علامہ دہشتناک : صفحہ 8-9 : پہلا صفحہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سیدہ شگفتہ

لائبریرین



5pj0pg.jpg





 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم


یہ صفحہ مقابلے کے کھیل سے متعلق ہے ۔ مقابلے میں شرکت کے لیے اس پوسٹ کو دیکھیں ۔

اگر آپ اس کھیل میں شرکت کرنا چاہیں تو اپنا انفرادی نام / اپنی ٹیم کی نشاندہی یہاں درج کیجیے۔

انفرادی شرکت کی صورت میں درج ذیل مراحل میں سے صرف کسی ایک کا انتخاب آپ کو کرنا ہے۔


صفحہ تحریر / ٹائپ کرنا

صفحہ کی پہلی پروف ریڈنگ
صفحہ کی دوسری پروف ریڈنگ
صفحہ کی تیسری/ آخری پروف ریڈنگ


شکریہ
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم

کھیل میں خوش آمدید !

قوانین کی رو سے آپ اس صفحہ کی صرف ایک پروف ریڈنگ میں شرکت کر سکتے ہیں ، پہلی پروف ریڈنگ ، دوسری ، یا پھر تیسری یعنی آخری ۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
مزید پروف ریڈنگ کے لیے آپ اس صفحہ کے ساتھ دوسرے صفحات کا انتخاب کر سکتے ہیں البتہ ہر بار یہی اصول فالو کرنا ہوگا ۔ یعنی جو بھی صفحہ آپ انتخاب کریں اس کی صرف کوئی سی ایک پروف ریڈنگ کر سکتے ہیں ۔
 

مغزل

محفلین
مرضی آپ کی ۔۔ جو آپ کہیں۔۔ ویسے یہ " کھیل" میں نے بہت کھیلے ہیں تبھی تو حاضر ہوا ہوں۔۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بہت شکریہ ،

آپ پلیز نشاندہی کر دیں یہاں کہ کون سی پروف ریڈنگ آپ کریں گے ، پہلی ، دوسری یا آخری ؟
 

