غزل برائے اصلاح - تنہائیوں میں ساتھ جو جلتا تھا اک دیا

آدم نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 15, 2019

  1. آدم

    آدم محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    لسلام علیکم!
    اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
    الف عین
    یاسر شاہ
    فلسفی
    سید عاطف علی

    تنہائیوں میں ساتھ جو جلتا تھا اک دیا
    دنیا نے اس کا ساتھ گوارا نہیں کیا

    اس نے تری خوشی پہ سبھی کچھ لٹا دیا
    اک دردِ لا دوا کے سوا تو نے کیا دیا؟

    جب بھی مجھے لگا کہ کنارہ قریب ہے
    موجِ بلا نے پھر مجھے چپکے سے آ لیا

    وہ چاندنی ابھی بھی نچھاور کرے مگر
    میں نے ہی اپنی کھڑکی پہ پردہ گرا لیا

    کی آبیاری اس نے بہت چاہ سے مگر
    کیکر کا میں درخت تھا کچھ بھی نہ پھل دیا

    جس نے مجھے بھنور سے نکالا تھا اس سے میں
    ساحل پہ پہنچتے ہی کنارے پہ ہو لیا

    جس نے سمجھ لیا تھا مجھے اپنا کل جہاں
    میں نے اسے جہان کی خاطر بھلا دیا

    تنہا تھا مضطرب تھا پریشان تھا بہت
    ہنس کے، ہنسا کے اس نے سبھی غم مٹا دیا

    جس نے بھی چاہ کی تجھے پانے کی، تو نے پھر
    سوزِ نہاں کو اس کا مقدر بنا دیا

    ٹھکرا دیا تھا دنیا نے جس وقت، اس سمع
    اس نے خوشی خوشی مجھے دل میں بسا لیا

    باغ وبہار میں بھی یہ آدمؔ اداس تھا
    حوا نے آ کہ باغ کو جنت بنا دیا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,135
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    یہ سمجھ نہیں آیا

    حوا نے آ کے باغ کو جنت بنا دیا
     
    • متفق متفق × 1
  3. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    825
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    فلسفی بھائی کہاں غائب ہو گئے۔ آلکل خود نہیں لکھ رہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. آدم

    آدم محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اس میں صرف اتنا کہا ہے کہ جس وقت سب لوگوں نے مجھے تنہا چھوڑ دیا تھا، یا جس وقت باقیوں نے میری محبت کو ٹھکرا دیا تھا، اس وقت اِس نے مجھے محبت دی، یا اپنے دل میں بسا لیا۔ یہ بہت سادہ سا شعر ہے، مطلب کہ کوئی گہری بات یا مشاہدہ نہیں۔
     
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    شاید آپ نے سمےَ ( ہندی بمعنی وقت) لکھنا چاہا ہے؟

    دوسرا مصرع بحر میں نہیں
     
    • متفق متفق × 1
  6. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    6,453
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    وزن میں تو ہے لیکن وزن میں لانے کے لیے آدم صاحب نے "پہنچتے" کو بحر کی بھینٹ چڑھا دیا ۔
    انہوں نے پہنچتے کا کو فاعلن کر دیا جب کہ یہ فعولن ہوتا ہے ۔
     
    • متفق متفق × 2
  7. آدم

    آدم محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اوہ، جی ہاں، وہی۔ :quiet:

    میں پہنچ میں سے "ہ" کو گرا رہا تھا۔ شاید یہ غلط ہے۔
    یہ والا کیسا ہے؟
    ساحل سے لگتے ہی میں کنارے پہ ہو لیا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    6,453
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ساحل سے لگنا اور کنارے ہونا ایک ہی بات ہے اسے کسی مناسب تر شعری اسلوب میں ڈھالنا چاہیے ۔
     
  9. آدم

    آدم محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جس نے مجھے بھنور سے نکالا تھا، اس سے میں
    ساحل کو دیکھتے ہی کنارے پہ ہو لیا

    کیا یہ درست ہے؟
     
  10. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,135
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جی بھائی آج کل خیالات بہت منتشر ہیں۔ دفتر میں کام زیادہ ہے اس لیے کوئی باقاعدہ ترتیب نہیں بن رہی۔ یاد رکھنے کے لیے شکریہ۔ آپ کی تقریبا تمام کاوشیں پڑھتا ہوں۔
     
  11. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    السلام علیکم آدم!

