غزل: اِسی میں الجھا رہا، عادتیں بدلتا رہا

عزیزانِ من، آداب و تسلیمات!

خدا کا کرم ہے کہ کئی برسوں بعد آج کل آمد زور و شور سے جاری ہے :)
سو اسی واسطے ایک تازہ غزل پیشِ خدمت ہے، گر قبول افتد، زہے عز و شرف!

دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اِسی میں الجھا رہا، عادتیں بدلتا رہا
میں تیرے غم کے لئے فرصتیں بدلتا رہا

ابھی اٹھے گی اور اٹھ کر مجھے منا لے گی!
اسی امید میں شب کروٹیں بدلتا رہا

جنم سے آج تک اپنی وہی کہانی رہی
ہمارا وقت بھی بس ساعتیں بدلتا رہا!

کبھی کہیں پہ سنبھالا، کبھی کہیں پٹخا
زمانہ کیوں یہ مری حالتیں بدلتا رہا؟

تری طرف سے بھی شاید کمی رہی کوئی!
جو تیرا ہو نہ سکا، چاہتیں بدلتا رہا

بہت ہی چھوٹا ترا ظرف تھا، جو گھبرا کر
تو آزمائشوں سے، طاعتیں بدلتا رہا

اسے ملال، کوئی غم، فسوں نہیں تھا اگر
نجانے چہرے کی کیوں رنگتیں بدلتا رہا

تمام عمر گزاری بس ایک خواہش میں
بس اک امید کی میں ہئیتیں بدلتا رہا

وہ خلوتوں میں ہمیشہ سے صرف میرا تھا
جہاں کے خوف سے بس جلوتیں بدلتا رہا

بس ایک رنگ سے اُکتا کہیں نہ جائیں ہم
خدا کریم ہے! وہ نعمتیں بدلتا رہا

تھکا کے مارنا مقصو تھا محبت میں؟
کیوں اپنی ذات کی تُو وسعتیں بدلتا رہا؟

کسی نے اس کو نہ چاہا پھر اس قدر راحلؔ
وہ میرے بعد کئی چوکھٹیں بدلتا رہا!
 
آخری تدوین:
جنم سے آج تک اپنی وہی کہانی رہی
ہمارا وقت بھی بس ساعتیں بدلتا رہا!
بہت عمدہ
کبھی کہیں پہ سنبھالا، کبھی کہیں پٹخا
زمانہ کیوں یہ مری حالتیں بدلتا رہا؟
زبردست اعلی
بہت خوب غزل ۔
 

بافقیہ

محفلین
جی عروضی کچھ سقم محسوس ہورہا ہے۔۔۔
باقی استاد شعرا بتائیں گے۔ الف عین صاحب کو ٹیگ کردیں۔

م فا ع لن ف ع لا تن م فا ع لن ف ع لن
تُ آ ز ما ئ شُ سے طا عَ تے ب دل تَ رَ ہا

میری تقطیع کے حساب سے تو مسئلہ نہیں ہونا چاہیئے، عروض کی ویب گاہ پر بھی جائزہ لیا تھا، وہاں بھی کسی سقم کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

بہر حال، دیکھیں، اعجاز صاحب کی نظر پڑتی ہے تو وہ کیا فرماتے ہیں۔

دعاگو،
راحلؔ
 

الف عین

لائبریرین
اعجاز صاحب کی نظر پڑ گئی مگر، پہلے قوافی پر پڑی! کروٹیں اور چوکھٹیں قوافی کس طرھ ممکن ہیں ساعتیں عادتیں کے ساتھ!
مذکورہ مصرع اگرچہ وزن میں ہے لیکن متعدد حروف کا اسقاط گوارا نہیں لگتا۔ 'آزمائشوں سے' محض آزمائش سے' اور ش اور س کا متصل آنا تنافر کی صورت ہے
 
اعجاز صاحب کی نظر پڑ گئی مگر، پہلے قوافی پر پڑی! کروٹیں اور چوکھٹیں قوافی کس طرھ ممکن ہیں ساعتیں عادتیں کے ساتھ!
مذکورہ مصرع اگرچہ وزن میں ہے لیکن متعدد حروف کا اسقاط گوارا نہیں لگتا۔ 'آزمائشوں سے' محض آزمائش سے' اور ش اور س کا متصل آنا تنافر کی صورت ہے

