غزل: اتنی سی، زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی ٭ محمود غزنوی

اتنی سی، زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی
اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی

کچھ دیر جلتا رہتا ہواؤں کے رو برو
گھر کے دیے سے اتنی مروت نہ ہو سکی

اس کم وفا نے زخم وہ بخشا کہ اس کے بعد
ہم سے تو ساری عمر محبت نہ ہو سکی

وہ بھی سمجھ سکا نہ مری وحشتوں کا حال
مجھ سے بھی اپنے غم کی وضاحت نہ ہو سکی

سوچو تو پور پور تھکن سے ہے چور چور
دیکھو تو طے ذرا سی مسافت نہ ہو سکی

٭٭٭
محمود غزنوی

 

وسیم

محفلین
اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی
اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی

غم اتنا بڑا تھا، زندگی بھول جانے کے لیے مختصر ٹہری:(
 
اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی
اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی

غم اتنا بڑا تھا، زندگی بھول جانے کے لیے مختصر ٹہری:(
علاماتِ وقف اردو میں بھی اہمیت کی حامل ہیں ورنہ ہم تو اس مصرع کو دو طرح سے پڑھ رہے ہیں

اتنی سی، زندگی میں ریاضت نہ ہوسکی

اتنی سی زندگی، میں ریاضت نہ ہوسکی
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت خوب!

خوبصورت غزل ہے۔
کچھ دیر جلتا رہتا ہواؤں کے رو برو
گھر کے دیے سے اتنی مروت نہ ہو سکی
وہ بھی سمجھ سکا نہ مری وحشتوں کا حال
مجھ سے بھی اپنے غم کی وضاحت نہ ہو سکی
سوچو تو پور پور تھکن سے ہے چور چور
دیکھو تو طے ذرا سی مسافت نہ ہو سکی

بالخصوص یہ اشعار بہت عمدہ ہیں۔
 
Top