عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ!

فرقان احمد

محفلین
آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار خوب گرجے برسے! معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ فیصلوں پر سیاست دانوں کے ردعمل پر کافی اشتعال میں تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی ایک فریق بھی سپریم کورٹ سے پوری طرح مطمئن نہیں۔ شاید چیف جسٹس اب اپنی توجہ سیاست سے ہٹ کر دیگر معاملات پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں؛ ایسا ہو جائے تو بہتر رہے گا۔
 
یہ صرف آپکی رائے ہو سکتی ہے۔
یعنی صرف میرے اکیلے کی؟ :)
اور بھی بہت سے لوگوں کی یہی رائے ہے۔ یہ میری ذاتی رائے بھی ہے حتمی نہیں مگر بظاہر ایسا لگ رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کافی ابہام بھی پایا جاتا ہے ۔ مثلا سپریم کورٹ نے عمران والے فیصلے میں یہ کہا کہ مخالف فریق متاثرہ فریق نہیں ہے، کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سپریم کورٹ کو اس بات کا فیصلہ کرنے میں ایک سال لگ گیا کہ فریق مخالف (حنیف عباسی) متاثرہ فریق نہیں ہے!
عمران نے خود کہا تھا کہ ۔اس نے خود آف شور کمپنی بنائی مگر سپریم کورٹ کہہ رہا ہے کہ عمران نہ تو اس کمپنی میں حصہ دار ہے اور نہ ڈائریکٹر! یہ نکتہ صرف میں نے نہیں اٹھایا کل رات جسٹس وجیہ الدین احمد بھی یہی کہہ رہے تھے۔
عام تاثر یہی ہے کہ چونکہ نواز کے بچوں کے نام پانامہ لیکس میں آئے تھے تو یقینا وہ کرپٹ ہے۔
جہانگیر ترین کو خود اس کی پارٹی کے لوگ کرپٹ کہتے ہیں تو وہ یقینا کرپٹ ہے!
عمران کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ مالی طور پر کرپٹ نہیں ہے۔ عوامی چندے سے بنایا گیا عظیم الشان کینسر اسپتال اس کا ثبوت ہے
 

فرقان احمد

محفلین
کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ وہ افراد سیاست میں آئیں جو ماضی میں فوجی رہ چکے ہوں، کم از کم انہیں پاکستان کی سالمیت سے تو محبت ہوگی. باقی کرپشن وغیرہ تو اب common factor بن چکا ہے
پاکستان بننے کے بعد عسکریوں کی مداخلت کے باعث ملک اس نہج تک پہنچا ہے تاہم فی الوقت اس طرح کی صورت حال بن چکی ہے کہ امورِ مملکت میں عساکر کی شمولیت کے بغیر ایک قدم آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ تدریج اور اعراض کے اصولوں کے مطابق اِس وقت یہی موزوں ہے کہ ان سے مشاورتی عمل جاری رکھا جائے۔ ویسے یہ مشاورتی دائرہ ان تک نہ پھیلایا جائے تب بھی کیا فرق پڑتا ہے؟ ہونا وہی ہے، جو ہو کر رہنا ہے۔ :)
 
کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ وہ افراد سیاست میں آئیں جو ماضی میں فوجی رہ چکے ہوں، کم از کم انہیں پاکستان کی سالمیت سے تو محبت ہوگی. باقی کرپشن وغیرہ تو اب common factor بن چکا ہے
آپ نے بہت سادگی سے بہت ہی پیچیدہ مسئلے کے متعلق سوال کر دیا ہے۔ اس کا مختصر جواب یہی ہے کہ پورے ریاستی نظام کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے پوری قوم کو متحد ہو کو جد جہد کرنا ہوگی۔
 

فاخر رضا

محفلین
میرے ذہن میں ایک اور مزیدار پہلو آیا ہے اس مقدمے کا
شریف برادران میں سے ایک بھائی عدلیہ کی تعریف کررہا ہے کہ حدیبیہ کیس مک گیا اور دوسرا عدلیہ کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ ظاہر کررہا ہے
ترین کی نااہلی پر تعریف اور عمران کی اہلی پر تنقید
الطاف حسین کے بقول میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو
یہ انسان کی نفسیات کا بہترین مظہر ہے
 
میرے ذہن میں ایک اور مزیدار پہلو آیا ہے اس مقدمے کا
شریف برادران میں سے ایک بھائی عدلیہ کی تعریف کررہا ہے کہ حدیبیہ کیس مک گیا اور دوسرا عدلیہ کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ ظاہر کررہا ہے
ترین کی نااہلی پر تعریف اور عمران کی اہلی پر تنقید
الطاف حسین کے بقول میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو
یہ انسان کی نفسیات کا بہترین مظہر ہے
ان بھائیوں کے درمیان بھی کچھ اور گیم چل رہی لگتی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ان بھائیوں کے درمیان بھی کچھ اور گیم چل رہی لگتی ہے۔
کچھ گیم نہیں بلکہ اچھی خاصی چل رہی ہے اور بہت عرصے سے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد شہباز شریف کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا گیا تھا لیکن پھر حالات بدل گئے، شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کا مطلب ہے حمزہ شریف وزیر اعلیٰ پنجاب یعنی اقتدار شریف فیملی کی 'نوازی' شاخ سے 'شہبازی' شاخ کو مکمل طور پر منتقل اور ظاہر ہے مریم صفدر شریف و دیگر یہ برداشت نہیں کر سکتے۔
 
کچھ گیم نہیں بلکہ اچھی خاصی چل رہی ہے اور بہت عرصے سے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد شہباز شریف کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا گیا تھا لیکن پھر حالات بدل گئے، شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کا مطلب ہے حمزہ شریف وزیر اعلیٰ پنجاب یعنی اقتدار شریف فیملی کی 'نوازی' شاخ سے 'شہبازی' شاخ کو مکمل طور پر منتقل اور ظاہر ہے مریم صفدر شریف و دیگر یہ برداشت نہیں کر سکتے۔
یہ وراثتی مٹکی کبھی تو پھوٹنی ہے اور شاید موجود نوازی شاخ پر جو زوال آیا ہوا ہے تو یہ بالکل صحیح وقت ہے شریف فیملی کے لیے کہ وہ سیاست میں اگر اپنی جگہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو بنا خاندانی محاذ آرائی کے ن لیگ کی سرپرستی اور آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت وزیر اعظم کے لیے بڑے میاں چھوٹے میاں کو نامزد کر دیں۔
 

Muhammad Qader Ali

محفلین
FB_IMG_1513527168509.jpg
 
یعنی صرف میرے اکیلے کی؟ :)
اور بھی بہت سے لوگوں کی یہی رائے ہے۔ یہ میری ذاتی رائے بھی ہے حتمی نہیں مگر بظاہر ایسا لگ رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کافی ابہام بھی پایا جاتا ہے ۔ مثلا سپریم کورٹ نے عمران والے فیصلے میں یہ کہا کہ مخالف فریق متاثرہ فریق نہیں ہے، کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سپریم کورٹ کو اس بات کا فیصلہ کرنے میں ایک سال لگ گیا کہ فریق مخالف (حنیف عباسی) متاثرہ فریق نہیں ہے!
عمران نے خود کہا تھا کہ ۔اس نے خود آف شور کمپنی بنائی مگر سپریم کورٹ کہہ رہا ہے کہ عمران نہ تو اس کمپنی میں حصہ دار ہے اور نہ ڈائریکٹر! یہ نکتہ صرف میں نے نہیں اٹھایا کل رات جسٹس وجیہ الدین احمد بھی یہی کہہ رہے تھے۔
عام تاثر یہی ہے کہ چونکہ نواز کے بچوں کے نام پانامہ لیکس میں آئے تھے تو یقینا وہ کرپٹ ہے۔
جہانگیر ترین کو خود اس کی پارٹی کے لوگ کرپٹ کہتے ہیں تو وہ یقینا کرپٹ ہے!
عمران کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ مالی طور پر کرپٹ نہیں ہے۔ عوامی چندے سے بنایا گیا عظیم الشان کینسر اسپتال اس کا ثبوت ہے
  • عمران نے آف شور کمپنی بنائی، اسنے اسکو تسلیم بھی کیا۔ آفشور کمپنی بنانا قانوناً جرم نہیں ہے۔ اسکا استعمال کیسے کیا یہ جرم ہے۔
    میاں محمد نواز شریف اور جہانگیر خان ترین نے اپنی آفشور کمپنیز کو منی لانڈرنگ، اثاثہ جات کو چھپانے کیلئے استعمال کیا۔
    عمران خان نے اپنی نیازی سروسز 80 کی دہائی میں بنائی جب وہ پاکستانی شہری کی حیثیت سے انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے تھے ۔ یوں وہ انگلینڈ میں کیپٹل گینز ٹیکس دینے کے مجاز نہیں۔ وہ فلیٹ انہوں نے اس کمپنی کے نام کر دیا اور جب اسکو 2003 میں بیچا تو وہ کمپنی بھی ختم ہو گئی۔ فلیٹ کا سارا پیسا واپس پاکستان لایا گیا۔ ایسے شخص کو صادق و امین کا سرٹیفکیٹ کیوں نہ ملتا؟
  • نواز شریف نے پاکستان میں پاکستانی وزیر اعظم کے عہدے پر رہتےہوئے بچوں کے نام پر غیرملکی فلیٹس کیوں لئے؟ اسی بنیاد پر اسکا نام پانامہ میں آیا اور یہ شخص صادق و امین نہیں رہا
  • جہانگیر ترین نے بھی پاکستانی وزیر رہتے ہوئے اپنے بچوں کے نام پر غیرملکی فلیٹس خریدے اور اسی بنیاد پر صادق و امین نہیں رہے
  • آپ بار بار بنیادی حقائق کو عوامی تاثر کہہ رہے ہیں۔ پتا نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں۔
 
کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ وہ افراد سیاست میں آئیں جو ماضی میں فوجی رہ چکے ہوں، کم از کم انہیں پاکستان کی سالمیت سے تو محبت ہوگی. باقی کرپشن وغیرہ تو اب common factor بن چکا ہے
لگتا ہے آپ فوج میں ہونے والی کرپشن سے بے خبر ہیں۔
 
پاکستان بننے کے بعد عسکریوں کی مداخلت کے باعث ملک اس نہج تک پہنچا ہے تاہم فی الوقت اس طرح کی صورت حال بن چکی ہے کہ امورِ مملکت میں عساکر کی شمولیت کے بغیر ایک قدم آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ تدریج اور اعراض کے اصولوں کے مطابق اِس وقت یہی موزوں ہے کہ ان سے مشاورتی عمل جاری رکھا جائے۔ ویسے یہ مشاورتی دائرہ ان تک نہ پھیلایا جائے تب بھی کیا فرق پڑتا ہے؟ ہونا وہی ہے، جو ہو کر رہنا ہے۔ :)
فرق پڑتا ہے، بلکہ آج کی تاریخ سے پڑے گا:
جنرل باجوہ سلامتی کے امور پر سینیٹ کو آگاہ کریں گے
 
Top