غزل ۔ بات بھی تول رہا ہے پیارے ۔ رسا چغتائی

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
بات بھی تول رہا ہے پیارے​
یا یونہی بول رہا ہے پیارے​
​
شہر میں ڈھونڈ پڑی ہے تیری​
تو یہاں ڈول رہا ہے پیارے​
​
جب سے کنگال ہوا ہے یہ دل​
سیپیاں رول رہا ہے پیارے​
​
وہ کوئی اور ہو نہیں سکتا​
مجھ میں جو بول رہا ہے پیارے​
​
اپنے لہجے میں انا کا اپنی​
زہر کیوں گھول رہا ہے پیارے​
​
شل ہوئے پاؤں تو اب داروغہ ​
بیڑیاں کھول رہا ہے پیارے​
​
دھوپ رخصت ہوئی دیواروں سے​
سایا پر تول رہا ہے پیارے​
​
دل بھی خالی کبھی اتنا نہ رہا​
جتنا کشکول رہا ہے پیارے​
​
جب بھی پہنی ہے قبائے دنیا​
کچھ نہ کچھ جھول رہا ہے پیارے​
​
حال تو صاحبِ احوال سے تھا​
اب تو یہ خول رہا ہے پیارے​
​
ہم رساؔ جُھول رہے ہیں جھولا​
یا فلک ڈول رہا ہے پیارے​
​
رساؔ چغتائی​
​
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
واہ واہ!

مجھے تو بس ایک ہی بات سمجھ آئی احمد بھیا
اور وہ یہ کہ
باتوں کو تولنے کے لیے پیمانے بھی ایجاد ہوگئے ہیں اب :p
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ!

مجھے تو بس ایک ہی بات سمجھ آئی احمد بھیا
اور وہ یہ کہ
باتوں کو تولنے کے لیے پیمانے بھی ایجاد ہوگئے ہیں اب :p


کیا بات ہے عائشہ آج کل شاعری کے ذمرے میں نظر آ رہی ہیں۔ :)

باتوں کو تولنے کے پیمانے تو بہت پہلے سے ایجاد ہو چکے ہیں لیکن یہ پیمانے سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ :)
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
کیا بات ہے عائشہ آج کل شاعری کے ذمرے میں نظر آ رہی ہیں۔ :)

باتوں کو تولنے کے پیمانے تو بہت پہلے سے ایجاد ہو چکے ہیں لیکن یہ پیمانے سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ :)
جلد ہی غائب ہو جاؤں گی بھیا :p
اب یہ مشکل باتیں کیا خاک سمجھ آئیں گی مجھے۔۔:rolleyes:
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top