غالب کے لطیفے

محمد وارث نے 'غالبیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 8, 2007

  1. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جوتے

    ایک رات سید سرادر، مرزا کے ہاں تشریف لائے، جب تھوڑی دیر کے بعد رخصت ہونے لگے تو مرزا خود اپنے ہاتھ میں شمعدان لیکر کھسکتے ہوئے لبِ فرش تک آئے تا کہ وہ روشنی میں جوتا دیکھ کر پہن لیں۔ انہوں نے کہا۔ "قبلہ و کعبہ آپ نے کیوں تکلیف فرمائی، میں اپنا جوتا پہن لیتا۔"

    اس پر مرزا نے کہا۔ "میں آپ کا جوتا دکھانے کو شمعدان نہیں لایا بلکہ اس لئے لایا ہوں کہ کہیں آپ میرا جوتا نہ پہن جائیں۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بلا

    ایک دفعہ مرزا مکان بدلنا چاہتے تھے، ایک مکان خود دیکھ کر آئے، اسکا دیوان خانہ تو پسند آگیا لیکن محل سرا خود نہ دیکھ سکے۔ گھر پر آ کر اسکے دیکھنے کے لئے بی بی کو بھیجا، وہ دیکھ کر آئیں تو ان سے پسند ناپسند کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا۔ "اس میں تو لوگ بلا بتاتے ہیں۔"

    مرزا نے چہک کر جواب دیا۔ "کیا دنیا میں آپ سے بھی بڑھ کر کوئی بلا ہے؟"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    خدا کے ہاں

    مرزا کی بہن بیمار ہوئیں تو عیادت کو گئے، پوچھا " بُوا، کیا حال ہے؟"

    بولیں۔ "مرتی ہوں، قرض کی فکر ہے کہ گردن پر لئے جاتی ہوں۔"

    آپ نے کہا۔ "بُوا یہ کیا فکر ہے؟ خدا کے ہاں کیا مفتی صدر الدین بیٹھے ہیں جو ڈگری کر کے پکڑوا لیں گے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    فاقہ مستی

    ایک بار کسی بنئے کا بہت سا قرض مرزا کے سر چڑھ گیا، اسے جب روپیہ ملنے کی امید نہ رہی تو مجبوراً ڈگری کروا دی، بادشاہ کے دربار سے بلاوا آیا، مرزا خود تو نہ گئے البتہ حکمنامے کی پشت پر لکھ دیا۔

    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    بادشاہ نے یہ پڑھا تو مسکرائے اور ڈگری کا روپیہ خزانے سے جاری کروا دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ایک نہیں رکھا

    ماہِ رمضان اختتام پذیر ہوا تو مرزا قلعۂ معلیٰ پہنچے اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بہادر شاہ ظفر نے ان سے استفسار کیا۔ "مرزا اس بار کتنے روزے رکھے ہیں۔"

    غالب نے جواب دیا۔ "پیر و مرشد، ایک نہیں رکھا۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غالب کا حشر

    ایک روز کا واقعہ ہے، مرزا غالب اور انکی بیگم بعد از موت عاقبت اور مغفرت کے مسائل پر بحث کر رہے تھے، مرزا کی بیگم بولیں۔

    "روزہ رکھنا تو دور کی بات ہے آپ نے تو کبھی نماز بھی نہیں پڑھی اور عاقبت سنوارنے کے لئے کم از کم نماز روزہ کی پابندی ہے، ادائیگی اختیار کرنی ہی پڑتی ہے۔"

    مرزا نے جواب دیا۔ "آپ بلا شبہ درست فرما رہی ہیں لیکن یہ بھی دیکھ لینا کہ آپ سے ہمارا حشر اچھا ہی ہوگا۔"

    بیگم بولیں۔ "وہ کیونکر؟ کچھ ہمیں بھی تو بتائیے۔"