حجاب

محفلین
علّامہ دہشت ناک ۔ صفحہ 8 ۔ 9

آدھے منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس نے “ فال اِن “ کی ہانک لگائی اور وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیزی سے قطار بنا لی ۔
ایٹ ایز ، کہہ کر اس نے ان پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور بولا ۔
دوستو ۔۔۔۔ طاقت کا سرچشمہ !
ذہانت !! سب بیک آواز بولے ۔
کیڑے مکوڑے ۔۔۔۔۔ وہ پھر دہاڑا !!!!
غیر ذہین دو پائے ۔۔ انہوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
اور یہ کیڑے مکوڑے ، وہ ہاتھ اُٹھا کر بولا ، ذہین آدمیوں کے آلہ کار سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ۔۔۔ انہیں استعمال کرو اور صرف اتنا ہی تیل انہیں دو کہ متحرک رہ سکیں ۔۔۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی ناکارہ ہوجائے تو اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو ۔اور اس کی جگہ دوسرا پرزہ فٹ کردو ۔انہیں قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقارت سے دیکھا جائے ۔۔۔۔۔ اگر تم نے انہیں آدمی سمجھا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گے ۔۔۔۔ اور پھر تم انہیں اپنے قابو میں نہ رکھ سکو گے ۔
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا تھا۔سامنے دس افراد سر جھکائے کھڑے تھے ۔یہ سب جوان العمر تھے اور ان میں سے چار لڑکیاں تھیں ۔
بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔ ! قد آور آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا ۔
انہوں نے اس طرح تعمیل کی تھی جیسے وہ پوری طرح ان پر حاوی ہو ، ان کی آنکھوں میں اس کے لیئے بے اندازہ احترام پایا جاتا تھا ۔
آج میں تمہیں ایک کہانی سناؤں گا ، اُس نے کہا ! اور وہ سب دم بخود بیٹھے رہے ۔
یہ کہانی ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک بچّے کی کہانی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن بچے سے اس کی ابتداء نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ اس گاؤں میں صرف ایک اونچی اور پکّی حویلی تھی بقیہ مکانات کچّے تھے ۔۔۔ تم سمجھ گئے ہوگے کہ حویلی میں کون رہتا تھا اور کچّے مکانوں میں کیسے لوگ آباد تھے ۔ بہرحال ایک بار ایسا ہوا کہ حویلی کا ایک فرد قتل کے ایک وقوعے میں ماخوذ ہوگیا ۔۔۔۔اور کچے مکان کے ایک باسی نے اس کے خلاف عدالت میں شہادت دے دی ۔کچے مکان کا وہ باسی ایک دیندار آدمی تھا ۔اس نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا عدالت میں بیان کر دیا ۔ اس کی شہادت کے مقابلے میں جھوٹی گواہیاں کام نہ آسکیں ۔ اور حویلی والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہوگیا ، پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔
قد آور آدمی خاموش ہو کر پھر کچھ سوچنے لگا اور سننے والوں کے چہرے اضطراب کی آماجگاہ بن گئے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھرّائی ہوئی آواز میں بولا ، اب یہاں سے اس دیندار آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو حویلی والوں کا مزارع بھی تھا ۔جانتے ہو اس پر حویلی والوں کا عتاب کس شکل میں نازل ہوا ؟ ایک رات جب کچے مکان کے لوگ بے خبر سو رہے تھے ۔۔۔ کچے مکان میں آگ لگا دی گئی ۔ اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلنے پائے ۔چھوٹے بڑے افراد جل کر بھسم ہوگئے تھے ۔جس نے باہر نکلنے کی کوشش کی اسے گولی مار دی گئی ۔اس کنبے کا صرف ایک بچہ زندہ بچ سکا تھا ۔وہ بھی اس لیئے کہ واردات کے وقت وہ اس کچے مکان میں موجود نہیں تھا ۔
دوسرے گاؤں میں اس کی ننھیال تھی ، کچھ دنوں پہلے اس کا ماموں اسے گھر سے لے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور وہ وہیں مقیم تھا ۔۔۔۔۔ بہرحال حویلی والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا ۔تھیلیوں کے منہ کُھل گئے تھے ، پھر قانون کے محافظوں کے منہ پر تالے کیوں نہ پڑ جاتے ، آگ حادثاتی طور پر لگی تھی اور آٹھ افراد اپنی بدبختی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے ۔اس دیندار آدمی نے ایک درندگی کے خلاف شہادت دی تھی لیکن اس کے ساتھ جو درندگی ہوئی اس کا کوئی عینی شاہد قانون کو نہ مل سکا ۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جس بات کا علم ہر ایک کو تھا اسے کیوں نہ ہوتا ۔کون نہیں جانتا تھا کہ کچا مکان کیسے بھسم ہوا تھا ۔۔۔ کون اس سے ناواقف تھا کہ آٹھ بےبس افراد کس طرح جل مرے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کس میں ہمت تھی کہ اب حویلی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکتا ۔۔ وہ ایک شخص کی جرّات کا انجام دیکھ چکے تھے ۔اب تم مجھے بتاؤ کہ اس بچے کی کہانی کیا ہونی چاہیئے ۔
کوئی کچھ نہ بولا ، وہ خاموشی سے ان کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا ۔دفعتاً ایک لڑکی مٹھیاں بھینچ کر چیخی ۔۔۔۔۔انتقام ۔
قد آور آدمی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
تمہارا خیال درست ہے ! اس نے کہا ! لیکن لہجہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اس لہجے میں اُٹھنے اور جھپٹ پڑنے کا سا انداز ہے ۔ اس بچے نے انتقامی جذبے کی تہذیب کی طرف توجہ دی تھی ۔
 

ماوراء

محفلین
پہلی پروف ریڈنگ : ماوراء : مکمل

آدھے منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس نے “ فال اِن “ کی ہانک لگائی اور وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیزی سے قطار بنا لی ۔
“ایٹ ایز“ کہہ کر اس نے ان پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور بولا ۔
“دوستو ۔۔۔۔ طاقت کا سرچشمہ۔“
“ذہانت۔!“ سب بیک آواز بولے ۔
“کیڑے مکوڑے ۔۔۔!“ وہ پھر دہاڑا۔
“غیر ذہین دو پائے ۔!“ انہوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
“اور یہ کیڑے مکوڑ۔!“ وہ ہاتھ اُٹھا کر بولا “ذہین آدمیوں کے آلہ کار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ۔۔۔ انہیں استعمال کرو اور صرف اتنا ہی تیل انہیں دو کہ متحرک رہ سکیں۔۔۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی ناکارہ ہوجائے تو اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو ۔اور اس کی جگہ دوسرا پرزہ فٹ کردو ۔انہیں قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقارت سے دیکھا جائے ۔۔۔۔۔ اگر تم نے انہیں آدمی سمجھا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گے ۔۔۔۔ اور پھر تم انہیں اپنے قابو میں نہ رکھ سکو گے۔!“
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا تھا! سامنے دس افراد سر جھکائے کھڑے تھے ۔یہ سب جوان العمر تھے اور ان میں سے چار لڑکیاں تھیں ۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!“ قد آور آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا ۔
انہوں نے اس طرح تعمیل کی تھی جیسے وہ پوری طرح ان پر حاوی ہو! ان کی آنکھوں میں اس کے لئے بے اندازہ احترام پایا جاتا تھا ۔
“آج میں تمہیں ایک کہانی سناؤں گا۔“ اُس نے کہا اور وہ سب دم بخود بیٹھے رہے۔!
یہ کہانی ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک بچے کی کہانی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن بچے سے اس کی ابتداء نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ اس گاؤں میں صرف ایک اونچی اور پکی حویلی تھی بقیہ مکانات کچے تھے ۔۔۔ تم سمجھ گئے ہوگے کہ حویلی میں کون رہتا تھا اور کچے مکانوں میں کیسے لوگ آباد تھے ۔ بہرحال ایک بار ایسا ہوا کہ حویلی کا ایک فرد قتل کے ایک وقوعے میں ماخوذ ہوگیا ۔۔۔۔اور کچے مکان کے ایک باسی نے اس کے خلاف عدالت میں شہادت دے دی ۔کچے مکان کا وہ باسی ایک دیندار آدمی تھا ۔اس نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا عدالت میں بیان کر دیا ۔ اس کی شہادت کے مقابلے میں جھوٹی گواہیاں کام نہ آسکیں ۔ اور حویلی والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہوگیا ، پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔!
قد آور آدمی خاموش ہو کر پھر کچھ سوچنے لگا اور سننے والوں کے چہرے اضطراب کی آماجگاہ بن گئے۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔!“ اب یہاں سے اس دیندار آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو حویلی والوں کا مزارع بھی تھا ۔جانتے ہو اس پر حویلی والوں کا عتاب کس شکل میں نازل ہوا۔؟ ایک رات جب کچے مکان کے لوگ بے خبر سو رہے تھے ۔۔۔ کچے مکان میں آگ لگا دی گئی ۔ اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلنے پائے ۔چھوٹے بڑے افراد جل کر بھسم ہوگئے تھے ۔جس نے باہر نکلنے کی کوشش کی اسے گولی مار دی گئی ۔اس کنبے کا صرف ایک بچہ زندہ بچ سکا تھا ۔وہ بھی اس لیے کہ واردات کے وقت وہ اس کچے مکان میں موجود نہیں تھا ۔
دوسرے گاؤں میں اس کی ننھیال تھی۔ کچھ دنوں پہلے اس کا ماموں اسے گھر سے لے گیا تھا۔۔۔۔اور وہ وہیں مقیم تھا۔۔۔بہرحال حویلی والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ تھیلیوں کے منہ کُھل گئے تھے۔ پھر قانون کے محافظوں کے منہ پر تالے کیوں نہ پڑ جاتے، آگ حادثاتی طور پر لگی تھی اور آٹھ افراد اپنی بدبختی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے ۔اس دیندار آدمی نے ایک درندگی کے خلاف شہادت دی تھی لیکن اس کے ساتھ جو درندگی ہوئی اس کا کوئی عینی شاہد قانون کو نہ مل سکا!۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جس بات کا علم ہر ایک کو تھا اسے کیوں نہ ہوتا ۔کون نہیں جانتا تھا کہ کچا مکان کیسے بھسم ہوا تھا۔۔۔ کون اس سے ناواقف تھا کہ آٹھ بےبس افراد کس طرح جل مرے ۔۔۔لیکن کس میں ہمت تھی کہ اب حویلی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکتا ۔۔ وہ ایک شخص کی جرات کا انجام دیکھ چکے تھے! اب تم مجھے بتاؤ کہ اس بچے کی کہانی کیا ہونی چاہیے۔!“
کوئی کچھ نہ بولا۔ وہ خاموشی سے ان کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا ۔دفعتاً ایک لڑکی مٹھیاں بھینچ کر چیخی۔ “انتقام“
قد آور آدمی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
“تمہارا خیال درست ہے!“ اس نے کہا۔“لیکن لہجہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔اس لہجے میں اُٹھنے اور جھپٹ پڑنے کا سا انداز ہے۔ “اس بچے نے انتقامی جذبے کی تہذیب کی طرف توجہ دی تھی۔
 

