عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم

محفلین
کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو!!! اب تو اچھی شاعری کر رہا ہے!!
بس دو خامیاں محسوس ہوئیں۔
ہائے اُن کی کرم نوازی اُف
کرم نوازی لفظ پر غور کرو، اور ’اف‘ تو بھرتی کا ہے۔
کیا کہوں اُن کی کج ادائی مَیں
کج ادائی میں کوئی کیسے کہہ سکتا ہے، اس کے ’ضمن میں “ یا ’اس کے بارے میں تو ممکن ہے
بتوں والا شعر بھی رواں اور بہتر بنایا جا سکتا ہے


بابا آپ بهی ریشمی جهنکاروں کے صدقے جایا کرتے تهے ؟

جی بابا - اور ان ان ان -
 

عظیم

محفلین
مہرباں کی مہربانی کھا گئی
ہم سے بوڑھوں کو جوانی کھا گئی

مار ڈالا اِس تمہاری یاد نے
غیر کی شعلہ بیانی کھا گئی

وصل کی خواہش بھلے زندہ کِیا
ہجر میں یہ زندگانی کھا گئی

ہو چکا برباد راہِ عشق میں
منزلوں کی فکر جانی کھا گئی

کھا لیا صاحب جفاؤں نے ہمیں
اُن کی یہ عادت پرانی کھا گئی
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
بابا وہ گانا سُنا محمد رفیع کا ہے شاید ۔ ہم نے جفا نہ سیکھی اُن کو وفا نہ آئی ۔ پتھر سے دل ۔۔۔۔
 

عظیم

محفلین
کیا خوشی سے جھوم جانا چاہئے
مُجھ وہی دکھڑا سنانا چاہئے

آج ہُوں اُن کی نگاہوں میں عظیم
آج کُچھ بننا بنانا چاہئے

بیخودی کو آزمائیں کب تلک
عقل کو بھی آزمانا چاہئے

یاد جب آئیں کسی وہ مہرباں
اِس جہاں کو بھول جانا چاہئے

رو لئے آنسو ہمارے بخت کے
اب ہمیں کُچھ مسکرانا چاہئے

اِس زمیں کی قید سے اُکتا گئے
آسماں پر اِک ٹھکانا چاہئے

وہ بلائیں قتل کو صاحب تو کیا
ہم کو ملنے کا بہانا چاہئے
 

عظیم

محفلین
ہوتا ہے کس طرح سے حقِ بندگی بتا
کُچھ تو خبر ہو مُجھ کو آخر ہو کُچھ پتا

مانا کہ عاشقوں کا یہ ہی ہوا مقدر
اتنا تو خیر لیکن مُجھ کو تُو مت ستا

کیسے تلاش کرلوں تیرا نشان آخر
تُو ہی بتا ہے کوئی تیرا اتا پتا

کہہ دوں گا روزِ محشر جانے ہے خُوب مُجھ میں
تیرے سوا نہیں تھا کوئی دوسرا نہ تھا

اچھا چلو مَیں مانا بھولا ہوا تھا لیکن
تُجھ کو بھی یاد کب تھا میرے خُدا بتا

صاحب یُوں کھو گیا ہُوں ملنے پہ آج اپنے
خود سے ہی پوچھتا ہُوں اپنا اتا پتا
 

عظیم

محفلین
دل ہے ضدی تلاش جاری ہے
آخرش کس سے اپنی یاری ہے

آج ہے بے سبب اُداسی سی
آج ہم پر یہ جان بھاری ہے

کیا کہیں کس طرح سے رو رو کر
ہم نے یہ زندگی گزاری ہے

جان کیا چاہئے اُنہیں میری
جان جن پر حضور واری ہے

ہے یہ گفتار بے زباں کی کیا
سب پہ کیسا سکوت طاری ہے

موت بھی چاہئے وصال کے دن
ہجر میں زندگی بھی پیاری ہے

میں نے جامہ ہے غیر کا اوڑھا
میرا کردار تک ادھاری ہے

ہے کوئی عشق وشق کب صاحب
بے سبب دل کی بیقراری ہے
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
عظیم صاحب لگتا ہے آپ نے اس میں کئی بحریں جمع کردیں ۔