جناب استاد محترم، اعجاز صاحب، تسلیمات

آپ کی توجہ کے لئے شکرگزار ہوں۔ بات آپ کی درست ہے، چوکھٹ اور کروٹ کو ساعت اور عادت کے ساتھ بطور قافیہ ہضم کرنا مشکل ہے، میں نے اس لئے کر لیا کہ ’’وَٹ‘‘ اور ’’دَت‘‘ آج کل کے لہجے میں قریب المخرج ہی ہوتے ہیں :) بہرحال، سقم تو ہے :)

دعاگو،
راحلؔ
 
اعجاز صاحب کی نظر پڑ گئی مگر، پہلے قوافی پر پڑی! کروٹیں اور چوکھٹیں قوافی کس طرھ ممکن ہیں ساعتیں عادتیں کے ساتھ!
مذکورہ مصرع اگرچہ وزن میں ہے لیکن متعدد حروف کا اسقاط گوارا نہیں لگتا۔ 'آزمائشوں سے' محض آزمائش سے' اور ش اور س کا متصل آنا تنافر کی صورت ہے

ویسے، اگر مطلعے کے کسی ایک مصرعے میں ’’وَٹ، ہٹ،‘‘ وغیرہ پر مبنی قافیہ باندھا جاتا تو کی تب بھی یہ سقم قائم رہتا؟
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب !
بزمِ سخن میں خوش آمدید راحل صاحب! امید ہے رونقیں بڑھاتے رہیں گے ۔ استادِ محترم الف عین صاحب نے آپ پر نظرِ کرم کردی ہے تو یہ شرف کی بات ہے ۔ اس روشن چراغ سے روشنی حاصل کرتے رہیئے ۔ اللہ کریم اعجاز صاحب کو سلامت رکھے اور ان کے وقت اور توانائی میں برکت عطا فرمائے ۔ آمین ۔
قافیے پر یہیں محفل میں کئی دھاگے موجود ہیں ۔ متعلقہ زمرے میں دیکھ لیجئے ۔ پہلے مبادیات دیکھ لیجئے اور اس کے بعد پھرکوئی بات پوچھنی ہو تو بلا جھجک پوچھ لیجئے گا ۔
ویسے یہ راحل کے کیا معنی ہوئے ؟! یعنی واپس جانے والا؟!
 
بہت خوب !
بزمِ سخن میں خوش آمدید راحل صاحب! امید ہے رونقیں بڑھاتے رہیں گے ۔ استادِ محترم الف عین صاحب نے آپ پر نظرِ کرم کردی ہے تو یہ شرف کی بات ہے ۔ اس روشن چراغ سے روشنی حاصل کرتے رہیئے ۔ اللہ کریم اعجاز صاحب کو سلامت رکھے اور ان کے وقت اور توانائی میں برکت عطا فرمائے ۔ آمین ۔
قافیے پر یہیں محفل میں کئی دھاگے موجود ہیں ۔ متعلقہ زمرے میں دیکھ لیجئے ۔ پہلے مبادیات دیکھ لیجئے اور اس کے بعد پھرکوئی بات پوچھنی ہو تو بلا جھجک پوچھ لیجئے گا ۔
ویسے یہ راحل کے کیا معنی ہوئے ؟! یعنی واپس جانے والا؟!


مکرمی جناب ظہیر صاحب، آداب

سب سے پہلے تو آپ کی توجہ کے لئے شکر گزار ہوں۔ اعجاز صاحب کی جانب سے بھی اب تک نہایت مہربانی کا معاملہ رہا ہے۔ باقی جہاں تک قوافی کی بحث کا تعلق ہے تو اس بابت پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ اصولا مجھے محترم اعجاز صاحب کے رائے سے کوئی اختلاف نہیں۔ آپ کا مشورہ بھی سر آنکھوں پر، علم قافیہ کے تعاقب میں اس چوپال کو ضرور کھنگالوں گا، تاہم ایسا نہیں ہے کہ میں قوافی کے عیوب سے یکسر ناواقف ہوں یا پھر اس سقم سے آگاہ نہیں تھا جس کی جانب محترم اعجاز صاحب نے اشارہ فرمایا تھا۔ علم قافیہ کے باب میری ناقص معلومات کا بنیادی مآخذ تو حضرت شمس الرحمن فاروقی کی درس بلاغت ہے اور اسی کے توسط سے یہ بات بھی جانتا ہوں کہ اردو شاعری میں اصلا "صوتی قافیوں" کا جواز موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مربی و مرشدی جناب سرور عالم راز صاحب سے بھی اس ضمن کافی استفادہ کیا ہے۔ جن دنوں ان کی اردو انجمن فعال تھی تو بلاواسطہ ان سے کسب فیض کا موقع مل جایا کرتا تھا، جب سے انجمن بند ہوئی ہے رابطہ منقطع ہے اور فیس بک پر اگرچہ وہ ہمارے ساتھ مربوط ہیں لیکن وہ وہاں پہلے بھی زیادہ فعال نہیں تھے، فالج کے حملے کے بعد تو اس کا استعمال انہوں نے تقریبا ترک ہی کردیا تھا۔ اللہ کرے کہ بخیر و عافیت ہوں۔ بہرحال ان کے مضامین کی اب بھی کسب فیض کا ذریعہ ہیں۔

