غزل: اس بارگاہِ ناز کو منزل بنا کے چل ٭ نعیم صدیقیؒ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 20, 2019

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,624
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اس بارگاہِ ناز کو منزل بنا کے چل
    آنکھوں میں ان کا جلوۂ رنگیں بسا کے چل

    ہر پھول آستیں میں ہے کانٹا لیے ہوئے
    اس باغِ پُر بہار میں دامن بچا کے چل

    اس دیس میں خودی پہ ہے اظہار ناروا
    گر سر کٹا سکے تو یہاں سر اٹھا کے چل

    اک لغزشِ نگاہ میں ہے غارتِ حیات
    فتنوں بھری فضا میں نگاہیں جھکا کے چل

    گر حریت کے گیت ہی گانے کا ہو جنوں
    زنجیرِ قید اپنے لیے خود اٹھا کے چل

    پیشِ نظر اگر ہے حقیقت کی جستجو
    بت خانۂ خیال کو ٹھوکر لگا کے چل

    ٭٭٭
    نعیم صدیقیؒ
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. احمد محمد

    احمد محمد محفلین

    مراسلے:
    486
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ۔۔۔ بہت خوب۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ہر پھول آستیں میں ہے کانٹا لیے ہوئے
    اس باغِ پُر بہار میں دامن بچا کے چل

    اک لغزشِ نگاہ میں ہے غارتِ حیات
    فتنوں بھری فضا میں نگاہیں جھکا کے چل

    کیا بات ہے! کیا خوب کہا ہے ۔ سبحان اللہ سبحان اللہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر