غزل براہ اصلاح

عمران سرگانی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 1, 2020

  1. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    604
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سر الف عین محمّد احسن سمیع :راحل:
    براہ کرم اصلاح فرما دیجئے

    افاعیل: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

    وہ اس قابل نہیں جو مشکلوں کا حل بتا پائے
    کہ دریا میں عصا اسکا کوئی رستہ بنا پائے

    تو اپنے درد کی کیوں خود مسیحائی نہیں کرتا
    کوئی فرہاد ہے جو دودھ کی نہریں بہا پائے

    یہاں جو حق بتائے کفر کے فتوے لگیں اس پر
    یہاں جو جھوٹ بولے ، حق چھپائے وہ جزا پائے

    بجائے روز بھاشن جھاڑنے کے سامنے آئے
    غریبی کو مٹا کر وہ غریبوں کی دعا پائے

    دیو! لو سے ملا کر لو ، کرو ایجاد اک سورج
    مخالف تیز آندھی بھی نہ جسکو پھر بجھا پائے

    یہاں سب سو رہے ہیں گھپ اندھیرے کے سبب عمران
    کسی کو جاگنا ہو گا جو باقی کو جگا پائے

    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    359
    تو اپنے درد کی کیوں خود مسیحائی نہیں کرتا
    کوئی فرہاد ہے جو دودھ کی نہریں بہا پائے

    السلام علیکم عمران بھائی پہلے مصرعہ میں تُو کا و حذف کرنا اچھا نہیں لگ ریا اور دوسرے مصرعہ سمجھ نہیں پایا کہ ماضی کے فرہاد کی بات ہے تو آپ کی ردیف کے ساتھ جچ نہیں رہا اور حال میں سوال کِیا گیا ہےجیسے" کوئی فرہاد ہے؟ جو دودھ کی نہریں بہا پائے" تو شعر میں دو لختی آ جاتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,724
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست ہے تقریباً، سجاد نے جس شعر کی نشان دہی کی ہے، وہ ضرور واضح نہیں، البتہ تو کی و کا اسقاط قابل قبول ہے۔
    البتہ
    یہاں جو حق بتائے کفر کے فتوے لگیں اس پر
    یہاں جو جھوٹ بولے ، حق چھپائے وہ جزا پائے
    حق بتانا محاورہ نہیں
    یہاں گر کوئی سچ بولے تو فتوے کفر کے لگ جائیں
    یا اس قسم کا کوئی مصرع بہتر ہو گا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    604
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت شکریہ سر ، اب دیکھیے

    وہ اس قابل نہیں جو مشکلوں کا حل بتا پائے
    کہ دریا میں عصا اسکا کوئی رستہ بنا پائے

    وہ شیریں آج بھی صحرا میں بھوکی اور پیاسی ہے
    کوئی فرہاد ہے جو دودھ کی نہریں بہا پائے

    یہاں گر کوئی سچ بولے تو فتوے کفر کے لگ جائیں
    یہاں جو جھوٹ بولے ، حق چھپائے وہ جزا پائے

    بجائے روز بھاشن جھاڑنے کے سامنے آئے
    غریبی کو مٹا کر وہ غریبوں کی دعا پائے

    دیو! لو سے ملا کر لو ، کرو ایجاد اک سورج
    مخالف تیز آندھی بھی نہ جسکو پھر بجھا پائے

    یہاں سب سو رہے ہیں گھپ اندھیرے کے سبب عمران
    کسی کو جاگنا ہو گا جو باقی کو جگا پائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,724
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب درست ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    604
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت شکریہ محترم
     
  7. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,077
  8. صابر بلوچ

    صابر بلوچ محفلین

    مراسلے:
    1
    روز بھاشن جھاڑنے کے طبیعت بہ ذرا سا بھاری ہے اس کی جگہ لطیف الفاظ کا چناؤ کیا جاسکتا تھا
     
    • متفق متفق × 1
  9. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,659
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    وہ اس قابل نہیں جو مشکلوں کا حل بتا پائے
    کہ دریا میں عصا اسکا کوئی رستہ بنا پائے


    سمندر میں عصا اسکا کوئی رستہ بنا پائے

    اک تجویز ہے، کچھ مصرعہ رواں ہوجائے گا


    *بھوکی و پیاسی اک تو لطیف ترکیب نہیں، دوسرا "اور "کی وجہ سے روانی مجروح ہوتی ہے
    ........
    جو شیریں دشتِ تنہائی میں ہے تشنہ دہن پھرتی
    کوئی فرہاد تو ہو، دودھ کی نہریں بَہا پائے

    اک تجویز ہے


    دیو! لو سے ملا کر لو ، کرو ایجاد اک سورج
    دیو سے مراد دیا ہے؟ اگر یہ ہے تو اسطرح کا تخاطب عجیب لگ رہا ہے اور اسکے ساتھ شعر تین ٹکروں میں بنٹا ہے جس سے روانی میں کمی ہے

    مخالف تیز آندھی بھی نہ جسکو پھر بجھا پائے



    یہاں سب سو رہے ہیں گھپ اندھیرے کے سبب عمران
    کسی کو جاگنا ہو گا جو باقی کو جگا پائے

    باقیوں کا محل ہے،


    یہ محض تجاویز ہے جو بحثیت قاری کے میں نے کہہ دیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر