شیفتہ غزلِ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم

طارق شاہ

محفلین
غزلِ
نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ

کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم
دانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہم

شاید رقیب ڈوب مریں بحرِ شرم میں
ڈوبیں گے موجِ اشک کی طغیانیوں میں ہم

محتاجِ فیضِ نامیہ کیوں ہوتے اس قدر
کرتے جو سوچ کچھ جگر افشانیوں میں ہم

پہنچائی ہم نے مشق یہاں تک کہ ہو گئے
استادِ عندلیب، نواخوانیوں میں ہم

غیروں کے ساتھ آپ بھی اٹھتے ہیں بزم سے
لو میزبان بن گئے مہمانیوں میں ہم

جن جن کے تو مزار سے گزرا وہ جی اٹھے
باقی رہے ہیں ایک ترے فانیوں میں ہم

گستاخیوں سے غیر کی ان کو ملال ہے
مشہور ہوتے کاش ادب دانیوں میں ہم

دیکھا جو زلفِ یار کو تسکین ہو گئی
یک چند مضطرب تھے پریشانیوں میں ہم

آنکھوں سے یوں اشارہء دشمن نہ دیکھتے
ہوتے نہ اس قدر جو نگہبانیوں میں ہم

جو جان کھو کے پائیں تو فوزِ عظیم ہے
وہ چیز ڈھونڈتے ہیں تن آسانیوں میں ہم

پیرِ مغاں کے فیضِ توجہ سے شیفتہ
اکثر شراب پیتے ہیں روحانیوں میں ہم

 

طارق شاہ

محفلین
عمدہ انتخاب ہے .شیفتہ کا کلام بہت کم ہی گزرا ہے نظروں سے ہو سکے تو مزید انتخاب بھی شئیر کیجیے گا ۔ شکریہ
مدیحہ صاحبہ
اظہار خیال کے لئے ممنون ہوں
خوشی ہی جو نواب شیفتہ کی غزل بالا آپ کو پسند آئی
مزید کلام ، جی ضرور ، انشااللہ
تشکّر
 
Top