تلفظ کا اس لیے لکھا تھا کہ درست تلفظ میں ق پر زبر ہے، یہاں جزم باندھا گیا ہے
اگر سارے قارئین یہ مطلب نکال سکیں جو سجاد کہنا چاہ رہے ہیں تو محض اس تلفظ کی غلطی کو درست کر دیں
 

یاسر شاہ

محفلین
اسی طرح جس شعر کی تاویل سجاد میاں نے کی ہے، وہ بھی دور از کار ہے۔
آپ سے متفق ہوں ،کل ان کی تشریح پڑھ کے میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ یہ دور از کار تاویل ہے -ورنہ شعر، اپنی نئی پہلے مصرع کی ترتیب کے بعد، سست بندش کے باوجود، واضح اور قابل قبول ہے - شعر میں سامنے کی بات ہے کہ جو میرے گھر میں باوجود پاسبان کے نقب لگی اور مجھ پہ وار کیے گئے ان سب کا دوشی میں پھر بھی پاسبان کو نہیں ٹھہراتا بلکہ میرا گھر ہی ٹوٹا پھوٹا تھا -اس میں پاسبان کا لحاظ کر رہے ہیں -

باقی نقب کے دونوں تلفّظ درست ہیں -یہاں دیکھیے گا :

Search result for "نقب" | Category - All, Page 1
 

یاسر شاہ

محفلین
لگے نقب میری فصیل کو ہوئے وار میرے بدن پہ جو
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔

سجاد بھائی نقب تانیث ہے -شعر کی کچھ بہتر صورت یوں رہے گی :

جو نقب لگا کے فصیل میں مرے تن بدن پہ ہوئے ہیں وار
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں

یا

جو نقب لگی ہے فصیل میں جو ہوئے ہیں میرے بدن پہ وار
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں

شاید اب کچھ قابل قبول ٹھہرے اعجاز صاحب کے آگے -بہر حال مزید بہتر ہوتا اگرآپ رہزن یا قاتل وغیرہ کا بھی ذکر کر دیتے شعر میں -
 
سجاد بھائی نقب تانیث ہے -شعر کی کچھ بہتر صورت یوں رہے گی :

جو نقب لگا کے فصیل میں مرے تن بدن پہ ہوئے ہیں وار
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں

یا

جو نقب لگی ہے فصیل میں جو ہوئے ہیں میرے بدن پہ وار
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں

شاید اب کچھ قابل قبول ٹھہرے اعجاز صاحب کے آگے -بہر حال مزید بہتر ہوتا اگرآپ رہزن یا قاتل وغیرہ کا بھی ذکر کر دیتے شعر میں -
سر یاسر میں آپ کا بہت ممنون ہوں سر الف عین بھی میرے لئے ایک شفیق استاد کا درجہ رکھتے ہیں میں نے ان کے اعتراضات دور کرنے کی کوشش کی ہے آپ بھی اپنی نظرِِ کرم فرما دیجئیے اور سر الف عین سے بھی التماس ہے
تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا عروج ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔
چلے جس طرف مرے ناخدا وہاں لہروں کا بھی اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے رخِ بادباں سے گلہ نہیں۔
لگے زخم میرے بدن پہ جو مری روح تک وہ سما گئے۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔
یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کوئی اور در نہ قبول تھا۔
مجھے کچھ ملا نہ ملا مگر ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
آپ سے متفق ہوں ،کل ان کی تشریح پڑھ کے میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ یہ دور از کار تاویل ہے -ورنہ شعر، اپنی نئی پہلے مصرع کی ترتیب کے بعد، سست بندش کے باوجود، واضح اور قابل قبول ہے - شعر میں سامنے کی بات ہے کہ جو میرے گھر میں باوجود پاسبان کے نقب لگی اور مجھ پہ وار کیے گئے ان سب کا دوشی میں پھر بھی پاسبان کو نہیں ٹھہراتا بلکہ میرا گھر ہی ٹوٹا پھوٹا تھا -اس میں پاسبان کا لحاظ کر رہے ہیں -

باقی نقب کے دونوں تلفّظ درست ہیں -یہاں دیکھیے گا :

Search result for "نقب" | Category - All, Page 1
نقب کے تلفظ کی بات مان لیتا ہوں لیکن شعر کی تشریح مجھے اب بھی دور از کار محسوس ہو رہی ہے
 

الف عین

لائبریرین
اب کچھ بہتر ہو گئی ہے غزل
تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
.... کہکشاں سمجھنے کا کوئی قرینہ نہیں جیسا کہ کہہ چکا ہوں

مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا عروج ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔
... ضو فشاں صفت ہونی چاہیے، یہاں اسم باندھا گیا ہے

چلے جس طرف مرے ناخدا وہاں لہروں کا بھی اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے رخِ بادباں سے گلہ نہیں۔
.. درست ہو گیا

لگے زخم میرے بدن پہ جو مری روح تک وہ سما گئے۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔
... مری روح تک میں سما گئے' بہتر ہو گا یا' مری روح میں وہ سما... '
تھا شکستہ میرا مکانِ دل... کر دیں تو ایک عیب اور دور ہو جائے

یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کوئی اور در نہ قبول تھا۔
مجھے کچھ ملا نہ ملا مگر ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
... درست، مگر بہتر ہو کہ پہلا مصرع یوں ہو
کوئی اور در نہ قبول تھا، ترے سامنے ہی جبیں جھکی
 
اب کچھ بہتر ہو گئی ہے غزل
تری راہ میں رہا سرگراں مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں۔
میں شکستہ پا تھا نہ چل سکا مجھے کارواں سے گلہ نہیں۔
.... کہکشاں سمجھنے کا کوئی قرینہ نہیں جیسا کہ کہہ چکا ہوں

مرے آس پاس ہے تیرگی یہ ترے ستم کا عروج ہے۔
میں منا رہا ہوں سیاہ شب کوئی ضوفشاں سے گلہ نہیں۔
... ضو فشاں صفت ہونی چاہیے، یہاں اسم باندھا گیا ہے

چلے جس طرف مرے ناخدا وہاں لہروں کا بھی اچھال تھا۔
مری کشتیوں میں ہی چھید تھے رخِ بادباں سے گلہ نہیں۔
.. درست ہو گیا

لگے زخم میرے بدن پہ جو مری روح تک وہ سما گئے۔
تھا شکستہ حال مرا مکاں کوئی پاسباں سے گلہ نہیں۔
... مری روح تک میں سما گئے' بہتر ہو گا یا' مری روح میں وہ سما... '
تھا شکستہ میرا مکانِ دل... کر دیں تو ایک عیب اور دور ہو جائے

یہ جبیں جُھکی ترے سامنے کوئی اور در نہ قبول تھا۔
مجھے کچھ ملا نہ ملا مگر ترے آستاں سے گلہ نہیں۔
... درست، مگر بہتر ہو کہ پہلا مصرع یوں ہو
کوئی اور در نہ قبول تھا، ترے سامنے ہی جبیں جھکی
شکریہ سر
 
Top