غزل برائے اصلاح

سید احسان

محفلین
غزل برائے اصلاح

تمہارے بن چمن کتنے ورانے ہو گئے ہوں گے
محبت پر بیاں کتنے فسانے ہو گئے ہوں گے

کہا جب پیار سے ہو گا ارے جاناں ! ادھر آؤ
حریم جاں کے بھی موسم سہانے ہو گئے ہوں گے

یہ عقل و ہوش کی گتھی سلجھتی ہی نہیں جن سے
وفور شوق سے پاگل نہ جانے ہو گئے ہوں گے

فروزاں شمع محفل اک ترے آنے سے ہوتی تھی
نہ آنے پر ترے اب تو ورانے ہو گئے ہوں گے

جو ہم سے دور جاکر بس گئے ویران دنیا میں
سر راہے عدم ان کے ٹھکانے ہو گئے ہوں گے

جو دعوی پارسائی کا سجا رکھتے ہیں ماتھے پر
تری نظروں کے وہ بھی تو نشانے ہو گئے ہوں گے

کبھی جو ایک لمحے کے لئے میں روٹھ بیٹھا تو
مرے ناراض ہونے کے فسانے ہو گئے ہوں گے

جو کل تک بانٹتے تھے علم کی میراث لوگوں میں
مبادا اب وہی خالی خزانے ہو گئے ہوں گے

مری بستی کے دو عاشق جو اک دوجے سے لڑتے تھے
مجھے لگتا ہے اب تک وہ دوانے ہو گئے ہوں گے

سید احسان
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے
دیوانہ کو دیوانہ باندھنے کی روایت رہی ہے لیکن ویرانہ کو ورانہ بنانے کی کوئی مثال نہیں۔ اس اعتبار سے دو اشعار غلط ہیں قافیے کے باعث
یہ شعر سمجھ میں نہیں آیا، نہ جانے کیوں، نہ جانے کہاں جیسا استعمال تو درست ہے لیکن مجرد نہ جانے؟
یہ عقل و ہوش کی گتھی سلجھتی ہی نہیں جن سے
وفور شوق سے پاگل نہ جانے ہو گئے ہوں گے
سرِ راہے عدم؟ یا سر راہِ عدم؟
 

سید احسان

محفلین
اچھی غزل ہے
دیوانہ کو دیوانہ باندھنے کی روایت رہی ہے لیکن ویرانہ کو ورانہ بنانے کی کوئی مثال نہیں۔ اس اعتبار سے دو اشعار غلط ہیں قافیے کے باعث
یہ شعر سمجھ میں نہیں آیا، نہ جانے کیوں، نہ جانے کہاں جیسا استعمال تو درست ہے لیکن مجرد نہ جانے؟
یہ عقل و ہوش کی گتھی سلجھتی ہی نہیں جن سے
وفور شوق سے پاگل نہ جانے ہو گئے ہوں گے
سرِ راہے عدم؟ یا سر راہِ عدم؟

سر آپ کی توجہ حوصلہ دیتی ہے کچھ مزید لکھنے کا۔ آپ کا شکریہ ۔ اٹھائے گئے نکات کو پلے باندھتا ہوں

یہ عقل و ہوش کی گتھی سلجھتی ہی نہیں جن سے
وفور شوق سے پاگل نجانے ہو گئے ہوں گے
اس شعر میں یہ کہنے کی کوشش کی کئی ہے جو لوگ عقل و ہوش رکھتے ہوئے کوئی حل نہ نکال سکیں اگر انہیں عشق حاصل ہو جائے تو وہ شائد پاگل ہو جائیں ۔۔۔
نجانے ہو گئے ہوں گے، درست ہے؟؟
ورانے کی اگر کوئی مثال نہیں تو ٹھیک ہے درستی کروں گا ۔
 

الف عین

لائبریرین
سر آپ کی توجہ حوصلہ دیتی ہے کچھ مزید لکھنے کا۔ آپ کا شکریہ ۔ اٹھائے گئے نکات کو پلے باندھتا ہوں

یہ عقل و ہوش کی گتھی سلجھتی ہی نہیں جن سے
وفور شوق سے پاگل نجانے ہو گئے ہوں گے
اس شعر میں یہ کہنے کی کوشش کی کئی ہے جو لوگ عقل و ہوش رکھتے ہوئے کوئی حل نہ نکال سکیں اگر انہیں عشق حاصل ہو جائے تو وہ شائد پاگل ہو جائیں ۔۔۔
نجانے ہو گئے ہوں گے، درست ہے؟؟
ورانے کی اگر کوئی مثال نہیں تو ٹھیک ہے درستی کروں گا ۔

محض نجانے یا نہ جانے سے بات مکمل نہیں ہوتی، یہ کہہ چکا ہوں۔ جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان سے یہ مطلب نہیں نکلتا جو چاہ رہے ہیں۔ عقل و ہوش خود ہی ایک معمہ ہیں، یہ بیان ہوا ہے پہلے مصرع میں، دوسرا بے معنی ہے!
 

سید احسان

محفلین
محض نجانے یا نہ جانے سے بات مکمل نہیں ہوتی، یہ کہہ چکا ہوں۔ جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان سے یہ مطلب نہیں نکلتا جو چاہ رہے ہیں۔ عقل و ہوش خود ہی ایک معمہ ہیں، یہ بیان ہوا ہے پہلے مصرع میں، دوسرا بے معنی ہے!
شکر گزار ہوں سر۔ آپ کا کرم ہے
 
Top