عشق

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

شمشاد

لائبریرین
موت کا خوف ہو کیا عشق کے دیوانے کو
موت خود کانپتی ہے عشق کے دیوانے سے
(ساحر ہوشیارپوری)
 

شمشاد

لائبریرین
حسن بے عشق کہیں رہ نہیں سکتا زندہ
بج گئی شمع بھی پروانے کے جل جانے سے
(ساحر ہوشیارپوری)
 

ظفری

لائبریرین
وہ کھیلا تھا اس کمال سے عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک

(تاجدار عادل)
 

شمشاد

لائبریرین
اس خوش نگاہ کے عشق سے پرہیز کیجیو ‘میر‘
جاتا ہے لے کے جی ہی یہ آزار دیکھنا
 

شمشاد

لائبریرین
بحر عشق میں ڈوب کے دیکھ کبھی
جامِ محبت پی کے دیکھ کبھی

ہر طرف تیرا ہی عکس نظر آئے گا
میری آنکھوں میں پیار سے دیکھ کبھی

غرور ہے تجھے اپنی زلفوں کی چھاؤں کا
میری پلکوں کی چھاؤں میں بیٹھ کے دیکھ کبھی
 

ماوراء

محفلین

ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا !



جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا !
کبھی شہرِ بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا

کبھی بستیاں بن، کبھی کوہ و دمن،رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن
جہان حُسن ملا وہاں بیٹھ گئے، جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا

شبِ ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا، کبھی بیت کہے ، لکھی چاندنگر
کبھی کوہ سے جاسر پھوڑ مرے، کبھے قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا، کہ ہے چاہ کے ساتھ بجگ بنا
جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا، بڑا مَن کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبتِ یار کہاں، اب و عارض و زلف و کنار کہاں
اب اپنا بھی میر سا عالم ہے، ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

ابنِ انشاء

 

شمشاد

لائبریرین
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو آدھورا چھوڑ دیا
 

شمشاد

لائبریرین
چلی یاں تو بات تھی عشق کی مرا راز “ راز “ رہا نہیں
میں رہا ہوں ازل سے “ نامراد“ کبھی“ سرفراز“ رہا نہیں
 

شمشاد

لائبریرین
کبھی اچھا بُرا سوچا نہیں ہے
محبت عقل کو سودا نہیں ہے
صراطِ عشق پر مُڑ کر نہ دیکھو
پلٹنے کا کوئی راستہ نہیں‌ ہے
 

شمشاد

لائبریرین
کبھی اچھا بُرا سوچا نہیں ہے
محبت عقل کو سودا نہیں ہے
صراطِ عشق پر مُڑ کر نہ دیکھو
پلٹنے کا کوئی راستہ نہیں‌ ہے
 

شمشاد

لائبریرین
عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
ترے صدقے، بتا اے فطرتِ عشق آفریں مجھ کو
پڑھا لکھا تھا جو کچھ، یاد اب وہ کیوں نہیں مجھ کو

راز چاندپوری (باقیاتِ راز)
 

ظفری

لائبریرین
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے
 

شمشاد

لائبریرین
عشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھے
کشتہِ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمارِ دوست
(غالب)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top