ہوتا ہے کس طرح سے حقِ بندگی بتا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
کُچھ تو خبر ہو مُجھ کو آخر ہو کُچھ پتا
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن
کیسے تلاش کرلوں تیرا نشان آخر
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
 

عظیم

محفلین
دیکھ یُوں بھال کر سنور جانا
ہم سے ہوگا نہ ایسے مر جانا

کردے دنیا میں آہ رسوا لیک
روزِ محشر کو مت مکر جانا

جی چکے خاک ہم سے مرجائیں
گر میسر ہو ہم کو مر جانا

کوئی دیکھے تو اُس کماں کا تِیر
اِس رگِ جان میں اتر جانا

کس سے ممکن ہوا جو ہم کرتے
اِس غم جان سے گزر جانا

اُن کی گلیوں میں جاؤ ہو صاحب
دل کو ہاتھوں میں تھام کر جانا
 

عظیم

محفلین
درد دے کر دوا بھی دیتے ہیں
ہم کو کُچھ کُچھ شفا بھی دیتے ہیں

یاد کرتے ہیں یوں اُنہیں اکثر
جان کر ہم بُھلا بھی دیتے ہیں

یوں نہ کیچڑ اُچھالئے مُجھ پر
دیکھئے بد دعا بھی دیتے ہیں

خُود کو ہر جرم کی سزا دے کر
تھوڑی تھوڑی جزا بھی دیتے ہیں

جن پہ ٹوٹیں قیامتیں سنئے
وہ قیامت اُٹھا بھی دیتے ہیں

کُچھ تو رکھتے ہیں دل کی دل میں ہم
اور کُچھ کو سنا بھی دیتے ہیں

صاحب اُن کی وفا پہ اتنا مان
یاد رکھنا دغا بھی دیتے ہیں
 

عظیم

محفلین
بہت پچھتائے اُن سے دل لگا کر
مگر کرتے بھی کیا دنیا میں آ کر

جنہیں تُو دیکھ رو دے گا زمانے
کُچھ ایسے زخم رکھتے ہیں چھپا کر

طبیبِ دِل نہیں دِل کی دوا دیکھ
تو میرے واسطے کوئی دعا کر

مریضِ عشق ہوں میں کیا بتاؤں
مرے دُکھڑے خموشی سے سنا کر

نہ جانے کیا کریں گے مُجھ کو مُجھ سے
چُرا کر اپنا شیدائی بنا کر

کوئی ہونے کو اُن کے جائے کہہ دے
کہ ہونا صرف ہے ہُوا کر

کہاں لے جاؤں صاحب اپنی میت
اب اپنے ہی میں کاندھوں پر اُٹھا کر
 

عظیم

محفلین
تھے خطاوار تو سزا دیجئے
کُچھ گنہگار کا بھلا کیجئے

تھی ہمیں خاک سے ہی نسبت آپ
بس ہمیں خاک میں ملا دیجئے

ہم کہ ناراض خود سے بیٹھے ہیں
آئیے آپ کو منا لیجئے

کُچھ تو کیجئے علاجِ تنہائی
کُچھ تو اِس درد کی دوا کیجئے

ہم جو بولے کہ جاں لٹا دیں گے
بول اُٹھے جناب کیا کیجئے

صاحب ایسے جہاں کی کہئے مت
ایسی دُنیا کی مت سنا کیجئے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
جائز ہےلیکن وہی لکھا جاتا ہے۔ تم نے تو ’کیجئےُ ہی لکھا ہے!
اچھی غزل ہے داغ کے رنگ میں۔ بس یہ سو اشعار سمجھ میں نہیں آ سکے
ہم کہ ناراض خود سے بیٹھے ہیں
آئیے آپ کو منا لیجئے
ہم جو بولے کہ جاں لٹا دیں گے
بول اُٹھے جناب کیا کیجئے
 
Top