غزل برائے اصلاح

سعید احمد سجاد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 14, 2019

  1. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    الف عین ، یاسر شاہ
    حضور اصلاح کے لئے پیشِ خدمت ہوں
    قفس میں کیا بے قراری تو کیا قرار کا موسم۔
    کسی کے رحم و کرم پر ہے انتظار کا موسم۔
    یہ رنجشیں تو رقیبوں کی محض چال تھی شاید۔
    کہ لوٹ آؤ پکارے تجھے بہار کا موسم۔
    تصوّرات نے سونے ہی کب دیا مجھےشب بھر۔
    تھا دلفریب بڑا اُس کفِ نگار کا موسم۔
    چراغ گل ہیں سبھی کچھ دکھائی بھی نہیں دیتا۔
    ستائے گا مجھے کب تک یونہی غبار کا موسم۔
    نہ کارواں کی خبر ہے نہ خط ملا کوئی ان کا۔
    بدل گیا ترے سجاد رازدار کا موسم۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    1,814
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    واہ سعید صاحب داد قبول کیجیے۔ بہت خوب

    قفس میں کیا بے قراری تو کیا قرار کا موسم
    کسی کے رحم و کرم پر ہے انتظار کا موسم

    یہ رنجشیں تو رقیبوں کی محض چال تھی شاید
    کہ لوٹ آؤ پکارے تجھے بہار کا موسم

    تصوّرات نے سونے ہی کب دیا مجھےشب بھر
    تھا دلفریب بڑا اُس کفِ نگار کا موسم

    چراغ گل ہیں سبھی کچھ دکھائی بھی نہیں دیتا
    ستائے گا مجھے کب تک یونہی غبار کا موسم

    نہ کارواں کی خبر ہے نہ خط ملا کوئی ان کا
    بدل گیا ترے سجاد رازدار کا موسم​
     
  3. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    بہت شکریہ فلسفی بھائی سدا خوش رہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    526
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    سجاد صاحب السلام علیکم -میرا خیال ہے یہ غزل از سر نو کہنے کی ضرورت ہے -

    پہلے شعر کے پہلے مصرعے میں بے قراری درست نہیں باندھا گیا -"بے" کا یوں دبنا جائز نہیں -پھر منطقی لحاظ سے انتظار کا موسم بھی تو ایک بے قراری ہی ہے لہٰذا اس سے مفر نہیں -

    دوسرے شعر میں مصرعوں کے درمیان مناسب ربط نہیں-

    تیسرے میں "کف نگار کا موسم" ترکیب جچتی نہیں -

    چوتھے میں منطقی سقم یہ ہے کہ غبار کے موسم میں چراغ کا کیا کام ،گل ہو چاہے جلتا ہو-

    پانچواں مجھے دو لخت لگا -

    اب دیکھیے اعجاز صاحب کیا فرماتے ہیں ؟کہ انھیں کی رائے حتمی ہے -
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    شکریہ سر
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,604
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلی بات تو میں یہ کہوں گا کہ بحر میں اضافی رکن کی وجہ سے روانی متاثر ہو گئی ہے، دوبارہ کہنے کی کوشش کی جائے تو رواں بحر کی بھی کوشش کی جا سکتی ہے۔ میرا اشارہ اس بحر کی طرف ہے
    کسی کے رحم پہ ہے انتظار کا موسم
    چوتھا شعر ہی مجھے قابل قبول لگا۔ منطق کے لحاظ سے بھی۔ چراغ گل ہونے کا یہی تو مطلب ہے کہ چراغ غبار میں جل ہی نہیں سکتے! ہاں، گل ہیں کی بجائے اگر چراغ روشن نہیں یا چراغ بھی نہیں کہا جائے تو بہتر ہو۔
    باقی یاسر شاہ سے متفق ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    شکریہ سر بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں
     
  8. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    سر اب نظرِ کرم فرمائیے گا
    قفس میں بند دلِ بےقرار کا موسم۔
    کسی کے رحم پہ ہے انتظار کا موسم۔
    ہے دلربا یہاں کلیوں کی رنگ و بو کتنی۔
    کہ لوٹ آؤ پکارے بہار کا موسم۔
    ایک پل تیرے خیالوں سے ذہن خالی نہیں۔
    بڑا حسین ہے نقش و نگار کا موسم۔
    چراغ بھی نہیں رہ میں کہ کچھ دکھائی دے۔
    ستائے گا مجھے کب تک غبار کا موسم۔
    نہ کارواں کی خبر ہے نہ خط ملا ان کا۔
    بگڑ گیا ہے مرے اختیار کا موسم۔
     
  9. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    سر اب نظرِ کرم فرمائیے گا
    قفس میں بند دلِ بےقرار کا موسم۔
    کسی کے رحم پہ ہے انتظار کا موسم۔
    ہے دلربا یہاں کلیوں کی رنگ و بو کتنی۔
    کہ لوٹ آؤ پکارے بہار کا موسم۔
    ایک پل تیرے خیالوں سے ذہن خالی نہیں۔
    بڑا حسین ہے نقش و نگار کا موسم۔
    چراغ بھی نہیں رہ میں کہ کچھ دکھائی دے۔
    ستائے گا مجھے کب تک غبار کا موسم۔
    نہ کارواں کی خبر ہے نہ خط ملا ان کا۔
    بگڑ گیا ہے مرے اختیار کا موسم۔
     
  10. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
     
  11. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
     
  12. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    526
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    قفس میں بند دلِ بےقرار کا موسم۔
    کسی کے رحم پہ ہے انتظار کا موسم۔

    مجھے تو "کسی کے رحم پہ "بھلا نہیں لگا -محاورہ اور روز مرّہ کے لحاظ سے "کسی کے رحم و کرم پہ ہونا" ہی ٹھیک ہے -"کسی کے رحم پہ" نہیں -اعجاز صاحب نے غالباً مثال دی تھی نئی مختصر بحر سے متعلق کہ سابقہ بحر سے اس بحر میں کیسے تبدیل کیا جائے -پہلے مصرع میں "بند" اضافی سا محسوس ہوا -ردیف کو بھی میری رائے ہے "موسم "کے بجائے "عالم "کر دیں کہ یہ کافی جامع لفظ ہے -یوں ایک شکل ہے :

    قفس میں یوں ہے دلِ بیقرار کا عالم
    امید ہے ،میں ہوں اور
    انتظار کا عالم

    "میں ہوں" کا یوں گرنا اعجاز صاحب کے نزدیک جائز نہیں -میرے نزدیک گنجائش ہے -مثالیں بھی ہیں شعرا کے ہاں -باقی وہ جو تجویز کریں -


    ہے دلربا یہاں کلیوں کی رنگ و بو کتنی۔
    کہ لوٹ آؤ پکارے بہار کا موسم۔

    اب آپ نے دونوں مصرعوں کے درمیان ربط قائم کر دیا -خوب -البتہ پہلے مصرع کی ترکیب رنگ و بو میں پہلا مذکّر ہے دوسرا مونث -اس ترکیب کو جمع کے طور پر برتیے تو مناسب ہے -اور دوسرے مصرع میں ابتدائی "کہ "بھرتی کا ہے -یوں ایک صورت ہے :

    ہیں دلربا یہاں کلیوں کے رنگ و بو کتنے
    چلے بھی
    آؤ پکارے بہار کا عالم

    "یہاں " کا یوں گرنا بھی گو مستحسن نہیں مگر چلتا ہے -

    ایک پل تیرے خیالوں سے ذہن خالی نہیں۔
    بڑا حسین ہے نقش و نگار کا موسم۔

    پہلا مصرع بے وزن ہو گیا -یوں کر کے دیکھیں :

    ترے خیالوں سے خالی نہیں ہے دل کوئی پل
    بڑا حسین ہے نقش و نگار کا عالم


    چراغ بھی نہیں رہ میں کہ کچھ دکھائی دے۔
    ستائے گا مجھے کب تک غبار کا موسم۔

    بقول اعجاز صاحب ٹھیک ہے -


    نہ کارواں کی خبر ہے نہ خط ملا ان کا۔
    بگڑ گیا ہے مرے اختیار کا موسم۔

    یہ شعر دوبارہ کہیں - نہیں سمجھ آیا -
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    شکریہ سر
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,604
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    'عالم' سے واقعی بہتر ہو گئی ہے غزل
    میں اس کو اس طرح ترجیح دوں گا
    قفس میں یوں ہے دلِ بیقرار کا عالم

    اگلا شعر یاسر کی اصلاح کے بعد درست ہو گیا ہے

    ترے خیالوں سے خالی نہیں ہے دل کوئی پل
    بڑا حسین ہے نقش و نگار کا عالم
    شعر وزن میں ہونے کے باوجود دو لخت لگتا ہے
    آخری شعر کے بارے میں بھی یاسر شاہ سے متفق ہوں
     
  15. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
     
  16. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    سر اس مصرعے کو یوں کر لیا جائے
    نہ کارواں کی خبر ہے نہ خط ملا ان کا۔
    اسی خلش سے ہے دوچار میرے پیار کا عالم
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,604
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دوسرا مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے
    دو لختی کی صورت اب بھی ہے
     
  18. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    69
    شکریہ سر میں پھر کوشش کرتا ہوں آپ کو بار بار تکلیف دیتا ہوں اس کے لئے معذرت حضور
     

اس صفحے کی تشہیر