جیہ

لائبریرین
پہلی پروف ریڈنگ : ماوراء : مکمل

آدھے منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس نے “ فال اِن “ کی ہانک لگائی اور وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیزی سے قطار بنا لی ۔
“ایٹ ایز“ کہہ کر اس نے ان پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور بولا ۔
“دوستو ۔۔۔۔ طاقت کا سرچشمہ۔“
“ذہانت۔!“ سب بیک آواز بولے ۔
“کیڑے مکوڑے ۔۔۔!“ وہ پھر دہاڑا۔
“غیر ذہین دو پائے ۔!“ انہوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
“اور یہ کیڑے مکوڑ۔!“ وہ ہاتھ اُٹھا کر بولا “ذہین آدمیوں کے آلہ کار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ۔۔۔ انہیں استعمال کرو اور صرف اتنا ہی تیل انہیں دو کہ متحرک رہ سکیں۔۔۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی ناکارہ ہوجائے تو اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو ۔اور اس کی جگہ دوسرا پرزہ فٹ کردو ۔انہیں قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقارت سے دیکھا جائے ۔۔۔۔۔ اگر تم نے انہیں آدمی سمجھا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گے ۔۔۔۔ اور پھر تم انہیں اپنے قابو میں نہ رکھ سکو گے۔!“
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا تھا! سامنے دس افراد سر جھکائے کھڑے تھے ۔یہ سب جوان العمر تھے اور ان میں سے چار لڑکیاں تھیں ۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!“ قد آور آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا ۔
انہوں نے اس طرح تعمیل کی تھی جیسے وہ پوری طرح ان پر حاوی ہو! ان کی آنکھوں میں اس کے لئے بے اندازہ احترام پایا جاتا تھا ۔
“آج میں تمہیں ایک کہانی سناؤں گا۔“ اُس نے کہا اور وہ سب دم بخود بیٹھے رہے۔!
یہ کہانی ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک بچے کی کہانی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن بچے سے اس کی ابتداء نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ اس گاؤں میں صرف ایک اونچی اور پکی حویلی تھی بقیہ مکانات کچے تھے ۔۔۔ تم سمجھ گئے ہوگے کہ حویلی میں کون رہتا تھا اور کچے مکانوں میں کیسے لوگ آباد تھے ۔ بہرحال ایک بار ایسا ہوا کہ حویلی کا ایک فرد قتل کے ایک وقوعے میں ماخوذ ہوگیا ۔۔۔۔اور کچے مکان کے ایک باسی نے اس کے خلاف عدالت میں شہادت دے دی ۔کچے مکان کا وہ باسی ایک دیندار آدمی تھا ۔اس نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا عدالت میں بیان کر دیا ۔ اس کی شہادت کے مقابلے میں جھوٹی گواہیاں کام نہ آسکیں ۔ اور حویلی والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہوگیا ، پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔!
قد آور آدمی خاموش ہو کر پھر کچھ سوچنے لگا اور سننے والوں کے چہرے اضطراب کی آماجگاہ بن گئے۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔!“ اب یہاں سے اس دیندار آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو حویلی والوں کا مزارع بھی تھا ۔جانتے ہو اس پر حویلی والوں کا عتاب کس شکل میں نازل ہوا۔؟ ایک رات جب کچے مکان کے لوگ بے خبر سو رہے تھے ۔۔۔ کچے مکان میں آگ لگا دی گئی ۔ اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلنے پائے ۔چھوٹے بڑے افراد جل کر بھسم ہوگئے تھے ۔جس نے باہر نکلنے کی کوشش کی اسے گولی مار دی گئی ۔اس کنبے کا صرف ایک بچہ زندہ بچ سکا تھا ۔وہ بھی اس لیے کہ واردات کے وقت وہ اس کچے مکان میں موجود نہیں تھا ۔
دوسرے گاؤں میں اس کی ننھیال تھی۔ کچھ دنوں پہلے اس کا ماموں اسے گھر سے لے گیا تھا۔۔۔۔اور وہ وہیں مقیم تھا۔۔۔بہرحال حویلی والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ تھیلیوں کے منہ کُھل گئے تھے۔ پھر قانون کے محافظوں کے منہ پر تالے کیوں نہ پڑ جاتے، آگ حادثاتی طور پر لگی تھی اور آٹھ افراد اپنی بدبختی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے ۔اس دیندار آدمی نے ایک درندگی کے خلاف شہادت دی تھی لیکن اس کے ساتھ جو درندگی ہوئی اس کا کوئی عینی شاہد قانون کو نہ مل سکا!۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جس بات کا علم ہر ایک کو تھا اسے کیوں نہ ہوتا ۔کون نہیں جانتا تھا کہ کچا مکان کیسے بھسم ہوا تھا۔۔۔ کون اس سے ناواقف تھا کہ آٹھ بےبس افراد کس طرح جل مرے ۔۔۔لیکن کس میں ہمت تھی کہ اب حویلی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکتا ۔۔ وہ ایک شخص کی جرات کا انجام دیکھ چکے تھے! اب تم مجھے بتاؤ کہ اس بچے کی کہانی کیا ہونی چاہیے۔!“
کوئی کچھ نہ بولا۔ وہ خاموشی سے ان کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا ۔دفعتاً ایک لڑکی مٹھیاں بھینچ کر چیخی۔ “انتقام“
قد آور آدمی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
“تمہارا خیال درست ہے!“ اس نے کہا۔“لیکن لہجہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔اس لہجے میں اُٹھنے اور جھپٹ پڑنے کا سا انداز ہے۔ “اس بچے نے انتقامی جذبے کی تہذیب کی طرف توجہ دی تھی۔

