غزل: اپنے دل پر لگا لیے چرکے

محمد وارث

لائبریرین
ایک دلچسپ بات آپ کو بتاؤں۔
سرائیکی زبان میں اسی لفظ سے ملتی جلتی شکل کا لفظ"چِرک" استعمال ہوتا ہے۔ جو کہ پنجابی لفظ کا متضاد ہے۔
چرک : دیر
چرکیں: دیر سے
پنجابی میں زیر کے ساتھ "چِرکا یا چِرکے" کا مطلب دیر سے ہی ہے اور سیف الملوک والے شعر میں بھی یہی مطلب ہے یعنی دیر سے۔ اردو میں " چَرکا یا چَرکے" زبر کے ساتھ ہی سنا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
فرہنگ آصفیہ میں لفظ چرکا، زبر کے ساتھ:

12345.jpg
 
گویا اسی چرکے کو ہی دکن والوں نے زیر و زبر کے ساتھ پیش بھی لگا دیا ہے۔
حیرت ہے زیر والے لفظ چرک کے پہلے معنی پیپ لکھے ہیں جو زخم سے قریب تر بھی ہے ۔
ہم چرکنا پرندے کے بیٹ کرنے میں بھی کافی استعمال کرتے ہیں ۔
 
حاضری لگوانے کی نیت سے چند اشعار پیش ہیں۔امید ہے کہ احباب رائے سے نوازیں گے۔

اپنے دل پر لگا لیے چرکے
ہم نے پھر ذکر آپ کا کر کے

میری آہوں میں کرب اتنا تھا
مجھ سے وحشت لپٹ گئی ڈر کے

تیغ و خنجر کہاں ہمارا نصیب
ہم تو گھائل ہیں دیدۂِ تر کے

جینا ایسا بھی کیا ضروری ہے
کہ جیا جائے روز مر مر کے

اپنا دل خود بجھا لیا ہم نے
آرزوؤں کی شمع گل کر کے

کچھ خلوص و وفا کی قدر نہیں
دل کے رشتوں پہ دام ہیں زر کے

ہے عجب یہ ترا نگر عاطفؔ
گھر ہیں مٹی کے، لوگ پتھر کے

عاطفؔ ملک
ستمبر ۲۰۲۲​
عمدہ غزل ہے ، عاطف صاحب ! داد قبول فرمائیے . آپ كے چوتھے شعر پر اپنی ایک ناچیز حالیہ غزل کا ایک شعر بیساختہ یاد آ گیا . سن لیجیے .

دُنیا کا ارمان وہی بس کرتے ہیں
پل پل مرنا جن کو جینا لگتا ہے

ایک مرتبہ پِھر بہت ساری داد .
 

یاسر شاہ

محفلین
حیرت ہے زیر والے لفظ چرک کے پہلے معنی پیپ لکھے ہیں جو زخم سے قریب تر بھی ہے ۔
ہم چرکنا پرندے کے بیٹ کرنے میں بھی کافی استعمال کرتے ہیں
چ مکسور والا چرک غلاظت اور بول و براز کے معنوں میں مستعمل ہے اسی چرک سے چرکیں تخلص رکھنے والے شاعر بھی مشہور ہیں جن کی زیادہ تر شاعری غلاظت سے پر تھی۔چنانچہ ایک شعر جی چاہتا ہے سنا ہی دوں
۔۔۔۔۔۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
یہ بھی بتائیے کہ تسلی کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی کیا کوئی شک تھا۔ اگر تھا تو پیش کا یا زیر کا ؟
اور سننے اور استعمال میں عام مشاہدہ کیا تھا ؟
ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مطلع کے لیے کہا تھا مصرع تو ایک مرتبہ تسلی کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ عام طور پر بہت زیادہ استعمال نہیں ہوتا یہ لفظ۔ویسے میں نے ہمیشہ زبر کے ساتھ ہی پڑھا ہے اس کو۔
بہت خوب عاطف بھائی!

ماشاء اللہ!

ان اشعار پر خصوصی داد۔





جیتے رہیے۔ :)
بہت شکریہ احمد بھائی۔
مشاعرے کے طرحی مصرع پر کہی گئی آپ کی غزل کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہوں😜
مزے کی بات یہ ہے کہ ہم بھی شروع سے چِرکے ہی بولتے سںنتے آئے ہیں۔ :)
بہت بہتر
ایک دلچسپ بات آپ کو بتاؤں۔
سرائیکی زبان میں اسی لفظ سے ملتی جلتی شکل کا لفظ"چِرک" استعمال ہوتا ہے۔ جو کہ پنجابی لفظ کا متضاد ہے۔
چرک : دیر
چرکیں: دیر سے
آپ بھی کہیں ہماری طرح سرائیکی تو نہیں؟
فرہنگ آصفیہ میں لفظ چرکا، زبر کے ساتھ:

12345.jpg
بہت بہت شکریہ وارث صاحب۔
عمدہ غزل ہے ، عاطف صاحب ! داد قبول فرمائیے . آپ كے چوتھے شعر پر اپنی ایک ناچیز حالیہ غزل کا ایک شعر بیساختہ یاد آ گیا . سن لیجیے .

دُنیا کا ارمان وہی بس کرتے ہیں
پل پل مرنا جن کو جینا لگتا ہے

ایک مرتبہ پِھر بہت ساری داد .
واہ۔۔۔۔۔عمدہ شعر ہے۔
داد کیلیے شکرگزار ہوں محترمی۔
استادِ محترم کی توجہ اور شفقت ہے کہ ہم جیسے بھی کچھ کہہ لیتے ہیں۔ورنہ ہم کس قابل بھلا۔
 
Top