1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

عید 'اپنوں' کے ساتھ۔۔۔ محمد بلال اعظم

محمد بلال اعظم نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 5, 2016

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    عید 'اپنوں' کے ساتھ
    صبح سویرے شبنم کی روپہلی بوندوں کا لمس پا کر سرکاری ٹی وی کے کارٹون دیکھ کر ماں کی دعاؤں کے سائے میں باپ کی انگلی پکڑے اسکول جانے والے بچے نجانے اتنے بڑے کب سے ہو گئے کہ ماں باپ کی آسائشوں کا خیال نہ رکھ پائیں! دوپہر کو سکول سے واپسی پر اگر ماں نظر نہ آتی یا رات کو کام کا بوجھ لئے باپ کبھی دیر سے گھر آتا تو اندیشوں میں گھِر جانے والے بچے شعور کی سیڑھی کو ایسے عبور کر گئے کہ پھر سالوں ماں باپ کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ سکول سے تھکے ہارے واپس آ کر ماں کے ہاتھ سے کھانا کھانے کی شرط لگاتے بچے شاید دنیا کے جھمیلوں میں اس قدر مصروف ہوئے کہ ماں باپ کے لئے دو وقت کی روٹی کا بند و بست بھی مشکل ہو گیا۔ کبھی صبح سویرے گھر کی چھت پہ دانا چگتے چوزے اچھے لگتے تھے کہ ان سے اپنائیت کا احساس ہوتا تھا مگر پھر نہ وہ چوزے رہتے ہیں نہ وہ اپنائیت۔

    منظر بدلتا ہے اور چوزوں کو دانہ چگتے دیکھ کر خوش ہونے والے بچوں کو کہیں یتیمی کا داغ لگ جاتا ہے تو کہیں فکرِ معاش کھلونے توڑ دیتی ہے۔ کبھی وہ بوٹ پالش کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی برتن دھوتے ہوئے۔ رنگ تو رنگ ان آنکھوں سے تو خواب بھی مٹتے جاتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ نئے کپڑے پہن کر عید منانے کی خواہش زندگی کی بے رحم ضروریات تلے کہیں دب جاتی ہے۔ یہاں شماریات کا محل نہیں کہ رزق کی تلاش میں نکلے ہوئے ایک بچے کی آہ بھی تمام قوم کی عشرت و آسائش پہ بھاری ہے۔

    بھوک چہروں پہ لئے چاند سے پیارے بچے
    بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
    کیا بھروسہ ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
    سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچے

    اب نہ سرخ پانی کا عذاب آئے گا، نہ ٹڈی دل چھوڑے جائیں گے کہ اب دلوں پہ مہر لگتی جا رہی ہے۔ بے حسی عذابِ الٰہی ہے۔۔۔ بے حسی عذابِ الٰہی ہے۔۔۔ اور اس سے بڑھ کر بے حسی کیا ہو گی کہ جنت اولڈ ہومز میں خود اپنے مکینوں کا، اپنے راج دلاروں کا رستہ تک رہی ہے۔ بے قیاس و ناشناس لوگوں کے ہجوم میں بچوں کی اداس آنکھیں سراپا سوال ہیں۔۔۔

    گھر تو کیا، گھر کی شباہت بھی نہیں ہے باقی
    ایسے ویران ہوئے ہیں در و دیوار کہ بس

    کتنی آنکھیں ایسی ہیں جو اولڈ ہومز میں اپنے پیاروں کے، اپنے بیٹوں، بیٹیوں کے آنے کی آس لگائے دھندلا جائیں گی مگر آنے والے نہیں آئیں گے! بابا ماضی کے سفر پہ نکل جائیں گے اور کس دل کے ساتھ تصور میں لائیں گے کہ کاش میرا بیٹا آئے، جیسے بچپن میں مَیں اس کی انگلی پکڑے سکول لے جاتا تھا، وہ مجھے گھر لے جائے! ماں اب بھی رات کو اولڈ ہوم کے دروازے پہ کھڑی دعاؤں کا ورد کرتی سوچ رہی ہو گی کہ اتنی رات ہو گئی، پتہ نہیں بیٹا گھر بھی پہنچا ہو گا یا نہیں، خدا خیر کرے! پھولوں جیسے کتنے ہی معصوم سورج سے بھی پہلے تلاشِ رزق میں نکلیں گے اور رات کو تھکے ہارے ہاتھوں کا تکیہ بنائے خواب آنکھوں میں لئے سو جائیں گے!

    کیا یہ انتظار، انتظارِ لاحاصل ہی رہے گا؟ آئیے! اس عید پر ہمارا ساتھ دیجیے کہ کہیں یہ عید بھی بوڑھی آنکھوں میں انتظار اور احساسِ محرومی کے مزید نئے کانٹے نہ چبھو جائے۔ اگر یہ آنکھیں بے نور ہو گئیں تو ہم کیسے دیکھیں گے! یہ لب خاموش ہو گئے تو ہمارے لئے دعائیں کون مانگے گا! یہ پھول مرجھا گئے تو کہیں باغبان ہم سے ناراض نہ ہو جائے! اگر یہ کلیاں تعلیم اور اپنائیت سے محروم رہیں تو کہیں کمھلا نہ جائیں! کہیں ہم منزل پہ پہنچ کے بھی بے آسرا، بے سر و سامان ہی نہ ٹھہریں!

    آئیے! اولڈ ہومز میں اپنے پیاروں کے لئے متلاشی آنکھوں کے ساتھ عید منائیے۔ آئیے! کتابوں کی بجائے ہاتھوں میں اوزار تھامے پھولوں کے ساتھ عید منائیے۔ آئیے! موسم ہو یاکوئی تہوار، کسی چیز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہماری خاطر اپنا وقت سڑکوں پہ گزارنے والے ٹریفک وارڈنز اور سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ عید منائیے کہ رشتے صرف خون کے ہی تو نہیں ہوتے۔ بعض اوقات دل کے رشتے خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ سَچے اور سُچے ہوتے ہیں۔

    اولڈ ہومز میں بسے محبت کے ان فرشتوں کو آپ کے روپے پیسے کی خواہش نہیں، سکول کی بجائے دکانوں پہ جانے والے بچے آپ کی جائیداد میں حصہ نہیں مانگتے، سڑکوں پہ اپنے فرائض انجام دیتے اہلکاروں کو آپ سے کسی صلے کی تمنا نہیں کہ انہیں صرف آپ کے وقت کی ضرورت ہے اور ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔ وہ بناوٹ سے عاری ہیں، دستار کا بوسہ لینا نہیں جانتے، ان کی دعائیں آپ کی پیشانی کا بوسہ لیتی ہیں۔ آپ کے نام سے، آپ کے لئے ان کی آنکھیں وضو کرتی ہیں۔ ان کے شب و روز آپ کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ آئیے! ان کے ساتھ عید منائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ "ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں"۔

    تمام عمر سلامت رہیں، دعا ہے یہی
    ہمارے سر پہ ہیں جو ہاتھ برکتوں والے
    لنک
    (محمد بلال اعظم)
     
    • زبردست زبردست × 7
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. غدیر زھرا

    غدیر زھرا لائبریرین

    مراسلے:
    3,150
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    بہت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی تحریر..
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بیحد شکریہ آپ کا :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,643
    بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ امی جان دو دن کہیں رہنے چلی جائیں تو گھر گھر ہی نہیں لگتا۔
    اللہ تعالیٰ سب کی اولاد کو ماں باپ کا فرمانبردار بنائے۔ آمین
    خوب لکھا بلال بھائی!!
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 5, 2016
    • متفق متفق × 1
  5. تجمل حسین

    تجمل حسین محفلین

    مراسلے:
    2,236
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    مراسلہ برائے درستی۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 5, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,491
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوبصورت اور احساسات سے بھر پور تحریر بھیا۔ اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور ہمیں اپنے ماں باپ کے حق میں نیک لائق کرے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,491
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    تابع فرمان۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,643
    فرق بھی بتا دیں بھائی تاکہ آئندہ غلط نہ لکھیں۔
     
