شاذ تمکنت غزل ۔۔۔ شاذ تمکنت - زندگی تیری رفاقت نہ ملی

الف عین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 21, 2009

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,298
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غزل

    شاذ تمکنت


    زندگی تیری رفاقت نہ ملی
    آئینہ دیکھا تو صورت نہ ملی

    ہم نے کیا جنسِ گراں پائ ہے
    بیچنے نکلے تو قیمت نہ ملی

    تو کہ ہے میری ضرورت جیسے
    زندگی حسبِ ضرورت نہ ملی

    ایک دنیا ہے جسے دنیا میں
    بار پانے کی اجازت نہ ملی

    ہم ادھورے نظر آئے کیا کیا
    جب ترے ملنے کی صورت نہ ملی

    آج کھولا تھا درِ خانۂ دل
    ایک بھی چیز سلامت نہ ملی

    روز ہم قتل ہوئے شاذ مگر
    خوں بہا کیا کہ شہادت نہ ملی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    سبحان اللہ سبحان اللہ ، کیا کہنے بابا جانی ، بہت شکریہ ،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    بہت خوب استاد محترم عمدہ کلام ہے

    ہم نے کیا جنسِ گراں پائ ہے
    بیچنے نکلے تو قیمت نہ ملی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,893
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ اعجاز صاحب شیئر کرنے کیلیے۔

    کیا خوبصورت غزل ہے۔

    آج کھولا تھا درِ خانۂ دل
    ایک بھی چیز سلامت نہ ملی

    واہ واہ واہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر