غزل برائے اصلاح

میر شعیب نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 2, 2021

  1. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    محمد احسن سمیع : راحل :سر،
    الف عین سر، @محترم محمّد خلیل الرحمٰن ،
    سید عاطف علی سر اور
    آپ سبھی احباب سے اصلاح کی گزارش۔

    وہ محفل میں آتے ہیں ہر بار بن کر۔
    کہ ہر آنکھ لوٹے خطا کار بن کر۔

    زمینِ چمن کو نہ جانے ہوا کیا
    کہ آتی قاتل کی سرکار بن کر

    یہ ہم کو مٹانے کی سازش ہے شاید
    سبھی لوگ آئیں ہیں غمخوار بن کر
    ستم گر نے آخر ہمیں مار ڈالا
    کبھی پھول بن کر کبھی خار بن کر

    مری قوم اتنی کیوں منتشر ہے
    ذرا مل کے رہ لو وفا دار بن کر

    نگاہوں کو تیری طلب تھی مگر تو
    جو آیا تو آیا ہے تلوار بن کر

    مرے قتل پر اب سیاست کریں گے
    لہو چوس لیں گے یہ خونخوار بن کر

    از قلم خود

     
    آخری تدوین: ‏مارچ 2, 2021
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,851
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عزیزم یہ جو ٹیگ تم نے دئے ہیں، یہ تلاش کی آسانی کے لیے ہیں، توجہ مبذول کرنے والے ٹیگ صرف ناموں پر@ لگانے سے بنتے ہیں جس طرح تم نے ٹیگس لگائے ہیں!
    فرصت میں بعد میں آتا ہوں ان شاء اللہ
     
  3. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    غالباً یہاں بن سنور کر آنا مراد ہے ۔۔۔ تاہم محض ’’بن کر آتے ہیں‘‘ کہنے سے کچھ ابہام رہ جاتا ہے کہ ’’بننا‘‘ تو جان بوجھ کر انجان رہنے کے لیے بھی کہا جاتا ہے، جس کا یہاں محل نہیں
    لُوٹے یا لَوٹے؟؟؟ ۔۔۔ مطلع دوبارہ کہیں، یہ والا کچھ خاص نہیں لگا۔

    مفہوم واضح نہیں ہو سکا۔

    آئیں ہیں کو آتے ہیں کرنا زیادہ مناسب رہے گا۔ مگر یہاں بھی بات نامکمل سی محسوس ہوتی ہے۔ یعنی کہنا لوگوں کے بظاہر غم خواری کے پردے میں نقصان پہنچانے کی خو کو سازش سے تعبیر کیا گیا ہے، مگر اس بیانیے کے لیے الفاظ پورے نہیں شعر میں۔

    پہلا مصرع بحر میں نہیں۔
    دونوں مصرعوں میں ربط کی بھی کمی ہے۔ ایک تو انتشار کا وفاداری سے تعلق مجہول ہے۔ دوسرے یہ کس کے وفادار بن کر رہنے کی بات ہو رہی ہے، یہ بھی واضح نہیں۔

    یہ بھی واضح نہیں۔ آپ کی نگاہوں کو اس کی طلب تھی، یا اس کی نگاہوں کو کسی اور چیز کی ۔۔۔ پہلے مصرعے کے الجھاؤ کے سبب یہ بات صاف نہیں تھی۔
    پھر محبوب کا تلوار بن کر آنا بھی کوئی خاص معنویت پیدا نہیں کر رہا۔

    کون لہو چوس لے گا؟؟ یہ واضح نہیں۔
     
  4. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    سر آپکا قیمتی وقت دینے کے لیے شکریہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    جیسے میری مراد اس مصرعے میں بن سنور کر آنا ہی ہے۔ جان بوجھ کر بننا یہاں مراد نہیں ہے۔
    دوسرے مصرعے میں لُوٹے نہیں لَوٹے استعمال کیا ہے
     
  6. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    سر میں پھر بھی یہ شعر دوبارہ کہنے کی کوشش کروں گا
     
  7. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    سر معذرت کے ساتھ، شاید یہ زبان درازی ہے
    لیکن اس شعر کا مفہوم میری کم ضرفی کے مطابق
    یوں ہے کہ ہمارے ملک کی عوام اتنی غافل ہو
    چکی ہے کہ اقتدار قاتلوں کے ہاتھ میں آیا ہے
     
  8. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    معذرت کی کوئی بات نہیں بھائی ۔۔۔ میں بھی ایک مبتدی ہوں، سو میری بات غلط ہونا کچھ ایسا بعید از قیاس بھی نہیں۔
    دیکھو بھئی ۔۔۔ شاعر کے ذہن میں تو اپنے ہر ہی شعر کا مفہوم واضح ہوتا ہے ۔۔۔ تاہم اگر شعر کے الفاظ شاعر کے مافی الضمیر کا درست ابلاغ نہ کر پائیں تو ایسی صورت حال کو ’’معنی در بطنِ شاعر‘‘ کہا جاتا ہے، جو کوئی اچھی بات نہیں۔
    آپ اپنے شعر کو دیکھیں۔ پہلے مصرعے میں زمین چمن کا تذکرہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ ابہام پیدا ہو رہا ہے کہ شاید دوسرے مصرعے میں بھی زمینِ چمن کے لیے ہی کہا جا رہا ہے کہ وہ قاتل کی سرکار بن کر آتی ہے ۔۔۔ جو کہ ظاہر ہے کہ بے معنی بات ہے۔ تاہم جو مفہوم آپ نے بیان کیا، اس کے مطابق تو شعر دولخت ہو جاتا ہے، اور دنوں مصرعوں میں ربط کی کمی معلوم ہوتی ہے۔
    امید ہے میں اپنی بات سمجھا پایا ہوں گا۔
     
  9. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    جی سر آئیں کو آتے ہی کروں گا۔ بلکل سر اس شعر میں میں نے لوگوں کی غمخواری کو سازش سے تعبیر کیا ہے
     
  10. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    کم ظرفی نہیں بھائی ۔۔۔ اللہ نہ کرے کہ کوئی آپ کو کم ظرف کہے ۔۔۔ یہاں کم علمی کہنا چاہیے تھا :)
    (صرف جملہ درست کر رہا ہوں، واللہ آپ کو کم علم نہیں کہہ رہا :) )
     
  11. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    جی سر اب سمجھا اپ کیا کہنا چاہتے ہیں
     
  12. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    جی سر بہت کچھ سیکھ رہا ہوں آپ سے۔ اللّٰه آپ کو سلامت رکھے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    جی سر سمجھ گیا ہوں۔ باقی اشعار میں بھی اسی طرح وضاحت کر یں مہربانی ہو گی
     
  14. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    جی سر ضرور آئیے گا۔ مجھے خوشی ہو گی
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,851
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عزیزی راحل کہہ ہی چکے ہیں جو کچھ میں کہنا چاہ رہا تھا۔ کیونکہ ہر شعر میں کچھ نہ کچھ مسائل تھے، اس لئے طویل بات کرنی پڑتی جس کے لئے وقت کم تھا میرے پاس۔ اب راحل کی بات پر غور کر کے دوبارہ کہو غزل اور مفہوم کو اپنے بطن میں مت رکھو!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. میر شعیب

    میر شعیب محفلین

    مراسلے:
    19
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    شکریہ سر آپکا
     

اس صفحے کی تشہیر