خیر، بات کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی جا رہی ہے، سو واپس اصل نکتہ کی جانب آتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے اوپر لکھا کہ ایسا نہیں ہے کہ مجھے مذکورہ قوافی کے معیوب، یا یکسر غلط ہونے کا اندازہ نہیں تھا، تاہم معاصرین میں اس روش کا رواج کافی عرصہ قبل پڑ چکا ہے اور ان "نام نہاد" صوتی قافیوں کی مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ حاصل کلام یہ انسانی فطرت سے مجبور، کبھی کبھار جانتے بوجھتے ایسا گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ صاحبان علم، خصوصا آپ ایسے اساتذہ کو یہ گناہ، گناہ بے لذت محسوس ہوتا ہو، مگر خود عاصی کے لئے تو ہرگناہ، "گناہ بالذت" ہی ہوتا ہے نا! ورنہ وہ گناہ میں پڑے ہی کیوں؟ :)

تخلص کی بابت آپ نے سوال کیا، بس اس کا جواب دے کر اجازت چاہوں گا۔ فیروزاللغات اور اسکے علاوہ مقتدرہ قومی زبان والوں کی آن لائن لغت میں بھی راحل کے معنی "کوچ کرنے والا، پیدل چلنے والا، مسافر" وغیرہ دیکھے ہیں، واللہ اعلم

ایک بار پھر آپ کی توجہ کے لئے ممنون و متشکر ہوں۔ امید ہے آپ نے میری کسی کو برا نہیں مانا ہوگا، اور امید ہے آپ سے آئندہ بھی شرف تخاطب حاصل رہے گا۔

دعاگو،

راحل۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
صوتی قوافی قابل قبول ہیں لیکن ت اور ٹ صوتی طور پر بھی میل نہیں کھاتے جس طرح س، ص، ث یا ز، ذ، ض، ظ۔ بس یہی دو مجموعۂ حروف صوتی کہے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی پنجاب ق اور ک کو یکساں آواز قرار دیتے ہیں جو غلط ہے۔
 
صوتی قوافی قابل قبول ہیں لیکن ت اور ٹ صوتی طور پر بھی میل نہیں کھاتے جس طرح س، ص، ث یا ز، ذ، ض، ظ۔ بس یہی دو مجموعۂ حروف صوتی کہے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی پنجاب ق اور ک کو یکساں آواز قرار دیتے ہیں جو غلط ہے۔

مکرمی جناب اعجاز صاحب، آداب۔ آپ کی بات کے آگے سر تسلیم خم۔ لیکن شاعر کو معیوب اشعار دیوان برقرار رکھنے کا حق تو حاصل ہے نا :)

