غزل: زمیں سے پھول لیے، آسماں سے تارے لیے ٭ نعیم صدیقیؒ

زمیں سے پھول لیے، آسماں سے تارے لیے
تو جب غزل کوئی موزوں ہوئی تمہارے لیے

ترے جمال کی تصویر کھینچنے کے لیے
کہاں کہاں سے تخیّل نے استعارے لیے

زمانے بھر کا غم و درد میرے حصے میں
جہان بھر کا سکون و طرب تمہارے لیے

نہیں ہے ان کا تغافل ہی آزمائشِ شوق
ہے اعتنا بھی کٹھن امتحاں ہمارے لیے

ہزار ٹھوکریں کھا کر ترا سراغ ملا
کہاں کہاں سے نگہ نے لطیف اشارے لیے

کبھی یہ شان کہ ٹھکرا دیا سفینوں کو
کبھی یہ حال کہ تنکوں کے بھی سہارے لیے

گِلا بھی تم سے جو کرنا پڑا تو از پَئے شوق
جو لفظ ہم نے لیے، چُن کے پیارے پیارے لیے

٭٭٭
نعیم صدیقیؒ
 

محمداحمد

لائبریرین
خوبصورت غزل!

واہ واہ کیا کہنے!

لاجواب! ہر شعر اپنی مثال آپ ہے۔

حسن انتخاب کی داد قبول کیجے تابش بھائی!
 
واہ ! سبحان اللہ ! کیا تغزل ہے!! اچھی غزل ہے۔

ترے جمال کی تصویر کھینچنے کے لیے
کہاں کہاں سے تخیّل نے استعارے لیے

بہت خوب !!

ایک زمانے میں نعیم صدیقی اور ماہرالقادری کا کلام اخباروں اور رسالوں میں پڑھا کرتا تھا ۔ ماہرالقادری صاحب کے تنقیدی مضامین اور کتب پر تبصرے پڑھ کر ہی مجھے شعر وا دب کا کچھ کچھ فہم پیدا ہوا تھا ۔
 
Top