کوئی توڑے مجھے رہا کر دے
واہ- کیا خوب کہا۔ ویسےاب تو دو غزلہ سہ غزلہ دیکھے سنے پڑھے مدتیں گزر جاتی ہیں ۔
آداب ، عاطف بھائی ! سپاس گزار ہوں اس قدر افزائی پر ۔ آپ کو اشعار پسند آئیں تو خوشی ہوتی ہے ۔ اللہ سلامت رکھے آپ کو۔
 
ظہیر بھائی ۔ یہ پال لگانے کی روایت بھی زمانے کی تیزی کھا گئی ۔ جیسا کہ دھیمی آنچ پر پکانے کو پریشر ککر کھاگئے ۔ :)
مین بھی غزلوں کو دھیمی آنچ پر چڑھانے کو رکھنے کا قائل ہوں کہ نسیں بھی ہڈیاں چھوڑ دیں ۔ پر اب وہ ماہ و سال کہاں ! :)
تو یہ ہے آپ کی غزل کی "ریسی پی" ، عاطف بھائی !
اسی لئے مزیدار ہوتی ہیں ۔ :)
 
واہ، سبھی اشعار لاجواب ہیں۔
بہت بہت شکریہ عبید بھائی ! اللہ آپ کو خوش رکھے! آپ بہت قدر افزائی کرتے ہیں ۔
ویسے آج کل آپ کم کم نظر آتے ہیں ۔ یقیناً کاموں میں مصروف ہوں گے ۔ اللہ کریم آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور رحمت و برکت سے نوازے۔ آمین ۔
 
ماشاءاللہ۔۔۔بہت خوب لکھا ہے۔۔۔ہر شعر ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔۔۔۔۔
قد گھٹا دے مری نظر میں مرا
یاالہٰی مجھے بڑا کر دے

واہ کیا کہنے۔۔۔۔

بڑی نوازش ، بہت شکریہ اکمل بھائی ! بہت ممنون ہوں ۔ اللہ آپ کو دین و دنیا کی فلاح نصیب فرمائے ! آمین
 
کیا کہنے! بھئی واہ، سبحان اللہ ... کیا عمدہ خیال ہے
بہت عمدہ کلام ہے ظہیر بھائی، حسب معمول :)
ماشاءاللہ
آداب ، آداب راحل بھائی! ذرہ نوازی ہے آپ کی ! بہت ممنون ہوں ۔
آپ کو شعر پسند آیا تو خوشی دگنی ہوئی ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے!
 
آہ!
کس قدر خوبصورت اور مختلف سے اشعار ہیں۔ ایک سے بڑھ کے ایک۔
بہت خوب!
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔:)
بہت بہت شکریہ خواہرم جاسمن! اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ شاد و آباد رکھے!
داد و تحسین کے لئے بہت ممنون ہوں ۔
 
آہ!
ایک لمحہ کو دل رک سا گیا!
۔
۔
خوب سے بھی خوب اشعار۔
بہت سی دعائیں سر
سلامت رہیے۔
بہت بہت شکریہ لاریب بٹیا ! اللہ آپ کو خوش رکھے!
یہ عام سا شعر خاص طور پر میں نے اس غزل میں شامل کیا تھا ۔ یہ اعترافِ نعمت ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ زندگی میں والدین جیسا بے غرض اور بے لوث رشتہ اور کوئی نہیں ہوتا ۔ اللہ سب کے سروں پر یہ سایہ سلامت رکھے ۔ آمین
 

احمد محمد

محفلین
ماشاءاللہ۔ واہ ظہیر بھائی، بہت عمدہ اور شاندار کلام فرماتے ہیں۔

آپ کی غزل میں سے مخصوص اشعار چن کر ان پر داد دینا، یہ کام رفیق شعرا تو کر سکتے ہیں، میرے جیسے اسے بے ادبی تصور کرتے ہوئے نہیں کر پاتے لہذا یکمشت داد ہی قبول فرما لیا کریں۔
 

احمد محمد

محفلین
ایک چھوٹا سا تبصرہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں معاف فرمائیے گا۔

عمومی طور پر شعراء کرام اپنے مطلع کو زیادہ جاندار اور شاندار رکھتے ہیں مگر آپ کا انداز اکثر اوقات برعکس ملتا ہے۔۔ ہر اگلا شعر خیال اور فن میں پہلے سے زیادہ جاندار ہوتا ہے، جیسے آپ ترتیب سعودی میں میں شاعری فرما رہے ہوں۔ :)
 

سیما علی

لائبریرین
میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ
کوئی میرے لئے دعا کر دے

ہے مبارک وہ سانحہ جو ظہیؔر
بے نواؤں کو ہم نوا کر دے
واہ واہ کیا کہنے ظہیر بھائی ہمارے پاس وہ الفاظ کہاں جو آپ کو داد و تحسن دین ہر شعر ایک سے بڑھ کر ہے یہ حسبِ حال ہے ؀
میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ
کوئی میرے لئے دعا کردے
بہت ساری دعائیں ۔سلامت رہیے۔
 
آخری تدوین:
دونوں ہی غزلیں اچھی ہیں مگر مجھے پہلی دوسری کے مقابلے زیادہ پسند آئی
عشق پھر سے مجھے نیا کر دے
ہر بھرے زخم کو ہرا کر دے

آسرا چھین لے مسیحا کا
مجھے مرہم سے ماورا کر دے

زہر بننے لگا ہے سناٹا
شور مجھ میں کوئی بپا کر دے

میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں
اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے

ترے رستے میں ہم سفر کیسا
مجھے سائے سے بھی جدا کر دے

میں مکمل بھی ہو ہی جائوں گا
تو کسی روز ابتدا کر دے

ماشاءاللہ
بہت شاندار
مبارک باد

اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ دوسری غزل اچھی نہیں بس اپنے اپنے مزاج کی بات ہے
 
Top