پہلی پروف ریڈنگ : ماوراء : مکمل
بارِ دوم: جویریہ مسعود


آدھے منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزراتھا کہ اس نے “ فال اِن “ کی ہانک لگائی اور وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیزی سے قطاربنا لی ۔
ایٹ ایز“ کہہ کر اس نے ان پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور بولا ۔
دوستو۔۔۔۔ طاقت کا سرچشمہ۔
ذہانت۔!“ سب بیک آواز بولے ۔
کیڑے مکوڑے ۔۔۔!“ وہ پھر دھاڑا۔
غیر ذہین دو پائے ۔!“ انہوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
اور یہ کیڑےمکوڑے۔!“ وہ ہاتھ اُٹھا کر بولا “ذہین آدمیوں کے آلۂ کار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔۔۔ انہیں استعمال کرو اور صرف اتنا ہی تیل انہیں دو کہ متحرک رہ سکیں۔۔۔۔۔ اگر انمیں سے کوئی ناکارہ ہوجائے تو اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو اور اس کی جگہ دوسراپرزہ فٹ کردو۔ انہیں قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقارت سے دیکھا جائے ۔۔۔۔۔اگر تم نے انہیں آدمی سمجھا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گے ۔۔۔۔ اور پھر تم انہیںاپنے قابو میں نہ رکھ سکو گے۔!“
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا تھا! سامنے دسافراد سر جھکائے کھڑے تھے۔ یہ سب جوان العمر تھے اور ان میں سے چار لڑکیاں تھیں۔
بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!“ قد آور آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا ۔
انہوں نے اس طرح تعمیلکی تھی جیسے وہ پوری طرح ان پر حاوی ہو! ان کی آنکھوں میں اس کے لئے بے اندازہاحترام پایا جاتا تھا ۔
آج میں تمہیں ایک کہانی سناؤں گا۔“ اُس نے کہا اور وہسب دم بخود بیٹھے رہے۔!
"یہ کہانی ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک بچے کیکہانی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن بچے سے اس کی ابتدا نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ اس گاؤں میں صرف ایکاونچی اور پکی حویلی تھی بقیہ مکانات کچے تھے۔۔۔ تم سمجھ گئے ہوگے کہ حویلی میںکون رہتا تھا اور کچے مکانوں میں کیسے لوگ آباد تھے ۔ بہرحال ایک بار ایسا ہوا کہحویلی کا ایک فرد قتل کے ایک وقوعے میں ماخوذ ہو گیا ۔۔۔۔ اور کچے مکان کے ایک باسینے اس کے خلاف عدالت میں شہادت دے دی ۔کچے مکان کا وہ باسی ایک دیندار آدمی تھا۔ اسنے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، عدالت میں بیان کر دیا ۔ اس کی شہادت کے مقابلےمیں جھوٹی گواہیاں کام نہ آسکیں اور حویلی والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو گیا۔پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔!
قد آور آدمی خاموش ہو کر پھر کچھ سوچنے لگا اور سننےوالوں کے چہرے اضطراب کی آماجگاہ بن گئے۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میںبولا۔!“ اب یہاں سے اس دیندار آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو حویلی والوں کا مزارعبھی تھا ۔ جانتے ہو اس پر حویلی والوں کا عتاب کس شکل میں نازل ہوا؟ ایک رات جب کچےمکان کے لوگ بے خبر سو رہے تھے ۔۔۔ کچے مکان میں آگ لگا دی گئی اور اس بات کا خاصخیال رکھا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلنے پائے۔ چھوٹے بڑے افراد جل کر بھسم ہوگئے تھے۔ جس نے باہر نکلنے کی کوشش کی، اسے گولی مار دی گئی۔ اس کنبے کا صرف ایک بچہ زندہ بچسکا تھا۔ وہ بھی اس لیے کہ واردات کے وقت وہ اس کچے مکان میں موجود نہیں تھا۔
دوسرے گاؤں میں اس کی نانہال تھی۔ کچھ دنوں پہلے اس کا ماموں اسے گھر سے لےگیا تھا۔۔۔۔ اور وہ وہیں مقیم تھا۔۔۔ بہرحال حویلی والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکاتھا۔ تھیلیوں کے منہ کُھل گئے تھے۔ پھر قانون کے محافظوں کے منہ پر تالے کیوں نہ پڑجاتے۔ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی اور آٹھ افراد اپنی بدبختی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ اس دیندار آدمی نے ایک درندگی کے خلاف شہادت دی تھی لیکن اس کے ساتھ جو درندگیہوئی، اس کا کوئی عینی شاہد قانون کو نہ مل سکا!۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جس بات کا علم ہر ایککو تھا اسے کیوں نہ ہوتا ۔کون نہیں جانتا تھا کہ کچا مکان کیسے بھسم ہوا تھا۔۔۔ کوناس سے ناواقف تھا کہ آٹھ بےبس افراد کس طرح جل مرے۔۔۔ لیکن کس میں ہمت تھی کہ ابحویلی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکتا ۔۔ وہ ایک شخص کی جرأت کا انجام دیکھ چکےتھے! اب تم مجھے بتاؤ کہ اس بچے کی کہانی کیا ہونی چاہیے؟
کوئی کچھ نہ بولا۔وہ خاموشی سے ان کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا۔ دفعتاً ایک لڑکی مٹھیاں بھینچ کرچیخی۔ “انتقام
قد آور آدمی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
تمہارا خیال درست ہے!“ اس نے کہا۔“لیکن لہجہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔ اس لہجے میںاُٹھنے اور جھپٹ پڑنے کا سا انداز ہے۔“ اس بچے نے انتقامی جذبے کی تہذیب کی طرف توجہ دی تھی۔
 