  9. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,491
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کچھ ایسا یاد نہیں- بارہویں جماعت میں خطوط کے زمرہ میں استاد صاحب نے بتایا تھا کہ وہ غلط العام ہے۔ اور یہ درست ہے۔ تب سے زیر عمل ہے۔۔۔۔۔:bashful:
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,231
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    عید کے موقع کے مطابق ایک اچھی تحریر ہے ! اسی صورتیں اکثر نفیسات میں بگاڑ لاتی ہیں ۔چند سال قبل دارلاماں کی داکیومینڑی دیکھی جہاں پر مائیں اپنی بیٹوں کی ایک جھلک کو ترس گئی ہیں ۔۔۔۔۔احساس کی حد تک درست ہے ۔ایک سوال ۔۔۔

    ایک شخص کے پاس جائیداد ہے ، مگر اس کی نفیسات سوائے کھانے پینے کو کسی اور بات کو محسوس نہیں کرتی ۔ اس کی اولاد اس کی جائیداد پر قبضہ کرلے ، اس کی بیوی اس کو اسکے گھر نہ گھسنے دے ۔ وہ مسجدوں میں رات گزارنے پر مجبور ۔ چند دن بعد دارلامان جمع کرادیا جاتا ہے ؟ ایسا شخص قصور وار ہوگا مگر کیسے ؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    12,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    بے حسی عذابِ الٰہی ہے۔۔۔ بے حسی عذابِ الٰہی ہے۔۔۔
    ان الفاظ نے سوچنے پر مجبور کر دیا....
    واقعی اب کوئی اور عذاب نہیں آئے گا... کیونکہ اس کے بعد کسی عذاب کی ضرورت کہاں رہ جاتی ہے... پانی، آگ، پتھر ان کے عذابوں نے تو سانسوں کو چھین لیا تھا.... بے حسی زندہ لوگوں کو سانس لیتی ہوئی لاشیں بنا دیتی ہے.... ہاہ!!!
     
    • متفق متفق × 1
  12. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    ثم آمین
    اور کیا۔۔۔۔ بلکہ صبح کالج یونیورسٹی سے واپس آ کے بھی سب سے پہلے ماں جی اور پھر ابو کو جب تک نہ دیکھ لیں، سکون نہیں ملتا۔ لوگ پتہ نہیں کیسے ہیں!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    آمین
    جزاک اللہ حسن بھائی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    جزاک اللہ
    ممنون ہوں
    ٹھیک ہے لیکن پھر بھی ماں باپ تو ماں باپ ہی ہیں۔ بچے بھی تو بچپن میں ہر طرح کی حرکات کرتے ہیں، ہر طرح کی نفسیات کا شکار ہو سکتے ہیں یا ہوتے ہیں لیکن کیا ماں باپ انہیں کسی کئیر ہوم میں داخل کروا دیں۔۔۔۔ یقیناً نہیں۔۔۔
    لہٰذا قصور وار کہنا قدرے نا مناسب ہو گا۔
     
  15. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    فراز نے کہا تھا
    بستیاں چاند ستاروں پہ بسانے والو
    کرۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

    بس ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔ مادیت پرستی بے حسی کا عذاب ساتھ لائی ہے، جسے ہم نے بخوشی قبول کیا۔
     
    • متفق متفق × 1
  16. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    12,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    اللہ پاک اپنا رحم فرمائے ہم سب پر!آمین
     
    • متفق متفق × 1
  17. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    ثم آمین
     
  18. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,491
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہن میری! کبھی کبھی عقل کے گھوڑے کی باگیں کھینچا کریں۔ بہت زیادہ سوچنے کی بجائے محسوس کیا کریں۔ سوال جنم نہیں لیں گے جواب ملتے جائیں گے۔
     

اس صفحے کی تشہیر