مصطفیٰ خاں شیفتہ

  1. طارق شاہ

    شیفتہ "نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ" ہوا نہ مدّ نظر چشم یار کے بدلے

    غزل نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ ہوا نہ مدّ نظر چشم یار کے بدلے ہزار رنگ یہاں روزگار کے بدلے صبا کو بھائی جو محفل کی تیری، رنگینی چمن کو داغ دیے لالہ زار کے بدلے کِیا ارادہ اگر سیرِ باغ کا تم نے! قیامت آئے گی ابر بہار کے بدلے خلافِ عہد ہے شیوہ، تو کیا قباحت ہے؟ ستم کا عہد، وفا کے قرار کے...
  2. طارق شاہ

    شیفتہ غزلِ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ "اُس جنبشِ ابروکا گلہ ہو نہیں سکتا"

    غزلِ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ اُس جنبشِ ابروکا گلہ ہو نہیں سکتا دل گوشت ہے ناخُن سے جُدا ہو نہیں سکتا کچھ تو ہی اثر کر، تِرے قربان! خموشی نالوں سے تو کچھ کام مِرا ہو نہیں سکتا گرغیر بھی ہو وقفِ سِتم تو ہے مُسلّم کچھ تم سے بجزجوروجفا، ہونہیں سکتا کھولے گرۂ دل کو تِرا ناخنِ شمشیر یہ کام اجل...
  3. طارق شاہ

    شیفتہ غزلِ نواب محمد مصطفیٰ خاں شیفتہ ۔۔ " جی داغِ غمِ رشْک سے جل جائے تو اچھا "

    غزلِ نواب محمد مصطفیٰ خاں شیفتہ جی داغِ غمِ رشْک سے جل جائے تو اچھا ارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھا پروانہ بنا، میرے جلانے کو وفادار محفل میں کوئی شمع بدل جائے تو اچھا کس چین سے نظارۂِ ہردم ہو میّسر دل کوچہء دشمن میں بہل جائے تو اچھا تم غیر کے پہلو سے نکل آؤ تو بہتر حسرت یہ مرے دل کی...
  4. طارق شاہ

    شیفتہ غزلِ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم

    غزلِ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم دانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہم شاید رقیب ڈوب مریں بحرِ شرم میں ڈوبیں گے موجِ اشک کی طغیانیوں میں ہم محتاجِ فیضِ نامیہ کیوں ہوتے اس قدر کرتے جو سوچ کچھ جگر افشانیوں میں ہم پہنچائی ہم نے مشق یہاں تک کہ ہو گئے...
Top