غزل: کتنے با ہوش ہو گئے ہم لوگ ٭ اعجاز رحمانی

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 27, 2019

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,077
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کتنے با ہوش ہو گئے ہم لوگ
    خود فراموش ہو گئے ہم لوگ

    جس نے چاہا ہمیں اذیت دی
    اور خاموش ہو گئے ہم لوگ

    دل کی آواز بھی نہیں سنتے
    کیا گراں گوش ہو گئے ہم لوگ

    ہم کو دنیا نے پارسا سمجھا
    جب خطا کوش ہو گئے ہم لوگ

    پی گئے جھڑکیاں بھی ساقی کی
    کیا بلانوش ہو گئے ہم لوگ

    اس طرح پی رہے ہیں خون اپنا
    جیسے مے نوش ہو گئے ہم لوگ

    شہر میں اس قدر تھے ہنگامے
    گھر میں روپوش ہو گئے ہم لوگ

    کتنے چہروں پہ آ گئی رنگت
    جب سے خاموش ہو گئے ہم لوگ

    زخم پائے ہیں اس قدر اعجازؔ
    آج گل پوش ہو گئے ہم لوگ

    ٭٭٭
    اعجاز رحمانی

    حوالہ
     
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پہلی نظر میں میں نے پڑھا۔
    کتنے پاپوش ہو گئے ہم پوگ
     

اس صفحے کی تشہیر