شکیب جلالی غزل-غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا- شکیب جلالی

غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
آگ جب دل میں سلگتی تھی دھوں کیوں نہ ہوا

سیلِ غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے
جوشِ گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا

کہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں
ہر حسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہوا

دشت بھی اس کے مکیں، شہر بھی اس میں آباد
تو جہاں آن بسے دل وہ مکاں کیوں نہ ہوا

ق

تو وہی ہے جو مرے دل میں چھپا بیٹھا ہے
اک ہی راز کبھی مجھ پہ عیاں کیوں نہ ہوا

یہ سمجھتے ہوئے، مقصود نظر ہے تو ہی
میں ترے حسن کی جانب نگراں کیوں نہ ہوا

اس سے پہلے کہ ترے لمس کی خوشبو کھو جائے
تجھ کو پا لینے کا ارمان جوں کیوں نہ ہوا

ق

تپتے صحرا تو مری منزلِ مقصود نہ تھے
میں کہیں ہمسفرِ ابرِ رواں کیوں نہ ہوا

اجنبی پر تو یہاں لطف سوا ہوتا ہے
میں بھی اس شہر میں بے نام و نشاں کیوں نہ ہوا

نارسائی تھی مرے شوق کا حاصل تو شکیب
حائلِ راہ کوئی سنگِ گراں کیوں نہ ہوا

شکیب جلالی​
 

فرخ منظور

لائبریرین
یہ غزل شکیب جلالی کی کتاب "لہو میں تر" سے لی گئی ہے۔ اعجاز صاحب نے یہ کتاب اردو شاعری سیکشن میں پوسٹ کر رکھی ہے۔ مکمل کتاب کے لئے یہ ربط دیکھیے۔
 

الف عین

لائبریرین
اس کی زیادہ تر شاعری میں نے خود بنفس نفیس ٹائپ کی تھی۔ اگر کچھ پہلے پوسٹ کر دیتے تو مجھ کو تکلیف کیوں ہوتی!! مذاق قطع نظر۔۔ شکریہ بہر حال
 
Top