جیہ

لائبریرین
اوپر والی پوسٹ میں نے وزی وگ سپورٹ کے ساتھ کی تھی۔اس سپورٹ کے ساتھ چند جگہوں پر سپیس اڑ جاتے ہیں اور دو الفاظ مل جاتے ہیں۔ نبیل بھائی اس طرف توجہ دیں

پہلی پروف ریڈنگ : ماوراء : مکمل
بارِ دوم: جویریہ مسعود


آدھے منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس نے “ فال اِن “ کی ہانک لگائی اور وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیزی سے قطار بنا لی ۔
“ایٹ ایز“ کہہ کر اس نے ان پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور بولا ۔
“دوستو ۔۔۔۔ طاقت کا سر چشمہ۔“
“ذہانت۔!“ سب بیک آواز بولے ۔
“کیڑے مکوڑے ۔۔۔!“ وہ پھر دھاڑا۔
“غیر ذہین دو پائے ۔!“ انہوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
“اور یہ کیڑے مکوڑے۔!“ وہ ہاتھ اُٹھا کر بولا “ذہین آدمیوں کے آلۂ کار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ۔۔۔ انہیں استعمال کرو اور صرف اتنا ہی تیل انہیں دو کہ متحرک رہ سکیں۔۔۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی ناکارہ ہو جائے تو اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو اور اس کی جگہ دوسرا پرزہ فٹ کر دو۔ انہیں قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقارت سے دیکھا جائے ۔۔۔۔۔ اگر تم نے انہیں آدمی سمجھا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گے ۔۔۔۔ اور پھر تم انہیں اپنے قابو میں نہ رکھ سکو گے۔!“
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا تھا! سامنے دس افراد سر جھکائے کھڑے تھے۔ یہ سب جوان العمر تھے اور ان میں سے چار لڑکیاں تھیں۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!“ قد آور آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا ۔
انہوں نے اس طرح تعمیل کی تھی جیسے وہ پوری طرح ان پر حاوی ہو! ان کی آنکھوں میں اس کے لئے بے اندازہ احترام پایا جاتا تھا ۔
“آج میں تمہیں ایک کہانی سناؤں گا۔“ اُس نے کہا اور وہ سب دم بخود بیٹھے رہے۔!
"یہ کہانی ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک بچے کی کہانی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن بچے سے اس کی ابتدا نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ اس گاؤں میں صرف ایک اونچی اور پکی حویلی تھی بقیہ مکانات کچے تھے۔۔۔ تم سمجھ گئے ہوگے کہ حویلی میں کون رہتا تھا اور کچے مکانوں میں کیسے لوگ آباد تھے ۔ بہرحال ایک بار ایسا ہوا کہ حویلی کا ایک فرد قتل کے ایک وقوعے میں ماخوذ ہو گیا ۔۔۔۔ اور کچے مکان کے ایک باسی نے اس کے خلاف عدالت میں شہادت دے دی ۔کچے مکان کا وہ باسی ایک دیندار آدمی تھا۔ اس نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، عدالت میں بیان کر دیا ۔ اس کی شہادت کے مقابلے میں جھوٹی گواہیاں کام نہ آسکیں اور حویلی والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو گیا۔ پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔!
قد آور آدمی خاموش ہو کر پھر کچھ سوچنے لگا اور سننے والوں کے چہرے اضطراب کی آماجگاہ بن گئے۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔!“ اب یہاں سے اس دیندار آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو حویلی والوں کا مزارع بھی تھا ۔ جانتے ہو اس پر حویلی والوں کا عتاب کس شکل میں نازل ہوا؟ ایک رات جب کچے مکان کے لوگ بے خبر سو رہے تھے ۔۔۔ کچے مکان میں آگ لگا دی گئی اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلنے پائے۔ چھوٹے بڑے افراد جل کر بھسم ہوگئے تھے۔ جس نے باہر نکلنے کی کوشش کی، اسے گولی مار دی گئی۔ اس کنبے کا صرف ایک بچہ زندہ بچ سکا تھا۔ وہ بھی اس لیے کہ واردات کے وقت وہ اس کچے مکان میں موجود نہیں تھا۔
دوسرے گاؤں میں اس کی نانہال تھی۔ کچھ دنوں پہلے اس کا ماموں اسے گھر سے لے گیا تھا۔۔۔۔ اور وہ وہیں مقیم تھا۔۔۔ بہرحال حویلی والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ تھیلیوں کے منہ کُھل گئے تھے۔ پھر قانون کے محافظوں کے منہ پر تالے کیوں نہ پڑ جاتے۔ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی اور آٹھ افراد اپنی بدبختی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ اس دیندار آدمی نے ایک درندگی کے خلاف شہادت دی تھی لیکن اس کے ساتھ جو درندگی ہوئی، اس کا کوئی عینی شاہد قانون کو نہ مل سکا!۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جس بات کا علم ہر ایک کو تھا اسے کیوں نہ ہوتا ۔کون نہیں جانتا تھا کہ کچا مکان کیسے بھسم ہوا تھا۔۔۔ کون اس سے نا واقف تھا کہ آٹھ بےبس افراد کس طرح جل مرے۔۔۔ لیکن کس میں ہمت تھی کہ اب حویلی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکتا ۔۔ وہ ایک شخص کی جرأت کا انجام دیکھ چکے تھے! اب تم مجھے بتاؤ کہ اس بچے کی کہانی کیا ہونی چاہیے؟ “
کوئی کچھ نہ بولا۔ وہ خاموشی سے ان کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا۔ دفعتاً ایک لڑکی مٹھیاں بھینچ کر چیخی۔ “انتقام“
قد آور آدمی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“تمہارا خیال درست ہے!“ اس نے کہا۔“لیکن لہجہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔اس لہجے میں اُٹھنے اور جھپٹ پڑنے کا سا انداز ہے۔“ اس بچے نے انتقامی جذبے کی تہذیب کی طرف توجہ دی تھی۔
 