ویسے برسبیل تذکرہ عرض کرتا چلوں کہ میری مادری زبان اردو ہی ہے۔ ہمارے دادا ہندوستان کے شہر شاہجہاں پور سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ والد کی پیدائش گو گہ تقسیم فورا بعد کراچی ہی میں ہوئی، تاہم ان کے دونوں بڑے بھائی اور بہت سے عم زاد وہیں شاہجہاں پور میں ہی پلے بڑھے تھے :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
مکرمی جناب ظہیر صاحب، آداب
سب سے پہلے تو آپ کی توجہ کے لئے شکر گزار ہوں۔ اعجاز صاحب کی جانب سے بھی اب تک نہایت مہربانی کا معاملہ رہا ہے۔ باقی جہاں تک قوافی کی بحث کا تعلق ہے تو اس بابت پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ اصولا مجھے محترم اعجاز صاحب کے رائے سے کوئی اختلاف نہیں۔ آپ کا مشورہ بھی سر آنکھوں پر، علم قافیہ کے تعاقب میں اس چوپال کو ضرور کھنگالوں گا، تاہم ایسا نہیں ہے کہ میں قوافی کے عیوب سے یکسر ناواقف ہوں یا پھر اس سقم سے آگاہ نہیں تھا جس کی جانب محترم اعجاز صاحب نے اشارہ فرمایا تھا۔ علم قافیہ کے باب میری ناقص معلومات کا بنیادی مآخذ تو حضرت شمس الرحمن فاروقی کی درس بلاغت ہے اور اسی کے توسط سے یہ بات بھی جانتا ہوں کہ اردو شاعری میں اصلا "صوتی قافیوں" کا جواز موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مربی و مرشدی جناب سرور عالم راز صاحب سے بھی اس ضمن کافی استفادہ کیا ہے۔ جن دنوں ان کی اردو انجمن فعال تھی تو بلاواسطہ ان سے کسب فیض کا موقع مل جایا کرتا تھا، جب سے انجمن بند ہوئی ہے رابطہ منقطع ہے اور فیس بک پر اگرچہ وہ ہمارے ساتھ مربوط ہیں لیکن وہ وہاں پہلے بھی زیادہ فعال نہیں تھے، فالج کے حملے کے بعد تو اس کا استعمال انہوں نے تقریبا ترک ہی کردیا تھا۔ اللہ کرے کہ بخیر و عافیت ہوں۔ بہرحال ان کے مضامین کی اب بھی کسب فیض کا ذریعہ ہیں۔
خیر، بات کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی جا رہی ہے، سو واپس اصل نکتہ کی جانب آتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے اوپر لکھا کہ ایسا نہیں ہے کہ مجھے مذکورہ قوافی کے معیوب، یا یکسر غلط ہونے کا اندازہ نہیں تھا، تاہم معاصرین میں اس روش کا رواج کافی عرصہ قبل پڑ چکا ہے اور ان "نام نہاد" صوتی قافیوں کی مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ حاصل کلام یہ انسانی فطرت سے مجبور، کبھی کبھار جانتے بوجھتے ایسا گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ صاحبان علم، خصوصا آپ ایسے اساتذہ کو یہ گناہ، گناہ بے لذت محسوس ہوتا ہو، مگر خود عاصی کے لئے تو ہرگناہ، "گناہ بالذت" ہی ہوتا ہے نا! ورنہ وہ گناہ میں پڑے ہی کیوں؟ :)
تخلص کی بابت آپ نے سوال کیا، بس اس کا جواب دے کر اجازت چاہوں گا۔ فیروزاللغات اور اسکے علاوہ مقتدرہ قومی زبان والوں کی آن لائن لغت میں بھی راحل کے معنی "کوچ کرنے والا، پیدل چلنے والا، مسافر" وغیرہ دیکھے ہیں، واللہ اعلم
ایک بار پھر آپ کی توجہ کے لئے ممنون و متشکر ہوں۔ امید ہے آپ نے میری کسی کو برا نہیں مانا ہوگا، اور امید ہے آپ سے آئندہ بھی شرف تخاطب حاصل رہے گا۔
دعاگو،
راحل۔
یہ تو سب اچھی باتیں ہیں، راحل صاحب ۔ سرور صاحب الحمدللہ خیریت سے ہیں ۔ پچھلے ماہ ہی بات ہوئی تھی ۔ ہشاش بشاش ہیں ۔ قوافی کے بارے میں ذرا گہرے مطالعہ کا مشورہ آپ کا مندرجہ ذیل سوال پڑھ کر دیا تھا۔
ویسے، اگر مطلعے کے کسی ایک مصرعے میں ’’وَٹ، ہٹ،‘‘ وغیرہ پر مبنی قافیہ باندھا جاتا تو کی تب بھی یہ سقم قائم رہتا؟
آپ کے اس سوال سے لگ رہا تھا کہ قافیہ کے بنیادی تصور پر گرفت کچھ مضبوط نہیں ۔ قافیہ تو طے ہی مطلع میں ہوتا ہے ۔ اگر یہ مصرع پڑھا جائے کہ "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں" تو ہمیں قطعی معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں قافیہ و ردیف کیا ہیں ۔ بلکہ یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں ردیف ہے بھی یا نہیں ۔ دوسرا مصرع پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اور امتحاں قوافی ہیں اور ہیں ردیف ہے ۔دونوں مصرعوں کو دیکھ کر ہی حروفِ قافیہ کا علم ہوا کہ الف حرفِ روی ہے اور نون غنہ زائد (حرفِ وصل) ہے ۔ چانچہ اب بقیہ اشعار کے لئے قافیہ مقر ہوگیا ۔ اب تمام اشعار میں کہاں ، سناں ، بیاں ، گماں وغیرہ ہی بطور قافیہ آسکتے ہیں ۔ اب آپ کے سوال کے مطابق اگر مطلع میں عادتیں اور کروٹیں بطور قافیہ لائے جائیں تو پھر حرفِ روی کیا ٹھہرےگا؟ بقیہ اشعار کے لئے قافیہ کیسے قائم ہوگا؟ صوتی قافیے کی وضاحت الف عین صاحب پہلے ہی کرچکے ہیں ۔ یہ دونوں قوافی تو ہم صوت بھی نہیں ہیں ۔