    آپ کا نام بہت خوبصورت ہے -غزل بھی خوب ہے ما شاء اللہ -دو چار مقامات پر تجاویز دوں گا :


    وہ چاندنی ابھی بھی نچھاور کرے مگر
    میں نے ہی اپنی کھڑکی پہ پردہ گرا لیا

    پہلے مصرع میں "ابھی بھی "پسند نہیں آیا-مصرع کو یوں کیا جا سکتا ہے :

    گو چاندنی وہ چاند نچھاور کرے مگر
    میں نے ہی اپنی کھڑکی پہ پردہ گرا دیا

    جس نے مجھے بھنور سے نکالا تھا اس سے میں
    ساحل پہ پہنچتے ہی کنارے پہ ہو لیا

    ایک شکل یوں بھی ممکن ہے :

    جس نے ہمیں بھنور سے نکالا تھا ،ہم نے تو
    پا کر کنارا اس سے کنارا ہی کر لیا


    تنہا تھا مضطرب تھا پریشان تھا بہت
    ہنس کے، ہنسا کے اس نے سبھی غم مٹا دیا

    یہاں بھی دوسرے مصرع کی بندش چست کر لیں اس طرح سے :

    تنہا تھا مضطرب تھا پریشان تھا بہت
    اس نے ہنسی ہنسی میں ہر اک غم مٹا دیا

    جس نے بھی چاہ کی تجھے پانے کی، تو نے پھر
    سوزِ نہاں کو اس کا مقدر بنا دیا

    اس کو بھی بدل دیجیے :

    میں نے تو تجھ سے عشق کیا تو نے کیا کیا
    سوزِ نہاں کو میرا مقدر بنا دیا


    ٹھکرا دیا تھا دنیا نے جس وقت، اس سمع
    اس نے خوشی خوشی مجھے دل میں بسا لیا

    "دنیا" کا دبنا بھلا نہیں لگ رہا -"جس" ،"اس" بھی مزہ نہیں دے رہا -یوں ایک شکل ہے :


    ٹھکرا دیا جہان نے جس وقت اس گھڑی
    تم نے خوشی خوشی ہمیں دل میں بسا لیا

    باغ وبہار میں بھی یہ آدمؔ اداس تھا
    حوا نے آ کہ باغ کو جنت بنا دیا

    کہ =کے
     
    • متفق متفق × 1
  12. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    6,453
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    معنوی سطح پر کچھ الجھاو سا محسوس ہوتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  13. آدم

    آدم محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    شکریہ سر، حوصلہ افزائی کیلئے :) اور اتنی قیمتی تجاویز کیلئے

    اس میں "ابھی بھی" تب استعمال کیا تھا کہ وہ پہلے کی طرح اب بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے، لیکن میں نے ہی اپنا دل اس سے پھیر لیا ہے۔

    بہت خوب۔

    اس میں ایک سوال ہے کہ "جس نے بھی چاہ کی تجھے پانے کی" میں "تجھے" سے مراد میں نے خود کو لیا تھا۔ تو اگر میں آپکی تجویز کو اس طرح سے استعمال کر لوں تو اس کے حسن پہ کوئی خاطر خواہ فرق پڑے گا یا نہیں؟
    تو نے تو مجھ سے عشق کیا، میں نے کیا کیا
    سوزِ نہاں کو تیرا مقدر بنا دیا


    ایک اور چیز کہ پہلے والے شعر میں ۔ "جس نے بھی چاہ کی تجھے پانے کی، تو نے پھر" ۔ اس میں دو مفہوم لیے جا سکتے ہیں، ایک تو "تجھ" سے مراد "میں یا تم" لیا جا سکتا ہے اور دوسرا "اللہ"۔ اس میں تھوڑی سی رہنمائی فرما دیں کہ کون سا ورژن زیادہ موزوں رہے گا۔
     
  14. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    برادرم آپ درست فرما رہے ہیں میری تجاویز سے کہیں کہیں آپ کے خیالات بھی بدل گئے ہیں جو کہ مناسب نہیں تھا لیکن تجویز بہر حال تجویز ہوتی ہے کوئی اٹل چیز تو ہوتی نہیں-ایک مختلف زاویۂ نگاہ ہی ہوتی ہے -آپ کو اختیار حاصل ہے قبول کرنے یا نہ کرنے کا -
    آپ کی یہ مجوزہ شکل شاعری کی روایت کے خلاف لگی کہ شاعر خود کو ظالم ٹھہرا رہا ہے اور محبوب کو مظلوم -
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 16, 2019

اس صفحے کی تشہیر