الف عین

لائبریرین
آخری پروف ریڈنگ: ا ع

آدھے منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس نے “ فال اِن “ کی ہانک لگائی اور وہ سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیزی سے قطار بنا لی ۔
“ایٹ ایز“ کہہ کر اس نے ان پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور بولا ۔
“دوستو ۔۔۔۔ طاقت کا سر چشمہ۔“
“ذہانت۔!“ سب بیک آواز بولے ۔
“کیڑے مکوڑے ۔۔۔!“ وہ پھر دھاڑا۔
“غیر ذہین دو پائے ۔!“ انہوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
“اور یہ کیڑے مکوڑے ۔!“ وہ ہاتھ اُٹھا کر بولا “ذہین آدمیوں کے آلۂ کار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ۔۔۔ انہیں استعمال کرو اور صرف اتنا ہی تیل انہیں دو کہ متحرک رہ سکیں۔۔۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی ناکارہ ہو جائے تو اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دو اور اس کی جگہ دوسرا پرزہ فٹ کر دو۔ انہیں قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقارت سے دیکھا جائے ۔۔۔۔۔ اگر تم نے انہیں آدمی سمجھا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گے ۔۔۔۔ اور پھر تم انہیں اپنے قابو میں نہ رکھ سکو گے ۔!“
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا تھا! سامنے دس افراد سر جھکائے کھڑے تھے ۔ یہ سب جوان العمر تھے اور ان میں سے چار لڑکیاں تھیں۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!“ قد آور آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا ۔
انہوں نے اس طرح تعمیل کی تھی جیسے وہ پوری طرح ان پر حاوی ہو! ان کی آنکھوں میں اس کے لئے بے اندازہ احترام پایا جاتا تھا ۔
“آج میں تمہیں ایک کہانی سناؤں گا۔“ اُس نے کہا اور وہ سب دم بخود بیٹھے رہے ۔!
"یہ کہانی ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک بچے کی کہانی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن بچے سے اس کی ابتدا نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔۔ اس گاؤں میں صرف ایک اونچی اور پکی حویلی تھی بقیہ مکانات کچے تھے ۔۔۔ تم سمجھ گئے ہو گے کہ حویلی میں کون رہتا تھا اور کچے مکانوں میں کیسے لوگ آباد تھے ۔ بہرحال ایک بار ایسا ہوا کہ حویلی کا ایک فرد قتل کے ایک وقوعے میں ماخوذ ہو گیا ۔۔۔۔ اور کچے مکان کے ایک باسی نے اس کے خلاف عدالت میں شہادت دے دی ۔کچے مکان کا وہ باسی ایک دیندار آدمی تھا۔ اس نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، عدالت میں بیان کر دیا ۔ اس کی شہادت کے مقابلے میں جھوٹی گواہیاں کام نہ آ سکیں اور حویلی والے ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو گیا۔ پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔!
قد آور آدمی خاموش ہو کر پھر کچھ سوچنے لگا اور سننے والوں کے چہرے اضطراب کی آماجگاہ بن گئے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔!“ اب یہاں سے اس دیندار آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو حویلی والوں کا مزارع بھی تھا ۔ جانتے ہو اس پر حویلی والوں کا عتاب کس شکل میں نازل ہوا؟ ایک رات جب کچے مکان کے لوگ بے خبر سو رہے تھے ۔۔۔ کچے مکان میں آگ لگا دی گئی اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کوئی باہر نہ نکلنے پائے ۔ چھوٹے بڑے افراد جل کر بھسم ہو گئے تھے ۔ جس نے باہر نکلنے کی کوشش کی، اسے گولی مار دی گئی۔ اس کنبے کا صرف ایک بچہ زندہ بچ سکا تھا۔ وہ بھی اس لیے کہ واردات کے وقت وہ اس کچے مکان میں موجود نہیں تھا۔
دوسرے گاؤں میں اس کی نانہال تھی۔ کچھ دنوں پہلے اس کا ماموں اسے گھر سے لے گیا تھا۔۔۔۔ اور وہ وہیں مقیم تھا۔۔۔ بہرحال حویلی والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ تھیلیوں کے منہ کُھل گئے تھے ۔ پھر قانون کے محافظوں کے منہ پر تالے کیوں نہ پڑ جاتے ۔ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی اور آٹھ افراد اپنی بدبختی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے ۔ اس دیندار آدمی نے ایک درندگی کے خلاف شہادت دی تھی لیکن اس کے ساتھ جو درندگی ہوئی، اس کا کوئی عینی شاہد قانون کو نہ مل سکا!۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جس بات کا علم ہر ایک کو تھا اسے کیوں نہ ہوتا ۔کون نہیں جانتا تھا کہ کچا مکان کیسے بھسم ہوا تھا۔۔۔ کون اس سے نا واقف تھا کہ آٹھ بے بس افراد کس طرح جل مرے ۔۔۔ لیکن کس میں ہمت تھی کہ اب حویلی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکتا ۔۔ وہ ایک شخص کی جرأت کا انجام دیکھ چکے تھے ! اب تم مجھے بتاؤ کہ اس بچے کی کہانی کیا ہونی چاہیے ؟ “
کوئی کچھ نہ بولا۔ وہ خاموشی سے ان کے چہروں کا جائزہ لیتا رہا۔ دفعتاً ایک لڑکی مٹھیاں بھینچ کر چیخی۔ “انتقام“
قد آور آدمی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“تمہارا خیال درست ہے !“ اس نے کہا۔“لیکن لہجہ مناسب نہیں ہے ۔۔۔اس لہجے میں اُٹھنے اور جھپٹ پڑنے کا سا انداز ہے ۔“ اس بچے نے انتقامی جذبے کی تہذیب کی طرف توجہ دی تھی۔
 