راحل کے معنی بتانے کا بہت شکریہ۔
 
یہ تو سب اچھی باتیں ہیں، راحل صاحب ۔ سرور صاحب الحمدللہ خیریت سے ہیں ۔ پچھلے ماہ ہی بات ہوئی تھی ۔ ہشاش بشاش ہیں ۔ قوافی کے بارے میں ذرا گہرے مطالعہ کا مشورہ آپ کا مندرجہ ذیل سوال پڑھ کر دیا تھا۔

آپ کے اس سوال سے لگ رہا تھا کہ قافیہ کے بنیادی تصور پر گرفت کچھ مضبوط نہیں ۔ قافیہ تو طے ہی مطلع میں ہوتا ہے ۔ اگر یہ مصرع پڑھا جائے کہ "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں" تو ہمیں قطعی معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں قافیہ و ردیف کیا ہیں ۔ بلکہ یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں ردیف ہے بھی یا نہیں ۔ دوسرا مصرع پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اور امتحاں قوافی ہیں اور ہیں ردیف ہے ۔دونوں مصرعوں کو دیکھ کر ہی حروفِ قافیہ کا علم ہوا کہ الف حرفِ روی ہے اور نون غنہ زائد (حرفِ وصل) ہے ۔ چانچہ اب بقیہ اشعار کے لئے قافیہ مقر ہوگیا ۔ اب تمام اشعار میں کہاں ، سناں ، بیاں ، گماں وغیرہ ہی بطور قافیہ آسکتے ہیں ۔ اب آپ کے سوال کے مطابق اگر مطلع میں عادتیں اور کروٹیں بطور قافیہ لائے جائیں تو پھر حرفِ روی کیا ٹھہرےگا؟ بقیہ اشعار کے لئے قافیہ کیسے قائم ہوگا؟ صوتی قافیے کی وضاحت الف عین صاحب پہلے ہی کرچکے ہیں ۔ یہ دونوں قوافی تو ہم صوت بھی نہیں ہیں ۔

راحل کے معنی بتانے کا بہت شکریہ۔

مکرمی ظہیر صاحب، آداب۔ یہ جان کر دل کو بہت خوشی اور تسلی ہوئی کہ قبلہ سرور صاحب خیریت سے ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل ان سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، شاید ان کا ای میل پتہ اب تبدیل ہوگیا ہو! اگر ان سے رابطے کا کوئی متبادل ذریعہ ہو تو نجی پیغام میں عنایت فرما دیں۔

دعاگو،
راحلؔ
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
مکرمی ظہیر صاحب، آداب۔ یہ جان کر دل کو بہت خوشی اور تسلی ہوئی کہ قبلہ سرور صاحب خیریت سے ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل ان سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، شاید ان کا ای میل پتہ اب تبدیل ہوگیا ہو! اگر ان سے رابطے کا کوئی متبادل ذریعہ ہو تو نجی پیغام میں عنایت فرما دیں۔

دعاگو،
راحلؔ
متعدد بار کوشش کے باوجود آپ کو ذاتی پیغام نہ بھیج سکا ۔ ۔ہر طرح لکھ دیکھا لیکن آپ کا نامِ نامی کسی صورت ٹیگ ہونے پر تیار نہیں ۔ میں ذیل میں سرؔور صاحب کی ذاتی ویب گاہ کا ربط دے رہا ہوں ۔ اس صفحے پر ان کی ایمیل کے تمام پتے اور فون نمبر درج ہے ۔
Sarwar Alam Raz Sarwar -- Contact Us | رابطہ
 
آخری تدوین:
Top