    "بھئی بات تو بالکل سیدھی ہے۔" مرزا نے کہا۔ "آپ تو انہی نیلے تہبند والوں کے ساتھ ہونگی جن کے تہبند کے پلو میں مسواک بندھی ہوگی، ہاتھ میں ایک ٹونٹی دار بدھنی ہوگی اور انہوں نے اپنے سر بھی منڈوا رکھے ہونگے۔ آپ کے برعکس ہمارا حشر یہ ہوگا کہ ہماری سنگت بڑے بڑے غیر فانی، شہرت یافتہ بادشاہوں کے ساتھ ہوگی۔ مثلاً ہم فرعون، نمرود اور شداد کے ساتھ ہونگے۔ ہم اپنی مونچھوں کو بل دے کر اکڑتے ہوئے زمین پر قدم دھریں گے تو ہماری دائیں اور بائیں اطراف چار چار فرشتے ہمارے جلو میں چل رہے ہونگے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    دلی میں گدھے

    ایک بار مرزا اور انکے ایک مہمان، جو کسی دوسرے شہر سے تشریف لائے تھے، کسی دعوت سے رات کے وقت واپس آ رہے تھے کہ ایک تنگ گلی میں ایک گدھا کھڑا تھا۔ مہمان رک کر بولا۔

    "مرزا صاحب، دلی میں گدھے بہت ہیں۔"

    مرزا نے فوراً جواب دیا۔

    "صاحب، باہر سے آ جاتے ہیں۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مصلّے کی تعظیم

    ایک مرتبہ زنان خانے میں جانے لگے تو دیکھا بیگم صاحبہ عین صحن میں مصلا بچھائے نماز پڑھ رہی ہیں، مرزا نے یہ دیکھا تو دروازے پر ٹھہر گئے جب وہ نماز پڑھ چکیں تو آپ نے جوتا اتار کر سر پر رکھا اور ننگے پاؤں آہستہ آہستہ ڈرتے ہچکچاتے ہوئے صحن تک آئے، بیگم نے یہ حالت دیکھی تو مسکرا کر کہنے لگیں۔ "یہ کیا؟"

    مرزا نے جواب دیا۔ "کچھ نہیں صرف آپ کے مصلّے کی تعظیم و تکریم ہے۔"

    بیگم نے تشریح چاہی تو کہا۔ "اب تو سارا صحن مسجد ہو گیا، پھر اگر کوئی قدم رکھے تو کیونکر، اور کرے تو کیا کرے، اسلئے جوتا اتار کر سر پر رکھ لیا ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غلام گردش میں ہے

    ایک دن مرزا، فتح الملک بہادر کو ملنے گئے، جب غلام گردش میں پہنچے تو خدمت گار نے صاحبِ عالم کو اطلاع دی کہ مرزا نوشہ صاحب آ رہے ہیں، وہ کسی کام میں مصروف تھے، بلا نہ سکے۔ مرزا وہیں ٹہلتے رہے۔

    صاحبِ عالم نے کچھ دیر کے بعد ملازم کو پکار کر کہا۔ "ارے دیکھ، مرزا صاحب کہاں ہیں۔"

    مرزا نے وہیں سے جواب دیا۔ "غلام، گردش میں ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,772
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    تاریخ وفات

    آخری عمر میں موت کی آرزو بہت بڑھ گئی تھی، ہر سال اپنی تاریخِ وفات نکالتے اور یہ خیال کرتے کہ اس سال ضرور مر جاؤں گا۔

    1277ھ میں انہوں نے اپنے مرنے کی تاریخ کہی "غالب مُرد"۔ اس سے پہلے کے تمام مادے غلط ہو چکے تھے، منشی جواہر سنگھ جوہر سے مرزا نے اس مادے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا۔ "حضرت، انشاءاللہ یہ مادہ بھی غلط ثابت ہوگا۔"

    مرزا نے کہا۔ "دیکھو صاحب، تم ایسی فال منہ سے نہ نکالو، اگر یہ مادہ مطابق نہ نکلا تو میں سر پھوڑ کر مر جاؤں گا۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر