غزل برائے اصلاح: میں ایک خواب نیند میں کھو کر چلا گیا

akhtarwaseem

محفلین
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن

میں ایک خواب نیند میں کھو کر چلا گیا
اک اور اپنا روز یوں سو کرچلا گیا

جانے دُعا وہ کس کی تھی جو کام کرگئی
اک حادثہ قریب سے ہو کرچلا گیا

خوابوں کے گلشنوں میں ہیں کانٹے اُگے ہوئے
یہ کیا تُو میری نیند میں بو کر چلا گیا!

میری سُنی نہ ایک، بس اپنی کہے گیا
ساتھی بھی درد اپنا ہی رو کر چلا گیا

اُس کا نصیب جاگنا آساں نہیں ہے پھر
وہ جس کو وقت مار کے ٹھوکر چلا گیا

اُس کو مِرے فراق کا اتنا ہی غم ہوا
جیسے کسی امیر کا نوکر چلا گیا

یہ زندگی بھی ایک طرح نوکری ہی ہے
ہر ایک اپنا بار یاں ڈھو کر چلا گیا

میں زندگی کی قید سے نِکلا تو یوں لگا
سرکس کو جیسے چھوڑ کہ جوکر چلا گیا​
 
مکرمی اخترؔ صاحب، آداب۔
ماشاءاللہ اچھی غزل ہے۔ ایک آدھ مقام پر مجھے کچھ تردد ہے، سو تبادلۂ خیال کی غرض سے لکھے دے رہا ہوں۔

میں ایک خواب نیند میں کھو کر چلا گیا
اک اور اپنا روز یوں سو کرچلا گیا
مضمون اور خیال کے اعتبار سے مطلع اچھا ہے۔ تاہم مجھے ’’روز یوں سوکر چلا گیا‘‘کھٹک رہا ہے کیوں کہ روزمرہ کے مطابق تو دن سوتے ہوئے گزر گیا کہا جائے گا، جس کو اگر بحر کی بندش کے سبب تخفیف کرکے بھی بیان کریں تو سیاق و سباق کے اعتبار سے ’’سوتے گزر گیا‘‘ کہنا درست ہوگا۔

اُس کا نصیب جاگنا آساں نہیں ہے پھر
وہ جس کو وقت مار کے ٹھوکر چلا گیا
’’پھر‘‘ کی جگہ کسی طرح ’’دوبارہ‘‘ لاکر دیکھیں۔

دعاگو،
راحلؔ
 

akhtarwaseem

محفلین
مکرمی اخترؔ صاحب، آداب۔
ماشاءاللہ اچھی غزل ہے۔ ایک آدھ مقام پر مجھے کچھ تردد ہے، سو تبادلۂ خیال کی غرض سے لکھے دے رہا ہوں۔

مضمون اور خیال کے اعتبار سے مطلع اچھا ہے۔ تاہم مجھے ’’روز یوں سوکر چلا گیا‘‘کھٹک رہا ہے کیوں کہ روزمرہ کے مطابق تو دن سوتے ہوئے گزر گیا کہا جائے گا، جس کو اگر بحر کی بندش کے سبب تخفیف کرکے بھی بیان کریں تو سیاق و سباق کے اعتبار سے ’’سوتے گزر گیا‘‘ کہنا درست ہوگا۔

’’پھر‘‘ کی جگہ کسی طرح ’’دوبارہ‘‘ لاکر دیکھیں۔

دعاگو،
راحلؔ

زرہ نوازی کے لیئے شکریہ۔

"دوبارہ" والا مشورہ انتہائی مُناسب، شکریہ۔

میری نظر میں اس غزل کا مطلع ہی اس غزل کا سب سے کمزور
پہلو ہے۔ آپ نے جو ارشاد فرمایا میں اُس سے اتفاق کرتا ہوں۔
مطلع سب سے آخر میں تحریر کیا گیا، اس وقت تک تقریبا تمام
قافیے استمال ہو چُکے تھے۔ میں کوشش کروں گا کہ مطلع میں
کوئی اور بات کہہ سکوں۔ آپ کے وقت کے لیئے بے حد شکریہ۔
 

الف عین

لائبریرین
پہلے مطلع کی بات، روز کے بول چال والے معنی روزانہ Daily کے ہوتے ہیں
اک اور اپنا دن بھی یوں سو کر.. بہتر ہو گا
اگلے دو اشعار درست ہیں

میری سُنی نہ ایک، بس اپنی کہے گیا
ساتھی بھی درد اپنا ہی رو کر چلا گیا
... بڑی غلطی تو نہیں لیکن تقابل ردیفین کا سقم ہے۔ دوسرے مصرعے میں 'اپنا ہی' کے آ اور ی کا ایک ساتھ اسقاط اچھا نہیں
الفاظ یا ترتیب بدل کر کوشش کریں

اُس کا نصیب جاگنا آساں نہیں ہے پھر
وہ جس کو وقت مار کے ٹھوکر چلا گیا
.. اس کے نصیب 'کا' جاگنا اگر لا سکو تو بہتر ہے

اُس کو مِرے فراق کا اتنا ہی غم ہوا
جیسے کسی امیر کا نوکر چلا گیا
... درست

یہ زندگی بھی ایک طرح نوکری ہی ہے
ہر ایک اپنا بار یاں ڈھو کر چلا گیا
.... یاں لفظ بھرتی کا ہے بار کو ڈھو کر... شاید بہتر ہو

میں زندگی کی قید سے نِکلا تو یوں لگا
سرکس کو جیسے چھوڑ کہ جوکر چلا
.. درست، املا البتہ غلط ہے 'چھوڑ کے' کا محل ہے
 

akhtarwaseem

محفلین
سر الف عین صاحب

آپ کے تجویز کردہ نکات کو غزل کا حصہ بنا لیا ہے۔
آپ کے وقت اور توجہ کے لیئے بے حد شکرگزار ہوں۔
امید ہے سرپرستی اِسی طرح جاری رہے گی ۔
اختر وسیم
 
Top