1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

غزل برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 20, 2018

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے


    لب فراقِ یار کی تکلیف کو سہنے لگے
    جب خدا حافظ کسی اپنے کو ہم کہنے لگے

    پاس رہنے کی وجہ سے دوریاں بڑھنے لگیں
    اس لیے کچھ دیر ہم ان سے الگ رہنے لگے

    آبرو افکار کی الفاظ میں رہتی نہیں
    جب کسی کی گفتگو کو خامشی سہنے لگے

    خوبصورت مدعی کو دیکھ کر میرے گواہ
    منصفوں کے سامنے مجرم مجھے کہنے لگے

    چھوڑ کر آبادیاں جنگل چلے جانا سبھی
    خون جب پانی کی خاطر شہر میں بہنے لگے

    کہکشاں سے کم نہیں آنکھیں کہ جن میں رات بھر
    ٹمٹماتے اشک تاروں کی طرح رہنے لگے ​
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,616
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وجہ کا تلفظ غلط باندھا گیا ہے یہاں سبب بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
    پاس رہنے کے سبب سے......
    آبرو افکار کی الفاظ میں رہتی نہیں
    جب کسی کی گفتگو کو خامشی سہنے لگے
    بالا شعر سمجھ میں نہیں آیا
     
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
    میری غلط فہمی تھی۔ میں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ وجہ اور سبب ہم وزن الفاظ ہیں۔ یہ تبدیلی ٹھیک رہے گی سر!

    پاس رہنے کے سبب بڑھنے لگیں تھیں دوریاں
    اس لیے کچھ دیر ہم ان سے الگ رہنے لگے

    سر کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ کسی کی گفتگو کے جواب میں اگر مخاطب خاموش رہے تو فکر اور سوچ جس کو الفاظ کا سہارا دیا گیا ہے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,616
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میرے مشورے کی بنسبت یہ مصرع بہتر ہے لیکن 'تھیں' نہیں، 'تھی' کا محل ہے ۔
    دوسرے شعر کا یہ مطلب ہرگز سمجھ میں نہیں آتا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت شکریہ سر
    سر "دوریاں" جمع ہے اس لیے "لگیں تھیں" لکھا تھا۔ معذرت خواں ہوں اگر میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔

    جی سر اس کو نکال دیتا ہوں۔ اگر ممکن ہوا تو متبادل سوچتا ہوں۔
     
  6. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر یہ متبادل کیسا رہے گا

    وہ ہمارے سامنے دیوار کی مانند تھے
    جب ہمارے لفظ ان کی خامشی سہنے لگے

    سر "تھیں" کے حوالے سے ابھی تک تذبذب کا شکار ہوں۔ ذرا اس کی وضاحت فرما دیجیے گا۔ یعنی اس مصرعے میں "تھیں" درست ہے یا "تھی"

    پاس رہنے کے سبب بڑھنے لگیں تھیں دوریاں
     
  7. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    استاد محترم نے اصلاح کے طور پر تھی کا لفظ تجویز کیا ہے۔
    پاس رہنے کے سبب بڑھنے لگیں تھی دوریاں
     
  8. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جی محترم یہ بات تو میں سمجھ گیا تھا لیکن یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ "دوریاں" کے ساتھ "تھیں" مناسب ہے یا "تھی"
    یعنی اگر نثر میں لکھیں تو کچھ یوں لکھا جائے گا
    پاس رہنے کے سبب دوریاں بڑھنے لگیں تھیں
    یا میں غلطی کر رہا ہوں اور "دوریاں" جمع کے صیغے کے ساتھ "تھی" استعمال ہو گا
    پاس رہنے کے سبب دوریاں بڑھنے لگیں تھی

    پیشگی آپ سے بھی اور استاد محترم سے بھی معذرت اگر کچھ غلط لکھ رہا ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر