غزل: آنکھیں تھیں سرخ ، زَرْد مرے رخ کا رنگ تھا

احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
ایک غزل پیش خدمت ہے . غزل پرانی ہے ، لیکن دیکھیے شاید ایک آدھ شعر کام کا نکل آئے . حسب معمول آپ کی رائے کا انتظار رہیگا .

غزل

آنکھیں تھیں سرخ ، زَرْد مرے رخ کا رنگ تھا
موسم بہار کا مری حالت پہ دنگ تھا

آئی تھی سُو ئے خار ہوا نذرِ بو لیے
افسوس ، کم نصیب کا دامن ہی تنگ تھا

رقصاں ہے آج راکھ ہوا میں اسی جگہ
محفل میں محوِ رقص جہاں کل پتنگ تھا

اے کاش ، کوئی دیکھتا ہاتھوں کی جھرٌیاں
ہر شخص غرقِ نغمۂ مضراب و چنگ تھا

دِل سے بہت کہا کہ بتوں پر نہ آ ، مگر
اِس شیشہ گاہ کا تو مقدر ہی سنگ تھا

فرہاد و قیس ہی تھے جو مشہور ہو گئے
ورنہ جہاں میں عشق کا انجام ننگ تھا

دریا میں ہنس کو تھی گہر کی تلاش اور
قطرہ ہر ایک زیرِ نگاہِ نہنگ تھا *

اکرام پا كے آج وہ خاموش ہو گئے
کل تک جن اہلِ شہر کا لہجہ دبنگ تھا

عؔابد ملے جو خاک میں ، سب ایک ہو گئے
کوئی کبھی تھا شاہ تو کوئی ملنگ تھا

*دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ (غؔالب)

نیازمند،
عرفان عابدؔ
 

یاسر شاہ

محفلین
واہ۔ اچھی غزل ہے۔ماشاء اللہ
دِل سے بہت کہا کہ بتوں پر نہ آ ، مگر
اِس شیشہ گاہ کا تو مقدر ہی سنگ تھا
کیا بات ہے!بہت خوب
آئی تھی سُو ئے خار ہوا نذرِ بو لیے
یہاں" نذر_ بو لیے" کچھ جچا نہیں۔
 
واہ۔ اچھی غزل ہے۔ماشاء اللہ

کیا بات ہے!بہت خوب

یہاں" نذر_ بو لیے" کچھ جچا نہیں۔
یاسر صاحب ، آپ کی داد باعثِ صد مسرت ہے . شکریہ ! "نذرِ بو لیے" پر آپ کا خیال سَر آنكھوں پر . لیکن آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اِس میں کیا قباحت ہے .
 

یاسر شاہ

محفلین
یاسر صاحب ، آپ کی داد باعثِ صد مسرت ہے . شکریہ ! "نذرِ بو لیے" پر آپ کا خیال سَر آنكھوں پر . لیکن آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اِس میں کیا قباحت ہے .
برادر مکرم علوی صاحب میری رائے یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اردو الفاظ و محاورات کے مفاہیم میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔قرآنی اردو تراجم میں اس کا خیال رکھا جاتا ہے جیسے میں پچھلے دنوں مولانا شاہ عبدالقادر کا قرآنی ترجمہ دیکھ رہا تھا۔جہاں سلام کرنے کے معنوں میں "مجرا بجا لانا" مستعمل تھا لیکن اب کوئی سلام کے لیے مجرا نہیں استعمال کرتا۔اسی طرح" گمراہ "پہلے "بے راہ" کا مطلب ادا کرتا تھا لیکن پھر اس سے مراد لی گئی غلط راہ چلنے والا لہذا ایک نہایت حساس آیت کا ترجمہ بدل دیا گیا اور "گمراہ" کی جگہ "بے راہ" آگیا۔
اب اہل زبان بو سے مراد بدبو لیتے ہیں لہذا اگر کسی نے خوشبو بھی لگا رکھی ہو اور کوئی کہہ دے کہ آپ سے بو آرہی ہے تو وہ یہ نہیں کہے گا "جی ڈیوڈ آف کول واٹرلگائی ہے "بلکہ برا مانے گا اور نہانے کی طرف مائل ہو گا۔ لہذا شاعر کے لیے اہل زبان سے مجالست اور بدلتی زبان کا شعور بھی ضروری ہے۔بہر حال میں نے احتیاط برتی ہے اور یہ کہنے کے بجائے کہ "نذرِ بو لیے" غلط ہے یہی عرض کیاہے کہ
یہاں" نذر_ بو لیے" کچھ جچا نہیں۔
بہرحال اپنے شعر کے آپ مالک ہیں۔
 
اب اہل زبان بو سے مراد بدبو لیتے ہیں لہذا اگر کسی نے خوشبو بھی لگا رکھی ہو اور کوئی کہہ دے کہ آپ سے بو آرہی ہے تو وہ یہ نہیں کہے گا "جی ڈیوڈ آف کول واٹرلگائی ہے "بلکہ برا مانے گا اور نہانے کی طرف مائل ہو گا۔
یاسر بھائی عرف کی حد تک تو آپ کی بات ٹھیک ہے کہ اب ویسا ہی رواج ہے جو آپ نے لکھا، لیکن اہل زبان شعر میں آج بھی "بو" اوربدبو میں فرق کر ہی لیتے ہیں ... "بوئے گل" کے تذکرے پر الحمدللہ کوئی بھی ناک پر رومال نہیں رکھتا :)
 
برادر مکرم علوی صاحب میری رائے یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اردو الفاظ و محاورات کے مفاہیم میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔قرآنی اردو تراجم میں اس کا خیال رکھا جاتا ہے جیسے میں پچھلے دنوں مولانا شاہ عبدالقادر کا قرآنی ترجمہ دیکھ رہا تھا۔جہاں سلام کرنے کے معنوں میں "مجرا بجا لانا" مستعمل تھا لیکن اب کوئی سلام کے لیے مجرا نہیں استعمال کرتا۔اسی طرح" گمراہ "پہلے "بے راہ" کا مطلب ادا کرتا تھا لیکن پھر اس سے مراد لی گئی غلط راہ چلنے والا لہذا ایک نہایت حساس آیت کا ترجمہ بدل دیا گیا اور "گمراہ" کی جگہ "بے راہ" آگیا۔
اب اہل زبان بو سے مراد بدبو لیتے ہیں لہذا اگر کسی نے خوشبو بھی لگا رکھی ہو اور کوئی کہہ دے کہ آپ سے بو آرہی ہے تو وہ یہ نہیں کہے گا "جی ڈیوڈ آف کول واٹرلگائی ہے "بلکہ برا مانے گا اور نہانے کی طرف مائل ہو گا۔ لہذا شاعر کے لیے اہل زبان سے مجالست اور بدلتی زبان کا شعور بھی ضروری ہے۔بہر حال میں نے احتیاط برتی ہے اور یہ کہنے کے بجائے کہ "نذرِ بو لیے" غلط ہے یہی عرض کیاہے کہ

بہرحال اپنے شعر کے آپ مالک ہیں۔
یاسر صاحب ، وضاحت کا شکریہ ! میں آپ کی اِس بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ وقت كے ساتھ الفاظ کا مفہوم اور استعمال بدلتا ہے . لیکن الفاظ کا مفہوم اخذ کرتے وقت سیاق ( context ) کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے . اگر صرف یہ کہا جائے کہ ’یہاں بو آ رہی ہے‘ تو ’بو‘ كے معنی ’بدبو‘ لیے جائینگے . لیکن اگر ’خار‘ کا ذکر ہو تو ’بو‘ سے مراد ’گل کی بو‘ یعنی ’خوشبو‘ ہوگی .علاوہ اَز ایں یہاں لفظ ’ نذر‘ بھی قابل غور ہے . نذر ہمیشہ اچھی چیز کی دی جاتی ہے . ظاہر ہے کہ ’ بدبو‘ نذر كے لائق نہیں . :)
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
یاسر بھائی عرف کی حد تک تو آپ کی بات ٹھیک ہے کہ اب ویسا ہی رواج ہے جو آپ نے لکھا، لیکن اہل زبان شعر میں آج بھی "بو" اوربدبو میں فرق کر ہی لیتے ہیں ... "بوئے گل" کے تذکرے پر الحمدللہ کوئی بھی ناک پر رومال نہیں رکھتا :)
عزیزم اس موقع پہ وہ مثل یاد آتی ہے بولو کھیوڑے کی سنتا ہے گھوڑے کی۔
میں اردو کی بات کر رہا ہوں بھائی ۔ بوئے گل فارسی ترکیب ہے۔اور جس مصرع کی طرف میں اشارہ کررہا ہوں وہاں گل کا ذکر نہیں اور چونکہ مصرع اردو ہے اسی کا اعتبار ہوگا۔ مصرع کی نثر اور مزید دو جملے دیکھیے:

1۔ کانٹے کی طرف ہوا بو تحفے میں لیے آ رہی ہے
2۔ کانٹے کی طرف ہوا خوشبو تحفے میں لیے آرہی ہے
3۔کانٹے کی طرف ہوا مہک تحفے میں لیے آرہی ہے

ظاہر سی بات ہے دوسرا اور تیسرا جملہ زیادہ جچ رہا ہے اور میں اپنے ذوق کے لحاظ سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے پہلا جچ نہیں رہا جس کی وجہ میں بیان کر چکا ہوں اور اپنی رائے پر قائم ہوں کہ بالکل نہیں جچ رہا۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یاسر بھائی عرف کی حد تک تو آپ کی بات ٹھیک ہے کہ اب ویسا ہی رواج ہے جو آپ نے لکھا، لیکن اہل زبان شعر میں آج بھی "بو" اوربدبو میں فرق کر ہی لیتے ہیں ... "بوئے گل" کے تذکرے پر الحمدللہ کوئی بھی ناک پر رومال نہیں رکھتا :)
راحل بھائی ، دخل در معقولات کے لئے انتہائی معذرت خواہ ہوں ۔ لیکن آپ کی بات پڑھ کر ایک نکتے کی وضاحت کئے بغٖیر رہ نہیں سکتا ۔ امید ہے اس بدتہذیبی پر مجھے معاف فرمائیں گے۔
یاسر بھائی کی بات میں وزن ہے ۔ معاصر اردو میں بو کا لفظ جب مفرد استعمال ہوتا ہے تو عام طور پر اس کے معنی ناگوار بو کے لئے جاتے ہیں ۔ یاسر نے اس بات کو مثال سے واضح بھی کیا ہے ۔ لیکن جب یہی لفظ کسی چیز کے ساتھ مخصوص کردیا جائے تو پھر اس کے معنی تخصیص کے مطابق ہوں گے ۔ بوئے گل ، بوئے کباب ، بوئے بہار ، بوئے شراب ، بوئے زہر ، بوئے آرزو ، بوئے خوں ، بوئے نفرت اور اسی قسم کی ان گنت تراکیب میں بو کے معنی اس کے مضاف الیہ سے متعین ہوں گے ۔
یاسر صاحب ، وضاحت کا شکریہ ! میں آپ کی اِس بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ وقت كے ساتھ الفاظ کا مفہوم اور استعمال بدلتا ہے . لیکن الفاظ کا مفہوم اخذ کرتے وقت سیاق ( context ) کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے . اگر صرف یہ کہا جائے کہ ’یہاں بو آ رہی ہے‘ تو ’بو‘ كے معنی ’بدبو‘ لیے جائینگے . لیکن اگر ’خار‘ کا ذکر ہو تو ’بو‘ سے مراد ’گل کی بو‘ یعنی ’خوشبو‘ ہوگی .علاوہ اَز ایں یہاں لفظ ’ نذر‘ بھی قابل غور ہے . نذر ہمیشہ اچھی چیز کی دی جاتی ہے . ظاہر ہے کہ ’ بدبو‘ نذر كے لائق نہیں . :)
علوی صاحب ، آپ کی بات درست ہے کہ نذر اور خار کے پس منظر میں یہاں بو کے معنی بدبو نہیں لئے جائیں گے ۔ لیکن نذرِ بو کے معنی خوشبو بھی تو نہیں لئے جاسکتے ۔ وجہ وہی ہے جو یاسر بھائی نے لکھی ۔ ویسے یہاں نذرِ بو کے بجائے اگر بوئے گل کہا جائے تو کیا مضائقہ ہے ۔ قاری کو زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ بات بالکل براہِ راست ہوجائے گی ۔
آئی تھی سُو ئے خار ہوا بوئے گل لیے
افسوس ، کم نصیب کا دامن ہی تنگ تھا
بے شک ایسا کرنے سے نذر اور تنگیِ دامن کی رعایت جاتی رہتی ہے اور بوئے گل لیے میں معمولی عیبِ تنافر بھی ہے لیکن میری ناقص رائے میں نذرِ بو سے پیدا ہونے والے تاثر کی نسبت یہ بندش زیادہ گوارا ہے ۔
اگر نذر اور دامن کی رعایت بھی برقرار رکھنا ہو تو پھر ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے:
لائی تھی سوئے خار ہوا نذرِ بوئے گل
افسوس کم نصیب کا دامن ہی تنگ تھا
جناب علوی صاحب ، اس دخل در معقولات کے لئے میں آپ سے پیشگی معذرت خوا ہ ہوں ۔ اگر آپ احباب اس نکتے پر پہلے ہی سے گفتگو نہ کررہے ہوتے تو بخدا میری جرات نہیں تھی کہ یہ تجویز دیتا۔ امید ہے آپ درگزر فرمائیں گے ۔

اس اچھی غزل کے اشعار پر آپ کو ایک دفعہ پھر داد و تحسین!
 

الف عین

لائبریرین
دکن میں عام بول چال میں بھی بو سے مراد خوشبو ہی ہوتی ہے، اور اس کا تلفظ بھی واو مجہول یعنی جو، تو کی طرح کیا جاتا ہے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ ہو گیا۔ لیکن مجھے بھی یاسر کی بات میں وزن محسوس ہوا، ظہیراحمدظہیر کے مشورے نہایت صائب ہیں
 
میں اردو کی بات کر رہا ہوں بھائی ۔ بوئے گل فارسی ترکیب ہے
اردو میں مستعمل نہیں؟؟؟ جب اردو میں اس کا استعمال عام ہے تو اس کو فارسی قرار دے دینا اعتراض برائے اعتراض ہی لگے گا
انتہائی معذرت مگر مجھے اس دلیل میں وزن محسوس نہیں ہوا ... خاص کر جبکہ زیر بحث مصرعے کے سیاق و سباق سے اس میں بو کا مطلب بھی خوب واضح ہے ... یہاں بو سے بدبو کشید کرنا مجھے تو محض ادبی زور آزمائی ہی لگتا ہے. شعر اور نثر کے ماحول میں فرق ہوتا ہے ... جوبات نثر پر صادق آتی ہو، لازم نہیں کہ شعر پر بھی اس کا بعینہ اطلاق ہو.
گستاخی کے لیے بار دگر معذرت.
 
Top