الف عین

لائبریرین
میں نے تبدیلیوں کی نشان دہی محفوظ بھی نہیں رکھی، اور یہاں پوسٹ بھی نہیں کر رہا۔
اور جوجو، یہ wisywig support کہاں سے ملتی ہے؟ مجھ کو بھی لا دو اسی دوکان سے جہاں ملتی ہے۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
میں نے تبدیلیوں کی نشان دہی محفوظ بھی نہیں رکھی، اور یہاں پوسٹ بھی نہیں کر رہا۔
اور جوجو، یہ Wisywig Support کہاں سے ملتی ہے؟ مجھ کو بھی لا دو اسی دوکان سے جہاں ملتی ہے۔

السلام علیکم

اعجاز انکل ، اگر ممکن ہو آپ کے لیے تو ان دونوں باتوں کے لیے آپ سے درخواست ہے ۔ اس طرح کئی چیزوں میں مدد ملے گی ۔ ایک تو مقابلہ کے نتائج اور مقابلہ کو شفاف رکھنا

دوسری اہم ترین مدد یہ ہو گی کہ جویریہ اور آپ کے پروف ریڈنگ کے طریق کار سے دیگر تمام اراکین کو خود بخود رہنمائی حاصل ہوگی اور عین ممکن ہے کہ بہت سے اراکین متن تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ خود متن کی پروف ریڈنگ میں نہ صرف دلچسپی محسوس کریں بلکہ ساتھ ہی لائبریری ٹیم میں ماہرین و تیز رفتار پروف ریڈنگ کی تعداد میں اضافہ ہو جائے ۔ اور لائبریری کے لیے پروف ریڈنگ کا مطلوبہ معیار بھی حاصل ہو۔

علاوہ ازیں میں ایک ٹیوٹوریل بھی لکھ رہی ہوں پروف ریڈنگ پر تفصیلی ۔ اس سے پہلے مختلف دھاگوں میں پروف ریڈنگ پر گفتگو اور رہنما نکات بیان ہوتے رہے ہیں لیکن یہ ٹیوٹوریل کچھ مختلف انداز میں لکھ رہی ہوں اور میری خواہش ہے کہ اس ٹیوٹوریل میں جویریہ اور آپ کی پروف ریڈنگ کے طریق کار سے استفادہ شامل کروں ۔

شکریہ

۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین




پہلا صفحہ




صفحہ | منتخب کرنے والی ٹیم | تحریر | پہلی پروف ریڈنگ | دوسری پروف ریڈنگ | آخری پروف ریڈنگ | پراگریس

پہلا : 8 - 9 | ٹیم 1 | حجاب | ماوراء | جویریہ | الف عین | 100%







 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top